آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
حمزہ برہان: مظفرآباد میں قتل ہونے والے ’کالج پرنسپل‘ کو انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں عسکریت پسندی سے کیوں جوڑا جا رہا ہے؟
- مصنف, نصیر چودھری، روحان احمد
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کی پولیس کے مطابق گوجرہ کے علاقے میں واقع ایک نجی کالج کے پرنسپل حمزہ برہان جمعرات کی دوپہر ہونے والے ایک قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہونے کے بعد ہلاک ہو گئے ہیں۔
ڈی ایس پی اشتیاق گیلانی نے بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ روز زخمی ہونے والے ایمز کالج کے پرنسپل حمزہ برہان سی ایم ایچ میں دوران علاج وفات پا گئے ہیں۔
پولیس کے مطابق مقتول کو گزشتہ روز ان کے کالج کے سامنے گولیاں مار کر شدید زخمی کیا گیا تھا جس کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم عبداللہ کمال کو گرفتار کرلیا تھا۔
مقامی تھانے کے ایس ایچ او واجد علوی نے بھی ان کی وفات کی تصدیق کی ہے۔
مظفرآباد کے تھانہ صدر کی پولیس کے مطابق حمزہ برہان شدید زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موت کے منہ میں چلے گئے اور ان کے پسماندگان میں بیوہ اور چھ ماہ کی ایک بچی شامل ہیں۔
جمعرات کے روز حمزہ برہان کے شدید زخمی ہونے کی اطلاع کے بعد جب بی بی سی نے پولیس سے رابطہ کیا تو ڈی ایس پی سٹی اشتیاق گیلانی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حمزہ برہان مظفرآباد کے رہائشی ہیں اور انڈیا کے زیر انتظام کشمیر سے نقل مکانی کر کے آئے تھے۔
ڈی ایس پی اشتیاق گیلانی نے بتایا کہ حمزہ برہان پر حملے کے بعد ایک مبینہ حملہ آور کو بھی حراست میں لیا گیا ہے، جو پنجاب کے شہر واہ کینٹ کا رہائشی ہے۔
اشتیاق گیلانی کے مطابق حملے کے فوراً بعد حمزہ برہان کو سی ایم ایچ ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زیرعلاج رہے اور اُن کی صورتحال نازک تھی۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ گرفتار ملزم سے اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اشتیاق گیلانی کے مطابق ابتدائی تفتیش میں سامنے آیا ہے کہ مبینہ حملہ آور واہ کینٹ سے اتوار کے روز سے مظفرآباد آیا تھا اور اُس نے ایک مقامی ہوٹل میں رہائش اختیار کر رکھی تھی۔
پولیس کے مطابق ’حمزہ اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ کالج سے باہر آئے تھے اور بات چیت کے بعد جب وہ واپس کالج کے اندر جا رہے تھے تو اُن کی پیٹھ پر پہلا فائر کیا گیا، جس کے بعد مزید فائرنگ کی گئی جس میں ایک گولی اُن کے سر میں لگی تھی۔‘
یاد رہے کہ حمزہ برہان احمد ایمز کالج مظفر آباد میں بطور پرنسپل فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ مقامی طلبا نے اس واقعے کے بعد احتجاج بھی کیا تھا۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں پیش آئے اس واقعے کو انڈین ذرائع ابلاغ میں کافی جگہ ملی جہاں یہ دعویٰ کیا گیا کہ حمزہ برہان دراصل ارجمند گلزار ڈار ہیں، جنھیں چند برس قبل انڈین حکومت کی جانب سے ’دہشت گرد‘ قرار دیا گیا تھا۔
بی بی سی اُردو کو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں دو سینیئر افسران نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تصدیق کی ہے کہ حمزہ برہان کا تعلق انڈیا کے زیر انتظام کشمیر سے تھا اور وہ چند برس قبل پاکستان آئے تھے۔
