آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
جلی ہوئی دیواریں اور راکھ سے بھرے گھر: جیکب آباد میں محبت کی شادی پر پورا گاؤں جلا دینے کا الزام
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، جیکب آباد
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
جلی ہوئی دیواریں، راکھ سے بھرے گھر، ٹوٹی چارپائیاں، بکھرا سامان اور دیواروں پر آگ کے سیاہ نشانات۔۔۔ صوبہ سندھ کا ایک خاموش گاؤں جہاں کبھی زندگی تھی، اب صرف خوف باقی ہے۔
یہ مناظر ہیں شمالی سندھ کے ضلع جیکب آباد کے گاؤں صدیق آرائیں کے جہاں ’لو میرج‘ یعنی محبت کی شادی کے بدلے میں حملہ آوروں نے پورا گاؤں ہی جلا ڈالا۔ انتقام کی اس آگ کا سلسلہ بظاہر شروع ہوا ایک ویڈیو بیان سے۔
سندھ اسمبلی میں اس واقعے کے خلاف قرارداد منظور کی گئی ہے۔ پیر کے اجلاس کے دوران وزیر داخلہ سندھ ضیا لنجار کا کہنا تھا کہ جن لوگوں کے گھر جلے ہیں انھیں معاوضہ دیا جائے گا اور اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر سے رپورٹ طلب کی گئی ہے۔ قرارداد کے متن میں یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ متاثرین کو سکیورٹی فراہم کی جائے جبکہ تمام ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔
یہ واقعہ پانچ مئی کا ہے۔ تاہم اس کہانی کو سمجھنے کے لیے ہمیں کچھ پیچھے جانا ہو گا جب کراچی میں زیرتعلیم حسن برڑو اور پانچ جماعتیں پاس سدرہ چنا نے حیدرآباد میں جا کر کورٹ میرج کر لی اور سوشل میڈیا پر اپنی شادی سے متعلق ایک ویڈیو بھی جاری کی۔
سوشل میڈیا پر موجود اس ویڈیو میں سدرہ چنا اور حسن بُرڑو ایک ساتھ بیٹھے دکھائی دیتے ہیں اور ان کے ہاتھوں میں حلف نامے تھے۔
سدرہ نے ویڈیو بیان میں کہا کہ ’میں اپنی مرضی سے آئی ہوں۔ ہم نے کورٹ میرج کی ہے۔ میں گھر سے صرف ایک جوڑے میں نکلی تھی۔ نہ سونا لیا، نہ پیسے۔‘
سدرہ نے بیان میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ اُس کی عمر 14 سال نہیں بلکہ 20 سال ہے۔ یہ ویڈیو وائرل ہو گئی اور اس شادی کے مخالفین تک بھی جا پہنچی۔
نوجوان حسن بُرڑو کے والد ملہار برڑو کہتے ہیں کہ اُنھیں یہ تک معلوم نہیں تھا کہ اُن کے بیٹے کی سدرہ سے دوستی کیسے ہوئی اور دونوں نے کب یہاں سے نکلنے کا فیصلہ کیا۔ ان کے مطابق اس کی چنا برادری کے نوجوانوں کے ساتھ دوستی تھی، ان کے ہاں وہ آتا جاتا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’ہمارے سردار نے مجھے فون کیا۔ میں نے کہا کہ مجھے مہلت دیں، میں فون کرتا ہوں۔ لیکن بیٹے کا فون بند آ رہا تھا۔ جیسے ہی سوشل میڈیا پر ویڈیو آئی تو سرداروں نے جرگہ کیا اور گاؤں کو جلانے کا فیصلہ کیا۔ کئی سو مسلح افراد آئے، فائرنگ کی، لوگوں کو خوفزدہ کیا اور پورے گاؤں کو آگ لگا دی۔‘
ایس ایس پی فیضان آرائیں کا کہنا ہے کہ پولیس کی جانب سے فوری کارروائی کی گئی تھی۔ متاثرین کی مدعیت میں 32 افراد کے خلاف ہنگامہ آرائی کا مقدمہ درج ہوا جبکہ 10 مشتبہ افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔
لیکن متاثرین کچھ اور ہی کہتے ہیں۔
’پولیس آئی نہ فائر بریگیڈ‘
