آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
اخبار میں لپٹے مزیدار سموسے اور پکوڑے کھانا ’مہنگا بھی پڑ سکتا ہے‘
- مصنف, شیخ انصاری
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
بہت سے لوگ کھانے پینے کی چیزیں اخبار میں لپیٹتے ہیں، جبکہ کئی جگہوں پر سموسے اور پکوڑے بھی اکثر اخبار کے ٹکڑے پر رکھ کر دیے جاتے ہیں۔ بعض دکاندار سموسوں اور دیگر تلی ہوئی اشیا کو اخبار یا چھپے ہوئے پمفلٹس میں لپیٹ کر بھی آپ کے ہاتھ میں تھما دیتے ہیں۔
ویسے ایشیا کے کُچھ مُمالک میں تو عام طور پر ایسی کھانے کی چیزیں پتوں یا پتوں سے بنی چیزوں میں رکھ کر دی جاتی رہی ہیں اور اکثر تو پارسل کے لیے بھی یہی طریقہ استعمال ہوتا رہا ہے، لیکن گذشتہ چند برسوں میں اس میں بڑی تبدیلی آئی ہے۔
اب سموسے، پکوڑے اور اسی طرح کی دیگر تلی ہوئی اشیا پیش کرنے کے لیے بڑی مقدار میں اخبار استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ پارسل پلاسٹک کے تھیلوں میں پیک کیے جانے لگے ہیں۔
حال ہی میں فوڈ سیفٹی اینڈ سٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (ایف ایس ایس اے آئی) نے گلی محلوں اور بازاروں میں کھانے پینے کی اشیا فروخت کرنے والے ہوٹلوں اور کھانے پینے کی اشیا فروخت کرنے والے دیگر افراد کے لیے اہم ہدایات جاری کی ہیں۔
ایف ایس ایس اے آئی نے کیا تنبیہ کی؟
ایف ایس ایس اے آئی نے کہا ہے کہ سموسوں اور پکوڑوں جیسی کھانے کی اشیا کو اخبار یا کسی دوسرے ایسے کاغذ میں لپیٹنا یا انھیں پیش کرنا صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے کہ جس پر کُچھ پرنٹ ہوا ہو۔
فوڈ سیفٹی اینڈ سٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا کے مطابق کاغذ پر چھپائی کے لیے استعمال ہونے والی سیاہی میں کیمیکلز کے علاوہ سیسے جیسی مضر اشیا بھی شامل ہو سکتی ہیں۔
جب گرم سموسے یا دیگر غذائی اشیا ایسے کاغذ پر رکھی جاتی ہیں تو یہ کیمیکلز کھانے میں شامل ہو سکتے ہیں۔ یوں یہ کھانے کے ساتھ معدے میں پہنچ کر بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔
بی بی سی نے اس بارے میں مزید معلومات کے لیے چند ماہرینِ صحت سے بات کی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حال ہی میں ایف ایس ایس اے آئی نے ممبئی میں ایک ریڑھی بان کو اخبار میں لپٹی ہوئی کھانے کی اشیا فروخت کرتے ہوئے بھی دیکھا تھا۔
اس حوالے سے پہلے ہی ہدایات موجود ہیں، تاہم ایف ایس ایس اے آئی نے ایک بار پھر حکم دیا ہے کہ کھانا اخبار میں لپیٹ کر یا اخبار پر رکھ کر پیش نہ کیا جائے۔
ایف ایس ایس اے آئی کے فوڈ سیفٹی اینڈ سٹینڈرڈز یعنی پیکیجنگ رولز 2018 کے مطابق کھانا محفوظ کرنے یا پیش کرنے کے لیے اخبار یا اس طرح کی کسی بھی دوسری چیز کا استعمال ممنوع ہے۔
اخبار کو کن کاموں کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے؟
- کھانے سے اضافی تیل جذب کرنے کے لیے۔
- کھانا پکانے میں استعمال ہونے والی اشیا یا اجزا کو ڈھانپنے کے لیے۔
- کھانا پیش کرنے کے لیے۔
- کھانا پیک کرنے کے لیے۔
ڈاکٹر کیا کہتے ہیں؟
بی بی سی نے گرم سموسے یا اخبار پر رکھی گئی دیگر کھانے کی اشیا کے استعمال سے لاحق ہونے والے خطرات کے بارے میں کرنول میڈیکل کالج کے ڈاکٹر شیام پرساد سے بات کی۔ ڈاکٹر شیام پرساد سونولوجسٹ ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ چھپائی میں استعمال ہونے والی سیاہی اگر جسم میں داخل ہو جائے تو کیا ہو سکتا ہے، اس سے صحت کو کن مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور اس کے جسم کے اندرونی اعضا پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ڈاکٹر شیام پرسا کہتے ہیں کہ ’چھپائی میں استعمال ہونے والی سیاہی میں سیسہ نامی ایک دھات شامل ہوتی ہے۔ یہ کھانے کے ذریعے جسم میں داخل ہو کر جگر کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
