آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
فیملی تھرلر ’دریشم 3‘ اجے دیوگن کی اب تک کی سب سے کامیاب اوپننگ دینے والی فلم: ’نہ گانے، نہ آئٹم نمبرز پھر بھی یہ ایک شاہکار ہے‘
- مصنف, یاسر عثمان
- عہدہ, بی بی سی ہندی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 10 منٹ
پاپولر کلچر اور میمز کی دنیا میں دو اکتوبر کی تاریخ ایک خاص اہمیت رکھتی ہے اور اس کی وجہ ہے فلم ’دریشم۔‘
اب تو بیشتر لوگوں کو یاد ہو چکا ہے کہ دو اکتوبر کو وجے سالگاؤنکر اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ سوامی چِنمیانند جی کے آشرم میں ست سنگ میں گئے تھے اور وہاں پاؤ بھاجی کھائی تھی اور تین اکتوبر کو واپس لوٹے تھے۔
فلم کی ریلیز کی تاریخ بھی اب اس کی کہانی کا حصہ بن چکی ہے۔ اجے دیوگن اور تبو کی اداکاری سے سجی ہندی فلم ’درشیَم‘ کی تیسری اور آخری قسط بھی اسی یادگار تاریخ، یعنی دو اکتوبر کو ریلیز ہو چکی ہے۔
باکس آفس جائزوں کے مطابق یہ اداکار اجے دیوگن کی سب سے کامیاب اوپننگ دینے والی فلم ثابت ہو رہی ہے۔ دو دن میں فلم نے 100 کروڑ کے بزنس کا سنگ میل عبور کر لیا ہے۔
2022 میں کووڈ وبا کے بعد او ٹی ٹی پلیٹ فارمز کے بڑھتے اثر، ناظرین کی بدلتی عادات کے باوجود ’درشیَم 2‘ وہ اہم فلم ثابت ہوئی جس نے ناظرین کو دوبارہ سنیما گھروں تک کھینچا اور فلمی صنعت میں نئی جان ڈال دی۔
345 کروڑ روپے کی آمدن کے ساتھ ’درشیَم 2‘ اُس سال کی دوسری سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلم تھی۔
آخر ایک عام سے خاندان کی اس غیرمعمولی کہانی میں ایسی کیا کشش ہے؟ لوگ بار بار اس سنسنی خیز معمے کی جانب کیوں کھنچے چلے آتے ہیں؟
اس سوال کا جواب صرف آنے والی ’درشیَم 3‘ میں ہی نہیں، بلکہ اس پوری کہانی میں پوشیدہ ہے جس کا آغاز تقریباً 13 برس قبل ملیالم سنیما سے ہوا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دریشم 3 پر شائقین کا ردِ عمل
اگرچہ فلم کو ریلیز ہوئے ابھی دو دن ہی ہوئے ہیں اور فلم مںی بارہا دھرائی جانے والے تاریخوں دو ارو تین اکتوبر پر اس نے ریکارڈ بزنس بھی کیا۔ پورے انڈیا میں فلم کے ٹکٹ بڑی تعداد میں ایڈوانس بک کروا لیے گئے۔
فلم دیکھ کر آنے والے شائقین سوشل میڈیا پر فلم کی تعریف کرتے نظر آ رہے ہیں۔
آدیشن نامی صارف نے لکپا ’دریشیَم 3: کیا شاندار فلم ہے، اختتام نے مکمل طور پر مطمئن کر دیا۔ ابھیشیک پاٹھک کو خراجِ تحسین، جنہوں نے اسے اصل فلم سے بھی بہتر بنایا اور کہانی کو ایک قدم آگے بڑھایا۔ اجے دیوگن اس کردار کے لیے ہی بنے ہیں۔ اور جیدیپ اہلاوت نے لاجواب کام کیا۔ پراکاش راج نے بھی ایک اور شاندار اداکاری کا مظاہرہ کیا۔‘
