کیا جرابوں میں پیاز رکھنے سے نزلہ زکام ٹھیک ہو سکتا ہے؟

    • مصنف, ایستھر کاہومبی
    • عہدہ, گلوبل ہیلتھ
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

’اگر آپ کو نزلہ زکام ہے تو آپ کو صرف اتنا کرنا ہے کہ پیاز کاٹ کر ایک جراب میں رکھیں اور پھر اس جراب کو پہن کر رات بھر کے لیے سو جائیں۔‘

یہ جملے سوشل میڈیا پر ایک ایسی خاتون نے لکھے، جنھوں نے ہاتھ میں پیاز پکڑا ہوا تھا اور اپنی بیٹی کی نزلہ زکام سے متعلق علامات بیان کر کے وہ پیاز سے متعلق ٹوٹکہ بتا رہی تھیں۔

خاتون کی یہ ویڈیو ان متعدد دعوؤں میں سے محض ایک ہے جن میں کچے پیاز کی مبینہ صحت بخش خصوصیات کا ذکر کیا جاتا ہے اور یہ وہ دعوے ہیں جو بار بار سوشل میڈیا پر سامنے آتے رہتے ہیں۔

کچھ لوگ تو بیمار بچوں کے والدین کو بھی یہ نسخہ تجویز کرتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ پیاز ’تیز بخار کا علاج کرتا ہے، جراثیم اور بیکٹیریا کو ختم کرتا ہے، زہریلے مادے جذب کرتا ہے اور یہاں تک کہ خون بھی صاف کرتا ہے۔‘

لیکن کیا اس بات کا کوئی ثبوت موجود ہے کہ پیاز کو پاؤں پر رکھنے سے واقعی یہ سب کچھ ہو سکتا ہے؟

پیاز ایلیئم (allium) خاندان کی سبزیوں میں شامل ہے اور ہماری روز مرہ کی صحتمند غذا کا حصہ بھی ہے۔ اس میں وٹامن سی، فائبر اور اینٹی آکسیڈنٹس کی وافر مقدار پائی جاتی ہے، جن میں کوئرسیٹن (quercetin) نامی نباتاتی مرکب بھی شامل ہے جس پر سوزش کم کرنے والی خصوصیات کے حوالے سے تحقیق کی گئی ہے۔

تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مرکبات دل اور آنتوں کی صحت میں معاون ہو سکتے ہیں اور خون میں شکر کی سطح کو منظم کرنے میں بھی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

لیکن امریکہ میں متعدی امراض کی ماہر ڈاکٹر کیٹی سولیٹا اس دعوے سے متفق نہیں ہیں۔ اُن کے مطابق پیاز کے متعدد طبی فوائد ہیں، تاہم یہ براہ راست جسم سے زہریلے مادوں کا اخراج یا کسی انفیکشن کا علاج نہیں کر سکتا۔

امریکہ کی ’نیشنل اونیئن ایسوسی ایشن‘ کے مطابق ان دعوؤں کی جڑیں 1500 کی دہائی میں ملتی ہیں، جب یہ سمجھا جاتا تھا کہ کمرے میں پیاز رکھنے سے طاعون جیسے مرض سے بچاؤ ہو سکتا ہے۔

ماضی میں لوگ ایسے لمف نوڈز(لوبیا نما چھوٹے غدود جو جسم کے مدافعتی نظام کا اہم حصہ ہیں) پر بھی پیاز رگڑتے تھے کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اس سے زہریلے مادے خارج ہو جائیں گے۔

پیاز زہریلے مادے کیوں خارج نہیں کر سکتا؟

ماہرین کے مطابق جلد جسم میں جراثیم کے داخل ہونے کے خلاف دفاع کی پہلی دیوار ہے۔

اگرچہ بعض زہریلے مادے جلد کے ذریعے جسم میں داخل ہو سکتے ہیں تاہم وہ اسی راستے سے جسم سے باہر نہیں نکل سکتے حتیٰ کہ پسینے کے ذریعے بھی نہیں۔

