آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستان کے ’سب سے بڑے ڈیٹا سینٹر‘ اور ’اے آئی کلاؤڈ‘ کا افتتاح: ’سکائی 47‘ منصوبہ ہے کیا؟
پاکستان کی حکومت نے ملک کے سب سے بڑے ڈیٹا سینٹر اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کلاؤڈ کا افتتاح کر دیا ہے جسے سکائی 47 (قراقرم ون ) کا نام دیا گیا ہے۔
جمعے کو وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے دیگر حکام کے ہمراہ راولپنڈی میں اس ڈیٹا سینٹر کا افتتاح کیا۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’سکائی 47‘ منصوبہ ایک متحرک، ترقی پسند اور شاندار مستقبل کی جانب انتہائی اہم پیش رفت ہے۔
پاکستانی حکومت کے مطابق یہ ڈیٹا سینٹر چین کی ٹیکنالوجی کمپنی ژونگ شِنگ ٹیلی کمیونیکیشن (زیڈ ٹی ای) کے اشتراک سے تیار کیا گیا ہے، جو ماضی میں بھی پاکستان میں مختلف منصوبوں پر کام کر چکی ہے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اسی نوعیت کے منصوبے کراچی اور لاہور میں بھی مکمل کیے جائیں گے اور تمام سرکاری اداروں کو اس سہولت سے منسلک کیا جائے گا۔
اُن کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ پاکستان کے مستقبل کی ضمانت ہے اور ملک کو ’ناقابلِ تسخیر سکیورٹی‘ فراہم کرے گا۔
’سکائی 47‘ منصوبہ ہے کیا؟
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ ’سکائی 47‘ ڈیٹا سینٹر کا افتتاح پاکستان میں مصنوعی ذہانت کے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ اس ڈیٹا سینٹر میں جدید سٹوریج، گرافکس پروسیسنگ یونٹ (جی پی یوز) اور ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ سسٹمز موجود ہوں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کمپیوٹر میں استعمال ہونے والے سینٹرل پروسیسنگ یونٹ سی پی یو کی طرح گرافکس پروسیسنگ یونٹ جی پی یو بھی ہارڈ ویئر ہے جو تیزی سے ڈیٹا کو پراسیس کرتا ہے۔
’سکائی 47‘ کے سی ای او حسن عباس نے کہا کہ دنیا میں 12 ہزار ڈیٹا سینٹرز ہیں جبکہ پاکستان میں صرف 22 ڈیٹا سینٹرز ہیں اور ہماری ڈیجیٹل صلاحیت بہت زیادہ ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ای کامرس کاروبار سالانہ 25 سے 30 فیصد کی شرح سے بڑھ رہا ہے۔ اس ڈیٹا سینٹر کے ذریعے ملک کے ڈیجیٹل شعبے میں ایک مضبوط بنیاد رکھی جا رہی ہے۔
حسن عباس کا کہنا تھا کہ یہ ڈیٹا سینٹر کلاؤڈ کمپیوٹنگ، ڈیٹا ہوسٹنگ اور ڈیجیٹل خدمات کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرے گا اور یہ حساس قومی اور تجارتی معلومات کے محفوظ تحفظ کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
اُن کے بقول سکائی 47 ڈیٹا سینٹر میں ایک ہزار ریکس رکھنے کی گنجائش ہو گی۔
ڈیٹا سینٹرز ہوتے کیا ہیں اور یہ کتنے اہم ہیں؟
آرٹیفیشل انٹیلی جینس کے ماہر ڈاکٹر فیصل کامران کہتے ہیں کہ ڈیٹا سینٹرز بنیادی طور پر وہ سرور ہوتے ہیں جو ہمیں 24 گھنٹے ڈیٹا فراہم کرتے ہیں۔ یہ سرور طاقت ور اور تیز رفتار کمپیوٹر مشینز پر مشتمل ہوتے ہیں۔
