آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
قطر سے سیالکوٹ آنے والا جہاز فلائٹ ریڈار 24 پر پاکستان اور انڈیا کے درمیان ’بار بار گھومتا‘ کیوں دکھائی دیا؟
- مصنف, اسد صہیب اور احتشام شامی
- عہدہ, بی بی سی اردو
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں واقع سیالکوٹ ایئر پورٹ کے ترجمان نے قطر ایئر ویز کی پرواز سے متعلق خبروں کو ’غلط اور گمراہ کن‘ قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ پرواز انڈیا کے زیرِ انتظام جموں ایئر پورٹ نہیں بلکہ سیالکوٹ کے ہوائی اڈے پر ہی اُتری تھی۔
سیالکوٹ ایئر پورٹ کے ترجمان کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ دوحہ سے سیالکوٹ آنے والی قطر ایئر ویز کی پرواز 27 ستمبر کو علی الصبح سیالکوٹ اتری اور اس نے اپنے مقررہ وقت کے مطابق دوبارہ دوحہ کے لیے اُڑان بھری۔
یہ وضاحت ایک نجی میڈیا چینل کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آئی جس میں ایوی ایشن ذرائع کے حوالے سے قطر ایئر ویز کی پرواز کی جموں میں لینڈنگ کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ اس رپورٹ میں فلائٹ ریڈار 24 نامی فلائٹ ٹریکنگ سافٹ ویئر کا حوالہ دیا گیا تھا جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ قطر سے آنے والی یہ پرواز کیو آر 630 سیالکوٹ سے آگے جموں کی طرف بڑھتی ہے اور فضا میں ایک مقام پر بار بار چکر لگاتی ہے۔
ترجمان سیالکوٹ ایئر پورٹ نے مزید بتایا کہ نجی سافٹ ویئر فلائٹ ریڈار 24 میں تکنیکی خرابی اور جی پی ایس کی غلط معلومات کی وجہ سے اس مخصوص فلائٹ کو غلط بتایا اور دکھایا گیا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ یہ پرواز سیالکوٹ ایئر پورٹ پر ہی اُتری، جس کی تصدیق پاکستان ایئر پورٹ اتھارٹی کے ریڈار سسٹم سے بھی کی جا سکتی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ سافٹ ویئر کی تکنیکی خرابی صاف آویزاں ہے جس میں سافٹ ویئر میں جہاز کو بار بار گھومتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق سیٹلائٹ سے آنے والے سگنلز نسبتاً کمزور ہوتے ہیں، جنھیں زیادہ طاقتور اور بدنیتی پر مبنی سگنلز کے ذریعے متاثر یا گمراہ کیا جا سکتا ہے۔ روس کی جانب سے یوکرین پر حملے اور مشرقِ وسطیٰ میں تنازع کے بعد ایسے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
فلائٹ ریڈار 24 میں خرابی کن وجوہات کی بنا پر ہو سکتی ہے؟
دُنیا بھر میں ہوائی جہازوں کی لائیو ٹریکنگ کرنے والی کمپنی ’فلائٹ ریڈار 24‘ کے مطابق سافٹ ویئر میں خرابی متعدد وجوہات کی بنا پر ہو سکتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی نے اس معاملے پر فلائٹ ٹریکنگ کمپنی 'فلائٹ ریڈار 24' سے بھی رابطہ کیا ہے اور اس سے مذکورہ پرواز کی ٹریکنگ اور سیالکوٹ ایئر پورٹ کے ترجمان کے بیان پر مؤقف مانگا ہے، تاہم کمپنی کی جانب سے تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
فلائٹ ریڈار 24 کی ویب سائٹ کے مطابق بعض اوقات ٹرانسپونڈر کی جانب سے غلط محلِ وقوع کا ڈیٹا منتقل ہونے کے باعث کسی پرواز کا راستہ یا مقام ٹریکنگ سسٹم پر غلط دکھائی دے سکتا ہے۔ تاہم کمپنی نے اس مخصوص پرواز کے بارے میں تاحال ایسی کسی تکنیکی خرابی کی تصدیق نہیں کی۔