گاؤں صدیق آرائیں میں داخل ہوں تو ہر طرف تباہی دکھائی دیتی ہے۔ دو درجن کے قریب گھروں میں یا تو ہر چیز جل چکی ہے یا پھر توڑ دی گئی ہے۔
پانی کے نلکوں سے لے کر گھاس کاٹنے والی مشینوں تک، کچھ بھی محفوظ نہیں بچا۔ کچھ ایسے لوگ بھی حملے کا نشانہ بنے جن کی نوجوان حسن برڑو سے کوئی رشتہ داری نہیں تھی، مگر وہ اسی قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔
نجم الدین برڑو نے دو بڑے بکسے کھول کر دکھائے جس میں صرف چند برتن تھے، وہ بھی جلے ہوئے۔ انھوں نے بتایا کہ ان میں دو لڑکیوں کا جہیز تھا۔ اس بکسے میں جہیز کا سارا سامان رکھا ہوا تھا اور لڑکیوں کی شادی کی تیاریاں جاری تھیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’حملہ آور اپنے ساتھ گیس سلینڈر اور پیٹرول لائے تھے، سلینڈروں سے دھماکے کیے گئے جس سے چھتیں اڑ گئیں۔ وہ کچھ سامان لوٹ کر لے گئے اور باقی جلا دیا، دو تین برادریوں کے لوگ اُن کے ساتھ تھے۔ بستر جلا دیے گئے، اناج جل گیا، ہر چیز راکھ ہوگئی۔‘
صدیق آرائیں گاؤں سے صرف دو کلومیٹر کے فاصلے پر میرپور برڑو تھانہ واقع ہے جبکہ 10 کلومیٹر دور فائر بریگیڈ کا دفتر ہے۔
نجم الدین الزام عائد کرتے ہیں کہ ’نہ پولیس آئی اور نہ ہی فائر بریگیڈ۔ ان کو بھی سرداروں نے اپنا سیاسی اثرورسوخ استعمال کر کے روک لیا تھا۔‘
صدیق آرائیں کے زیادہ تر رہائشی مزدور ہیں۔ اس وقت گاؤں میں صرف مرد موجود ہیں۔ خواتین حملے سے پہلے ہی یہاں سے نکل گئی تھیں۔
اہلِ خانہ کے مطابق، اُنھیں خدشہ تھا کہ کہیں خواتین کو اغوا نہ کر لیا جائے۔ گاؤں میں موجود پرائمری سکول کی عارضی عمارت بھی اس حملے کی آگ سے محفوظ نہیں رہ سکی، اس عمارت کو بھی نذرِ آتش کر دیا گیا، اب گاؤں کے بچے ایک بیٹھک میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اساتذہ نے بی بی سی کو بتایا کہ اُن کے لیے ڈیسک بھی آس پاس کے سکولوں سے مانگ کر لائے گئے ہیں۔
صدیق آرائیں گاؤں اس حملے سے دو بار پہلے قدرتی آفات سے متاثر ہوچکا ہے 2010 کے سیلاب میں یہ گاؤں ڈوب گیا اور رہائشیوں نے کئی ماہ دربدری میں گذارے۔
2022 کی طوفانی بارشوں نے ایک بار پھر انھیں بے گھر کردیا، پیپلز ہاؤسنگ سکیم کے تحت انھیں جو 50 کے قریب کمرے تعمیر کر کے دیئے گئے تھے وہ بھی اس حملے میں متاثر ہوئے ہیں۔
اغوا یا محبت
حسن برڑو اور سدرہ چنا کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے ’لو میرج‘ کی ہے جبکہ سدرہ چنا کے والدین کا الزام ہے کہ ان کی بیٹی کو جبری اغوا کیا گیا ہے۔
میرپور برڑو تھانے پر کبیر چنا نے اپنی بہن سدرہ چنا کے اغوا کی ایف آئی آر درج کرائی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ رات کے آخری پہر تقریباً چار بجے محمد حسن بُرڑو اپنے ساتھیوں کے ساتھ اُن کے گھر میں داخل ہوا اور اُس کی بہن سدرہ چنا کو زبردستی ساتھ لے گیا۔
ایف آئی آر میں یہ بھی لکھوایا گیا کہ جاتے ہوئے ملزمان گھر میں موجود پانچ تولے سونا، ایک لاکھ 80 ہزار روپے نقد رقم اور دو موبائل فون بھی ساتھ لے گئے۔
سدرہ کے والد کہتے ہیں کہ وہ ’پردہ دار لوگ ہیں، ان کی خواتین باہر بھی نہیں نکلتیں۔ ویڈیو پر لا کر بے پردگی کی گئی۔‘
