امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ کے
خاتمے کے لیے ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی امید دلائی تو بدھ کے روز ایشیا میں
کاروبار کے دوران تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اہم تجارتی
آبی گزر گاہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی رہنمائی کے لیے اپنا آپریشن معطل کرے گا تاکہ
دیکھا جا سکے کہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے کو حتمی شکل دے کر اس پر دستخط کیے جا
سکتے ہیں یا نہیں۔
آج بدھ کے روز کاروبار کا آغاز ہوا
تو برینٹ خام تیل کی قیمت 1.7 فیصد کم ہو کر 108 ڈالر فی بیرل رہ گئی، جبکہ امریکہ
میں فروخت ہونے والا تیل 1.6 فیصد کمی سے 100.60 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔
مشرق وسطیٰ میں حملوں میں شدت آنے کے
باعث ہفتے کے آغاز میں تیل کی قیمتیں چھ فیصد سے زیادہ بڑھ گئی تھیں، تاہم اس کے
بعد بتدریج کمی آئی ہے۔
28 فروری
سے امریکہ اور اسرائیل کے ایران کے خلاف حملوں کے جواب میں تہران نے آبنائے ہرمز
سے گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی اور توانائی کی عالمی قیمتوں
میں نمایاں اضافہ ہوا تھا۔
دنیا میں تیل اور گیس کے تقریباً پانچویں
حصے کی ترسیل آبنائے ہرمز سے ہوتی ہے۔
آٹھ اپریل کو اعلان کردہ اور بعد
ازاں توسیع دی گئی امریکہ، ایران مشروط جنگ بندی کے بعد سے مجموعی طور پر تیل کی
قیمتیں بلند رہی ہیں۔
ٹرمپ نے منگل کے روز سوشل میڈیا پر
کہا کہ پراجیکٹ فریڈم (امریکی قیادت میں آبنائے ہرمز سے جہازوں کو گزارنے کی
کارروائی کے لیے دیا گیا نام) کو قلیل مدت کے لیے معطل کیا جائے گا۔
سرمایہ کاری کی کمپنی ساکسو سے
وابستہ چارُو چنانا کے مطابق سرمایہ کاروں کے لیے پراجیکٹ فریڈم کا معطل کیا جانا
’اس بات کی علامت ہے کہ واشنگٹن سفارت کاری کو ایک اور موقع دینے پر آمادہ ہے۔‘
تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ یہ کوئی
فیصلہ کن موڑ نہیں ہے۔
سرمایہ کاری کی حکمت عملی کی ماہر چنانا
نے کہا: ’تیل کے تاجروں کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ آیا اس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز
کے ذریعے تجارت دوبارہ کھولنے میں حقیقی پیش رفت ہوتی ہے یا نہیں۔ فی الحال اس کے
بہت کم شواہد موجود ہیں۔‘
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے
بھی صحافیوں سے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف ابتدائی کارروائی ختم
ہو چکی ہے کیوں کہ واشنگٹن کے اہداف حاصل ہو چکے ہیں۔
روبیو نے کہا: ’ہم امن کے راستے کو
ترجیح دیں گے۔ صدر کی ترجیح ایک معاہدہ ہے۔‘
ایران نے روبیو کے بیان پر کوئی رد عمل
نہیں دیا۔ تاہم ایرانی پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف نے اس سے پہلے کہا تھا: ’ہم
بخوبی جانتے ہیں کہ موجودہ صورتحال کا تسلسل امریکہ کے لیے نا قابل برداشت ہے،
جبکہ ہم تو ابھی آغاز کر رہے ہیں۔‘
ٹرمپ کے بقول، پراجیکٹ فریڈم کا مقصد
آبی راستے کے ذریعے توانائی کی ترسیل کو آسان بنانا تھا، تاہم اس اقدام نے دونوں
جانب کی جنگ بندی کو آزمائش میں ڈال دیا تھا۔
امریکہ
نے کہا کہ اس نے آبنائے میں ایران کی متعدد ’تیز رفتار کشتیوں‘ کو نشانہ بنایا،
جبکہ متحدہ عرب امارات نے بھی ایران پر اپنی ایک آئل پورٹ پر حملے کا الزام عائد
کیا۔ تہران اس الزام کو مسترد کرتا ہے۔