دوسری جانب انڈین وزارت داخلہ کی آفیشل ویب سائیٹ کے مطابق ارجمند گلزار ڈار عرف حمزہ برہان عرف ڈاکٹر کو ’غیرقانونی سرگرمیوں (کی روک تھام) ایکٹ 1967‘ کے تحت 19 اپریل 2022 کو ’دہشت گرد‘ قرار دیتے ہوئے اُن کا نام فورتھ شیڈول میں باضابطہ طور پر شامل کیا گیا تھا۔
حملہ کب اور کیسے ہوا؟
مظفرآباد کے سپریٹنڈنٹ آف پولیس ریاض مغل نے بی بی سی کو بتایا کہ حمزہ برہان پر ہونے والے حملے کی ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے تاہم انھوں نے اس ضمن میں مزید تفصیلات فراہم کرنے سے گریز کیا۔
تھانہ صدر کے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ انھیں دوپہر 12 بج کر 10 منٹ پر اطلاع موصول ہوئی کہ گوجرہ بائی پاس پر واقع ایک نجی کالج کے پرنسپل کو گولیاں ماری گئی ہیں۔
ایمز کالج، جہاں یہ واقعہ پیش آیا، کے ایک سکیورٹی گارڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعرات کی دوپہر پرنسپل حمزہ برہان نے انھیں کہا تھا کہ ’میرے کچھ مہمان آ رہے ہیں‘ جس کے بعد وہ خود انھیں ریسیو کرنے کے لیے کالج کے مرکزی گیٹ پر گئے۔
سکیورٹی گارڈ کے مطابق وہ اُس وقت اندر ہی موجود تھے جب اچانک فائرنگ کی آواز آئی اور جب انھوں نے باہر آ کر دیکھا تو پرنسپل زخمی حالت میں پڑے ہوئے تھے۔
مظفرآباد کے ڈپٹی کمشنر منیر قریشی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’حمزہ برہان پر حملہ ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ ہے۔‘
عینی شاہدین کے مطابق حمزہ برہان پر حملے کے فوراً بعد اچانک ٹریفک رُک گئی تھی اور جائے وقوعہ پر لوگوں کا ہجوم جمع ہو گیا تھا۔ جمعرات کی شام کالج نے چند طلبا نے سڑک پر اس واقعے کے خلاف احتجاج بھی کیا۔
ایمز کالج گوجرہ بائی پاس روڈ پر واقع ہے۔ یہ سڑک اسلام آباد کی جانب جاتی ہے۔ کالج سے تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر سیکرٹریٹ واقع ہے، جبکہ دوسری جانب واپڈا کالونی چوک ہے۔
یہ علاقہ شہر کا گنجان آباد حصہ ہے جہاں ہر وقت ٹریفک کا رش رہتا ہے، جبکہ اسی علاقے میں متعدد سکول بھی قائم ہیں۔ ایمز کالج گذشتہ دس برس سے قائم ہے اور انتظامیہ کے مطابق اس میں 100 سے زائد طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔
حمزہ برہان کون ہیں؟
اس حملے کے فوری بعد تنازع اس وقت شروع ہوا جب انڈین میڈیا نے دعوے کیے کہ حمزہ برہان پلوامہ حملے کے ماسٹر مائنڈ ہیں۔
دوسری جانب مظفرآباد کے ڈپٹی کمشنر منیر قریشی کہتے ہیں کہ ’یہ معاملہ ابھی زیرِ تفتیش ہے۔ یہ معاملہ سب سے زیادہ انڈین میڈیا نے ہائی لائٹ کیا ہے۔ انھوں نے، میرے خیال میں، یہ واقعہ پیش آنے کے پانچ، دس منٹ بعد ہی بریکنگ چلانا شروع کر دی تھیں۔ انھوں نے پروپیگنڈا کیا کہ وہ پلوامہ کا ماسٹر مائنڈ ہے۔‘
منیر قریشی کے مطابق 'اب ہماری پولیس اور دیگر متعلقہ ادارے اِس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ حمزہ برہان کون تھے۔‘
تاہم بی بی سی کو مظفرآباد میں دو سینیئر سرکاری اہلکاروں نے تصدیق کی ہے کہ حمزہ برہان کا آبائی تعلق انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر سے تھا۔
مظفر آباد میں پولیس افسر ایس پی ریاض مغل سے جب پوچھا گیا کہ کیا حمزہ برہان کا تعلق انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر سے تھا، تو اُن کا کہنا تھا کہ ’وہ کشمیری ہی تھے ۔‘
دوسری جانب ایک اور اعلیٰ حکومتی اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی اردو سے بات چیت میں دعویٰ کیا کہ ’کشمیر جتنا بھی ہے ہمارا ہے، 84 ہزار مربع میل۔ اس میں رہنے والے لوگ جہاں چاہیں رہ سکتے ہیں، مظفرآباد سرینگر، کپواڑہ۔ نقل مکانی 1947 سے لے کر اب تک ہوتی رہی ہے، وہاں سے لوگ آتے ہیں، تو اس (حمزہ برہان) کا آبائی علاقہ بھِی اُدھر (انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر) سے ہی ہے۔‘
