’معجزوں پر معجزے:‘ نیپال میں کیچڑ اور چٹانوں کے نیچے گہری سرنگ سے دو افراد کو زندہ کیسے نکالا گیا

Nepalese rescuers wading through puddles of water in the Trishuli 3A tunnel

،تصویر کا ذریعہNepalese Prime Minister's Office

،تصویر کا کیپشنامدادی کارکنوں کو سرنگ کی کھدائی کے دوران وہاں پانی کی بڑی مقدار ملی۔
    • مصنف, ٹیسا وونگ
    • عہدہ, بی بی سی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 5 منٹ

’جمعے کے روز دو افراد کا زندہ مل جانا معجزوں پر معجزے جیسا تھا، کیونکہ انھیں کئی مشکلات کا سامنا تھا۔‘

یہ کہنا تھا نیپال ہائیڈرو پاوور کی ایک بند سرنگ میں امدادی سرگرمیوں میں شامل ایک ماہر آرنلڈ ڈکس کا جو بی بی سی کو یہ بتا رہے تھے کہ وہ زندہ بچ جانے والوں تک پہنچنے میں کیسے کامیاب ہوئے۔

آرنلڈ ڈکس نیپال کے ہائیڈرو پاور حکام کو اس بات پر رہنمائی دے رہے ہیں کہ ’تریشولی 3A‘ ہائیڈرو پاور سٹیشن تک پہنچنے کے لیے بند سرنگ میں کھدائی کیسے کی جائے۔

یہ ان متعدد سٹیشنوں میں سے ایک تھا جو گذشتہ ہفتے نیپال اور تبت کی سرحد پر آنے والے شدید اچانک سیلاب سے متاثر ہوئے تھے۔

پہلی رکاوٹ سرنگ کے داخلی راستے کا پتہ لگانا تھی، ایسے علاقے میں جو سیلاب کے باعث تقریباً ناقابل شناخت ہو چکا تھا۔ اس سیلاب میں اب تک 1300 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ڈکس نے کہا کہ ’میں نے کبھی ایسی امدادی کارروائی نہیں دیکھی جہاں آپ کو ایسی سرنگ کا داخلی راستہ تلاش کرنا پڑے جو پہلے پہاڑی پر تھا لیکن اب زمین کے نیچے دب چکا ہو۔ آپ برفانی تودے کی شدت کا اندازہ لگا سکتے ہیں، اس نے داخلی راستے کو مکمل طور پر دفن کر دیا تھا۔‘

ڈکس جو انٹرنیشنل ٹنلنگ اینڈ انڈر گراؤنڈ سپیس ایسوسی ایشن کے صدر ہیں نے بتایا کہ انجینیئرنگ تکنیک، پرانے نقشوں، آفت کے بعد سیٹلائٹ تصاویر، ہیلی کاپٹروں سے لی گئی ویڈیو فوٹیج، اور ’پہاڑ کی سطح پر ملنے والی کسی بھی دوسری چیز جیسے بجلی کے کھمبوں‘ کی مدد سے ان کی ٹیم نے داخلی راستے کی ممکنہ جگہ کا تعین کیا اور کھدائی شروع کی۔

وہ داخلی راستہ ڈھونڈنے میں کامیاب ہو گئے، لیکن اگلا چیلنج زندہ بچ جانے والوں کو تلاش کرنا تھا۔

Nepal

،تصویر کا ذریعہNepal Army/Reuters

اُنھوں نے کہا کہ ’ہم جانتے تھے کہ وہ آگے کہیں موجود ہوں گے، لیکن ہمیں یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ بالکل کہاں ہیں۔ اس لیے آپ صرف صحیح سمت میں کھدائی شروع کرتے ہیں۔ اور اگر ممکن ہو تو یہ سننے کی کوشش کرتے ہیں کہ کہیں کسی کی آواز آ رہی ہے یا نہیں۔‘

امدادی کارکنوں کو ایسی سرنگ سے گزرنا پڑا جو مکمل طور پر کیچڑ اور چٹانوں سے بند تھی جن میں بعض چٹانیں گاڑیوں سے بھی بڑی تھیں۔

راستہ صاف کرنے کے لیے انھیں دھماکہ خیز مواد استعمال کرنا پڑا، حالانکہ ڈکس کے مطابق ’عام طور پر ہم ایسا کبھی نہیں کرتے کیونکہ اس سے [سرنگ میں پھنسے ہوئے] لوگوں اور خود ہمارے اڑ جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔‘

اُنھوں نے نیپالی فوج کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نے دھماکوں کو انتہائی درستگی کے ساتھ انجام دے کر ’شاندار کام‘ کیا تاکہ سرنگ غیر مستحکم نہ ہو۔

