شوہر کے کہنے پر اجنبی مردوں سے سیکس کرنے والی خاتون کی کہانی جو ’سوئنگنگ‘ ویب سائٹ کو قصوروار سمجھتی ہیں

رُتھ
،تصویر کا کیپشن رُتھ کے مطابق انھوں نے 18 ماہ کے دوران 100 سے زیادہ مرتبہ اجنبی مردوں کے ساتھ جنسی تعلق قائم کیا
    • مصنف, کیٹرن نائے، جیمی برٹلیٹ، کویتا پوری اور رتھ میئر
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 12 منٹ

نوٹ: اس رپورٹ میں بعض تفصیلات قارئین کے لیے پریشان کُن ہو سکتی ہیں۔

رُتھ اوگریڈی جب اپنے شوہر کے کہنے پر نہ چاہتے ہوئے بھی ایک سوئنگنگ ویب سائٹ کا حصہ بنیں تو اُن کے مطابق انھوں نے اپنے شوہر پر واضح کر دیا تھا کہ وہ کبھی بھی گاڑی میں کسی اجنبی کے ساتھ سیکس نہیں کریں گی۔

لیکن اُن کے مطابق محض چند مہینوں کے اندر وہ نہ صرف ایسا ہی کرنے لگیں بلکہ ایسے لمحات کو ریکارڈ کر کے اپنے شوہر کو بھی بھیج رہی تھیں۔

’سوئنگنگ‘ تعلقات کی ایسی شکل ہے جس میں بالغ افراد یا جوڑے باہمی رضامندی کے ساتھ ایک پارٹنر تک محدود رہنے کے بجائے اپنے سیکشوئل تعلقات دیگر افراد تک بڑھاتے ہیں یعنی ساتھی بدلتے ہیں۔

جبکہ سوئنگنگ ویب سائٹس سوشل نیٹ ورکنگ کی ایسی ویب سائٹس ہوتی ہیں جہاں عام طور پر جوڑے ملتے ہیں اور اپنے ساتھی بدلتے ہیں۔

رُتھ کہتی ہیں کہ اس سوئنگنگ ویب سائٹ کے ذریعے 18 ماہ کے دوران انھوں نے 100 سے زیادہ مرتبہ اجنبی مردوں کے ساتھ جنسی تعلق قائم کیا۔

رتھ کے مطابق وہ اب صدمے میں ہیں اور اب بھی انھیں بار بار وہ مناظر یاد آتے ہیں۔

رُتھ نے پہلی مرتبہ بی بی سی کے ساتھ تین سال قبل رابطہ کیا تھا اور اب طویل وقفے اور سوچ و بچار کے بعد انھوں نے اپنے پورے نام اور شناخت کے ساتھ اپنی تکلیف دہ کہانی دنیا کو سنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

وہ کہتی ہیں کہ اپنی کہانی دنیا کو سنانے کا مقصد یہ ہے تاکہ دوسری خواتین اس سے بچ سکیں۔

انھیں اپنے سابق شوہر کِرس پر تو غصہ ہے ہی، لیکن وہ برطانیہ کی سب سے بڑی سوئنگنگ ویب سائٹ کو بھی اس کا ذمہ دار ٹھہراتی ہیں۔

رُتھ کا کہنا ہے کہ اس ویب سائٹ نے اُن کے شوہر کو ایسے سینکڑوں مردوں تک رسائی دی جو جنسی تعلق قائم کرنا چاہتے تھے اور پھر اُن کے شوہر نے اِن مردوں کو اُن کی جانب ریفر کیا۔

بی بی سی نے اِن الزامات کے بارے میں روتھ کے سابق شوہر سے رابطہ کیا، لیکن انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

روتھ کی کہانی کے بعد بی بی سی پچھلے آٹھ ماہ سے برطانیہ میں سوئنگنگ کے رجحان کی تحقیق کر رہا ہے۔ کچھ لوگوں نے ہمیں بتایا کہ وہ اس میں اس لیے شامل ہوتے ہیں کیونکہ وہ خود ایسا کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن بی بی سی کو یہ بھی معلوم ہوا کہ ایسا ہمیشہ نہیں ہوتا۔