جب مظفرآباد کے ایس پی ریاض مغل سے حمزہ برہان کے عسکریت پسند تنظیم سے مبینہ روابط کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’اس حوالے سے ابھی کچھ نہیں پتا، تحقیقات چل رہی ہیں۔‘
حمزہ مظفر کب پاکستان آئے اس حوالے سے معلومات موجود نہیں ہیں۔
تاہم انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں مقیم ارجمند گلزار ڈار عرف حمزہ برہان عرف ڈاکٹر کے بھائی عارف گلزار ڈار نے بی بی سی اُردو کے ریاض مسرور کو بتایا کہ ’مجھے بھی پولیس کے ایس ایس پی کا فون آیا ہے، ہمیں ابھی تک نہیں پتا کہ کیا ہوا ہے، میں اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کہہ سکتا۔‘
جبکہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں موجود ارجمند گلزار ڈار کے والد نے اس معاملے پر تبصرے سے انکار کیا۔
تاہم اس بات کی تصدیق موجود ہے انڈیا کی وزارتِ داخلہ نے اپریل 2022 میں ارجمند گلزار ڈار عرف حمزہ برہان عرف ڈاکٹر کو ’دہشت گرد‘ قرار دیا تھا۔
انڈین حکومت نے ارجمند گلزار ڈار کو ’دہشت گرد‘ کیوں قرار دیا؟
انڈیا کی وزارتِ داخلہ کی آفیشل ویب سائٹ کے مطابق ارجمند گلزار ڈار عرف حمزہ برہان عرف ڈاکٹر کو 'غیرقانونی سرگرمیوں (کی روک تھام) ایکٹ 1967' کے تحت 19 اپریل 2022 کو '’دہشت گرد‘ قرار دیتے ہوئے اُن کا نام فورتھ شیڈول میں باضابطہ طور پر شامل کیا گیا تھا۔
انڈین وزارت داخلہ کے مطابق مذکورہ ایکٹ مرکزی حکومت کو یہ اختیار دیتا ہے کہ اگر وہ یہ سمجھتی ہے کہ کوئی فرد ’دہشت گردی‘ میں ملوث ہے تو اس کا نام اس ایکٹ کے چوتھے شیڈول میں شامل کرے۔
وزارت داخلہ کی ویب سائٹ پر ارجمند گلزار ڈار عرف حمزہ برہان سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی گئی ہیں۔
اس کے مطابق ’ارجمند گلزار ڈار عرف حمزہ برہان عرف ڈاکٹر، عمر 23 سال (موجودہ عمر 27 سال) سنہ 1999 میں پیدا ہوئے تھے اور ان کا تعلق خربت پورہ (پلوامہ) سے تھا جبکہ وہ دہشت گرد تنظیم ’البدر‘ کے ایسوسی ایٹ ممبر ہیں۔‘
انڈین وزارت داخلہ کے مطابق سرکاری دستاویزات میں اُن کے والد کا نام گلزار احمد ڈار بتایا گیا ہے جبکہ تنظیم ’البدر‘ ایک ’دہشت گرد تنظیم‘ کے طور پر درج ہے۔
انڈین وزارت داخلہ کا الزام ہے کہ ’ارجمند گلزار ڈار ویلیڈ (درست) دستاویزات پر پاکستان گئے جہاں انھوں نے دہشت گرد تنظیم البدر میں شمولیت اختیار کی اور اس کے بعد سے وہ اس تنظیم کے ایک سرگرم رُکن اور کمانڈر رہے ہیں اور اِس وقت پاکستان سے ہی آپریٹ کر رہے ہیں۔‘
انڈین وزارت داخلہ کا مزید الزام ہے کہ ’ارجمند گلزار ڈار پاکستان جانے کے بعد سے نوجوانوں کو اس تنظیم میں شامل ہونے کے لیے اُکساتے رہے ہیں اور البدر کی دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے مالی معاونت بھی فراہم کرتے رہے ہیں۔‘
وزارت داخلہ نے مزید الزام عائد کیا کہ ’ارجمند گلزار ڈار پلوامہ میں بارودی مواد کی برآمدگی، 18 نومبر 2020 کو پلوامہ میں سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے اہلکاروں پر گرینیڈ حملے اور دہشت گرد تنظیم البدر میں شامل ہونے کے لیے نوجوانوں کو ترغیب دینے میں ملوث رہا ہے۔‘
وزارت داخلہ کے نوٹیفیکیشن میں مزید کہا گیا ہےکہ دستیاب شواہد کی بنیاد پر ’مرکزی حکومت اس بات کا یقین رکھتی ہے کہ ارجمند گلزار ڈار عرف حمزہ برہان عرف ڈاکٹر دہشت گردی میں ملوث ہے، لہٰذا انھیں مذکورہ ایکٹ کے تحت دہشت گرد کے طور پر نوٹیفائی کیا جاتا ہے۔‘