گرودوارہ سچا سودا کا بڑا حصہ محفوظ، مرمت کے اقدامات جاری ہیں: انڈیا کے اعتراض پر پاکستان کی وضاحت

،تصویر کا ذریعہPALVINDER SINGH
- مصنف, شمائلہ خان
- عہدہ, صحافی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
پاکستان نے پنجاب کے ضلع شیخوپورہ کے علاقے فاروق آباد میں واقع تاریخی گرودوارہ سچا سودا کی جزوی مسماری سے متعلق انڈیا کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’گرودوارہ مذہبی رسومات کے لیے استعمال نہیں ہو رہا تھا اور اس کی خستہ حالت قریبی آبادی کے لیے خطرہ بن چکی تھی تاہم اس کی مرمت کے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔‘
ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی کے مطابق ’علاقے میں سکھ برادری موجود نہیں تھی اسی بنا پر یہ عمارت نجی کرایہ داری کے تحت تھی۔ مقامی افراد کو خدشہ تھا کہ برسات کے موسم میں یہ عمارت گر سکتی ہے۔ احتیاطی اقدام کے طور پر کرایہ داروں نے 24 جون کو سات حصوں پر مشتمل گرودوارے کے دو حصوں پر کام شروع کیا۔‘
’تاہم یہ واضح رہے کہ یہ کارروائی متروکہ وقف املاک بورڈ کی اجازت کے بغیر اور بورڈ کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کیا گیا۔‘
ترجمان کے مطابق ’بورڈ نے 24 جون ہی کو کرایہ داروں کا غیر مجاز کام رکوا دیا۔ عمارت کا کچھ حصہ متاثر ہوا، تاہم بڑے حصے کو نقصان سے بچا لیا گیا۔ اس کی کرایہ داری اور لیز منسوخ کر دی گئی ہے۔ ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ عمارت برقرار رہے اور ممکن ہوا تو اس کی مرمت اور تزئین و آرائش کا کام بھی کیا جائے۔'
یاد رہے کہ انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان میں فاروق آباد کے اس گرودوارے کی مبینہ مسماری پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے ’انتہائی افسوسناک اور دانستہ تخریبی کارروائی‘ قرار دیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ گرودوارے کو پہنچنے والے نقصان اور مقامی حکام یا متروکہ وقف املاک بورڈ کی جانب سے مؤثر کارروائی نہ کیے جانے کی اطلاعات باعث تشویش ہیں۔ انڈیا نے واقعے کی تحقیقات، ذمہ داران کے خلاف کارروائی اور گرودوارے کے متاثرہ حصوں کی جلد از جلد بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔
گرودوارے کا تنازع ہے کیا؟

،تصویر کا ذریعہPALVINDER SINGH
فاروق آباد کا گرودوارہ سچا سودا جسے سنگھ سبھا بھی کہا جاتا ہے متروکہ وقف املاک بورڈ (ای ٹی پی بی) کی پراپرٹی ہے لیکن اسے 1974 میں ادارے کا ایکٹ بننے کے بعد انھی مہاجرین کو لیز پر دیا گیا جو بٹوارے کے بعد یہاں آکر بیٹھے تھے۔
ایڈیشنل سیکریٹری شرائن ناصر مشتاق نے بی بی سی کو تصدیق کی کہ ’ان کے پاس لیز تھی اور وہ متروکہ وقف املاک بورڈ کو کرایہ دیتے تھے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
البتہ درخواست کے باوجود انھوں نے بی بی سی کو لیز کی کاپی فراہم نہیں کی۔
نو محرم 24 جون کے روز مبینہ طور پر ان رہائشیوں نے گرودوارے کی عمارت کو مسمار کرنا شروع کیا۔ متروکہ وقف املاک بورڈ کے ڈسٹرکٹ آفس کو اطلاع ملی اور انھوں نے فورا یہ کام رکوایا اور عمارت کو سیل کردی۔
متروکہ وقف املاک بورڈ کا موقف ہے کہ ان کے قواعد و ضوابط کے مطابق ان کی کسی بھی پراپرٹی کو بغیر اجازت نہ کوئی گرا سکتا ہے اور نہ ہی ان میں کوئی تعمیرات کی جاسکتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہPALVINDER SINGH
رہائشیوں نے ایسا کیوں کیا؟
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
