آٹھ ڈالر سے اپنا سفر شروع کرنے والا شخص جو 528 ارب روپے سے زیادہ کا بینک خریدنے جا رہا ہے

    • مصنف, دیپک منڈل
    • عہدہ, بی بی سی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

پریم وتس جب انڈیا کے شہر حیدرآباد سے کینیڈا گئے تو ان کی جیب میں محض آٹھ ڈالر تھے۔ آج وہ ارب پتی صنعت کار ہیں اور اور اب وہ انڈسٹریل ڈیویلپمنٹ بینک آف انڈیا یا آئی ڈی بی آئی بینک کے مالک بننے جا رہے ہیں۔

خبر رساں ویب سائٹ دی لائیو منٹ کے مطابق پریم وتس کو ’کینیڈا کا وارن بفٹ‘ کہا جاتا ہے اور وہ فیئرفیکس فنانشل ہولڈنگز کے مالک ہیں، جس کی مالیت 100 ارب ڈالر بتائی جاتی ہے۔

1985 میں ایک چھوٹی سی انشورنس کمپنی کے طور پر قائم ہونے والی فیئرفیکس، پریم وتس کی کاروباری بصیرت، دور اندیشی اور نظم و ضبط کی بدولت ایک بڑے مالیاتی ادارے میں تبدیل ہو چکی ہے۔

پریم وتس کی یہ کمپنی 52 ہزار 878 کروڑ انڈین روپے کے بدلے آئی ڈی بی آئی بینک کے 60.72 فیصد حصص کی مالک بننے جا رہی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ انڈیا کی سب سے بڑی سرحد پار بینکاری ڈیل ہو گی۔

آئیے جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ پریم وتس کون ہیں اور انھوں نے اتنی بڑی کاروباری سلطنت کیسے قائم کی۔

’کینیڈا کا وارن بفٹ‘

اکنامک ٹائمز کی ایک رپورٹ اور پریم وتس کی کتاب ’دی فیئرفیکس وے‘ کے مطابق وہ انڈین نژاد صنعت کار ہیں جو 1970 کی دہائی میں حیدرآباد سے کینیڈا منتقل ہوئے تھے۔

رپورٹ کے مطابق پریم وتس خاموشی سے اپنا کام کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کی چکاچوند سے دور رہنے والے وتس نے فیئرفیکس کے قیام کے ابتدائی 15 برسوں کے دوران شاید ہی کبھی کسی صحافی سے بات کی ہو۔

انھوں نے سرمایہ کاروں کے ساتھ کانفرنس کالز کا آغاز بھی 2001 میں کیا۔ پریم وتس ایک ’ویلیو انویسٹر‘ کے طور پر شہرت رکھتے ہیں۔ ان کے استاد جان واٹسن نے انھیں بینجمن گراہم کے ویلیو انویسٹمنٹ کاری کے اصول سکھائے تھے۔

بینجمن گراہم کا نظریہ یہ ہے کہ ایسی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی جائے جن کی بنیادیں تو مضبوط ہوں لیکن جو ابھی ہوری طرح کامیاب نہ ہوئی اور ان کی بھرپور قدر تسلیم نہ کی گئی ہو۔ بینجمن گراہم کے مطابق ایسی کمپنیوں میں طویل مدتی سرمایہ کاری فائدہ مند ہوتی ہے۔

دنیا کے بڑے سرمایہ کاروں میں شمار ہونے والے وارن بفٹ بھی کم و بیش اسی طرزِ سرمایہ کاری کے حامی ہیں۔

پریم وتس نے انہی اصولوں پر عمل کرتے ہوئے متعدد ایسی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی جو بعد میں ان کے لیے انتہائی منافع بخش ثابت ہوئیں۔

یہی وجہ ہے کہ پریم وتس کو ’کینیڈا کا وارن بفٹ‘ بھی کہا جاتا ہے۔

حیدرآباد سے کینیڈا کا سفر

پریم وتس 1950 میں انڈیا کے شہر حیدرآباد میں ایک سکول ٹیچر کے گھر پیدا ہوئے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم حیدرآباد پبلک سکول سے حاصل کی۔

خیال رہے کہ یہ وہی سکول ہے جہاں سے مائیکروسافٹ کے چیف ایگزیکٹو ستیہ نڈیلا، ایڈوبی کے سی ای او شانتنو نارائن اور ورلڈ بینک گروپ کے چیئرمین اجے بنگا نے بھی تعلیم حاصل کی ہے۔

اس کے بعد وتس نے آئی آئی ٹی مدراس میں داخلہ لیا اور بعد ازاں انھوں آئی آئی ایم کا امتحان بھی کامیابی سے پاس کیا۔

تاہم ان کی قسمت میں کچھ اور ہی لکھا تھا۔

اس زمانے میں وتس کے بڑے بھائی کینیڈا میں مقیم تھے اور ان کے والد چاہتے تھے کہ پریم وتس بھی کینیڈا جا کر اپنا کیریئر بنائیں۔

پریم وتس نے اپنی کتاب ’دی فیئرفیکس وے‘ میں لکھتے ہیں کہ ’مجھے کینیڈا جانے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ میں انڈیا چھوڑنا نہیں چاہتا تھا، لیکن 22 برس کی عمر میں آپ اپنے والد کی بات مانتے ہیں۔‘

کینیڈا پہنچنے کے بعد انھوں نے ویسٹرن اونٹاریو یونیورسٹی سے ایم بی اے کی تعلیم حاصل کی۔ تعلیم کے اخراجات پورے کرنے کے لیے وہ ایئر کنڈیشنر اور فرنس فروخت کیا کرتے تھے۔