رُتھ کا کہنا ہے کہ ’فیب سوئنگرز‘ نامی ایک ویب سائٹ نے اُن کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی کو ’آسان بنایا۔‘

فیب سوئنگرز نامی اس ویب سائٹ کا دعویٰ ہے کہ ان کے ماہانہ چھ لاکھ ایکٹیو ممبرز ہیں اور اُن کا پیج کسی بھی دوسری سوئنگنگ ویب سائٹ سے زیادہ دیکھا جاتا ہے۔

اس ویب سائٹ کے مطابق سوئنگنگ میں رضامندی بنیادی شرط ہے۔

دوسری جانب برطانیہ میں پولیس حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس سائٹ کا ذکر حال ہی میں سامنے آنے والی سینکڑوں جرائم کی رپورٹس میں آیا ہے۔

رتھ یہ بھی کہتی ہیں کہ اگرچہ ان کی کہانی فرانسیسی خاتون جزیل پیلیکوٹ کی کہانی جیسی نہیں، لیکن پلیکوٹ کیس پر سامنے آنے والے بڑے ردعمل نے انھیں بولنے کا حوصلہ دیا ہے۔

یاد رہے کہ فرانسیسی خاتون جزیل پیلیکوٹ نے اُن کے کے ساتھ ریپ کے الزام میں ملوث مردوں کے خلاف اوپن کورٹ میں مقدمے چلانے پر زور دیا تھا۔

رُتھ کہتی ہیں کہ اس ’ہر کوئی بہت حیران تھا تاہم مجھے بالکل حیرت نہیں ہوئی تھی۔‘

رُتھ
،تصویر کا کیپشنرتھ کے مطابق کچھ مرد اُن کی آنکھوں میں نہیں دیکھتے تھے اور کچھ تو اُن سے بات ہی نہیں کرتے تھے

یہ 2008 کی بات ہے جب رُتھ کی پہلی بار شمالی ویلز میں کِرس سے ہوئی۔ رُتھ کے مطابق کرس اکثر اس خیال کا اظہار کرتے تھے کہ انھیں (رُتھ) دوسرے مردوں کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنا چاہییں، تاہم رُتھ کے مطابق وہ ہمیشہ اس سوچ کی مزاحمت کرتی رہیں۔

پھر جب سنہ 2021 میں رتھ ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار ہوئیں تو کِرس نے ان کی دیکھ بھال کی۔

رتھ کے مطابق انھیں (کرس کی جانب سے) یہ احساس دلایا گیا کہ زندگی ویسی نہیں تھی جیسا انھوں نے سوچا تھا اور اس بات پر وہ خود کو قصوروار محسوس کرنے لگیں۔

روتھ کہتی ہیں کہ اُن کے شوہر نے اسی دوران دوبارہ سوئنگنگ کا ذکر کیا تو آخرکاروہ مان گئیں۔

’مجھے معلوم ہے کہ یہ کہانی سننے والے کسی بھی شخص کو یہ بالکل پاگل پن لگ سکتا ہے، لیکن یاد رکھیں، یہ راتوں رات نہیں ہوتا۔ تصور کریں کہ آپ 12 سال تک کسی کے ساتھ رہیں اور وہ آہستہ آہستہ آپ کو کسی ایک بات پر قائل کرتا رہے۔‘

رتھ کے مطابق اس کے بعد دونوں نے فیب سویئنگر میں شمولیت اختیار کی۔ رتھ کا کہنا ہے کہ انھیں توقع تھی کہ وہ شاید دیگر جوڑوں سے ملیں گے تاہم اُن کے مطابق اس کے بجائے یہ معاملہ جلد ہی کچھ اور ہی بن گیا۔

