آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
آئی ایم ایف کی شرط یا غلط استعمال کی روک تھام: 200 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کے لیے سبسڈی کے طریقۂ کار میں تبدیلی کی وجہ کیا ہے؟
- مصنف, تنویر ملک، صحافی
- عہدہ, صحافی
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
پاکستان میں وفاقی حکومت کی جانب سے بجلی صارفین کو دی جانے والی سبسڈی کے نظام میں تبدیلی کا اعلان کیا گیا ہے۔
وفاقی وزارت توانائی کی جانب سے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ ایسے بجلی صارفین جنھیں حکومت کی جانب سے ماہانہ بلوں میں سبسڈی دی جا رہی ہے، انھیں واضح طور پر بتایا جائے گا کہ انھیں ہر مہینے کتنی رقم کی سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے۔
وفاقی وزارت توانائی کی جانب سے یہ اعلان ایسے وقت میں آیا ہے جب میڈیا اطلاعات کے مطابق پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو یقین دہانی کروائی ہے کہ ملک میں 200 یونٹس تک بجلی استعمال کرنے والے پروٹیکٹڈ صارفین کو دی جانے والی سبسڈی ختم کر دی جائے گی اور انھیں ٹارگٹڈ سبسڈی کی فراہمی تک رقم دی جائے گی۔
یہ ٹارگٹڈ سبسڈی بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے تحت فراہم کی جائے گی اور اس کا نفاذ جنوری 2027 سے ہو گا۔
واضح رہے کہ پاکستان میں بجلی صارفین کی مختلف کیٹیگریز ہیں جو صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال پر بنائی گئی ہیں جن کے لیے بجلی کے ریٹ مختلف ہیں۔
پاکستان میں 200 یونٹس تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کا سبسڈی کے ذریعے تحفظ کیا گیا اور ان کی جانب سے ادا کی جانے والی بجلی کی قیمت 200 اور اس سے زائد یونٹس بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے مقابلے میں کم ہے۔
پاکستان میں بجلی کے شعبے کے نگران ادارے نیشنل الیکٹرک ریگولیٹری اتھارٹی کے مطابق ملک میں 200 یونٹس تک بجلی استعمال کرنے والے پروٹیکٹڈ صارفین کی تعداد دو کروڑ سے زائد ہے جو بجلی صارفین کی مجموعی تعداد کا 59 فیصد ہیں۔
وفاقی حکومت کی جانب سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے لیے سبسڈی کے نئے نظام کے بارے میں توانائی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت کیا گیا، جس کے تحت اب صارفین کو بجلی کے بلوں میں سبسڈی کی بجائے انھیں بی آئی ایس پی کے ذریعے رقم فراہم کر کے بجلی کی کم قیمت ادا کرنے کے لیے سہولت فراہم کی جائے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے لیے نیا سبسڈی نظام
وفاقی وزارت توانائی نے بجلی صارفین کے بلوں میں سبسڈی کے سلسلے میں نئے نظام کے بارے میں ایک بیان میں کہا ہے کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے صارفین کی سہولت اور حکومتی سبسڈی کے شفاف طریقے سے صارفین کو پہنچنے کے لیے ایک اہم اقدام اٹھایا ہے۔
اب ان صارفین کے ماہانہ بلوں پر جنھیں حکومت کی طرف سے سبسڈی دی جا رہی ہے، واضح طور پر یہ بتایا جائے گا کہ انھیں اس مہینے میں کتنی رقم کی سبسڈی فراہم کی گئی ہے۔
وزارت توانائی کے مطابق یہ قدم اس لیے اٹھایا گیا تاکہ یہ سبسڈی اہل اور مستحق صارفین تک پہنچتی رہے۔ بجلی کے بل پر ایک کیو آر کوڈ دیا جا رہا ہے، جسے سکین کر کے صارفین کو ایک لنک پر رجسٹریشن کرنا ہو گا۔
یہ رجسٹریشن محض اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہے تاکہ غریب اور بجلی کم استعمال کرنے والے خاندانوں کو ریلیف ملتا رہے۔
وزارت توانائی نے واضح کیا کہ اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ سبسڈی ختم کی گئی۔
اس کے مطابق حکومت کا موقف ہے کہ غریب اور متوسط طبقے کو ریلیف دینا اولین ترجیح ہے اور اس عمل کا مقصد فقط وسائل کا صحیح اور منصفانہ استعمال ہے تاکہ ٹیکس دہندگان کے پیسے ضائع ہونے سے بچ سکیں۔
وزارت نے کہا کہ صارفین مستقبل میں اہل بجلی صارفین کے لیے سبسڈی کے تسلسل کے لیے دیے گئے کیو آر کوڈ پر جلد از جلد رجسٹریشن کریں۔
