آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدہ کسی نے نہیں دیکھا، تنقید کرنے والوں کی بات نہ سنی جائے: امریکی صدر ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ امریکہ کا معاہدہ ’نہ کسی نے دیکھا ہے اور نہ ہی کسی کو معلوم ہے کہ وہ ہے کیا۔ اس پر ابھی مکمل طور پر مذاکرات بھی نہیں ہوئے۔‘ انھوں نے کہا کہ معاہدے پر تنقید کرنے والوں کی بات نہ سنی جائے۔

خلاصہ

  • امریکہ، ایران معاہدہ 'نہ کسی نے دیکھا، نہ کوئی جانتا ہے کہ وہ ہے کیا': ٹرمپ
  • اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا کہ صدر ٹرمپ اور اُن کے درمیان اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ ’ایران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے۔‘
  • ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ’ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کے لیے تیار ہے' کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں‘
  • ہمارے خاندان کو بیرسٹر گوہر اور سہیل آفریدی کی محسن نقوی سے ملاقات کا کوئی علم نہیں تھا: علیمہ خان

لائیو کوریج

  1. امریکہ، ایران امن معاہدے کی امیدوں کے باعث تیل کی قیمتوں میں کمی

    امریکہ، اسرائیل اور ایران میں جنگ بندی کے معاہدے کی امید پر تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی اور ایشیائی سٹاک مارکیٹوں میں تیزی آئی ہے۔

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سنیچر کے روز کہا کہ تہران کے ساتھ معاہدہ ’بڑی حد تک طے ہو چکا ہے‘ اور اس کی تفصیلات کا اعلان جلد ہی کر دیا جائے گا۔

    تاہم ایک دن بعد انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم سے کہا کہ معاہدے تک پہنچنے میں جلدی نہ کریں۔

    پیر کی صبح ایشیا میں برینٹ خام تیل کی قیمت پانچ فیصد کمی کے ساتھ 98 ڈالر اور 36 سینٹ پر آ گئی، جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت 3.5 فیصد کمی کے بعد 91 ڈالر اور 50 سینٹ ہو گئی۔

    جاپان کا نکئی 225 انڈیکس بھی 2.5 فیصد اضافے کے ساتھ پہلی بار 65 ہزار پوائنٹس کی سطح سے تجاوز کر گیا۔ اس اضافے کو آبنائے ہرمز جلد کھلنے کی توقع سے منسوب کیا جا رہا ہے۔

    برطانیہ اور امریکہ کی توانائی اور مالیاتی مارکیٹیں پیر کے روز سرکاری تعطیل کی وجہ سے بند ہیں۔

  2. امریکہ، ایران معاہدہ ’نہ کسی نے دیکھا، نہ کوئی جانتا ہے کہ وہ ہے کیا‘: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ امریکہ کا معاہدہ ’نہ کسی نے دیکھا ہے اور نہ ہی کسی کو معلوم ہے کہ وہ ہے کیا۔ اس پر ابھی مکمل طور پر مذاکرات بھی نہیں ہوئے۔‘

    اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’اگر میں ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ کرتا ہوں تو وہ ایک اچھا اور مناسب معاہدہ ہو گا، اس طرح کا نہیں جیسا کہ اوباما نے کیا تھا، جس نے ایران کو بڑی مقدار میں رقم دی اور جوہری ہتھیار کے لیے ایک واضح اور کھلا راستہ فراہم کیا۔‘

    امریکی صدر نے کہا کہ جو معاہدہ وہ کرنے جا رہے ہیں، وہ اوباما والے معاہدے کے ’بالکل برعکس‘ ہے۔ تاہم ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ معاہدہ نہ تو کسی نے دیکھا ہے نہ کسی کو اس کے بارے میں کچھ معلوم ہے۔

    ٹرمپ نے کہا کہ اس معاہدے پر تنقید کرنے والوں کی بات نہ سنی جائے، ’میں خراب معاہدے نہیں کرتا۔‘

  3. ہمارے خاندان کو بیرسٹر گوہر اور سہیل آفریدی کی محسن نقوی سے ملاقات کا کوئی علم نہیں تھا: علیمہ خان

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی بہن علیمہ خان نے ایکس اکاؤنٹ پر کہا ہے کہ بیرسٹر گوہر (چیئرمین پی ٹی آئی) اور سہیل آفریدی (وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا) نے محسن نقوی (وفاقی وزیر داخلہ) سے ملاقات کی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے خاندان کو اس ملاقات کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا اور نہ ہی خاندان کا کوئی رکن اس ملاقات میں موجود تھا۔‘