رتھ اس ویب سائٹ پر موجود مردوں کے ساتھ جنسی تعلق قائم کر رہی تھیں جبکہ کرس محض دیکھ رہے تھے، انتظار کر رہے تھے اور بعض اوقات وہاں موجود بھی نہیں ہوتے تھے۔

یہ ملاقاتیں رُتھ کے گھر پر، باہر گاڑیوں یا کار پارکنگز میں ہوتی تھیں۔ اگر وہ اکیلی جاتی تھیں تو اُن کے مطابق ان سے توقع کی جاتی تھی کہ وہ جو کچھ ہوا اس کی ویڈیو بنائیں اور اپنے شوہر کو بھیجیں۔

وہ ایک ہفتے میں متعدد مردوں کے ساتھ جنسی تعلق قائم کر رہی تھیں۔ رتھ کہتی ہیں کہ بعض اوقات ایک ہی دن میں چار مردوں تک کے ساتھ وہ سیکس کرتی تھیں۔

وہ کہتی ہیں کہ کچھ ملاقاتوں کا انتظام انھوں نے خود بھی کیا اور وہ بظاہر سوئنگنگ کے بارے میں پُرجوش تھیں تاہم اب وہ کہتی ہیں کہ یہ وہ چیز تھی جو وہ درحقیقت کبھی کرنا ہی نہیں چاہتی تھیں۔

وہ باقاعدگی سے اپنے شوہر کو بتاتی تھیں کہ وہ یہ سب بند کرنا چاہتی ہیں۔

رتھ کے مطابق کئی مواقع پر انھوں نے اپنے شوہر کو بتایا کہ اِن جنسی تعلقات نے انھیں خوفزدہ اور صدمے کا شکار کر دیا تھا۔

وہ کہتی ہیں کہ کبھی کبھی کچھ وقت کے لیے یہ سلسلہ رُک جاتا تھا لیکن پھر وہ (کِرس) مزید ملاقاتوں کا انتظام کرتے اور رُتھ ان میں شامل ہو جاتی تھیں۔

رتھ کے مطابق ان ملاقاتوں نے اُن پر ہولناک اثر ڈالا۔ رتھ کو جنسی طور پر منتقل ہونے والے انفیکشنز کا سامنا ہوا یہاں تک کے وہ حاملہ بھی ہو گئیں۔

رُتھ کے مطابق اسقاطِ حمل کے بعد جب وہ صحتیاب ہو رہی تھیں تو کرس نے کسی شخص کے ساتھ اُن کا اورل سیکس کروانے کا انتظام کیا۔

رتھ کہتی ہیں کہ ’مجھے احساس ہوا کہ کرس کو واقعی میرے جسم یا اس تکلیف کی کوئی پروا نہیں تھی جس سے میں گزر رہی تھی۔‘

’یہ تمام مرد میرے جسم کا اس حد تک استحصال کرتے رہے کہ میرا جسم متاثر ہوا، میں بیمار ہوئی، اور پھر اسقاطِ حمل ہوا، اور پھر بھی مجھے ان مردوں سے ملنا پڑ رہا ہے۔‘

رتھ کہتی ہیں کہ بعض اوقات مزاحمت کرنے کے بجائے پُرجوش دکھائی دینا اور وہ کردار ادا کرنا جس کی اُن سے توقع کی جاتی تھی زیادہ آسان اور محفوظ لگتا تھا۔

اُن کے مطابق ’کچھ مرد میری آنکھوں میں نہیں دیکھتے تھے اور کچھ تو مجھ سے بالکل بات ہی نہیں کرتے تھے۔ ایسا لگتا تھا جیسے میں موجود ہی نہیں ہوں۔‘

ماضی کو دیکھتے ہوئے، کیا وہ سمجھتی ہیں کہ یہ جنسی تعلقات واقعی ان کی اپنی کی رضامندی سے تھے؟ اس سوال کے جواب میں رتھ نےکہا کہ ’نہیں۔ میں وہاں نہیں جانا چاہتی تھی۔ میں شروع سے ہی اس ویب سائٹ پر نہیں جانا چاہتی تھی۔‘