اگر کسی صارف کو بل پر کوئی غلطی یا دیگر پریشانی ہو تو وہ اپنی متعلقہ بجلی کمپنی کے ہیلپ لائن نمبر پر رابطہ کر سکتے ہیں۔
سبسڈی کے نظام میں تبدیلی کی وجہ
بجلی صارفین کے لیے سبسڈی کے نئے نظام کے متعارف کرانے کے بارے میں توانائی شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ آئی ایم ایف کی جانب سے بجلی صارفین کے لیے عام سبسڈی کی بجائے ٹارگٹڈ سبسڈی کے نظام کو متعارف کرنا ہے۔
پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی میں توانائی شعبے کے ماہر ڈاکٹر خالد ولید نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پاکستان کو سبسڈی ختم کرنی ہے۔
انھوں نے کہا کہ اگرچہ اس کے پس پردہ ماحولیات کو ٹھیک کرنے کی وجہ ہے کہ سستی بجلی کے بے جا استعمال سے ماحول پر برا اثر پڑتا ہے تاہم انھوں نے اس کی اصل وجہ معاشی صورتحال کو قرار دیا۔
انھوں نے بتایا کہ جو لوگ کم بجلی استعمال کرتے ہیں انھیں بجلی دس روپے فی یونٹ پڑتی ہے جبکہ اس کی لاگت 26 سے 30 روپے فی یونٹ ہوتی ہے۔
انھوں نے کہا اس کے لیے یا تو حکومت سبسڈی فراہم کرتی ہے یا زیادہ بجلی استعمال کرنے والوں سے زیادہ قیمت وصول کی جاتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ 200 یونٹ تک استعمال کرنے والے پروٹیکٹڈ صارفین عمومی طور پر ایسے صارفین ہیں جن کے گھر پر پر دو پنکھے یا دو تین بلب استعمال ہوتے ہیں جس سے ان کا بجلی کا بل 200 یونٹس کے اندر رہتا ہے اور یوں ان کو بجلی کا کم بل ادا کرنا پڑتا ہے۔
تو کیا پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے سبسڈی کا غلط استعمال ہوا؟
پاکستان میں کم بجلی استعمال کرنے والوں کے لیے بجلی بلوں میں سبسڈی دی جاتی ہے تاکہ انھیں بجلی کی زیادہ قیمت ادا نہ کرنی پڑے۔
پاکستان میں گزشتہ چند برسوں میں بجلی کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا تاہم پروٹیکٹڈ صارفین کا سبسڈی دے کر تحفظ دیا گیا۔
توانائی شعبے کے ماہرین کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ 200 یونٹس تک بجلی استعمال کرنے والے پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے سبسڈی کا غلط استعمال بھی ہوا۔
عمار حبیب خان نے بی بی سی بات کرتے ہوئے بتایا کہا ایک پوش علاقے میں دو تین منزلہ مکان میں تین چار میٹر لگے ہوتے ہیں تاکہ ہر میٹر پر بجلی کے یونٹ 200 سے کم رہیں۔
انھوں نے کہا کہ ایک پوش علاقے میں کروڑں روپے کے مکان کا مالک اس سبسڈی کا مستحق نہیں تاہم وہ اس سبسڈی سے فائدہ اٹھا رہا ہے جو ایک کم آمدن والے شخص کے لیے مختص کی گئی۔
عمار حبیب نے بتایا اسی طرح جن صارفین نے اپنے گھروں پر سولر سسٹم لگائے ہیں ان کا گرڈ بجلی کا استعمال کم ہوتا ہے اور ان کا بجلی کا بل بھی 200 یونٹس سے کم ہوتا ہے تاہم مہنگے سولر سسٹم لگانے کے باوجود وہ بھی اس سبسڈی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
عمار حبیب نے بتایا کہ اب حکومت بی آئی ایس پی کے ذریعے کم آمدن والے افراد جو کم بجلی استعمال کرتے ہیں انھیں سبسڈی فراہم کرے گی۔ انھوں نے بتایا کہ اس وقت ایک کروڑ کے لگ بھگ افراد بی آئی ایس پی میں رجسڑڈ ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ اس پروگرام کے تحت غربت سکور بورڈ بنتا ہے کہ یہ غریب افراد ہیں اور انھیں مالی معاونت دی جانی چاہیے اور اب بجلی کے بل میں سبسڈی کی رقم بھی انھیں اسی سکور بورڈ کے تحت دی جائے گی۔
ماہر معیشت علی خضر بھی اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ 200 یونٹس تک دی جانے والی عمومی سسبڈی کا غلط استعمال ہو رہا ہے اور اس سے ایسے افراد بھی فائدہ اٹھا رہے ہیں کہ جو اس کے مستحق نہیں۔
علی خضر نے بتایا کہ عمومی سبسڈی کے خاتمے سے بجلی کے بلوں میں اضافہ ہو گا اور لوگ اس پر شور بھی مچائیں گے تاہم بی آئی ایس پی کے ذریعے ٹارگٹڈ سبسڈی سے کم آمدنی والے افراد کی معاونت ہو سکے گی۔