اداکار محمد احمد کا شکوہ، فہد شیخ کی وضاحت اور پاکستان کی شوبز انڈسٹری میں نوجوان اداکاروں کے رویّے پر بحث

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 10 منٹ

’محمد احمد صاحب، سینیئر ٹی وی آرٹسٹ، کے ساتھ ایک ڈرامے سیریل کے سیٹ پر جو کچھ ہوا، وہ نہ صرف قابلِ مذمت ہے بلکہ انتہائی افسوسناک بھی ہے۔ میں اس مسئلے کے حل کے طور پر نوجوان ٹی وی فنکاروں کے لیے ایک رہنمائی پروگرام تجویز کرنا چاہوں گا۔‘

اداکار محمد احمد کی جانب سے ایک نوجوان اداکار کے ہتک آمیز رویے کی شکایت کے بعد یہ موقف وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا ہے جنھوں نے محمد احمد کا بیان سامنے آنے کے بعد پاکستان میں سوشل میڈیا پر بحث کی وجہ بننے والے اس معاملے کا حل نکالنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کا عندیہ بھی دیا۔

عطا تارڑ نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر مزید کہا کہ فنکاروں کے لیے مجوزہ مینٹورشپ پروگرام کی سربراہی احمد صاحب جیسے سینیئر ٹی وی فنکار کریں گے، ’یا اسی طرز کی ایک کونسل قائم کی جائے۔ اس حوالے سے تجاویز حاصل کرنے کے لیے میں ٹی وی فنکاروں کا ایک اجلاس بلاؤں گا۔‘

حالیہ عرصے میں کچھ خواتین فنکاروں نے بھی انڈسٹری میں نئے آنے والے مرد و خواتین فنکاروں کے رویّوں کی شکایت کی ہے۔ اگرچہ انڈسٹری میں سب اداکار ان شکایت سے اتفاق نہیں کرتے لیکن کچھ کا کہنا ہے کہ اب انڈسٹری میں وہ روایتی ادب اور لحاظ نہیں رہا۔

لیکن یہ معاملہ ہے کیا اور احمد علی کا شکوہ کیا تھا جس پر نوجوان اداکار فہد شیخ نے وضاحت بھی جاری کی ہے؟

محمد احمد کا شکوہ

فنکار سیّد محمد احمد نے ایک پوڈ کاسٹ میں بات کرتے ہوئے ایک ڈرامے کے سیٹ پر پیش آنے والے واقعے کا ذکر کیا اور کہا کہ انھوں نے ایک نوجوان اداکار کو اس کے ابتدائی ڈرامے میں اداکاری پر مزید محنت کرنے کا مشورہ دیا جو ناگوار گزرا اور اس بات کا ذکر اس اداکار نے بعد میں ان کے ساتھ ایک ڈرامے میں مرکزی ادا کرتے ہوئے کیا۔

بقول اداکار محمد احمد انھیں یہ جتایا گیا کہ اب وہ نوجوان ایک ہیرو ہے جبکہ خود احمد علی ہر ڈرامے میں ایک طرح کی ایکٹنگ کرتے ہیں۔

اگرچہ محمد احمد کی جانب سے اس نوجوان اداکار کا نام ظاہر نہیں کیا گیا تھا تاہم لیکن بعد میں ایک اور واقعے کی ویڈیو سامنے آئی جس کا ذکر بھی محمد احمد نے پوڈ کاسٹ میں کیا تھا۔

اس ویڈیو میں ایک ڈرامے کے سیٹ پر محمد احمد کو بیٹھا دیکھا جا سکتا ہے جہاں چند نوجوان اداکار موجود ہیں۔ وہیں نوجوان اداکار فہد شیخ ایک ہیئر ڈرائیر لے کر احمد علی کے پاس آتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں ’آپ کے بال کس طرف بناؤں، ایک جانب کی مانگ نکالوں؟‘ ایک دوسرے اداکار کی آواز آتی ہے کہ ’نہیں سینٹر مانگ نکالو۔‘

اس سارے منطر میں سینئیر اداکار احمد علی کے چہرے پر ناگوار تاثرات بھی دیکھے جا سکتے ہیں لیکن وہ کوئی ردِ عمل نہیں دیتے۔

فہد شیخ کی وضاحت

فہد شیخ نے سینئیر اداکار محمد احمد کا انٹرویو وائرل ہونے کے بعد پہلے تو خاموشی اختیار کیے رکھی تاہم جب ان کا ویڈیو کلپ وائرل ہونے لگا اور بہت سے میڈیا انڈسٹری کے مبصرین نے مذمت شروع کی تو ان کا بیان سامنے آگیا۔

