’ماسک پہنیں اور 10 منٹ تک سانس لیں‘: وہ کتے جو انسانوں میں کینسر کی تشخیص کر سکتے ہیں

    • مصنف, عمران قریشی
    • عہدہ, بی بی سی ہندی
  • مطالعے کا وقت: 10 منٹ

اگلی بار جب آپ ہیلتھ چیک اپ کے لیے کسی کلینک یا ہسپتال جائیں اور آپ سے 10 منٹ کے لیے ماسک میں سانس لینے کو کہا جائے تو بغیر کسی ہچکچاہٹ یا خوف کے ایسا کر لیجیے گا۔

ہو سکتا ہے کہ میڈیکل ٹیم آپ کو ماسک میں سانس لینے کو اس لیے کہہ رہی ہو تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کیا آپ کینسر جیسے کسی مرض میں تو مبتلا نہیں۔

ہم جانتے ہیں کہ بڑی آنت کے کینسر جیسی کچھ بیماریوں کا پتہ صرف اس وقت چلتا ہے جب وہ دوسرے یا تیسرے سٹیج پر پہنچ جاتا ہے اور اس سے ڈاکٹروں کے لیے مریض کی جان بچانا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔

تاہم اب ایسی تکنیک دریافت کی جا رہی ہے جس کے تحت خصوصی تربیت یافتہ کتے آپ کے سانس لیے ماسک کو سونگھ کر یہ بتا سکتے ہیں کہ آیا آپ کے جسم کے کسی حصے میں کینسر کے آثار موجود ہیں یا نہیں۔

کینسر کا پتہ لگانے کے لیے کتوں کا استعمال اسرائیل، برطانیہ ، فرانس، جاپان، امریکا، جرمنی، تائیوان سمیت کئی ممالک میں ایک عرصے سے جاری ہے اور یہ ایک آزمودہ طریقہ ہے۔

لیکن اب انڈیا میں پہلی بار کرناٹک کے چھ مختلف ہسپتالوں میں تربیت یافتہ کتوں کی مدد سے ایک مطالعہ کیا گیا۔

اس تحقیق میں کتوں نے 1502 مریضوں کے نمونے سونگھے اور 91 فیصد درستگی کے ساتھ یہ بتانے میں کامیاب رہے کہ کن مریضوں کو کینسر کی سات بڑی اقسام میں سے ایک لاحق ہے اور کن کو نہیں۔

ان 1502 افراد میں سے 283 کو بائیوپسی سے کینسر کی تصدیق ہوئی تھی اور 1219 کو کینسر نہیں تھا۔

کتوں کی سونگھنے کی حیرت انگیز حس

یہ مطالعہ بنگلور میں قائم ایک سٹارٹ اپ کمپنی ڈوگنوسس نے کیا تھا جس کے نتائج جمعہ کو جرنل آف کلینیکل آنکولوجی میں شائع ہوئے۔ اس مطالعہ کی قیادت ڈاکٹر سنجیو کلگوڈ کر رہے تھے، جو ایک سرجیکل آنکولوجسٹ اور کرناٹک میں ریڈ آن کینسر سینٹر کے ڈائریکٹر تھے۔

ڈوگنوسس کے سی ای او اور شریک بانی آکاش کولگوڈ نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ ’اب تک، ہم نے کرناٹک کے ہسپتالوں کے ساتھ مل کر 10,000 نمونے اکٹھے کیے ہیں۔ اگلے مرحلے میں، ہم مہاراشٹرا اور دیگر ریاستوں میں جانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ یہاں، اگلے چھ سے نو ماہ میں تقریباً 15،000 لوگوں کے ٹیسٹ کیے جائیں گے۔‘

آکاش کولگوڈ نے بتایا کہ یہ 10,000 نمونے کتوں کو تربیت دینے اور اے آئی سسٹم تیار کرنے کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔ اس کا مقصد اس پورے عمل کو بڑے پیمانے پر پھیلانا ہے۔

وہ کہتے ہیں، ’ہمارا مقصد 30 کتوں کی مدد سے ہر سال 10 لاکھ نمونوں کی جانچ کرنے کی صلاحیت حاصل کرنا ہے۔‘