’گھر میں ایسی کبھی کوئی بات نہیں کبھی ذکر نہیں کیا گیا نہ ہی حسن برڑو کی فیملی میں سے کوئی آیا کہ رشتہ دو۔ رات کے اندھیرے میں بیٹی کو اغوا کیا گیا ہے۔‘
’حملہ نہیں، صرف چند اینٹیں‘
خاندان سے بغاوت کر کے شادی کرنے والی لڑکیوں اور نوجوانوں کے قتل کے واقعات تو عام ہیں تاہم لشکر کشی کر کے اس طرح سزا دینے کو شمالی سندھ کا ایک انوکھا واقعہ کہا جا رہا ہے جو مقامی سطح پر سرداری نظام کے اثر رسوخ کو بھی ظاہر کرتا ہے۔
گاؤں غازی خان چنا کے رہائشیوں پر صدیق آرائیں گاؤں پر حملے کا الزام ہے۔ غازی خان ڈیڑھ سو کے قریب گھروں پر مشتمل ہے جس میں چنا برادری کے علاوہ دیگر برادریاں بھی رہتی ہیں۔ چنا فیملی مقامی سیاست میں بھی سرگرم ہے۔
چنا برادری کے سردار احمد علی خان چنا سے جس روز ملاقات ہوئی، اسی روز حملے میں ملوث قرار دیے گئے ملزمان نے ضمانتیں حاصل کی تھیں۔
سردار احمد علی چنا تسلیم کرتے ہیں کہ مشتعل افراد نے صدیق آرائیں گاؤں پر حملہ کیا تاہم اُن کا مؤقف ہے کہ نقصان خود گاؤں والوں نے کیا۔ ’جس وقت حملہ ہوا، وہ تھانے میں ایف آئی آر درج کر رہے تھے۔‘
ان کے مطابق ’لوگوں کی ایک بڑی تعداد جمع ہوگئی تھی، ہم ہیڈ محرر کے پاس موجود تھے جب مجھے معلوم ہوا کہ کچھ لوگ برڑو کمیونٹی کے گاؤں پہنچ گئے ہیں۔ میں نے اپنے لوگوں سے کہا کہ فوری پہنچو اور انھیں واپس لاؤ میں بھی پہنچتا ہوں اسی دوران سارے لوگ واپس آ گئے۔‘
سردار احمد علی کے مطابق انھیں لوگوں نے بتایا کہ کچھ گھروں کی چھتوں سے اینٹیں نکالی گئیں لیکن اس دوران ’میرا حکم آ گیا اور دوسرے فریق کے لوگ بھی پہنچ گئے۔ اس لیے وہ واپس آ گئے۔‘
چنا سردار کے مطابق انھوں نے لوگوں سے کہا کہ انھوں نے ’غلطی کی ہے کیونکہ قانون ان کی مدد کر رہا تھا۔‘
فیصلہ جرگے میں ہوگا یا عدالت میں
حسن برڑو اور سدرہ اس وقت نامعلوم مقام پر ہیں اور سوشل میڈیا پر ویڈیوز میں کہہ رہے ہیں کہ ان کی جان کو خطرہ ہے۔
چنا برادری کے سردار کہتے ہیں کہ لڑکی کو اُن کے حوالے کیا جائے۔ ’لڑکی جو بیان دے گی اس کی روشنی میں فیصلہ ہوگا۔‘
انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ حل ’جرگے کے ذریعے‘ چاہتے ہیں۔ جبکہ حسن بُرڑو کے خاندان کا کہنا ہے کہ ’اب فیصلہ صرف عدالت ہی کرے گی۔‘
واضح رہے کہ سندھ کے دیہی علاقوں میں اکثر برادریوں میں لڑکی کے رشتے کے لیے پہلا انتخاب خاندان میں ہی ہوتا ہے۔ سندھ میں خاندان سے باہر یا کسی اور قبیلے میں پسند کی شادی کے خلاف کارو کاری کی روایت موجود ہے جس کا انجام اکثر موت ہی ہوتا ہے۔
ایک سوال یہ بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ میرپور تھانہ یہاں سے صرف دو کلومیٹر دور تھا تو پھر پولیس نے اس ہنگامہ آرائی کو روکنے کی کوشش کیوں نہیں کی؟
ضلعی انتظامیہ کے مطابق اس حملے میں 68 گھرانے متاثر ہوئے ہیں جن کو سابق گورنر اور سابق چیئرمین سینیٹ محمد میاں سومرو کی طرف سے چند خیمے فراہم کیے گئے ہیں۔ جبکہ حکومت نے پانچ، پانچ کلو راشن کے بیگز فراہم کیے۔
تاہم مقامی لوگ ابھی تک غیر یقینی کی کیفیت میں ہیں۔