رسکیئسٹ نامی ایکس ہیڈل نے لکھا ’جس طرح ہر فضول بالی ووڈ فلم کے بعد ہم ان پر سخت تنقید کرتے ہیں، اس لیے جب وہ دریشیَم 3 جیسی فلم بنائیں تو ہمیں اسی طرح ان کی تعریف بھی کرنی چاہیے۔ نہ غیر ضروری رعب جمانے کی کوشش، نہ شور شرابے والی پس منظرکی موسیقی، نہ بڑھا چڑھا کر پیش کیے گئے کہانی کے موڑ۔ فلم اپنی سنسنی خیز کہانی پر مضبوطی سے قائم رہتی ہے۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ یہ مکمل طور پر بے عیب ہے، لیکن یہ تقریباً ایک مکمل فلم ہے۔‘
کبیرا نامی صارف نے لکھا ’دریشیَم 3 بالکل شاندار ہے۔ یوں ایک سنسنی خیز اختتام بنایا جاتا ہے۔ ایک لمحہ بھی ضائع نہیں جاتا۔ وجے سالگاؤںکر نے توقعات سے بڑھ کر یہ کھیل کھیلا۔‘
شمبھوی گپتا نامی صارف نے لکھا ’ابھی دریشیَم 3 دیکھی، اور کیا زبردست فلم ہے! اختتام کے ساتھ مکمل انصاف کیا گیا ہے۔ نہ گانے، نہ آئٹم نمبرز، نہ غیر ضروری تشہیر، پھر بھی یہ ایک شاہکار ہے۔‘
انوکھی کہانی
’درشیَم‘ کی اصل ملیالم فلم 2013 میں ریلیز ہوئی تھی۔ مصنف اور ہدایت کار جیتو جوزف نے اس میں ملیالم سپرسٹار موہن لال کو جارج کُٹّی کے کردار کے لیے منتخب کیا تھا۔
یہ کردار اور اس کے گرد بُنا گیا سنسنی خیز پلاٹ ناظرین کو اس قدر پسند آیا کہ ’درشیَم‘ اُس وقت تک کی سب سے کامیاب ملیالم فلم بن گئی۔
بعد میں اس فلم کے کامیاب ری میک ہندی، تمل، تیلگو اور کنڑ سمیت کئی انڈین زبانوں میں بنائے گئے۔ اس کے علاوہ سری لنکا، چین اور انڈونیشیا میں بھی اس کہانی کو نئے انداز میں پیش کیا گیا۔ یوں اس کی کہانی نے زبان اور جغرافیے کی سرحدیں باآسانی عبور کر لیں۔
اس کا ہندی ورژن 31 جولائی 2015 کو ریلیز ہوا اور اسے بھی غیرمعمولی کامیابی ملی۔ فلم کے ہدایت کارنشیکانت کامت تھے۔ ہندی ناظرین کے لیے اجے دیوگن نے وجے سالگاؤنکر جبکہ تبو نے آئی جی میرا دیشمکھ کا کردار ادا کیا۔
تاہم ہر زبان میں ’درشیَم‘ کی اصل طاقت اس کی کہانی اور سکرپٹ رہی۔ ایک ایسی کہانی جس میں ہر وہ چیز سچ نہیں ہوتی جو آنکھوں سے نظر آتی ہے۔
ہم اکثر وہی مان لیتے ہیں جو ہمیں دکھایا جاتا ہے اور ’درشیَم‘ کا کھیل بھی یہیں سے شروع ہوتا ہے۔ وجے نے صرف شواہد نہیں چھپائے بلکہ لوگوں کی یادداشت اور واقعات کے بارے میں ان کے یقین کو بھی بدل دیا۔
ہر موڑ پر ناظرین کو لگتا ہے کہ اب وجے پکڑا جائے گا لیکن کہانی پھر ایک نیا رخ اختیار کر لیتی ہے۔ شاندار سسپنس کے ساتھ کرداروں کی سادگی بھی اس فلم کو منفرد بناتی ہے۔