انھوں نے اپنی انسٹا گرام سٹوری میں لکھا ’آدھی ادھوری کہانیاں ہمیشہ خطرناک ہوتی ہیں اور ان سے ایک رائے قائم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جو بظاہر ’بُلی‘ لگ رہا ہے یہ معاملہ ایسا نہیں تھا۔‘

انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے لکھا کہ ’ہم سیٹ پر اداکاروں کے طرح نہیں بلکہ خاندان کی طرح رہتے ہیں جو ایک ساتھ ہنستے ہیں، کھاتے ہیں اور ایک دوسرے کا دکھ درد بانٹتے ہیں۔‘

فہد شیخ نے مزید لکھا کہ ’یہ میرا احمد صاحب کے ساتھ پہلا پروجیکٹ نہیں تھا۔ ہمارا ایسا تعلق تھا کہ ہم ہنستے اور ایک ساتھ اچھا وقت گزارتے تھے۔ مجھے نہیں پتا کہ جو مذاق انھوں نے خود شروع کیا وہ کب انھیں یہ محسوس کروا گیا کہ انھیں بُلی کیا گیا ہے۔ کیونکہ کسی کا بھی یہ ارادہ نہیں تھا۔‘

’میں اس انڈسٹری کا پچھلے 11 سال سے حصہ ہوں۔ میں نے بہت سے سینیئر فنکاروں کے ساتھ کام کیا ہے اور بہت کچھ سیکھا ہے۔ ان سب نے مجھے بیٹوں کے طرح پیار دیا ہے۔‘

محمد احمد کے حوالے سے فہد شیخ نے مزید لکھا کہ ’وہ میرے سینئیر ہیں، میں ان کی عزت کرتا ہوں۔ میں اس معاملے کے اچھلنے سے بہت پہلے ان سے معذرت کر چکا ہوں اور اس بارے میں مجھے ان سے سرِعام معافی مانگنے پر بھی کوئی شرم نہیں۔‘

’اگر احمد صاحب کو میرا ان سے معافی مانگنا کافی نہیں لگ رہا تو میں اس پلیٹ فارم پر بھی ان سے معافی مانگتا ہوں اور امید ہے کہ وہ میرے لیے دل میں کوئی گلہ نہ رکھیں گے۔ میں اپنے سینیئرز کی توہین کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔‘

’ویڈیو جاری کرنے کا الزام بھی مجھ پر لگا دیا گیا‘

اداکار محمد احمد نے بی بی سی اردو کے لیے صحافی براق شبیر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ایسے واقعات کی ویڈیوز بنا کر پوسٹ نہ کریں اس میں وہ لوگ بھی پھنس جاتے ہیں جن کا اس سے براہِ راست تعلق نہیں ہوتا اور خاص طور پر جب ان ویڈیوز سے پوسٹ کرنے والے کا بھی کوئی فائدہ نہ ہو رہا ہو۔‘

محمد احمد کا دعویٰ ہے کہ انھیں جب یہ ویڈیو بھیجی گئی تو وہ اس کے عام کیے جانے کے حق میں نہیں تھے اور ان سے پوچھے بغیر یہ ویڈیو شیئر کی گئی۔

اداکار محمد احمد نے بتایا کہ ’پہلے تو اس ویڈیو کے پوسٹ کیے جانے کا بھی الزام مجھ پر عائد کیا گیا اور اس ویڈیو میں نظر آنے والے تمام فنکاروں کو مذمتی پیغام بھیجے گئے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’سیٹ پر بغیر اجازت ویڈیوز بنانا بھی غیر اخلاقی ہے۔‘

محمد احمد نے کہا کہ ایک اداکارہ نے ’بغیر اجازت ویڈیو بنا کر پوسٹ بھی کر دی۔ مجھے تو ابھی ان خاتون کے ساتھ اس ڈرامے میں مزید ایکٹنگ بھی کرنی تھی۔ میں تو اب ان کے ساتھ مزید کام نہیں کر سکتا، اور خود پروڈیوسر بھی پریشان ہیں۔‘

انھوں نے کہا پوڈ کاسٹ میں کی جانے والی گفتگو کا ’اصل مدعا تو یہ تھا کہ اپنے بڑوں کی عزت کریں۔ سیٹ پر اداکاری کے لیے آئیں تو حد سے زیادہ تجاوز نہ کریں۔‘

