لاوینیا فونتانا: مردوں سے زیادہ بے باک اور عریاں تصاویر بنانے والی پہلی خاتون مصورہ جنھوں نے جنسی کشش کے لازوال فن پارے بنائے

    • مصنف, کیتھ پاؤنڈ
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 10 منٹ

آخری دورِ نشاۃ ثانیہ کی مصورہ لاوینیا فونتانا پہلی پروفیشنل خاتون مصورہ تھیں جنھوں نے خواتین کے عریاں پیکر تخلیق کیے تھے۔

ان کے کئی فن پارے اپنے مرد ہم عصروں کے مقابلے میں زیادہ جرات مندانہ سمجھے جاتے ہیں۔

تو کیا یہ تصاویر ان کے قدامت پسند والد کے خلاف بغاوت تھیں، ایک تجارتی انتخاب، یا ان کی نجی شخصیت کی کوئی جھلک ان میں پائی جاتی تھی؟

لاوینیا فونتانا کی شخصیت کے دو مختلف پہلو دکھائی دیتے ہیں۔ پہلا ان کی 1577 میں بنائی گئی خود اپنی بنائی تصویر میں نظر آتا ہے۔

اس تصویر میں وہ سپنیٹ (کی بورڈ) کے سامنے نفیس لباس اور زیورات پہنے بیٹھی ہیں اور جس کو دیکھ کر ایک خوشحال، تعلیم یافتہ اور باوقار نوجوان اطالوی خاتون کی شخصیت کا تاثر سامنے آتا ہے۔

پس منظر میں رکھا ایزل (مصوری کا مخصوص سٹینڈ) ان کے فن اور پیشے سے وابستگی کو ظاہر کرتا ہے۔

پہلی پروفیشنل مصورہ سمجھی جانے والی فونتانا پورٹریٹ بنانے کے لیے بہت مشہور تھیں۔

بعد میں انھوں نے ایک درجن سے زیادہ مذہبی تصویروں کے اہم منصوبوں پر کام کیا جس سے خواتین کے بارے میں یہ منفی تصور ختم ہو گیا کہ وہ ایسے نمایاں کام حاصل یا مکمل نہیں کر سکتیں۔

ان کی شخصیت کا دوسرا پہلو ان کی مشہور پینٹنگ منروا اِن دی ایکٹ آف ڈریسنگ میں نظر آتا ہے۔

اس فن پارے میں دیوی منروا(عقل کی دیوی) کو ایسے لمحے میں دکھایا گیا ہے جب وہ نفیس کشیدہ کاری والا لباس پہننے کے لمحات میں ہیں۔ لباس کو احتیاط سے تھامے وہ اس انداز سے مُڑ کر دیکھتی ہیں کہ ان کی نگاہ میں ایک ساتھ شرم و حیا اور دلکشی جھلکتی ہے۔

یہ تصویر 1613 میں کارڈینل سکیپیونے بورگیزے (ایک اطالوی کارڈینل، آرٹ کے بڑے سرپرست اور جمع کرنے والے تھے) کے لیے بنائی گئی تھی، جو فونتانا کی وفات سے ایک سال پہلے کی بات ہے۔

اس فن پارے کا ایک خاتون کے ہاتھوں تخلیق ہونا اس دور کے لیے عام بات نہیں رہی ہو گی اور یقیناً اسے اس دور کے لوگوں کے لیے زیادہ دلچسپ بنا دیا ہو گا۔

فونتانا ایسی تصاویر بنانے کے حوالے سے بھی معروف تھیں، اگرچہ ان کے فن کے اس پہلو پر توجہ حالیہ برسوں میں ہی گئی ہے۔

گزشتہ چند برسوں میں مزید فن پاروں کو فونتانا سے منسوب کیا گیا ہے۔

ان سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف برہنہ خواتین کی تصاویر بنانے والی پہلی خاتون فنکار تھیں بلکہ جسمانی کشش پر مبنی موضوعات پر کام کرنے والی پہلی خاتون مصور بھی تھیں۔

ان کے کئی فن پارے اپنے مرد ہم عصروں کے کام کے مقابلے میں زیادہ جرات مندانہ سمجھے جاتے ہیں۔

فونتانا کی شخصیت کے یہ دونوں متضاد پہلو ایک ساتھ موجود ہونا یقینا بہت سے لوگوں کے لیے حیران کن لگ سکتا ہے۔