رتھ کی شکایت کے بعد پولیس نے کرس کے خلاف زور زبردستی سے کسی کو کنٹرول کرنے سمیت دیگر قوانین کے تحت تحقیقات کی ہیں لیکن تاحال اُن پر کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا۔

پولیس نے واٹس ایپ پر اُن پیغامات کا حوالہ دیا جن میں رُتھ سوئنگنگ کے بارے میں پُرجوش لگ رہی تھیں۔

رتھ کی کہانی ایک اہم سوال اٹھاتی ہے کہ ’لوگ کیسے اور کیوں ایسے جنسی تعلقات پر راضی نظر آتے ہیں حتیٰ کہ پُرجوش طریقے سے، جبکہ وہ اصل میں ایسا نہیں کرنا چاہتے؟

1980 کی دہائی سے ناپسندیدہ جنسی تعلقات پر تحقیق کرنے والی آکلینڈ یونیورسٹی کی پروفیسر نکولا گیوی کہتی ہیں کہ ’ایسا ممکن ہے کہ لوگ ایسے جنسی تعلقات کے لیے راضی نظر آئیں جو وہ قائم نہیں کرنا چاہتے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ انھوں نے دوسری خواتین سے بھی اس طرح کی کہانیاں سُنی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’لوگوں کو یہ سمجھنے میں وقت لگتا ہے کہ اُن کے ساتھ حقیقت میں کیا ہو رہا تھا۔‘

’مجھے وہاں سے چلے جانا چاہیے تھا‘

فیب سوئنگرز
،تصویر کا کیپشنفیب سوئنگرز کے مطابق بغیر رضامندی کی سرگرمیوں کی رپورٹس کو ترجیحی خطرہ سمجھا جاتا ہے

ہمیں فیب سوئنگرز نامی ویب سائٹ استعمال کرنے والے ایک ایسے مرد کا سراغ ملا جو ہم سے بات کرنے پر بھی آمادہ ہو گیا۔

مارٹن (فرضی نام) کبھی رُتھ سے نہیں ملے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ برسوں سے اس ویب سائٹ کا استعمال کر رہے ہیں اور اس کے ذریعے تقریباً 50 افراد کے ساتھ جنسی تعلق قائم کر چکے ہیں، جن میں زیادہ تر شادی شدہ خواتین تھیں، ایسی خواتین جن کے شوہر انھیں (سیکس کرتے ہوئے) دیکھنا چاہتے تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ وہ یہ یقینی بنانے کی کوشش کرتے ہیں کہ جن خواتین سے وہ ملتے ہیں وہ خوش ہوں اور اس سب پر رضامند ہوں۔ لیکن وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ کچھ مواقع پر جب وہ ملاقات کے لیے کمرے میں داخل ہوئے، تو انھیں کچھ غلط محسوس ہوا۔

ان کے خیال میں جن جوڑوں سے وہ ملے، ان میں سے نصف سے زیادہ خواتین دراصل اس سب میں حصہ نہیں لینا چاہتی تھیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ایک موقع پر انھوں نے ایک خاتون کی آنکھوں میں اُس وقت خوف دیکھا جب اُس کو پتا چلا کہ اس کا شوہر اندر آ کر اس سب کی ریکارڈنگ کرنے والا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے لگا کہ مجھے وہاں سے چلے جانا چاہیے تھا اور فوراً اس کی رپورٹ کرنا چاہیے تھی۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ایک اور موقع پر ایک عورت ایسے لگ رہی تھی کہ جیسے اس پر دباؤ ڈال کر آمادہ کیا گیا ہو۔ اُن کے مطابق اس کا شوہر اور ایک اور مرد انھیں یہ سب کرنے کا کہہ رہے تھے۔