فہد شیخ کے ردِ عمل پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’فہد اب جو باتیں کر رہے ہیں کہ ان میں معذرت دکھائی نہیں دیتی۔ انھوں (فہد) نے دعویٰ کیا کہ ماضی میں بھی ان کی اور میری ’بے تکلفی رہی‘ تو ایسا ہر گز نہیں ہے۔ میں اگر کسی ایسے لڑکے کو جانتا ہوں دو سال سے کہ وہ ایسا ہے۔۔۔ تو میں اس کے ساتھ ایسا مذاق کیسے کر سکتا ہوں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’کسی کے ساتھ ذاتیات پر مذاق کرنا اور حد پار کرنا ناقابلِ قبول ہے۔‘

محمد احمد کا کہنا ہے کہ ’میں نے اس لڑکے کے بارے میں جو کچھ کہا اس پر مجھے کوئی پچھتاوا نہیں۔‘

بلا اجازت سیٹ پر ریکارڈ کی گئی ویڈیو سوشل میڈیا پر جاری کیے جانے کے معاملے پر ان کا کہنا تھا ’میں ذاتی طور پر اس بارے میں کوئی اقدام نہیں کرنا چاہتا۔ یہ پروڈکشن ہاؤس والے جانیں۔‘

’بظاہر فہد کی جانب سے اخلاقی اقدار کا خیال نہیں کیا گیا‘

پاکستان ڈرامہ انڈسٹری کے سینیئر اداکار شہود علوی نے بی بی سی کی نامہ نگار تابندہ کوکب سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے معاشرے میں کچھ اخلاق اور اقدار ہیں اور ان میں بڑوں کا ادب ہر جگہ مشترک ہے۔ بظاہر اس منظر نامے میں لگتا ہے فہد کی جانب سے اخلاقی اقدار کا خیال نہیں کیا گیا۔‘

شہود علوی کا کہنا تھا کہ ’آج کل کے بچوں کے لیے بدتمیزی کی حد کو سمجھنا مشکل ہے۔ کہیں نہ کہیں ہم نے ادب کی وہ حد خود ہی مٹا دی۔ ہم نئی نسل کے لیے وہ حد برقرار نہیں رکھ پائے۔‘

انھوں نے کہا ’احمد صاحب ایک اچھے انسان ہیں وہ ہر عمر کے فنکاروں کے ساتھ گھل مل جاتے ہیں۔ لیکن اس ویڈیو میں صاف نظر آرہا ہے کہ انھیں یہ مذاق بالکل پسند نہیں آ رہا۔ یہ چیز ہماری نسل کے لیے سمجھنا بالکل مشکل نہیں تھا۔‘

شہود علوی نے اس تنازعے کے حوالے سے مزید کہا کہ ’مجھے ویڈیو میں موجود باقی فنکاروں کے ہنسنے پر بھی افسوس ہے کہ انھیں فہد کو روک لینا چاہیے تھا۔ کچھ ہماری غلطی ہے کہ ہم نئے فنکاروں کو اتنا بے تکلف کر لیتے ہیں کہ وہ کوئی بھی مذاق کرتے ہوئے ہچکچاتے نہیں ہیں۔‘

شہود علوی نے کہا کہ اس کے بعد ویڈیو کو سوشل میڈیا پر ڈالنا مناسب نہیں تھا۔

انھوں نے جونیئر فنکاروں کو مشورہ دیا کہ ’نئے آنے والے مذاق ضرور کریں لیکن کسی کی دل آزاری نہ کریں۔ اپنے مزاح کو کنٹرول رکھیں اور یہ سمجھیں کہاں کیا بات کرنی چاہیے۔‘

مینٹورشپ پروگرام کے حولے سے ان کا کہنا تھا کہ یہ خیال ان کے نزدیک ناقابلِ عمل ہے۔

شہود علوی کا کہنا تھا کہ ’بنیادی اخلاقی اقدار گھر سے سیکھے جاتے ہیں۔ اس کے بعد تربیت استاد کرتے ہیں۔ یہ حکومت یا دوسرے اداکار نہیں کر سکتے۔ یہ کوئی فارمولہ نہیں جو لوگوں کو دے دیا جائے۔‘

انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’میں وہی برتاؤ کروں گا جو میں نے والدین سے سیکھا یا استادوں سے سیکھا یا مجھے وقت نے سکھایا۔ کام کرنے کے اقدار نہ میں کسی کو سکھا سکتا ہوں نہ کوئی مجھے سکھا سکتا ہے۔‘

شہود علوی کا کہنا تھا کہ ’جہاں تک عطا صاحب کا تعلق ہے تو حکومت پہلے فنکاروں کے پیٹ بھرنے کا انتظام کرے اور ان کے رائیلٹی کے مسائل حل کرے۔ اخلاقیات زمانے پر چھوڑ دیں۔‘