اسی نوعیت کا واقعہ رواں برس مئی میں پیش آیا جب برطانیہ کے وزیرِ دفاع جان ہیلی رائل ایئر فورس کے ایک طیارے میں ایسٹونیا کے اوپر سے روسی سرحد کے قریب محو پرواز تھے۔
بی بی سی نے اس پرواز کے اعداد و شمار دیکھے جس کے مطابق طیارے کا ٹرانسپونڈر اچانک یہ دکھانے لگا تھا کہ وہ روس کے اندر اور اس مقام سے 300 کلومیٹر دور ہیں جہاں وہ چند لمحے پہلے موجود تھے۔
ایسا لگ رہا تھا کہ ان کا جہاز سینٹ پیٹرزبرگ کے قریب ایک جھیل کے اوپر صرف 11 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اڑ رہا ہے۔
یہ سب ٹھیک نہیں تھا۔ طیارے کا نیویگیشن سسٹم جی پی ایس کی جعلسازی کی وجہ سے غلطی کا شکار ہو گیا تھا۔
یاد رہے کہ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب کسی علاقے میں ریڈیو سگنلز کی بڑی تعداد پھیل جاتی ہے جو جی پی ایس سیٹلائٹس کے سگنلز جیسی ہوتی ہیں۔
کیونکہ سیٹلائٹس کے سگنلز زمین تک پہنچ کر کمزور ہو جاتے ہیں اس لیے زمین پر موجود ایک ٹرانسمیٹر زیادہ طاقتور جعلی سگنلز بھیج سکتا ہے جنھیں طیاروں سمیت نیویگیشن سسٹمز اپنا لیتے ہیں۔
یہ کام زیادہ تر فوجی کارروائیوں کے درمیان ہوتا ہے تاکہ دشمن کے لمبے فاصلے کے میزائل اور چھوٹے ڈرون جیسے جی پی ایس پر انحصار کرنے والے ہتھیاروں کی درستگی کو کم کیا جا سکے۔
’وجہ جی پی ایس سگنلز کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ہو سکتی ہے‘
پاکستان کی ایک نجی ایئر لائن سے وابستہ پائلٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر ریڈار پر کوئی طیارہ ایک ہی جگہ پر گھومتا دکھائی دے تو اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ وہ فضا میں ’ہولڈ‘ کر رہا ہو۔
اُن کے بقول بعض اوقات موسم کی خرابی یا دیگر وجوہات کی بنا پر رن وے دستیاب نہ ہو تو پائلٹ طیارے کو ایک مخصوص بلندی پر لے جا کر رن وے کلیئر ہونے کا انتظار کرتا ہے۔
تاہم قطر ایئر ویز کی اس پرواز کے معاملے میں اُن کے مطابق بظاہر ایسا لگتا ہے کہ طیارے کو گلوبل نیویگیشن سیٹلائٹ سسٹم (جی این ایس ایس) کے سگنل میں خلل کا سامنا تھا۔ تکنیکی زبان میں اسے ’جی پی ایس سپوفنگ‘ یا ’جیمنگ‘ کہا جاتا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث پائلٹس کو اس طرح کی صورتحال کا سامنا رہتا ہے۔ کیونکہ ترقی یافتہ ممالک کے پاس ایسی ٹیکنالوجی ہے جو ان سگنلز کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر سکتی ہے۔
’خود میرے ساتھ ایسا ہوا کہ میں دبئی کی فلائٹ لے جا رہا تھا اور ریڈار پر یہ ظاہر ہو رہا تھا کہ ہم افغانستان کے اوپر سے گزر رہے ہیں۔‘
پائلٹ کے مطابق دنیا بھر کی فضاؤں میں پرواز کرنے والے طیاروں کا فلائٹ نمبر اور دیگر متعلقہ ڈیٹا فلائٹ ٹریکنگ سسٹمز کو دستیاب ہوتا ہے، اس لیے اُن کے خیال میں ایسی صورتِحال میں محض ڈیٹا کی غلطی کا امکان کم ہوتا ہے۔
اُن کے بقول اس معاملے میں بھی بظاہر فلائٹ ٹریکنگ سسٹم میں خرابی کا امکان ہے۔ چونکہ سیالکوٹ اور جموں ایئرپورٹ نسبتاً ایک دوسرے کے قریب ہیں، اس لیے ممکن ہے کہ سسٹم نے غلطی سے یہ ظاہر کیا ہو کہ طیارہ جموں ایئرپورٹ پر لینڈ کر گیا ہے۔
اُن کے مطابق سیالکوٹ اور جموں ایئرپورٹ کے درمیان فاصلہ تقریباً 30 میل ہے۔