بی بی سی نیوز اردو کے اسد صہیب سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ جس طرح ہم کسی ویب سائٹ تک رسائی حاصل کرتے ہیں تو بنیادی طور پر ہم انٹرنیٹ کے ذریعے ایک درخواست بھیج رہے ہوتے ہیں جس پر ہمیں ڈیٹا ملتا ہے۔
اُن کے بقول یہ مواد جس جگہ پر ذخیرہ ہوتا ہے، اسے سرور کہتے ہیں اور یہ ہر وقت ہمیں ڈیٹا فراہم کرتے ہیں اور جس پر بڑے بڑے سرورز کو رکھا جاتا ہے، اس جگہ کو ڈیٹا سینٹر کہتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ بڑی بڑی حکومتیں، بینک، کاروباری ادارے اپنے ڈیٹا کو محفوظ رکھنے کے لیے بڑے بڑے ڈیٹا سینٹرز بناتے ہیں، جہاں اُن کا سارا ڈیٹا جمع کیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر کامران کہتے ہیں کہ دُنیا کی بڑی کمپنیاں بشمول ایمیزون، گوگل اور مائیکرو سافٹ کے اپنے اپنے ڈیٹا سینٹرز ہیں۔
ڈاکٹر فیصل کامران کے بقول ڈیٹا سینٹرز بھی دو طرح کے ہوتے ہیں جس میں پبلک اور پرائیویٹ شامل ہیں۔
ایک وہ جو ادارے اپنے کام کے لیے بناتے ہیں۔ مثال کے طور پر پی ٹی سی ایل کا اپنا ڈیٹا سینٹر ہے اور وہ یہ چاہتے ہیں کہ اُن کا ڈیٹا باہر نہ جائے۔
وہ کہتے ہیں کہ دوسری قسم پبلک ڈیٹا سینٹرز کی ہوتی ہے جسے کلاؤڈ بھی کہا جاتا ہے اور ان میں دُنیا بھر سے لوگ ادائیگی کے عوض اس میں معلومات سٹور کر سکتے ہیں یا سروسز حاصل کر سکتے ہیں جس طرح ایمیزون یا جی میل ہے۔
ڈاکٹر فیصل کامران کے بقول ڈیٹا سینٹر کے ذریعے حکومتی ادارے اپنا ڈیٹا ایک ہی جگہ پر جمع کر سکیں گے اور یہ پابندی بھی ہو گی کہ کون اس ڈیٹا سینٹر تک رسائی حاصل کر سکتا ہے اور کون نہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ آپ کے ملک کا ڈیٹا باہر نہ جائے اور اس حوالے سے خصوصی پروٹوکولز بنائے جائیں گے اور جس جگہ پر یہ ڈیٹا سینٹرز بنائے جاتے ہیں وہ بلاتعطل بجلی کی فراہمی کو یقینی بنایا جاتا ہے۔
آرٹیفیشل انٹیلی جنس کلاؤڈ
انفارمیشن ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے ماہر مجبتی محمد کہتے ہیں کہ کلاؤڈ سے مراد ایسی سرور مشینز ہیں جو ایک ہی جگہ پر رکھی جاتی ہیں اور اگر انھیں آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے منسلک کر دیا جائے تو پھر انھیں اے آئی کلاؤڈ کہا جاتا ہے۔
بی بی سی نیوز اردو کے اسد صہیب سے بات کرتے ہوئے مجبتی محمد کا کہنا تھا کہ دُنیا میں بڑی کلاؤڈ کمپنیوں میں ایمیزون، گوگل اور مائیکرو سافٹ سرفہرست ہیں اور اس ڈیٹا تک رسائی کے لیے ان کمپنیوں نے اپنے اپنے قوانین بنا رکھے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ اے آئی کلاؤڈ ریگولیٹرز اور پالیسی سازوں کے لیے ڈیٹا کے تحفظ اور نگرانی کے فریم ورک کا اچھا موقع ہے۔
پاکستان میں نجی شعبے کی جانب سے بھی اے آئی ڈیٹا سینٹر بنائے جا رہے ہیں۔ گذشتہ برس نومبر میں ’ڈیٹا والٹ پاکستان‘ نے ٹیلی نار پاکستان کے اشتراک سے پاکستان کے پہلے خود مختار آرٹیفیشل انٹیلیجنس کلاؤڈ لانچ کیا تھا۔