اوسلو کے نیشنل میوزیم میں منعقدہ نمائش وومن پینٹر کی منتظم پیٹریزیا کاواتسینی کہتی ہیں کہ ’ان کے خود کے پورٹریٹ میں ان کا تاثر ایک سنجیدہ اور باوقار شخصیت کے طور پر سامنے آتا ہے۔ ان کی زندگی میں کسی سکینڈل کا بھی ذکر نہیں ملتا۔ اس لیے بظاہر وہ ایک نہایت روایت پرست خاتون دکھائی دیتی ہیں، لیکن ممکن ہے حقیقت اس سے مختلف ہو۔‘

تاہم فنِ تاریخ کی ماہر الزبتھ کروپر اس خیال سے متفق نہیں۔ بی بی سی سے گفتگو میں وہ کہتی ہیں کہ ’ضروری نہیں کہ سماجی طور پر باوقار اور قابلِ احترام عوامی شخصیت کا مطلب یہ ہو کہ کسی کی نجی زندگی میں جذباتی یا جنسی کشش کا کوئی پہلو موجود ہی نہ ہو۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’جدید دور کے ابتدا کی خواتین کو سمجھتے وقت ہمیں ان کی شخصیت اور تجربات کے مختلف پہلوؤں کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔‘

یہ فن پارے فونتانا کی ذاتی خواہشات کی عکاسی کرتے تھے یا نہیں، اس بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

تاہم لاوینیا فونتانا: ایروٹک پینٹنگز کے مصنف اینریکو ماریا دال پوتسولو کا خیال ہے کہ ان کے دونوں طرح کے فن پارے تخلیق کرنے کے پیچھے تجارتی اور پیشہ ورانہ دونوں محرکات موجود تھے۔

وہ بی بی سی سے گفتگو میں کہتے ہیں کہ ’میری رائے میں انھوں نے ایسا اپنی فنکارانہ جرات اور تخلیقی صلاحیتوں کی طرف توجہ مبذول کروانے کے لیے کیا تاکہ یہ ثابت کر سکیں کہ وہ دوسروں سے مختلف ہیں۔‘

وینس کا ایک منفرد روپ

فونتانا کی ابتدائی معروف پینٹنگ ’وینس اور کیوپڈ‘ تھی جو غالباً 1585 سے 1590 کے درمیان بنائی گئی۔

اگرچہ فنِ مصوری میں وینس کی عریاں تصویر کوئی غیر معمولی موضوع نہیں تھا، لیکن فونتانا نے زیورات، نقاب اور موتیوں کے ذریعے تصویر کی دلکشی کو مزید نمایاں کیا۔

چند برس بعد انھوں نے اسی انداز کو دہرایا اشرافیہ طبقے سے تعلق رکھنے والی معروف خاتون ازابیلا روئینی کو وینس کے روپ میں پیش کیا۔

کمر تک بنایا گیا یہ پورٹریٹ غالباً عوامی سطح پر دیکھنے کے لیے نہیں بنایا گیا تھا۔ اس میں ازابیلا کو نہایت مہین کپڑے میں دکھایا گیا ہے جو ان کے سینے کو ڈھانپنے کے بجائے جنسی طور پر پرکشش بناتا محسوس ہوتا ہے۔

اس زمانے میں فلورنس اور روم میں خوبصورت خواتین کے پورٹریٹس کے لیے پوری کی پوری گیلریاں مخصوص تھیں۔

فونتانا کے آبائی شہر بولونیا میں خواتین کے درمیان خوبصورتی کے حوالے سے خاصا مقابلہ پایا جاتا تھا۔

کاواتسینی کہتی ہیں کہ ’بہت سے شعرا ان خواتین کے بارے میں لکھتے تھے۔ وہ ان کا موازنہ کرتے اور یہ طے کرنے کی کوشش کرتے کہ سب سے زیادہ خوبصورت کون ہے۔ اس لیے میرا خیال ہے کہ فونتانا کا یہ کام اسی ثقافتی ماحول کی عکاسی کرتا ہے، جہاں خواتین کے حسن کو خاص اہمیت دی جاتی تھی۔‘

اشرافیہ سے تعلق رکھنے والی تین خواتین کی تصاویر

اس طرز کی پینٹنگز میں فونتانا کا سب سے نمایاں فن پارہ حال ہی میں ان سے منسوب کیا جانے والا ’تھری فی میل نیوڈز‘ (جو غالباً 1600 کے آس پاس بنائی گئی تھی) سمجھا جاتا ہے۔