ہم نے ان سے سیدھا سوال کیا کہ اس لمحے کیا انھیں لگا کہ وہ کسی کے ساتھ زبردستی جنسی تعلق قائم کر رہے ہیں۔

انھوں نے اعتراف کرتے ہوئے کہا ’ہاں‘۔

مارٹن کہتے ہیں کہ اس وقت تک انھیں یقین تھا کہ وہ عورت مکمل طور پر اپنی مرضی سے یہ سب نہیں کر رہی تھی۔

بی بی سی کی تحقیق پر ردعمل دیتے ہوئے، ویب سائٹ فیب سوئنگرز کا کہنا ہے کہ یہ سمجھنا غلط ہے کہ پہلے سے آن لائن بات چیت ہونے کی وجہ سے بعد میں ملاقات کے وقت رضامندی کی ضرورت ختم ہو جاتی ہے۔ ان کے دعوے کے مطابق وہ ایسی کسی بات کی حمایت، حوصلہ افزائی یا اجازت نہیں دیتے۔

بی بی سی نے برطانیہ کی تمام 45 پولیس فورسز کو فریڈم آف انفارمیشن کی درخواستیں بھیجیں جن میں 2023 کے آغاز سے اب تک ایسے جرائم کی رپورٹس کے بارے میں پوچھا گیا جن میں فیب سوئنگرز کا ذکر تھا۔

اپریل 2026 کے آخر تک 39 فورسز نے جواب دیا تاہم ملک کی سب سے بڑی فورس، میٹروپولیٹن پولیس کا جواب موصول نہ ہو سکا۔

موصول ہونے والے جوابات میں 329 ایسی رپورٹیں سامنے آئیں جن میں اس ویب سائٹ کا ذکر تھا، جن میں ریپ کے الزامات سمیت دیگر سنگین جنسی جرائم، کنٹرول کرنے اور دباؤ ڈالنے والے رویے، ہراسانی، بلیک میل، پیچھا کرنے، حملہ کرنے اور انتہائی نوعیت کا فحش مواد رکھنے کے الزامات شامل تھے۔

جوابات دینے والی فورسز کے مطابق ایسے کیسز میں جہاں فیب سوئنگرز کا ذکر تھا، ان میں سے 26 افراد پر الزام عائد ہوا یا انھیں عدالت میں طلب کیا گیا، جبکہ 23 کیسز ابھی چل رہے ہیں۔

ان اعداد و شمار کا مطلب یہ نہیں کہ ان الزامات کی ذمہ داری ویب سائٹ پر تھی۔ کچھ کیسز میں اس کا ذکر صرف پس منظر کے طور پر آیا ہے۔

تاہم اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سنگین جرائم سے متعلق پولیس ریکارڈ میں اس پلیٹ فارم کا بار بار ذکر آیا ہے۔

بی بی سی نے دیگر سوئنگنگ ویب سائٹس کے بارے میں معلومات نہیں مانگی تھیں۔

فیب سوینگرز کا کہنا ہے کہ بغیر رضامندی والی سرگرمیوں کی رپورٹس کو وہ سنجیدگی سے لیتے ہیں اور جب بھی انھیں ایسی معلومات ملتی ہیں تو وہ کارروائی کرتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر پولیس سے تعاون بھی کرتے ہیں۔

تاہم رُتھ اس مؤقف پر حیران ہیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے ویب سائٹ کو اُن مردوں کے بارے میں شکایت کی تھی جن سے وہ وہاں ملیں، جن میں تشدد یا ریپ کی دھمکیاں بھی شامل تھیں، لیکن ان پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔

ریچل
،تصویر کا کیپشنوکیل ریچل ہورمن براؤن کا خیال ہے کہ بدسلوکی کرنے والے پارٹنر سوئنگنگ کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں

گھریلو تشدد کے معاملات میں مہارت رکھنے والی وکیل ریچل ہورمن براؤن کہتی ہیں کہ رتھ کا تجربہ ان کے لیے حیران کُن نہیں ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’گذشتہ برسوں میں کئی بار ایسا ہوا ہے کہ میں نے خواتین کو یہ کہتے سُنا ہے کہ اُن پر سوئنگنگ کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔‘

ہورمن براؤن کا خیال ہے کہ سوئنگنگ کو بعض اوقات بدسلوکی کرنے والے پارٹنرز استعمال کر سکتے ہیں کیونکہ جب کوئی اس میں شامل ہو جاتا ہے تو اسے شدید شرمندگی محسوس ہو سکتی ہے، جس کی وجہ سے خواتین کم ہی آواز اٹھاتی ہیں۔

سوئنگنگ میں عموماً واضح تصاویر اور ویڈیوز بھی بنائی جاتی ہیں جو بعد میں مسئلہ بن سکتی ہیں۔ ہورمن براؤن اسے تعلق میں ممکنہ ’ہتھیار‘ قرار دیتی ہیں۔

متاثرین کی مدد کرنے والے گروپس کا کہنا ہے کہ انھیں موصول ہونے کہانیوں میں بھی ایسے ہی شواہد نظر آتے ہیں۔

شارلٹ ایسٹپ گھریلو تشدد کے خلاف کام کرنے والے ادارے ریفیوجی میں نیشنل ہیلپ لائن کی ذمہ دار ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ان سے ایسی خواتین رابطہ کرتی ہیں جو بتاتی ہیں کہ ان پر سوئنگنگ کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔

وہ کہتی ہیں کہ بہت سی خواتین کو یہ بھی یقین نہیں ہوتا کہ جو ان کے ساتھ ہو رہا ہے وہ زیادتی ہے یا نہیں اور وہ اسے بیان کرنے میں بھی مشکل محسوس کرتی ہیں۔

ان کے مطابق ’امید ہے کہ رتھ کا آواز اٹھانا کسی اور پر اثر ڈالے گا۔‘

رتھ کہتی ہیں کہ جب وہ ڈسٹوپیئن ٹی وی سیریز بلیک مرر کی ایک قسط دیکھ رہی تھیں، جس میں ’جنسی تذلیل اور بے وقعتی‘ دکھائی گئی تھی تو انھیں اچانک احساس ہوا کہ کرس کو وہ قسط مزاحیہ لگی اورتب انھیں ایسا لگا کہ ’کرس میرے بارے میں یہی سوچتا ہو گا۔‘

فیب سوئینگرز پر ڈیڑھ سال سے زیادہ وقت گزارنے کے بعد رتھ نے اس ویب سائٹ کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق کرس پھر بھی انھیں دوسرے مردوں سے ملنے کا کہتے رہے۔

مدد لیتے ہوئے رتھ نے اپنے شوہر کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ وہ آہستہ آہستہ اپنے کاغذات، کپڑے اور پیسے گھر سے باہرمنتقل کرتی گئیں اور ان کے لیے ایک محفوظ جگہ کا بندوبست کیا گیا تھا۔

سنہ 2023 میں وہ گھر چھوڑ کر چلی گئیں، اور اس کے بعد سے نہ انھوں نے کرس کو دیکھا اور نہ ہی اس سے بات کی۔

رتھ کہتی ہیں کہ اس کے اثرات اب بھی بہت گہرے ہیں اور وہ مردوں کے قریب ہونے پر بہت گھبرا جاتی ہیں۔ یہاں تک کہ نہاتے وقت بھی انھیں فیب سوئنگرز کے ذریعے ہونے والی ملاقاتیں یاد آ جاتی ہیں۔

وہ اپنی کہانی اتنی کُھل کر کیوں بتا رہی ہیں؟ اس کے جواب میں رتھ کہتی ہیں کہ اگر صرف ایک خاتون بھی ان کی کہانی سے خود کو جوڑ لے اور یہ سمجھ جائے کہ وہ وہ کام کر رہی ہے جو وہ نہیں کرنا چاہتی، تو یہ ہی کافی ہے۔