پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کے حکام کا کہنا ہے کہ ضلع کوئٹہ کے علاقے سورینج میں کوئلہ کان میں پیش آنے والے حادثے کے باعث مارے جانے والے 34 کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔
گذشتہ روز اس علاقے میں پیش آنے والا حادثہ جانی نقصان کے
حوالے سے بلوچستان میں رواں سال کے دوران کوئلہ کانوں میں ہونے والا اب تک کا سب سے بڑا
حادثہ ہے۔
پی ڈی ایم
اے کے مینیجر آپریشنز محمد فہد نے جمعہ کی صبح بتایا کہ مزید دو کانکنوں کی لاشوں کو
نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن کا سلسلہ جاری ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے محکمہ مائنز اینڈ
منرلز سے فوری رپورٹ طلب کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ حادثے کی شفاف انکوائری کر کے اس
حادثے کی وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔
بلوچستان کے وزیر برائے معدنیات میر شعیب نوشیروانی
کا کہنا ہے کہ حادثے میں جاں بحق کانکنوں کے لواحقین کو فی کس پانچ لاکھ روپے اور زخمیوں
کو فی کس 3 لاکھ روپے معاوضہ ادا کیا جائے گا۔
سورینج بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے مشرق میں تقریباً 40 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ ایک پہاڑی علاقہ ہے جہاں بڑی تعداد میں کوئلہ کانیں موجود ہیں۔
سورینج اور اس کے گردونواح کے علاقوں میں ماضی میں بھی کوئلہ کانوں میں حادثات پیش آتے رہے ہیں۔
دیگر جدید صنعتیں نہ ہونے کی وجہ سے کوئلے کی کانکنی بلوچستان کی بڑی صنعت ہے۔ کوئلے کی کانیں زیادہ تر کوئٹہ، کچھی، ہرنائی اور دکی کے اضلاع میں موجود ہیں، جن سے بالواسطہ اور بلاواسطہ ہزاروں کانکن اور مزدور وابستہ ہیں۔
سینئر مزدور رہنما لالا سلطان کا کہنا ہے کہ سیفٹی کے جدید انتظامات نہ ہونے اور ٹھیکیداری کے نظام کی وجہ سے دیگر صوبوں کے مقابلے میں بلوچستان کی کانوں حادثات کی شرح سب سے زیادہ ہے۔
ان کا کہنا ہے ان حادثات میں ہر سال بڑی تعداد میں کانکن ہلاک اور زخمی ہوتے ہیں ۔