ان کی باتوں میں عجلت کی ایک وجہ ہے۔ موجودہ اندازوں سے پتہ چلتا ہے کہ اس سال انڈیا میں کینسر کے کیسز کی تعداد 15 سے تجاوز کر جائے گی۔ پچھلی تین دہائیوں میں ملک میں کینسر کے کیسز میں 26 فیصد اضافہ ہوا۔

ڈاکٹر سنجیو کولگوڈ بتاتے ہیں کہ ’کینسر میں اضافے کی دو وجوہات ہیں۔ ایک تو آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دوسرا کینسر کا تعلق انسان کی عمر سے ہے۔ جیسے جیسے لوگوں کی عمر بڑھتی ہے، کینسر کے کیسز بھی بڑھتے ہیں۔‘

1989 میں پہلی مرتبہ کینسر کی تشخِص کے معاملے میں کتوں پرتوجہ دی گئی۔

محققین ایملی موزر اور مائیکل میک کلاک نے 2010 میں جرنل آف ویٹرنری بیہیوئیر میں لکھا کہ ’ایک عورت نے کتے سے کہا کہ وہ اس کی جلد پر کسی جگہ کا معائنہ کرے۔‘

ان کے مطابق ’کتے نے ایک جگہ پر ضرورت سے زیادہ دلچسپی ظاہر کی۔‘

’طبی معائنے کے بعد پتہ چلا کہ اس جگہ جلد کے کینسر کی ایک خطرناک قسم میلانوما موجود تھی۔‘

ایملی موزر اور مائیکل میک کلاک کے مقالے کا عنوان تھا: ’کتوں کے ذریعہ انسانی کینسر کی تشخیص کی افادیت، طریقوں اور درستگی کا جائزہ۔‘

کیرالہ میں لاش سونگھنے والے کتے

کتوں میں سونگھنے کی زبردست صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ آسان الفاظ میں کہا جائے تو ان کے پاس 30 کروڑ ولفیٹری ریسیپٹرز، یا خوشبو کا پتہ لگانے والے خلیات ہوتے ہیں۔ انسانوں میں یہ تعداد صرف 50 لاکھ ہوتی ہے۔

ہانگ کانگ کے ٹموتھی کوان لو اور ان کی ٹیم نے فرنٹیئرز ان میڈیسن میں لکھا کہ ’کتے انسانی جسم سے خارج ہونے والے غیر مستحکم نامیاتی مرکبات (وی او سیز) کی بہت کم مقدار کا بھی پتہ لگا سکتے ہیں۔ یہ بو جسم میں ہونے والی تبدیلیوں، انفیکشنز یا کینسر سے وابستہ ہو سکتی ہے۔‘

میڈیکل ٹیم مریض کو ماسک پہن کر اس میں 10 منٹ تک سانس لینے کو کہتی ہے۔ یہ ماسک پھر ایک کنٹرول شدہ لیب سیٹنگ میں کتوں کے سامنے لائے جاتے ہیں۔

یہ ماسک تین ماہ یا اس سے زیادہ عرصے تک اپنی افادیت برقرار رکھتے ہیں۔

کتے جسم کے وی او سیز میں ہونے والی تبدیلیوں کا پتہ لگا سکتے ہیں اور کینسر کی سات اقسام کی نشاندہی کرسکتے ہیں حتیٰ کہ ابتدائی مرحلے کے کینسر کا بھی پتہ لگانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

سینٹر آف اکیڈمکس اینڈ ریسرچ، ایچ سی جی کینسر سنٹر، بنگلورو کے ڈین ڈاکٹر یو ایس وشال راؤ بی بی سی نیوز ہندی کو بتاتے ہیں کہ ’وومیرونیزل آرگن جسے جیکبسن آرگن بھی کہا جاتا ہے ایک خاص ڈھانچہ ہے جو کتے کی ناک کے گہرائی میں واقع ہوتا ہے۔ یہ انھیں نمی سے وابستہ بدبو اور پیچیدہ کیمیائی اشاروں کا پتہ لگانے میں مدد دیتا ہے۔‘