یہ خون میں شامل ہو کر جسم کے دوسرے حصوں کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہے۔ بعض صورتوں میں یہ دماغ کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔
بہت سی خواتین گھر میں روٹی یا پوری بنانے کے بعد انھیں پرانے اخبار پر رکھ دیتی ہیں۔ اس کا کیا اثر ہو سکتا ہے؟
اس کا جواب دیتے ہوئے شیام پرشاد کا کہنا تھا کہ ’اس عادت کا اثر بالغ افراد کے مقابلے میں بچوں پر زیادہ پڑ سکتا ہے۔‘
’اس سے بچوں کی ذہنی اور جسمانی نشوونما بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔ بچوں کے جسم کے مختلف اعضا ابھی مکمل طور پر نشوونما نہیں پاتے، اس لیے ان پر اس کا اثر زیادہ ہو سکتا ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ حاملہ خواتین کو چھپے ہوئے کاغذ میں لپٹا ہوا کھانا بالکل نہیں کھانا چاہیے۔ یہ ان کے لیے بہت خطرناک ہو سکتا ہے۔
’اگر بچے کی نشوونما کے ابتدائی مراحل میں یہ کیمیکلز حاملہ خاتون کے جسم میں داخل ہو جائیں تو اس سے حمل ضائع ہونے، ذہنی معذوری کے ساتھ بچے کی پیدائش یا مردہ بچے کی پیدائش کا خطرہ ہو سکتا ہے۔ اس لیے حاملہ خواتین کو اس معاملے میں خاص احتیاط کرنی چاہیے۔‘
صرف فوڈ گریڈ پیکیجنگ استعمال کرنے کی ہدایت
فوڈ سیفٹی اینڈ سٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا نے کھانے پینے کی اشیا فروخت کرنے والے کاروباری اداروں کو ہدایت کی ہے کہ عوام کو کھانا فروخت یا فراہم کرتے وقت صرف محفوظ اور سرکاری طور پر منظور شدہ فوڈ گریڈ پیکیجنگ استعمال کی جائے۔
ایف ایس ایس اے آئی نے صارفین کو بھی اس معاملے میں محتاط رہنے کا مشورہ دیا ہے۔
قواعد میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ کھانا رکھنے کے لیے استعمال ہونے والے کاغذ، کاغذ کے ڈبے، پلیٹیں اور کپ تیار کرنے میں ایسے مواد کا استعمال ہونا چاہیے جو فوڈ گریڈ معیار کے مطابق ہو۔ ان مواد میں کسی قسم کے مضر یا بیماری کا سبب بننے والے اجزا شامل نہیں ہونے چاہییں۔
صحت کو کیا خطرات لاحق ہو سکتے ہیں؟
اخبار کی چھپائی میں استعمال ہونے والی سیاہی میں مختلف کیمیکلز، رنگ، منرل آئل ہائیڈروکاربن، بھاری دھاتیں اور دیگر اجزا شامل ہوتے ہیں۔
جب گرم سموسہ یا کوئی دوسری کھانے کی چیز اخبار پر رکھی جاتی ہے تو حرارت کے باعث سیاہی میں موجود کیمیکلز کے کھانے میں شامل ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا کھانا کھانے سے یہ کیمیکلز جسم میں داخل ہو سکتے ہیں اور صحت کے مختلف مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔
ڈاکٹر شیام پرساد کہتے ہیں کہ ’اخبارات کئی لوگوں کے ہاتھوں سے گزرتے ہیں اور مختلف جگہوں سے آتے ہیں۔ اس وجہ سے ان پر گرد، جراثیم اور دیگر گندگی جمع ہونے کا امکان رہتا ہے۔ ایسے اخبار میں رکھا ہوا کھانا کھانے سے لوگ بیمار ہو سکتے ہیں۔‘
کچھ لوگ گھر میں بھی تلی ہوئی یا دیگر چکنی اشیا رکھنے اور پیک کرنے کے لیے اخبار استعمال کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق گھر میں بھی کھانا اخبار میں نہیں رکھنا چاہیے اور نہ ہی اخبار پر رکھ کر تلی ہوئی اشیا کھانی چاہییں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سموسے یا دیگر کھانے کی اشیا سٹین لیس سٹیل کے برتن، خشک پتوں یا شیشے کے برتنوں میں پیش کرنا زیادہ بہتر ہے۔