’ہماری زبان، ثقافت بالکل الگ الگ ہیں‘: راولاکوٹ میں جاری احتجاج اور پر تشدد کریک ڈاؤن کی خبروں پر انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں خاموشی کیوں ہے؟

    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو، سرینگر
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

سات برس قبل آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سے ہی انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں سیاسی جذبات کے اجتماعی اظہار پر پابندی ہے۔

تاہم چند برس قبل غزہ میں اسرائیلی بمباری سے ہوئی ہلاکتوں کے بعد انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں مظاہرے ہوئے۔ اس سال ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے میں ایران کے روحانی پیشوا خامنہ ای کی ہلاکت پر بھی یہاں احتجاج ہوا، جس کے بعد حکام نے ایک ہفتے تک انٹرنیٹ معطل کردیا، سکیورٹی پابندیاں عائد کیں اور درجنوں نوجوانوں کو حراست میں لیا۔ کیا وجہ ہے کہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی سنگین صورتحال پر یہاں کسی قسم کا کوئی عوامی یا سیاسی ردعمل سامنے نہیں آیا؟ یہی سوال ہم نے کئی مبصرین سے پوچھا۔

’اُس پار کے لوگوں کو کشمیری لیبل کراچی ایگریمنٹ نے دیا‘

معروف محقق اور کشمیر کی تاریخ پر کئی کتابوں کے مصنف پی جی رسول کا کہنا ہے کہ ’پاکستان کے زیرِانتظام جو خطہ کشمیر کہلاتا ہے، وہ جغرافیائی، ثقافتی اور لسانی اعتبار سے کشمیری نہیں ہے۔‘

’جنوری سنہ 1949 میں کراچی ایگریمنٹ کے تحت جب سیز فائر ہوا تو جو خطہ پاکستان کے کنٹرول میں تھا اسے بھی کشمیر ہی کہا گیا۔ وہاں کی حکومت نے اسے آزاد کشمیر کہا، حالانکہ ہماری زبان، ثقافت، رہن سہن اور جغرافیہ بالکل الگ الگ ہیں۔ یہ ایک حادثاتی لیبل تھا، جو اُس پار کے لوگوں کو کراچی ایگریمنٹ نے دیا۔‘

پی جی رسول کہتے ہیں کہ ’انڈیا کے زیرِانتظام پونچھ اور راجوری کے لوگوں کی پاکستانی کشمیر کے ساتھ لسانی، ثقافتی اور جٖغرافیائی ہم آہنگی کے باوجود ان خطوں میں بھی کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔‘

’چونکہ یہاں لوگ سمجھتے ہیں کہ خیبر اور بلوچستان کی طرح یہ بھی پاکستان کا اندرونی سکیورٹی مسئلہ ہے اس لیے وہ ان حالات پر نہیں بول رہے۔‘

اسی خیال سے ملتی جلتی بات جب پاکستان کے وزیردفاع خواجہ عاصف نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہی تھی تو اس پر پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔

’اسٹیبلشمنٹ کے خلاف کسی حرکت کو کشمیری پسند نہیں کرتے‘

بعض مبصرین اس خاموشی کے لیے گذشتہ برس انڈیا اور پاکستان کے درمیان ہوئی مختصر جنگ کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کو ملی سفارتی فتوحات کو ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔

بین الاقوامی تعلقات کے ایک ماہر پروفیسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’آپریشن سندور کے بعد ایک سال تک جو کچھ ہوا، لوگوں نے اس کا گہرائی سے مشاہدہ کیا۔ انھیں لگتا ہے کہ پاکستان ایک عالمی فوجی قوت بن گیا ہے، جو کشمیریوں پر ہونے والی مزید زیادتیوں کو روکنے کی طاقت رکھتا ہے، لہذا اسٹیبلشمنٹ کے خلاف کسی بھی حرکت کو کشمیری پسند نہیں کرتے، لوگ عمومی طور پر پاکستانی حکومت کے بیانیے پر ہی یقین کرتے ہیں، انھیں لگتا ہے، کہ ایسی تحریکیں پاکستان کو کمزور کرنے کی سازش ہے۔‘

واضح رہے معروف کشمیری رہنما میرواعظ عمر فاروق نے راولاکوٹ شورش سے متعلق ایک نہایت محتاط بیان دیا ہے۔

انھوں نے ایکس پر ایک پوسٹ میں پاکستانی کشمیر کے حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ’پاکستانی حکام کو طاقت کے استعمال پر مفاہمت، مشاورت اور مذاکرات کو ترجیح دینی چاہیے۔‘