    علیمہ خان بنیادی طور پر ایک ایکس پوسٹ کا جواب دے رہی تھیں، جس میں تحریر کیا گیا تھا کہ سہیل آفریدی، علیمہ خان اور محسن نقوی کی ملاقات بیرسٹر گوہر کے گھر میں ہوئی۔

    اس کے بعد وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر علیمہ خان کی پوسٹ کا حوالہ دے کر اپنا مؤقف بیان کیا۔ انھوں نے لکھا: ’میری محسن نقوی سے ملاقات بنوں میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعات اور صوبے کے امن و امان کے حوالے سے تھی اور اس میں کوئی سیاسی بات چیت نہیں ہوئی۔‘

    گذشتہ روز پریس کانفرنس میں سہیل آفریدی نے ایک بار پھر تحریک انصاف کا یہ مطالبہ دہرایا کہ ’عمران خان کا علاج ان کی فیملی کی موجودگی میں اور ان کے ذاتی ڈاکٹرز کی نگرانی میں الشفا انٹرنیشنل ہسپتال سے کرایا جائے۔‘

    انھوں نے کہا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو ’ہمارا رویہ مزید سخت ہو گا۔‘

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے پریس کانفرنس میں ممبران صوبائی اسمبلی اور وزرا کو تحریک تحفظ آئین پاکستان کے تحت جمعے کے روز احتجاج میں شرکت کی ہدایت بھی کی۔

  4. کانگریس ٹرمپ کے ایران سے متعلق اقدامات کو روک سکتی ہے: ڈیموکریٹ رکن کانگریس

    امریکہ میں ڈیموکریٹک رکنِ کانگریس رو کھنہ نے این بی سی نیوز کے پروگرام میٹ دی پریس میں کہا ہے کہ اب کانگریس میں ’وار پاورز ریزولوشن‘ منظور کرانے کے لیے مطلوبہ حمایت موجود دکھائی دیتی ہے۔

    پس منظر کے طور پر یہاں اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ امریکی ایوانِ نمائندگان میں ریپبلکن قیادت نے جمعرات کو اس قرارداد پر ووٹنگ منسوخ کر دی تھی، جس کے تحت صدر ٹرمپ کو ایران سے امریکی افواج واپس بلانے پر مجبور کیا جا سکتا تھا، کیونکہ واضح ہو گیا تھا کہ ریپبلکن اراکین کے پاس اس قانون سازی کو روکنے کے لیے ووٹ ناکافی ہیں۔

    رو کھنہ نے کہا کہ ’بہت سے ریپبلکن یہ سمجھتے ہیں کہ جنگ ختم ہونی چاہیے۔ انھوں نے کسانوں سے بات کی ہے جو کہہ رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اور کنٹرول کے باعث نائٹروجن، امونیا اور یوریا کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ عوام مہنگے پیٹرول کی وجہ سے بھی مشکلات کا شکار ہیں۔‘

    رو کھنہ کے بقول ’یہ تمام صورتحال ٹرمپ پر مذاکرات کی طرف آنے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ کانگریس اہم ہے۔ حتیٰ کہ اگر قرارداد منظور نہ بھی ہو، تب بھی ہم صدر پر دباؤ ڈالتے ہیں اور امید ہے کہ یہ جنگ ختم ہو جائے گی۔‘

  5. کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرہ مکمل طور پر ختم ہونا چاہیے: اسرائیلی وزیرِاعظم

    اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ انھوں نے گزشتہ رات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کی تازہ صورتحال پر بات چیت کی۔

    ایکس پر جاری بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ صدر ٹرمپ اور اُن کے درمیان اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ ’ایران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے۔‘

    انھوں نے کہا کہ اس عمل میں ایران سے ’افزودہ جوہری مواد‘ کا خاتمہ اور تہران کی یورینیم افزودگی کی تنصیبات کو ختم کرنا بھی شامل ہے۔

    نیتن یاہو نے مزید کہا کہ ’میری پالیسی، صدر ٹرمپ کی طرح، تبدیل نہیں ہوئی ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے۔‘

    دوسری جانب ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دو ٹوک انداز میں کہا ہے کہ اسرائیل لبنان سمیت ہر محاذ پر خطرات کے خلاف ’آزادانہ طور پر کارروائی کرنے کا حق برقرار رکھے گا۔‘

