آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کوئٹہ میں ٹرین پر خودکش حملے میں ایک درجن سے زیادہ ہلاکتیں: ’زوردار دھماکہ ہوا، گھر کے سارے شیشے ٹوٹ گئے اور دروازے کھڑکیاں گر گئیں‘
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں چمن پھاٹک سے گزرنے والی ٹرین کے قریب خودکش حملے میں کم از کم 14 افراد ہلاک جبکہ 20 زخمی ہو گئے ہیں۔
حکومت بلوچستان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق چمن پھاٹک کے قریب ٹرین شٹل سروس کو ایک خودکش بم حملے کا نشانہ بنایا گیا جس میں 14 افراد ہلاک ہوئے، جن میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کے تین اہلکار بھی شامل ہیں۔
حکومت بلوچستان کے بیان کے مطابق مرنے والوں میں اکثریت عام شہریوں، راہگیروں، مسافروں اور دھماکے کے مقام کے قریب واقع گھروں کے مکینوں پر مشتمل ہے۔
دوسری جانب بلوچستان کے اعلی پولیس افسر اور سول انتظامیہ کے عہدے دار نے بی بی سی کو کم از کم 20 ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے ان میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا۔
کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے دھماکے کی ذمے داری قبول کی ہے۔ تنظیم کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’کوئٹہ کینٹ سے فوجی اہلکاروں کو لانے والی ٹرین کو نشانہ بنایا گیا۔‘
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے چمن پھاٹک کے قریب ہونے والے دھماکے کی مذمت کی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ ’دہشت گردی کی ایسی بزدلانہ کارروائیاں پاکستانی عوام کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتیں۔ ہم دہشت گردی کو اس کی تمام شکلوں میں ختم کرنے کے اپنے عزم پر ثابت قدم ہیں۔‘
’انجن سمیت تین کوچز پٹری سے اتر گئیں‘
وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کے مطابق اتوار کی صبح کوئٹہ کینٹ سے آنے والی شٹل ٹرین چمن پھاٹک کے قریب دھماکے کی زد میں آئی۔ دھماکے کے نتیجے میں انجن سمیت تین کوچز پٹری سے اتر گئیں جبکہ دو کوچز الٹ گئیں۔
اُنھوں نے کہا کہ یہ واقعہ بزدلانہ دہشت گردی ہے اور ایسے حملے قومی عزم کو کمزور نہیں کر سکتے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اُن کا کہنا تھا کہ ’انڈیا اور افغانستان سے چلنے والے دہشت گرد نیٹ ورکس کے ناپاک عزائم کبھی کامیاب نہیں ہونے دیے جائیں گے۔‘
عینی شاہدین نے بی بی سی کو بتایا کہ صبح آٹھ بجے کے قریب جب شٹل ٹرین جب کوئلہ پھاٹک سے چمن پھاٹک کے قریب پہنچی تو بارودی مواد سے بھری گاڑی ٹرین سے ٹکرا گئی جس کے نتیجے میں زوردار دھماکہ ہوا۔
دھماکے کی وجہ سے ایک بوگی میں آگ لگ گئی اور یہ مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔
’شٹل سروس کے مسافر سیکیورٹی اہلکاروں نے جعفر ایکسپریس میں سوار ہونا تھا‘
کوئٹہ ریلوے حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے شٹل ٹرین میں مسافروں کو کینٹ سٹیشن سے سٹی ریلوے سٹیشن لایا جا رہا تھا اور ان مسافروں نے جعفر ایکسپریس میں سوار ہونا تھا۔
حکام کے مطابق یہاں سے ان مسافروں نے پشاور کا سفر شروع کرنا تھا اور اس میں زیادہ تر سرکاری اور سیکیورٹی اہلکار شامل تھے جو کہ عید کی چھٹیوں کے لیے اپنے آبائی علاقوں کی طرف جا رہے تھے۔
ریلوے ٹریک کے اطراف درجنوں گھروں کو بھی نقصان پہنچا ہے اور ان میں بھی کچھ افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
جائے حادثہ پر کرین بھی موجود ہے جس کے ذریعے بوگیوں کو ٹریک سے ہٹایا جا رہا ہے جبکہ زخمیوں اور ہلاک ہونے والوں کو سول ہسپتال ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا تاہم وہاں میڈیا کو جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔
جائے حادثہ پر فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار موجود ہیں۔ حکام کی جانب سے تاحال اس دھماکے کی نوعیت یا ہلاکتوں کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا تاہم ریلوے لائن کے اطراف کھڑی متعدد گاڑیاں تباہ ہو گئی ہیں۔
وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ معصوم شہریوں، خواتین اور بچوں کو نشانہ بنا کر دہشت گرد اپنی سفاکی کا ثبوت دے رہے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ بے گناہوں کا خون بہانے والے دہشت گرد کسی بھی رعایت کے مسحق نہیں ہیں اور ہم ان کے سہولت کاروں اور ماسٹر مائندز کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے۔
’ہم لوگ سو رہے تھے جب زوردار دھماکہ ہوا‘
دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس کی آواز شہر میں دور تک سنائی دی۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ریلوے لائن کے اطراف پارکنگ لاٹ میں موجود کئی گاڑیوں بھی تباہ ہو گئیں۔
دھماکے کے باعث کوئٹہ شہر کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔
حنیف عباسی کے مطابق سکیورٹی فورسز نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے کر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا ہے جبکہ امدادی کارروائیوں کے لیے ریسکیو ٹرک اور ریلیف ٹرین جائے وقوعہ پر روانہ کر دی گئی ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان ریلوے کی آپریشنل سرگرمیاں بلا تعطل جاری رہیں گی جبکہ واقعے کی رپورٹ بھی جلد سامنے آ جائے گی۔
فقیر آباد کے رہائشی نصیر احمد نے بتایا کہ ’ٹرین جا رہی تھی جس میں مسافر بھی تھے جب دھماکہ ہوا اس دھماکے کی وجہ سے ہمارے گھر تباہ ہو گئے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’اتوار کی وجہ سے ہم لوگ سو رہے تھے کہ زوردار دھماکہ ہوا، گھر کے سارے شیشے ٹوٹ گئے دروازے اور کھڑکیاں گر گئیں۔‘
ایران کی مذمت
پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے کوئٹہ دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
ایکس پر اپنے بیان میں ایرانی سفیر کا کہنا تھا کہ ’ایرانی حکومت ٹرین پر بزدلانہ اور گھناؤنے خودکش دہشت گردانہ اقدام کی مذمت کرتی ہے جس میں 20 سے زائد بے گناہ شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔‘
خیال رہے کہ کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات کا نشانہ بنتی رہی ہے۔
یہ ٹرین صبح نو بجے کوئٹہ سے روانہ ہوتی ہے اور اگلے روز شام سات بجے اس کے پشاور پہنچنے کا وقت مقرر ہے۔ دہشت گردی کے واقعات اور ریلوے ٹریک پر تخریب کاری کی وجہ سے مختلف مواقع پر یہ ٹرین سروس معطل بھی رہی ہے۔
گذشتہ برس 11 مارچ کو مسلح عسکریت پسندوں نے بلوچستان کے علاقے بولان میں جعفر ایکسپریس کو ایک حملے کا نشانہ بنایا تھا اور اس ٹرین کو ہائی جیک کر کے مسافروں کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔
جس کے بعد ٹرین اور مسافروں کی بازیابی کے لیے پاکستان کی فوج نے ایک آپریشن کیا تھا۔ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے بتایا تھا کہ سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران ٹرین پر حملے میں ملوث 33 عسکریت پسند ہلاک ہوئے تھے جبکہ حملے میں عسکریت پسندوں نے 18 سکیورٹی اہلکاروں سمیت 26 افراد کو ہلاک کیا تھا۔
اتوار کے واقعے میں جعفر ایکسپریس کو براہ راست نشانہ تو نہیں بنایا گیا لیکن اس بار اس کے لیے مسافروں کو لے جانے والی شٹل ٹرین پر حملہ کیا گیا۔