جس میں تین اشرافیہ خواتین کو عریاں ایسے پینٹ کیا ہے جس میں انھوں نے اپنے زیریں جنسی اعضا کو نہایت نفاست سے مزین زیورات کی لڑی سے ڈھانپا ہے۔

مصنف دال پوتسولو کے مطابق یہ ممکنہ طور پر یونانی دیومالا کی کہانی ’ججمنٹ آف پیرس‘ کا اس دور کے انداز میں پیش کیا گیا ورژن ہے۔

اس کہانی میں پیرس کو یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ تین دیویوں، ہیرا، افروڈائٹی اور ایتھینا میں سے سب سے زیادہ حسین کون ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ بائیں جانب دکھائی گئی خاتون کلیلیا فارنیزے ہیں، جنھیں اس دور میں اٹلی کی حسین ترین خواتین میں شمار کیا جاتا تھا۔

ان کے ساتھ دائیں جانب موجود ایک نامعلوم خاتون بھی درمیان میں موجود شخصیت کی جانب اشارہ کرتی دکھائی دیتی ہے، جسے ماریا دے میدیچی سمجھا جاتا ہے۔

یہ فن پارہ سلیٹ کے پتھر پر بنایا گیا تھا، جس کی سطح خاصی چمکدار ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے کسی کمرے میں اسے دیکھنے والا شخص یا خریدار تصویر کا مشاہدہ کرتے ہوئے اس میں اپنا عکس بھی دیکھ سکتا تھا۔

ایسی تصاویر بنانا یقیناً ایک جرات مندانہ قدم تھا، خاص طور پر ایک ایسی خاتون کے لیے جو بولونیا میں کاؤنٹر ریفارمیشن کے دور میں رہتی تھیں۔ اس زمانے میں شہر کے آرچ بشپ، کارڈینل گبریئلے پالیوتّی، چاہتے تھے کہ کیتھولک چرچ کے اخلاقی اصول مصوری پر بھی لاگو ہوں۔

ان کے والد اور مصور پروسپیرو فونتانا نے اپنی کتاب ڈسکورسو دَیلے پیتّورے میں لکھا تھا کہ ایک مسیحی مصور کو ایسے موضوعات کی تصویریں نہیں بنانی چاہییں جو اخلاقی طور پر نامناسب سمجھے جائیں، کیونکہ وہ اسے گناہ سمجھتے تھے۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ معاشی وجوہات کی بنا پر فنکاروں کے لیے ایسے کام کو کرنا ضروری ہو سکتا ہے، جبکہ ایسے فن پارے بنوانے والوں کا معاملہ چرچ اعترافِ گناہ کے دوران خود دیکھے۔

ممکن ہے ان کے محتاط رویے کی ایک وجہ یہ بھی ہو کہ انھوں نے اپنی بیٹی لاوینیا کو فنِ مصوری کی تربیت دے کر ایک کامیاب کیریئر بنانے میں مدد دی تھی۔

بعد میں جب ان کی اپنی شہرت کم ہونے لگی تو انھوں نے لاوینیا سے ایک معاہدہ کروا لیا، جس کے تحت وہ اپنی وفات تک اپنی تمام آمدنی والد کو دینے کی پابند تھیں۔

کیا یہ ممکن ہے کہ انھوں نے اپنے والد کے خلاف احتجاجاً اپنی فنی حدود کو چیلنج کر کے اس کی خلاف ورزی کی ہو؟

حسین پیکر والی وینس

ممکن ہے یہ محض اتفاق نہ ہو کہ فونتانا کے سب سے جرات مندانہ فن پارے 1597 میں ان کے والد پروسپیرو کی وفات سے کچھ پہلے اور بعد کے برسوں میں سامنے آئے۔

یہ بھی ممکن ہے کہ شاید جب انھیں اپنے اوپر عائد پابندیوں میں کچھ نرمی محسوس ہوئی ہو۔

ان میں بعض تصاویر میں خواتین کے جسم کے مخصوص حصوں کو نمایاں اہمیت دی گئی ہے۔

اس کی ایک وجہ وینس کالیپیجے (خوبصورت پیکر والی وینس) نامی رومی مجسمے میں بڑھتی دلچسپی بھی تھی، جو اس دور میں نیا نیا دریافت کیے جانے کے باعث توجہ حاصل کر رہا تھا۔