بی بی سی کے پاس موجود فاروق آباد کی میونسپل کمیٹی کے دفتر سے جاری ایک نوٹس میں تین رہائشیوں سے کہا گیا تھا کہ یہ عمارت، خستہ حال یا غیر قانونی اضافی تعمیر کی وجہ انتہائی خطرناک ہوچکی ہے جس سے نہ صرف اس عمارت کے رہائشیوں کی جان کو خطرہ ہے بلکہ ارد گرد کے رہائشی بھی کسی بھی وقت اس عمارت کے گرنے سے جان ومال کا نقصان اٹھا سکتے ہیں۔
یہ نوٹس اسی سال 10 جنوری کو جاری کیا گیا تھا۔
اسے تین افراد محمد عمران ولد احمد اللہ، حشام یاسین ولد محمد یاسین اور محمد رفیق ولد محمد یوسف کے نام جاری کیا گیا تھا جس میں انھیں سات یوم کے اندر یا تو اس عمارت کی مرمت کرا کے قابل سول انجینیئر سے سرٹیفیکیٹ لینے یا فوری طور پر خالی کرکے دفتر ہذا کو مطلع کرنے یا عمارت کو خود مسمار کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
بصورت دیگر محکمہ کی طرف سے قانونی کارروائی سے آگاہ کیا گیا تھا۔
غور طلب بات یہ ہے کہ فاروق آباد کی میونسپل کمیٹی کے اس نوٹس کو متروکہ وقف املاک بورڈ کے بجائے کرایہ داروں کے نام جاری کیا گیا۔
اس بارے میں ایڈیشنل سیکریٹری شرائن ناصر مشتاق نے اس معاملے میں غیر جانب دار رہتے ہوئے بلدیہ سمیت کرایہ داروں کو بھی ذمہ دار ٹھرایا کہ ’اگر بلدیہ نے کرائے داروں کو نوٹس بھیج دیا تھا تو انھیں ہمیں بتانا چاہیے تھا۔ ان کو رابطہ کرنا چاہیے تھا کہ ہم متروکہ وقف املاک بورڈ کے کرائے دار ہیں اور ان کی اجازت کے بغیر کچھ نہیں کرسکتے اور بلدیہ بھی ہمیں نوٹس بھیج سکتی تھی۔‘
انھوں نےکہا کہ ’میں کسی کی طرفداری نہیں کررہا ہوں لیکن بلدیہ نے بھی اس لیے جاری کیا کہ کل کو کوئی انسانی جان کا نقصان نہ ہو لیکن انھیں بتانا چاہئے تھا۔‘
خلاف ورزی پر لیز کا معاہدہ اور کرایہ نامہ منسوخ

،تصویر کا ذریعہPALVINDER SINGH
متروکہ وقف املاک بورڈ کے قواعد کے مطابق ایسے رہائیشیوں کے لیے جو 1974 سے پہلے سے یہاں مقیم ہیں۔
لیز اس وقت تک بڑھائی جاتی رہتی ہے جب تک کہ وہ نادہندہ نہ ہو جائیں۔ البتہ ضرورت ہو تو محکمے کے طے شدہ طریقۂ کار کے مطابق ضروری منظوری کے بعد کسی بھی مرحلے پر لیز منسوخ بھی کی جا سکتی ہے۔
ناصر مشتاق نے بتایا کہ ’چونکہ کرائے داروں نے 24 جون کو خلاف ورزی کی ہے، انھیں ہماری اجازت کے بغیر عمارت کی مسماری کا اختیار نہیں تھا تو ہمارے پاس ایک وجہ تھی اور ہم نے فورا لیز کا معاہدہ اور کرایہ نامہ منسوخ کرکے پراپرٹی کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے اور انھیں بے دخلی کے نوٹس جاری کئے جا رہے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہETBT
انھوں نے کہا کہ ’اگر اس گرودوارے میں عبادت ہورہی ہوتی تو کوئی اسے گرانے کا تصور نہیں کرسکتا تھا۔ کاغذوں میں کہیں گرودوارہ درج ہوگا لیکن یہ فنکشنل نہیں تھا ۔ نہ ہی کبھی کسی نے کہا کہ اسے فنکشنل ہونا چاہیے۔‘
انھوں نے شکوہ کیا کہ پاکستان انڈیا سمیت دنیا بھر سے آنے والے سکھوں کی مفت خدمت کرتا ہے لیکن ان کی کاوشوں کو ’ڈس کریڈٹ‘ کیا جارہا ہے۔
واضح رہے کہ متروکہ وقف املاک بورڈ (ای ٹی پی بی) کی ویب سائیٹ کے مطابق پاکستان میں 21 گرودوارے فعال ہیں جبکہ 51 غیر فعال ہیں۔ فاروق آباد میں واقع گرودوارہ سچاسودا فعال گرودواروں کی فہرست میں آٹھویں نمبر پر ہے اور اس کا رقبہ آٹھ ایکٹر ہے۔
ماضی میں کئی ایسی خبریں رپورٹ ہوئی ہیں جن میں انڈیا سے آئے سکھ یاتریوں نے گرودوارہ سچاسودا کا وزٹ کیا اور عبادت بھی کی۔
گرودوارے کی بحالی کا اعلان اور مقامی تاجروں کا شکوہ
گرودوارہ سچاسودا کسی گرو سے منسوب نہیں، بہت ہی کم سکھ اس سائیٹ کی یاترا کرتے ہیں اور فاروق آباد میں بھی چند ہی سکھ آباد ہیں لیکن ایسا نہیں ہے کہ سکھوں کو اس جگہ سے کوئی انسیت نہیں۔