سوشل میڈیا پر ’بے ادب فنکار‘ کی تلاش

اگرچہ اب یہ بات راز نہیں رہی کہ محمد احمد نے کس اداکار کا ذکر کیا تھا لیکن سوشل میڈیا صارفین نے اندازے لگانے شروع کردیے کہ یہ نوجوان ادکار کون ہوگا۔

چونکہ احمد علی نے اس فنکار کی عمر 25 کے آس پاس بتائی تھی تو سوشل میڈیا صارفین نے ہر اس نوجوان اداکار کا نام لے ڈالا جس نے ممکنہ طور پر احمد علی کے ساتھ کام کیا تھا۔

کچھ نے تو سوشل میڈیا پر بعض فنکاروں کو ٹیگ کر کے پوچھنا شروع کر دیا کہ کیا یہ آپ تھے؟

اس پر کچھ فنکاروں نے فوری تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی سینئیر کےساتھ بے ادبی کا سوچ بھی نہیں سکتے۔

احمد علی کا یہ کلپ وائرل ہوا تو پہلے پاکستان شو بزی انڈسٹری کے متعدد فنکاروں نے ان کی حمایت میں نہ صرف ویڈیو پوسٹ کیں جن میں ان کے اداکاری اور شخصیت کی تعریف کی۔

اداکار شمعون عباسی نے اس اداکار کا نام نہ لیتے ہوئے کہا کہ انڈسٹری کے اندر موجود گروپوں میں ان کا نام ظاہر ہو چکا ہے اس لیے وہ فوری طور پر معذرت کریں۔

کچھ فنکاروں نے غیر ضروری طور پر پوری انڈسٹری کے فنکاروں کو نامزد کیے جانے کی مخالفت کی۔

اداکار فیصل قریشی نے ایک طرف محمد احمد کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور ان سے اس اداکار کا نام لینے کو کہا جس نے مبینہ بدتمیزی کی وہیں سوشل میڈیا کمنٹس میں ڈراموں کے نوجوان اداکاروں کے نام بغیر تصدیق لینے جانے کی مذمت کی۔

انھوں نے سوشل میڈیا صارفین سے کہا کہ وہ بغیر تصدیق کے کسی کا نام کیسے لے سکتے ہیں۔

اداکار اعجاز اسلم نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’سیٹ پر ہر طرح کا ہنسی مذاق ہوتا ہے اگر کوئی غلط فہمی ہو جاتی ہے تو اسے وہیں حل ہونا چاہیے۔ اس بات کو سوشل میڈیا پر نہیں آنا چاہیے تھا۔‘

انھوں نے ویڈیو میں فہد شیخ سے سینئیر اداکار سے معافی مانگنے کو کہا اور محمد احمد سے کہا کہ وہ سینئیر ہونے کے ناطے درگزر کریں۔

کچھ سوشل میڈیا صارفین نے وفاقی وزیر کی جانب سے مجوزہ مینٹور شپ پروگرام کے حوالے سے کہا کہ یہ ضروری ہے۔

ایسے ہی ایک شہزاد لودھی نامی صارف نے لکھا ’بہت شکریہ، تارڑ صاحب۔ نوجوانوں کی تربیت ہماری گہری سماجی روایات، ثقافت اور اقدار کے مطابق ہونی چاہیے۔ اس معاملے پر کسی کے توجہ دینے کی بہت ضرورت تھی۔‘

زونیرہ رشید نامی صارف نے لکھا ’ٹیلنٹ پر غرور نہیں، کردار پر فخر ہونا چاہیے۔ جونیئر فنکاروں کو یاد رکھنا چاہیے کہ سینئرز کی عزت صرف روایت نہیں بلکہ اپنی آنے والی عزت کی ضمانت بھی ہے۔‘

کچھ سوشل میڈیا صارفین نے فہد شیخ کی حمایت میں کہا وہ پہلے ہی اپنے رویے کے لیے مافی مانگ چکے ہیں اور اب پبلک پوسٹ میں بھی معذرت کی ہے۔

آمنہ ضمیر شاہ نامی صارف نے لکھا ’گرین روم میں ایک بزرگ شخص کا مذاق اڑانا۔ نوجوان اداکار جس طرح ہنس رہے ہیں اور ایک سینئر اداکار کو شرمندہ محسوس کرا رہے ہیں، وہ غیر اخلاقی اور ناقابلِ قبول ہے۔‘