کتوں کی اس صلاحیت کو ذہن میں رکھتے ہوئے کیرالہ پولیس اکیڈمی نے ایسے کتوں کو تربیت دی جنھوں نے جولائی 2024 میں لینڈ سلائیڈنگ کے دوران لاشوں کی شناخت کی۔

صرف تین دن (31 جولائی اور 2 اگست کے درمیان) میں شدید بارشوں کے باعث سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے تباہ شدہ علاقے سے مایا، مرفی اور اینجل نے 23 لاشیں برآمد کیں۔ کیرالہ میں اس طرح کی تباہی پہلے کبھی نہیں آئی تھی۔

یہ کتے سونگھ کر ملبے کے 25 فٹ نیچے دبی لاشوں کا بھی پتہ لگا سکتے ہیں۔ میرٹھ کے ریماؤنٹ ویٹرنری کور سینٹر کے تین اور کتوں کو بھی لاشوں کی تلاش میں مدد کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔

اکیڈمی کے آئی جی پی اور ڈائریکٹر کے سیتھورامن نے بی بی سی نیوز ہندی کو بتایا کہ ’نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف) بھی لاشیں تلاش کرنے کے لیے ہمارے کتے استعمال کرتی ہے۔ فی الحال، ہم این ڈی آر ایف کے اہلکاروں کو تربیت دے رہے ہیں تاکہ وہ بھی کتوں کی ٹریننگ کر سکیں۔‘

ان کتوں اور ان کے ٹرینرز کو کالیکٹ یونیورسٹی کے فارنزک ڈیپارٹمنٹ نے تربیت دی تھی۔

کالیکٹ یونیورسٹی کے فارنزک سائنس ڈیپارٹمنٹ کے کورس کوآرڈینیٹر شیوا پرساد نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ ’ہم نے ایک پٹی پر خون لگایا اور اسے گلنے کے لیے کچھ دیر کے لیے چھپا دیا۔ کتوں کو تربیت دینے کے لیے اسی طرح کی مصنوعی بو استعمال کی جاتی ہے۔‘

کیرالہ پولیس اکیڈمی اور فارنزک ڈپارٹمنٹ کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت کی بدولت اب پولیس افسران اور عوام کے لیے ایک سرٹیفکیٹ کورس شروع کیا گیا ہے۔ یہ کورس کتوں کو انسانوں میں کینسر کا پتہ لگانے کی تربیت دے گا۔

شیوا پرساد کہتے ہیں ’ہم نے جن ہسپتالوں سے بات کی، وہاں سے ہمیں اچھا رسپانس ملا۔ ان ہسپتالوں کے تقریباً ایک درجن ڈاکٹروں نے کیرالہ پولیس اکیڈمی کے ہیڈ کوارٹر تھریسور میں ہماری تربیتی سہولت کا دورہ بھی کیا۔ ہمارا مقصد ان طبی اداروں سے نمونے جمع کرنا ہے تاکہ پہلے کتوں کو تربیت دی جا سکے اور پھر اہلکاروں کو۔‘

کتوں کو استعمال کرنے کی ایک اور بڑی وجہ

کتے کینسر کی سکریننگ میں بہت مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ موجودہ تشخیص کے طریقے مریضوں کے لیے بہت چیلنجنگ ہیں۔ میموگرام جیسے ٹیسٹ کے نتیجے میں مریض کو آئنائزنگ تابکاری کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو انسانی جسم کے لیے کافی نقصان دہ ہے۔ دوسری جانب کولوریکٹل کینسر کی سکریننگ کے لیے ناگوار طریقہ کار کی ضرورت ہوتی ہے۔

انڈیا جیسے ملک میں مریض کے لیے ایسے کینسر کے ٹیسٹ کے لیے قابل بھروسہ جگہوں کی تلاش بھی ایک الگ مسئلہ ہے۔

کینسر کی سکریننگ میں ان کوتاہیوں کے پیش نظر اسرائیل کی الزبتھ ہاف اور ان کی ٹیم نے 2024 میں ’نیچر: سائنٹیفک رپورٹس‘ نامی ایک مطالعہ شائع کیا۔