نئی صنف اور فیملی تھرلر
سنیما اور او ٹی ٹی پلیٹ فارمز پر تھرلر کو سب سے مقبول اصناف میں شمار کیا جاتا ہے۔ قتل، معمہ، پولیس تفتیش اور جرائم پر مبنی فلموں اور ویب سیریز کی کوئی کمی نہیں۔
تاہم عموماً تھرلر کو خاندانی تفریح نہیں سمجھا جاتا۔ ایسی فلموں میں اکثر تشدد، جرائم، سخت زبان یا ایسے مناظر شامل ہوتے ہیں جنھیں پورا خاندان مل کر دیکھنے میں ہچکچاہٹ محسوس کر سکتا ہے۔
’درشیَم‘ نے اس روایت کو بدل دیا اور ’فیملی تھرلر‘ کی ایک نئی صنف کو مقبول بنایا۔
کسی بھی تھرلر کی سب سے بڑی آزمائش یہ ہوتی ہے کہ وہ ناظرین کو بار بار حیران کرے۔ لیکن ’درشیَم‘ نے اس اصول کو بھی ایک نیا رخ دیا۔ یہاں سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ جرم کس نے کیا، کیونکہ ناظرین اس حقیقت سے پہلے ہی آگاہ ہوتے ہیں۔
اصل تجسّس اس بات میں ہے کہ کیا یہ خاندان خود کو بچا پائے گا؟ کیا وجے کا منصوبہ کہیں ناکام تو نہیں ہو جائے گا؟ یعنی یہ فلم راز کو چھپانے کے بجائے اس کے سامنے آ جانے کے خوف سے سنسنی پیدا کرتی ہے۔
اس سلسلے کی ایک کم زیرِ بحث مگر اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس کا مرکزی کردار بار بار بچ نکلنے کے باوجود ذہنی سکون حاصل نہیں کر پاتا۔
روایتی تھرلر میں راز کے افشا ہونے کا خطرہ ناظرین کے لیے سنسنی پیدا کرتا ہے، لیکن ’درشیَم‘ میں یہی خوف کرداروں کی زندگی کا مستقل بوجھ بن جاتا ہے۔ یہی پہلو اسے محض سسپنس کہانی سے آگے بڑھا کر ایک نفسیاتی ڈرامہ بنا دیتا ہے۔
کسی بھی فلم کی پائیدار مقبولیت صرف ایک اچھی کہانی کی مرہونِ منت نہیں ہوتی، بلکہ ناظرین کا جذباتی تعلق بھی اتنا ہی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
’درشیَم‘ کی سب سے بڑی طاقت یہی جذباتی وابستگی ہے۔ یہ کسی طاقتور، دولت مند یا بااثر شخصیت کی کہانی نہیں، بلکہ ایک عام خاندان کی داستان ہے جو اچانک ایک غیرمعمولی بحران کا سامنا کرتا ہے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ ناظرین اس کہانی اور اس کے کرداروں کے ساتھ ایک گہرا جذباتی تعلق محسوس کرتے ہیں۔
کہانی اتنی انڈین کیوں محسوس ہوتی ہے؟
’درشیَم‘ کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ صرف ایک انڈین فلم نہیں بلکہ ایسی کہانی ہے جو انڈین معاشرے اور ثقافت کی عکاسی کرتی ہے۔ لیکن اس میں بیان کیے گئے جذبات ایسے ہیں جن سے دنیا بھر کے ناظرین خود کو جڑا ہوا محسوس کرتے ہیں۔