اس موضوع کو جیورجیونے، ٹِشین اور ویرونیزے جیسے مرد مصوروں نے بھی اپنے فن پاروں میں اپنایا تھا۔

تاہم دال پوتسولو کے مطابق ’ان مصوروں نے دیوی کو اس انداز میں پیش نہیں کیا تھا۔‘

لیکن لاوینیا نے 1594 اور 1595 کے درمیان بنائی گئی اپنی پینٹنگ مارس اینڈ وینس میں اس روایت سے آگے بڑھ کر کام کیا۔

دال پوتسولو کے بقول ’میرے خیال میں یہ بات اہم ہے کہ یہ حد ایک خاتون مصور نے عبور کی۔ اسے اپنی شناخت قائم کرنے اور اپنی شہرت بڑھانے کی حکمت عملی کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔‘

یہ فن پارہ بے لگام جنسی کشش کی عکاسی کے حوالے سے غیرمعمولی ہے۔ مارس، وینس کے جسم کے نچلے حصے کو چھوتا ہے اور اسی دوران اپنے جسم کو اس کی طرف بڑھاتا دکھائی دیتا ہے۔

اس کی ڈھال پر نصب سیدھا نوک دار ابھار اور وینس کی ٹانگوں کے درمیان رخ کیے تلوار، دونوں اس کی جنسی خواہش کی کیفیت کو کھل کر بیان کر رہے ہیں جبکہ وینس پیچھے کی جانب دیکھتے ہوئے معنی خیز مسکراہٹ لبوں پر سجائے ہوئے ہے۔

پوشیدہ پرتیں

اگرچہ 1604 میں روم منتقل ہونے کے بعد فونتانا کی بنائی گئی ایک پینٹنگ برہنہ منروا (عقل و فہم کی دیوی) میں بھی توجہ کا مرکز ایک بار پھر خاتون کے جسم کا نچلا حصہ رہا تاہم اس میں دیوی کا چہرہ بھی خاص دلچسپی کا باعث ہے کیونکہ بعض ناقدین کا خیال ہے کہ یہ دراصل خود فونتانا کا چہرہ ہے۔

اس خیال کی بنیاد 1605 کی ایک نظم ہے جس میں ان کی فنی مہارت کو سراہا گیا اور یہ کہا گیا کہ حسن اور نیکی کی تصویر کشی کے لیے انھیں صرف ایک ہی ماڈل کی ضرورت تھی، یعنی وہ خود۔

’یہ چہرہ واقعی لاوینیا سے مشابہت بھی رکھتا ہے یا نہیں، اس سے قطع نظر اسے انھی سے منسوب کیا جاتا ہے، جیسا کہ اکثر خواتین فنکاروں کے ساتھ ہوتا ہے۔‘

منروا کا پورٹریٹ اور پراسرار مسکراہٹ

ایک طرف فونتانا کی شناخت ایک تعلیم یافتہ اور ماہر مصورہ کے طور پر تھی اور دوسری جانب وہ اپنے جرات مندانہ فن پاروں کے لیے بھی جانی جاتی تھیں۔ شاید یہی وجہ تھی کہ کارڈینل سکیپیونے بورگیزے نے 1613 میں ان سے منروا پینٹنگ بنوائی، جسے بعد میں روم کے ولا بورگیزے میں نمایاں جگہ دی گئی۔

دال پوتسولو کہتے ہیں کہ ’اتنی بڑی پینٹنگ کو نظروں سے اوجھل نہیں رکھا جا سکتا تھا، خاص طور پر جب اسے روم کے سب سے مشہور مصوروں میں سے ایک نے شہر کے سب سے اہم سرپرستِ فن کے لیے تخلیق کیا ہو۔‘

ان کے بقول کارڈینل بورگیزے نے یہ پینٹنگ ’ہر اس شخص کو دکھائی ہو گی جس کے بارے میں انھیں لگتا تھا کہ وہ اس کی قدر کرے گا۔‘

اگرچہ اس دور میں ان کے فن کے قدردان زیادہ تر اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے مرد تھے، لیکن آج ہر کوئی اس غیر معمولی اور روایت شکن فنکارہ کے کام کو سراہ سکتا ہے۔ ان کی خود ساختہ تصویر کی پراسرار مسکراہٹ بھی ان کی شخصیت کے کئی پوشیدہ پہلوؤں کا اشارہ دیتی ہے۔