ایک مقامی سکھ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’ اس گرودوارے میں سے ایک دیوان ہال بچا ہوا تھا جسے اب توڑنا شروع کیا گیا جبکہ بقیہ احاطے میں پہلے سے دو کپڑے کی دکانیں، راشن کی خرید و فروخت کے لیے ایک جنرل سٹور اور ایک مرغی فروش کی دکان ہے۔ اس کے علاوہ ریڑھیوں پر مختلف چیزیں فروخت ہوتی ہیں۔‘
انھوں نے مزید بتایا کہ ’15 سال پہلے یہ سلسلہ شروع ہوا، پہلے گردوارے کے احاطے میں دکانیں قائم ہوئیں، پھر پانچ سال پہلے گرودوارے کا گنبد ہٹا دیا گیا تھا اور پھر عمارت کے اندر سکھوں کا جھنڈا نشان صاحب بھی گرا دیا گیا تھا۔اب صرف اس کی بنیاد یا وہ تھڑا موجود ہے جس پر جھنڈا لگاہوتا تھا اور اس تھڑے پر گرمکھی لکھی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہPALVINDER SINGH
سوشل میڈیا پر یہ خبر عام ہونے کے بعد پنجاب میں صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑہ گرودوارہ سچا سودا پہنچے اور میڈیا کے گفتگو کرتے محکمہ اوقاف سے گرودوارہ کی اراضی سے متعلق فوری انکوائری کا حکم دیا اور متعلقہ حکام کو جلد از جلد حقائق پر مبنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔
ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ اس گردوارہ کی بحالی کا عمل آج سے ہی شروع کر دیا گیا ہے اور پنجاب حکومت تاریخی مذہبی ورثے اور اقلیتوں کی عبادت گاہوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔
دوسری جانب گردوارہ کے اطراف کے مقامی تاجروں نے گرودواے کی بحالی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ جگہ گذشتہ 80 برس سے غیر آباد تھی جہاں اب متعدد خاندان رہائش پذیر ہیں اور دکانیں بھی قائم ہیں۔
تاجروں کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے درجنوں خاندان متاثر ہو سکتے ہیں، لہٰذا اگر کسی کو بے دخل کرنا ناگزیر ہو تو حکومت متاثرین کو متبادل رہائش اور روزگار فراہم کرے۔
سچا سودا جہاں سے ’گرو کے لنگر‘ کی بنیاد پڑی
پنجاب کے ضلع شیخوپورہ کے شہر فاروق آباد میں واقع گرودوارہ سچا سودا دنیا بھر کے سکھوں کے لیے ایک انتہائی اہم تاریخی مقام ہے۔
سکھ روایتوں کے مطابق یہ وہی جگہ ہے جہاں گرو نانک نے اپنے والد کی طرف سے گھر کے سودے کے لیے دیے گئے 20 روپوں سے بھوکے اور بیمار دیہاتیوں کو کھانا کھلایا تھا اور یہیں سے گرو کے لنگر کی بنیاد پڑی۔
فاروق آباد کو ماضی میں منڈی چوہارکانہ کہا جاتا تھا۔ اسی منڈی میں گرونانک نے اپنی نوجوانی میں 20 روپے خرچ کیے تھے۔
سکھوں کے مطابق یہ منڈی اب بھی موجود ہے اور گرودوارہ سچا سودا، منڈی میں عین اس مقام پہ واقع ہے جہاں یہ لین دین یا سودا ہوا۔
سکھ عقیدے کے مطابق زندگی کا سچا سودا یہ ہے کہ اپنی کمائی میں سے ضرورت مندوں کا حصہ نکالا جائے اور جہاں تک ممکن ہو ان کی ہر طرح سے مدد کی جائے۔
اس گرودوارہ کی بنیاد 1862 میں رکھی گئی تھی۔
بعد میں منڈی چوہارکانہ (فاروق آباد) کے ساتھ موجود ایک گاوں چھابرا سے ایک سکھ کرتار سنگھ چھبر نے اس گرودوارے سچا سودا کی تعمیر شروع کروائی جو 1912 مکمل ہوئی تھی ۔
واضح رہے کہ فاروق آباد کے گرودوارے سچا سودا کی تعمیر نوآبادیاتی دور میں سکھوں کے احیا کی موومنٹ ’سنگھ سبھا لہر‘ کے دوران ہوئی۔
اس موومنٹ کے دوران خطے میں سکھوں کی بنائی گئی اکثر مذہبی عمارات کو سنگھ سبھا سے بھی یاد رکھا جاتا ہے۔ اسی لیے گرودوارہ سچا سودا کو سری گرو سنگھ سبھا بھی کہا جاتا ہے۔

