انڈین معاشرے میں خاندان کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ والدین کے لیے بچے صرف اولاد نہیں ہوتے بلکہ ان کی حفاظت، مستقبل اور عزت سے جڑے جذبات بھی بے حد گہرے ہوتے ہیں۔
ایسے میں جب کہانی ایک ایسے باپ کو دکھاتی ہے جو اپنے خاندان کو بچانے کے لیے قانون کے مقابل آ کھڑا ہوتا ہے تو ناظرین جذباتی طور پر اس کے ساتھ جڑ جاتے ہیں۔
اس تھرلر میں نہ تو ہائی ٹیک ساز و سامان کی بھرمار ہے، نہ خطرناک کرتب اور نہ ہی روایتی مصالحہ فلموں جیسا چمک دمک والا انداز۔
وجے سالگاؤنکر کوئی دولت مند یا بااثر شخص نہیں۔ وہ نہ پولیس افسر ہے، نہ جاسوس اور نہ ہی فلمی ہیرو۔ وہ ایک کیبل آپریٹر ہے جو چوتھی جماعت تک ہی تعلیم حاصل کر سکا۔
ان کو ایسا شخص دکھایا گیا ہے کہ جس میں آپ اپنے محلے میں صبح دودھ لیتے، بچوں کو سکول چھوڑتے یا پڑوسیوں سے خوش اخلاقی سے ملتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔ ایک بالکل عام آدمی۔
اس کی اصل طاقت اس کی ذہانت ہے، جو اسے پولیس سے دو قدم آگے سوچنے کے قابل بناتی ہے۔ وہ صرف اپنی بیوی اور بیٹیوں کو بچانے کی کوشش نہیں کرتا بلکہ انھیں اپنی منصوبہ بندی کا حصہ بھی بناتا ہے۔ مشکل وقت میں پورا خاندان ایک دوسرے پر بھروسہ کرتے ہوئے متحد رہتا ہے۔
’درشیَم‘ نے اپنے دیکھنے والوں کے سامنے ایک سوال بھی رکھا ہے کہ کیا وجے نے جو کچھ کیا، وہ درست تھا یا غلط؟
فلم اسی اخلاقی کشمکش کو بڑی مہارت سے استعمال کرتی ہے۔
ایک ایسی کہانی جو قتل سے شروع ہوتی ہے، آخرکار خاندان کی کہانی بن جاتی ہے۔ یہ پولیس اور ایک ایسے باپ کے درمیان کشمکش ہے جس پر جرم کا سایہ منڈلا رہا ہے، لیکن ناظرین کی ہمدردیاں اس باپ کے ساتھ ہوتی ہیں۔
شاید 'درشیَم' کی کامیابی کا راز بھی اسی سوال میں پوشیدہ ہے: اگر آپ کے خاندان کو ایسی ہی صورت حال کا سامنا ہو تو آپ کیا کریں گے؟
یہی سوال اس فلم کو ایک عام کرائم تھرلر سے آگے لے جا کر ایک خاندانی کہانی میں تبدیل کر دیتا ہے۔
’درشیَم‘ کی ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کا مرکزی کردار فلموں کا بہت شوقین ہے۔ جارج کُٹّی یا وجے نے زندگی کے بہت سے سبق کتابوں یا کالج سے نہیں بلکہ فلموں سے سیکھے ہیں۔
عام طور پر لوگوں کو لگتا ہے کہ فلمیں صرف تفریح کے لیے ہوتی ہیں، لیکن ’درشیَم‘ میں یہی شوق ہیرو کی سب سے بڑی طاقت بن جاتا ہے۔
فلمیں دیکھ کر وہ لوگوں کے رویوں کو سمجھتا ہے، پولیس کی تفتیش کے طریقوں کے بارے میں جانتا ہے اور اندازہ لگاتا ہے کہ کسی جرم کے بعد تحقیقات کس طرح آگے بڑھ سکتی ہیں۔
’درشیَم 2‘ میں وجے خود بھی ایک فلم میکر بن جاتا ہے اور اپنی اس نئی شناخت کو اپنے منصوبے میں مؤثر انداز میں استعمال کرتا ہے۔