اسی دوران معلوم ہوا کہ سرنگ اب بھی پانی سے بھری ہوئی ہے۔

کھدائی کی مشینوں اور پانی نکالنے والے پمپوں کی مدد سے نیپالی امدادی کارکنوں نے سرنگ سے باہر دریا تک کئی کھائیاں کھودیں تاکہ پانی نکالا جا سکے۔

بالآخر انھیں سرنگ کے اوپری حصے میں موجود ملبے کے درمیان ایک راستہ کھودنا پڑا، ایک چھوٹی سی سرنگ جو ایک انسان کے گزرنے جتنی تھی۔

ڈکس نے وضاحت کی کہ ’اس مقام کا فائدہ یہ ہے کہ آپ اصل سرنگ کی چھت کو اپنی چھوٹی سرنگ کی چھت کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس سے سیلاب کے خطرے میں بھی کمی آتی ہے۔‘

جمعے کی صبح سویرے امدادی کارکنوں نے ایسی آوازیں سنیں جو انھیں انسانی آوازیں محسوس ہوئیں۔

مقامی رپورٹس کے مطابق اُنھوں نے پکارا، ’فکر نہ کریں، ہم آپ کو بچانے کے لیے آئے ہیں‘ اور جواب میں ایک مدھم سی ’ٹھیک ہے‘ سنائی دی۔

اس کے کچھ ہی دیر بعد سنجیا شاہ اور کبیر مہارجن کو زندہ باہر نکال لیا گیا۔

لیکن چونکہ اب بھی درجنوں افراد کے سرنگ میں پھنسے ہونے کا خدشہ ہے، اس لیے امدادی کام ابھی ختم ہونے سے بہت دور ہے۔

امدادی کارکن ’گولڈی لاکس زون‘ کی جانب بڑھ رہے ہیں

A man covered in mud on an orange stretcher is pulled through a tiny passageway

،تصویر کا ذریعہNepalese Prime Minister's Office

،تصویر کا کیپشنامدادی کارکنوں کو بچ جانے والوں کو سرنگ میں موجود ملبے کے اوپر بنائے گئے ایک انتہائی تنگ راستے سے باہر نکالنا پڑا۔

ڈکس نے اندازہ لگایا کہ اب تک وہ داخلی راستے سے تقریباً 60 میٹر کھدائی کر چکے ہیں جبکہ پہاڑ کے اندر گہرائی میں واقع ہائیڈرو پاور سٹیشن تک پہنچنے کے لیے مزید 150 میٹر کھدائی کرنا ہو گی۔

امدادی کارکن پُرامید ہیں کہ سیلاب کا ملبہ سٹیشن تک نہیں پہنچا ہو گا، کیونکہ اگر ایسا ہوا تو ’ہر قسم کی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ سٹیشن میں موجود کوئی بھی شخص چٹانوں اور کیچڑ کی زد میں آ سکتا تھا یا مقام پانی میں ڈوب سکتا تھا۔‘

ڈکس کہتے ہیں کہ آگے بڑھتے ہوئے ’ابھی بھی ممکن ہے کہ ہمیں پانی مل جائے جو سرنگ کھودنے والوں کو ڈبو سکتا ہے۔‘

’ہمیں باہر ایک اور سیلاب آنے کا خطرہ بھی لاحق ہے، اس صورت میں پانی پیچھے سے آ سکتا ہے۔ اس لیے دونوں اطراف سے پانی کا خطرہ موجود ہے۔‘

تاہم جمعے کی کامیاب امدادی کارروائی کے بعد ٹیم اب مزید زندہ بچ جانے والوں تک بروقت پہنچنے کے لیے پُرامید ہے۔

Nepal

اُنھوں نے کہا کہ ’یہ بہت بڑی راحت ہے کہ ہم درست سمت میں جا رہے ہیں اور اس سے ہمیں نئی توانائی ملی ہے کہ ہمارا طریقۂ کار [امدادی کارروائی انجام دینے کے بارے میں] مؤثر ثابت ہو رہا ہے۔ ہم نے پہلے کبھی ایسا کام نہیں کیا۔‘

ڈکس کے مطابق اب ان کی ٹیم اس مقام کی جانب بڑھ رہی ہے جسے وہ ’گولڈی لاکس زون‘ کہتے ہیں اور جو ’زندگی کے لیے زیادہ موزوں‘ ہو سکتا ہے۔

یہ زون ہائیڈرو پاور سٹیشن کے بالائی ترین حصے میں واقع ہے جہاں کچھ خالی جگہ موجود ہے اور ممکن ہے کہ زندہ بچ جانے والے وہاں موجود ہوں۔

اُنھوں نے کہا کہ ’ہم نے دو افراد کو باہر نکال لیا ہے۔ اگر ہم کسی کیسینو میں کھیل رہے ہوتے تو بعض لوگ کہتے کہ اب رک جانے کا وقت ہے، لیکن ہم کہتے ہیں کہ کھیل جاری ہے، اب اصل مقابلے کا وقت ہے۔‘