نیدرلینڈز نے اپنا اربوں ڈالر مالیت کا 86 ٹن سونا امریکہ سے نکال کر لندن کیوں منتقل کیا؟

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, ہنری مور
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 4 منٹ
نیدرلینڈز کے مرکزی بینک (ڈی این بی) نے تصدیق کی ہے کہ اس نے اربوں ڈالر مالیت کا سونا شمالی امریکہ سے لندن منتقل کر دیا ہے۔ بینک کے مطابق یہ فیصلہ بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور عالمی غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر کیا گیا۔
ڈی این بی نے بدھ کو بتایا کہ کئی ماہ تک جاری رہنے والی ایک پیچیدہ کارروائی کے دوران 86 ٹن سونا امریکہ اور کینیڈا سے منتقل کیا گیا۔ یہ سونا اب بینک آف انگلینڈ کے پاس محفوظ رکھا گیا ہے، جہاں کسی بحرانی صورتحال میں اس کی خرید و فروخت یا منتقلی نسبتاً زیادہ آسان سمجھی جاتی ہے۔
بینک کے صدر اولاف سلیپن کے مطابق یہ اقدام ’ادارے کی مالی مضبوطی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تیاری کو بہتر بنانے‘ کے لیے ضروری تھا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور کینیڈا کے درمیان تجارتی کشیدگی برقرار ہے۔ تجارتی مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے بعد دونوں ممالک ایک دوسرے کی مصنوعات پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ڈی این بی کے مطابق مارچ سے اگست کے درمیان نیویارک اور اوٹاوا سے 27 ٹن سونے کی اینٹیں نیدرلینڈز کے شہر زائسٹ منتقل کی گئیں۔
اس کے بعد اتنی ہی مقدار اور معیار کا سونا لندن منتقل کر دیا گیا، اور اس عمل کے دوران سونے کی اینٹوں کو پگھلانے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔
تاہم بینک نے یہ نہیں بتایا کہ بحرِ اوقیانوس کے آرپار اتنی بڑی مقدار میں سونا کس طریقے سے منتقل کیا گیا۔
بینک کے مطابق باقی منتقلی نیویارک میں سونا فروخت کرنے اور پھر لندن میں اسی مقدار کا سونا دوبارہ خریدنے کے ذریعے مکمل کی گئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈی این بی نے اپنے بیان میں کہا کہ ’خرید و فروخت اور جسمانی منتقلی کے عمل کو یکجا کرنے سے اس پیچیدہ آپریشن سے وابستہ خطرات کو مختلف مراحل میں تقسیم کرنے میں مدد ملی۔‘
بینک نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس کی جانب سے استعمال کی گئی اصطلاح ’جغرافیائی سیاسی بے چینی‘ سے کیا مراد ہے۔ تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگ کے باعث امریکی معیشت غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے، جس کے اثرات عالمی تجارت اور مالیاتی منڈیوں پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
دوسری جانب کینیڈا کو امریکہ کی جانب سے فولاد، ایلومینیم، لکڑی اور آٹوموبائل سمیت اہم شعبوں پر عائد محصولات کے باعث بڑا معاشی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اگست میں امریکہ نے تقریباً 28 ارب کینیڈین ڈالر (20 ارب امریکی ڈالر یا 15 ارب پاؤنڈ) مالیت کی کینیڈین مصنوعات پر مزید 50 فیصد محصول بھی عائد کر دیا تھا۔
ڈی این بی کے مطابق بینک آف انگلینڈ میں محفوظ سونے کو ’دنیا میں سب سے آسانی سے قابلِ تجارت سونا‘ تصور کیا جاتا ہے۔ اسی لیے کسی بھی بحرانی یا غیر یقینی صورت حال میں اس تک رسائی، امریکہ یا کینیڈا میں رکھے گئے سونے کے مقابلے میں زیادہ آسان سمجھی جاتی ہے۔
بدھ کو کیے گئے اعلان سے قبل ڈی این بی اپنے سونے کے ذخائر کا 31.3 فیصد نیویارک جبکہ 19.7 فیصد اوٹاوا میں رکھتا تھا۔ تاہم حالیہ منتقلی کے بعد دونوں ممالک میں موجود سونے کا حصہ کم ہو کر 18.5 فیصد رہ گیا ہے۔
ڈی این بی کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے اختتام پر نیدرلینڈز کے پاس سونے کے مجموعی ذخائر 612.4 ٹن تھے، جن کی مالیت تقریباً 72.2 ارب یورو تھی۔
اس منتقلی کے نتیجے میں لندن میں موجود سونے کا حصہ 18.1 فیصد سے بڑھ کر 32.1 فیصد ہو گیا ہے، جبکہ بینک کے 30.8 فیصد سونے کے ذخائر اب بھی نیدرلینڈز میں محفوظ ہیں۔



