انسانی حقوق کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے انھوں نے مظاہرہ کرنے والوں سے بھی اپیل کی کہ ’صبر و تحمل اور فہم و فراست کا مظاہرہ کریں۔‘

’اب لوگ اپنی ہی آئینی لڑائی پر قناعت کرتے ہیں‘

حزب اختلاف پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے ایک رہنما نے بتایا کہ ’لوگ دہائیوں سے اس انتظار میں تھے کہ پاکستان ان کی سیاسی خواہشات کو پورا کرسکتا ہے۔‘

’لیکن جب انھوں نے دیکھا جس خطے کو پاکستان آزاد کشمیر کہتا ہے وہاں کس درجے میں آزادیاں سلب ہو رہی ہیں، تو وہ اب اپنی ہی سیاسی اور آئینی لڑائی پر توجہ دینے لگے۔ ہمارے آئینی حقوق چھینے گئے، ریاست کا درجہ چھینا گیا۔ کسی بھی جگہ حکومت طاقت کا استعمال کرکے لوگوں کو مار دے تواس پر رنج ضرور ہوتا ہے، لیکن ہم فی الوقت اپنے مسائل میں الجھے ہوئے ہیں۔‘

ایک سابق پولیس افسر عبدالمجید کا کہنا ہے کہ ’پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں مظاہروں کے خلاف سرکاری کریک ڈاؤن نے مسئلہ کشمیر سے متعلق پاکستان کے موقف کو کمزور کردیا ہے۔‘

’پاکستان ہمیشہ کہتا رہا ہے کہ انڈیا کشمیر میں ظلم کررہا ہے، یہ دعوے اقوام متحدہ میں بھی کئے گئے، اب دیکھیے کشمیر کا جو حصہ پاکستان کے کنٹرول میں ہے، وہاں تو مظالم کی حد ہوگئی جن کی گونج اب برطانوی پارلیمنٹ میں بھی سنائی دے رہی ہے۔ دوسری طرف کشمیریوں کی دلچسپی بھی اب پاکستانی معاملات میں کم ہوئی ہے۔‘

’لوگ کیا کہیں گے جب رابطے ہیں نہ مراسم‘

جموں کے رہنے والے لَو پُوری کا خاندان سنہ 1947 میں میرپور سے ہجرت کرکے انڈیا کے زیرِانتظام کشمیر آیا تھا۔

انھوں نے چند برس قبل کئی ماہ تک پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں قیام کیا اور بعد میں ایک کتاب لکھی جس کا عنوان ہے، ’اکراس دا ایل او سی: اِن سائڈ پاکستان ایڈمنسڑرڈ کشمیر‘۔

پُوری نے بی بی سی کے ساتھ گفتگو کے دوران ایل او سی کی دوسری جانب کے حالات پر کشمیریوں کی خاموشی سے متعلق کہا کہ ’اس طرف کا کشمیر ہو یا اُس طرف کا، اس کو وفاقی حکومتوں کے زاویے سے نہیں سمجھا جاسکتا۔ مطالبے شناخت سے متعلق ہوں یا نمائندگی سے متعلق، یہ برسوں سے پنپ رہے ہوتے ہیں، اس طرف کے لوگ کیا رائے دیں گے، جبکہ دہائیوں سے کشمیر کے دونوں حصوں کی آبادیاں ایک دوسرے سے کٹی ہوئی ہیں، نہ رابطے ہیں، نہ مراسم۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’عوامی مطالبے سے متعلق حکومتوں کا بیانیہ قومی سلامتی اور کنٹرول کے فریم ورک میں ہو، تو حالات ٹھیک نہیں رہتے۔‘

’اگر پاکستانی کشمیر بھی انڈیا کا اٹوٹ انگ ہے تو انڈیا وہاں کے لوگوں کی بات کیوں نہیں کرتا‘

سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ نے ایک بیان میں انڈین حکومت سے کہا کہ ’اگر آپ کہتے ہیں کہ پاکستانی قبضے والا کشمیر بھی انڈیا کا اٹوٹ انگ ہے تو انڈیا وہاں کے حالات پر بات کیوں نہیں کرتا۔‘

اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’انڈیا کو چاہیئے کہ وہاں کے لوگوں کے مسائل پر آواز اُٹھائے۔ میں نے ابھی تک حکومت کو اس معاملے پر بولتے ہوئے نہیں سُنا۔‘

’اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کو بھی وہاں کے حالات کا نوٹس لینا چاہیئے۔‘