نئی چال اور داؤ
’درشیَم‘ دراصل چالوں اور جوابی چالوں کی ایک ایسی ذہنی جنگ ہے جس میں ہر مرحلے پر مہرے بھی بدلتے ہیں اور داؤ بھی۔
ایسے میں ’درشیَم 2‘ کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ تھا کہ وہ پہلی فلم جیسا سنسنی خیز ماحول دوبارہ کیسے پیدا کرے۔
فلم نے اس چیلنج کا مؤثر جواب دیا۔ اس بار مرکزی سوال یہ تھا کہ کیا ماضی کو واقعی ہمیشہ کے لیے دفن کیا جا سکتا ہے؟ فلم کے اختتام پر لاش کو چھپانے اور پھر اس سے متعلق منصوبہ بندی نے ناظرین کو مسلسل تجسس میں رکھا۔
تاہم ’درشیَم 3‘ تک پہنچتے پہنچتے صورتِ حال بدل چکی تھی۔
ملیالم زبان میں بننے والی 'درشیَم 3' مئی 2026 میں ریلیز ہو چکی ہے۔ فلم نے باکس آفس پر نمایاں کامیابی حاصل کی، تاہم ناقدین کی رائے میں یہ سلسلے کی پہلی دو فلموں جیسا اثر چھوڑنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔
ملیالم ’درشیَم 3‘ کے بارے میں اخبار مڈ ڈے نے لکھا کہ بظاہر ایسا محسوس ہو سکتا ہے کہ تیسری فلم کے موڑ اور حیران کن انکشافات پہلے حصوں جتنے پیچیدہ یا مؤثر نہیں، لیکن درحقیقت یہی اس فلم کی خاص بات ہے۔ گزشتہ فلموں کے برعکس اس بار جارج کُٹّی پوری طرح حالات پر قابو نہیں رکھ پاتے۔
دوسری جانب ہندوستان ٹائمز نے اسے جیتو جوزف کی اس مقبول فلمی سیریز کی نسبتاً کمزور کڑی قرار دیا۔
اجے دیوگن کی ہندی ’درشیَم‘ کے پہلے دو حصوں میں جیتو جوزف کی اصل ملیالم فلموں کی کہانی کو تقریباً جوں کا توں اپنایا گیا تھا۔
تاہم بعد میں یہ خبر سامنے آئی کہ ہندی ’درشیَم 3‘ کی کہانی میں تبدیلی کی گئی ہے۔ فلم کے ٹریلر کی رونمائی کے موقع پر اجے دیوگن نے بھی اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’درشیَم: دی کنکلوژن‘ ایک بالکل نئی سکرپٹ کے ساتھ تیار کی گئی ہے۔‘
ان کے مطابق یہ محض معمولی رد و بدل نہیں بلکہ ہندی ورژن کی کہانی ملیالم ’درشیَم 3‘ سے نمایاں طور پر مختلف ہے۔
شاید سب سے اہم بات یہ ہے کہ ’درشیَم: دی کنکلوژن‘ اس سلسلے کی آخری فلم ہوگی۔
ہر اچھی کہانی کا ایک ایسا مقام آتا ہے جہاں اسے اختتام تک پہنچ جانا چاہیے۔ درشیَم کو شاید اس لیے بھی یاد رکھا جائے گا کہ اس کی کامیابی کے باوجود اسے غیر ضروری طور پر طول نہیں دیا گیا بلکہ مناسب وقت پر اس کا اختتام کیا گیا۔
13 برس کے سفر کے بعد اب اس کہانی کا پردہ گر چکا ہے۔ شائقین کی امید یہی ہوگی کہ ’درشیَم‘ کی اس طویل داستان کی آخری چال بھی اتنی ہی یادگار ثابت ہوگی جتنے اس کے پہلے موڑ اور حیران کن انکشافات تھے۔