اس تحقیق میں بتایا گیا کہ اسرائیلی کمپنی سپاٹ اٹ ارلی نے کینسر کا پتہ لگانے کا ایک نیا طریقہ تیار کیا ہے جس کے لیے کسی انجیکشن یا خصوصی مدد کی ضرورت نہیں۔ اس کے لیے صرف سانس کا نمونہ جمع کرنا پڑتا ہے جس کی مدد سے کینسر کا پتہ لگایا جا سکتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی میں کتے کی سونگھنے کی حس کو مصنوعی ذہانت کے ساتھ جوڑا گیا۔

ان کے مطالعے میں یہ بھی بتایا گیا کہ سانس کے نمونے پیشاب کے نمونوں کے مقابلے میں کینسر کا پتہ لگانے میں کہیں زیادہ موثر ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر سنجیو کولگوڈ نے وضاحت کی کہ کتوں کو انسانی سانس کے نمونوں میں مخصوص بدبو کا پتہ لگانے کی تربیت دی جاتی ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کتوں کو بموں، منشیات اور زلزلوں میں دبے ہوئے لوگوں کا پتہ لگانے کی تربیت دی جاتی ہے۔

اس کام کے لیے کتوں کی کون سی نسلیں بہتر ہیں؟

کیرالہ پولیس اکیڈمی اور ڈوگنوسس نے مختلف نسلوں کے کتے استعمال کیے ہیں جن میں انڈین نسل کا کتا (انڈی) بھی شامل ہے۔

اکیڈمی کا کہنا ہے کہ اس نے مقامی کتے، ایک لیبراڈور اور ایک بیگل کا استعمال کیا۔ فرانزک ڈپارٹمنٹ نے بیلجیئم کے آٹھ میلینوز خریدے ہیں جنھیں طلبا کو سرٹیفکیٹ کورس کروانے کے لیے تربیت دی جائے گی۔

ڈوگنوسس نے چار بیگلز، ایک لیبراڈور-انڈی مکس، اور ڈچ شیفرڈ-بیلجیئن میلینوئس مکس کا استعمال کیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ لیبراڈور-انڈی مکس کو ایک پناہ گاہ سے لیا گیا تھا۔

کیرالہ پولیس اکیڈمی اور ڈوگنوسس نے انعام پر مبنی طریقہ استعمال کرتے ہوئے ان کتوں کو 10 ہفتوں تک تربیت دی جس کے تحت انھیں صحیح خوشبو کی شناخت پر انعام دیا جاتا۔

شیوا پرساد کے مطابق، اس طریقہ کار میں کسی شخص کو ماسک پہن کر تقریباً 10 منٹ تک سانس لینے کو کہا جاتا۔ اس کے بعد اس بات کی تصدیق کے لیے ضروری طبی ٹیسٹ کیے جاتے ہیں کہ آیا کتے کا اندازہ درست تھا یا نہیں۔

آکاش کولگوڈ کہتے ہیں کہ ’کتے جن لوگوں کے متعلق شک کا اظہار کرتے کہ انھیں کینسر ہے، ایسے افراد کے تفصیلی ٹیسٹ کروائے جاتے ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ کتوں کے ذریعے کیے جانے والے ٹیسٹ سے ابتدائی مرحلے کے ٹیومر کا پتہ لگایا جا سکتا ہے۔ اس سے بڑی تعداد میں لوگوں کا ٹیسٹ کرنا آسان ہو جاتا ہے اور لاگت بھی کم آتی ہے۔

آسان الفاظ میں کہا جائے تو یہ سانس کا ٹیسٹ بڑے پیمانے پر کینسر کی پِری سکریننگ کے لیے مؤثر آلے کے طور پر ابھر رہا ہے۔

لیکن ڈاکٹر یو ایس وشال راؤ کے پاس ایک تجویز ہے جس میں ویٹرنری سائنس اور طبی ماہرین کے درمیان فعال تعاون پر زور دیا گیا تاکہ ’معاشرے کی سطح پر اس کی شناخت کے لیے زیادہ معیاری طریقہ تیار کیا جا سکے۔‘

اس طرح کی اختراعات کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ ’اب وقت آ گیا ہے کہ انڈیا میں ایسی مصنوعی ناک تیار کی جائے جو کتوں کے سونگھنے کے نظام کی نقل کر سکے اور ان وی او سیز کا پتہ لگا سکے۔‘