پریم وتس کے مطابق ایک سیلز مین کے طور پر سیکھی گئی عاجزی اور محنت کی عادت بعد میں ان کے کیریئر میں بہت کام آئی۔

ابتدائی کیریئر

اکنامک ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق پریم وتس کے مطابق ان کے والد کہا کرتے تھے ’محنت اتنی کرو جیسے ہر چیز کا دار و مدار تم پر ہو، اور دعا اتنے خلوص سے کرو جیسے ہر چیز کا دار و مدار خدا پر ہو۔‘

پریم وتس نے 1974 میں کنفیڈریشن لائف انشورنس کمپنی میں بطور ریسرچ تجزیہ کار اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔

تقریباً ایک دہائی بعد 1984 میں انھوں نے اپنی کمپنی ہیمبلن واٹس انویسٹمنٹ کاؤنسل لمیٹڈ قائم کی۔

اپنی کمپنی بنانے کے ایک سال بعد ہی انھیں ایک بڑی کامیابی اس وقت ملی جب انھوں نے مشکلات میں گھڑی ٹرک انشورنس کمپنی مارکل فنانشل خرید لی۔

کامیابی کا فارمولا

پریم وتس کی کامیابی کا سب سے بڑا راز ایسی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرنا ہے جو مضبوط بنیادوں پر تو کھڑی ہوتی ہیں لیکن فی الوقت مشکلات کا ہوں۔

ان میں ایسی کمپنیوں کی نشاندہی کرنے کی غیر معمولی صلاحیت تھی، اور وہ طویل عرصے تک اپنی سرمایہ کاری برقرار رکھنے کا حوصلہ بھی رکھتے تھے۔

وتس وقت کے بدلتے رجحانات بھانپنے میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔ انھیں معاشی بحرانوں کی آہٹ دور سے سنائی دینے لگتی ہے۔

اپنی اسی صلاحیت کی بدولت انھوں نے 1987 میں عالمی حصص بازار کے بحران، جسے ’بلیک منڈے‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، 1990 کی دہائی کے آغاز میں جاپان کی معیشت کے بحران اور 2008 کے عالمی مالیاتی بحران جیسے تمام بڑے مالیاتی ححرانوں کی پیشگی نشان دہی کر لی تھی۔

پریم وتس نے اس عرصے میں امریکی معیشت کی سست روی سے فائدہ اٹھایا اور ایسی کمپنیوں کے حصص کم قیمت پر خریدے جن کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ وہ مستقبل میں بہتر کارکردگی دکھا سکتی ہیں۔

تاہم ان کا سفر ہمیشہ پھولوں کی سیج نہ تھا اور ان کی کمپنی فیئرفیکس کو بھی کئی بحرانوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ہاروے، ارما اور ماریہ جیسے طوفانوں اور کیلیفورنیا میں جنگلاتی آگ کے باعث کمپنی کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔

کووِڈ-19 کی وبا اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مالی مشکلات بھی کمپنی کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہوئیں۔ اس کے نتیجے میں ان کے انشورنس کاروبار کو خاطر خواہ خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔

لیکن ان مشکلات سے نکلنے کی پریم وتس کی صلاحیت نے فیئرفیکس کو دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن کر دیا۔

اکتوبر 2022 کے مقابلے میں 2025 تک فیئرفیکس کی مالیت چار گنا بڑھ چکی تھی۔

فیئرفیکس کی کاروباری حکمت عملی کامیاب ثابت ہوئی ہے۔

وتس کی کمپنی انشورنس کلیمس کی ادائیگی سے قبل جمع ہونے والی انشورنس پریمیم کی رقم کو ایسی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کے لیے استعمال کرتی رہی ہے جن کی بنیادیں مضبوط ہوں لیکن ان کے حصص نسبتاً کم قیمت پر دستیاب ہوں۔

کاروبار اور صنعت کے شعبوں میں غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں پریم وتس کو انڈیا کے اعلیٰ سول اعزازات میں سے ایک، پدم شری، سے بھی نوازا جا چکا ہے۔

پریم وتس کے انڈیا میں کاروبار

آئی ڈی بی آئی بینک میں سرمایہ کاری فیئرفیکس کی اب تک کی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہو گی۔

تاہم یہ فیئرفیکس کی انڈیا میں پہلی سرمایہ کاری نہیں ہو گی۔ پریم وتس کی کمپنی نے انڈین مارکیٹ میں 2014 میں فیئرفیکس انڈیا ہولڈنگز کے ذریعے قدم رکھا تھا۔

پریم وتس کے بیٹے بین وتس یہاں مارول کیپیٹل کے نام سے ایک فنڈ مینجمنٹ کمپنی چلاتے ہیں، جو صرف انڈین کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری کرتی ہے۔

فیئرفیکس نے آئی آئی ایف ایل کو اس وقت مالی معاونت فراہم کی تھی جب کمپنی کو گولڈ لون کے کاروبار میں ضابطہ جاتی مشکلات کا سامنا تھا۔

پریم وتس کی کمپنی بنگلورو انٹرنیشنل ایئرپورٹ لمیٹڈ میں بھی اکثریتی حصص رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ اس نے سَمر کیمیکلز اور چند دیگر مینوفیکچرنگ کمپنیوں میں بھی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔

تاہم ضابطہ جاتی تقاضوں کے باعث فیئرفیکس اس سے پہلے سی ایس بی بینک میں اپنی سرمایہ کاری کم کر چکی ہے۔