    عہدیدار کے مطابق امریکہ، اسرائیل کو اس مفاہمتی یادداشت سے متعلق مذاکرات پر مسلسل آگاہ کر رہا ہے، جس کا مقصد ’آبنائے ہرمز کو کھولنا اور متنازع نکات پر حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات شروع کرنا‘ ہے۔

    اسرائیلی عہدیدار نے مزید کہا ہے کہ ’صدر ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرنے اور اس کی سرزمین سے تمام افزودہ یورینیم ہٹانے کے اپنے مستقل مؤقف پر سختی سے قائم رہیں گے اور ان شرائط کو تسلیم کیے بغیر کسی حتمی معاہدے پر دستخط نہیں کریں گے۔‘

    واضح رہے کہ اس سے قبل اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بھی یہ بات کہہ چُکے ہیں کہ جب تک ’جوہری خطرہ‘ مکمل طور پر ختم نہیں کیا جاتا، ایران کے ساتھ کوئی حتمی معاہدہ ممکن نہیں۔

  6. ایران کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنا سکتا: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اپنے مکمل بیان میں کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والا سابق جوہری معاہدہ امریکی تاریخ کے ’بدترین معاہدوں میں سے ایک‘ تھا، جو باراک اوباما اور ان کی انتظامیہ کے دور میں طے پایا۔

    انھوں نے کہا کہ وہ معاہدہ ایران کے جوہری ہتھیار بنانے کی طرف ایک ’براہ راست قدم‘ تھا، تاہم ان کی انتظامیہ کی جانب سے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات اس کے برعکس ہیں۔

    صدر ٹرمپ کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات ’منظم اور تعمیری انداز میں‘ جاری ہیں اور انھوں نے اپنے نمائندوں کو ہدایت دی ہے کہ کسی معاہدے میں جلد بازی نہ کی جائے کیونکہ ’وقت امریکہ کے حق میں ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ایران پر امریکی پابندیاں کسی معاہدے کے طے، تصدیق اور دستخط ہونے تک برقرار رہیں گی اور فریقین کو مکمل احتیاط کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔

    ٹرمپ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ’کوئی غلطی کی گنجائش نہیں‘ اور امریکہ و ایران کے تعلقات زیادہ پیشہ ورانہ اور مثبت سمت میں جا رہے ہیں، تاہم ایران کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ جوہری ہتھیار یا بم حاصل نہیں کر سکتا۔‘

    انھوں نے مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کا تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ تعاون مستقبل میں مزید مضبوط ہوگا، خصوصاً ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت کے ذریعے۔

    انھوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ ممکن ہے کہ ایران بھی مستقبل میں ان معاہدوں کا حصہ بننے میں دلچسپی لے۔

  7. ٹرمپ کا مذاکرات کاروں کو جلد بازی نہ کرنے کا مشورہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انھوں نے مذاکرات کاروں کو کسی بھی معاہدے میں جلد بازی نہ کرنے کی ہدایت دی ہے۔

    ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’مذاکرات منظم اور تعمیری انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں‘ اور انھوں نے امریکی ٹیم کو ’کسی معاہدے میں جلدی نہ کرنے‘ کا کہا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’وقت ہمارے حق میں ہے۔‘

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کسی بھی حتمی معاہدے تک برقرار رہے گی۔

    انھوں نے کہا کہ اس حوالے سے مکمل بیان جلد جاری کیا جائے گا۔

  8. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • بحرین کی ایک عدالت نے پاسدارانِ انقلاب سے تعاون کے الزام میں 11 افراد کو قید کی سزائیں سنا دیں
    • اسرائیلی دفاعی افواج نے جنوبی لبنان کے 10 دیہات کے رہائشیوں کو ’فوری طور‘ پر علاقے سے نکل جانے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ ’حزب اللہ کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں کے پیشِ نظر‘ فوج کو ان کے خلاف ’سخت کارروائی کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔‘
    • ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ’ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کے لیے تیار ہے‘ کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں۔‘
    • ایران کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر علی عبداللہی نے کہا ہے کہ ایرانی مسلح افواج ’تاریخ کے دردناک تجربات کو دوبارہ دہرانے کی اجازت نہیں دیں گی‘ اور ’کسی بھی جارحیت کا سخت اور انتہائی شدید انداز میں جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔‘
  9. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