سولیٹا کہتی ہیں کہ ’پیاز کو جلد کی اس رکاوٹ کے ذریعے زہریلے مادے باہر کھینچنے کے لیے طبیعیات کے قوانین توڑنے پڑیں گے۔

وہ مزید کہتی ہیں کہ ’اس میں ایسی کوئی جادوئی خصوصیت موجود نہیں جو آپ کے جسم سے جلد کے ذریعے زہریلے مادے خارج کر سکے، نہ پاؤں کے تلووں سے اور نہ ہی جلد کے کسی اور حصے سے۔

سولیٹا کے مطابق بعض لوگ جرابوں میں رات بھر رکھے گئے پیاز کے رنگ بدلنے کو اس بات کا ثبوت سمجھتے ہیں کہ جسم سے زہریلے مادے نکل گئے ہیں، لیکن درحقیقت یہ صرف ہوا کے اثر اور جلد پر موجود جراثیم کے ساتھ پیاز کے ردِعمل کا نتیجہ ہوتا ہے۔

سوشل میڈیا پر ’ٹاکسن‘ یا زہریلے مادوں کی اصطلاح اکثر غذا اور ڈیٹاکس مصنوعات کی تشہیر میں استعمال کی جاتی ہے۔ اس سے مراد عموماً ایسے غیر واضح مادے ہوتے ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ جسم میں جمع ہو جاتے ہیں اور انھیں خارج کرنا ضروری ہے۔

طبی لحاظ سے زہریلے مادے وہ نقصان دہ اشیا ہوتی ہیں جو بیکٹیریا جیسے جاندار پیدا کرتے ہیں۔

امریکی نیشنل لائبریری آف میڈیسن کے مطابق نقصان دہ کیمیکلز یا بہت زیادہ مقدار میں لی گئی بعض دوائیں بھی زہریلے مادوں میں شمار ہو سکتی ہیں۔

تاہم جسم میں فضلہ اور نقصان دہ مادوں کو خارج کرنے کے لیے پہلے ہی قدرتی نظام موجود ہوتا ہے۔

جگر خون کو صاف کرتا ہے اور جسم سے نقصان دہ مادوں کو دور رکھنے میں مدد دیتا ہے، جبکہ گردے اضافی پانی اور فاضل مادے پیشاب کے ذریعے خارج کرتے ہیں۔

جگر اور گردوں کو صحت مند رکھنے کے لیے کسی خاص ڈیٹاکس نسخے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

متوازن غذا، صحتمند وزن اور مناسب مقدار میں پانی پینا ان اعضا کو بہتر طریقے سے کام کرنے میں مدد دیتا ہے۔

برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس کے مطابق اگر کسی شخص کو لگے کہ اس نے کوئی نقصان دہ مادہ نگل لیا ہے، سانس کے ذریعے جسم میں لے لیا ہے یا بہت زیادہ دوا استعمال کر لی ہے تو گھر میں ڈیٹاکس کرنے کے بجائے فوری طور پر طبی مشورہ حاصل کرنا چاہیے۔

نزلہ زکام میں کیا مددگار ہو سکتا ہے؟

برطانوی ادارہ صحت ’این ایچ ایس‘ کے مطابق نزلہ زکام وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے اور عموماً خود ہی بہتر ہونے لگتا ہے۔

نزلہ زکام سے جلد صحتیاب ہونے کے لیے مشورہ دیا جاتا ہے کہ خوب آرام کیا جائے، پانی مناسب مقدار میں پیا جائے اور صحت بخش غذا کھائی جائے۔

پیاز کے سوپ جیسے مائعات جسم میں پانی اور غذائیت کی فراہمی میں مدد دے سکتی ہیں اور گلے کی خراش میں بھی آرام پہنچا سکتی ہیں، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ جسم کو آرام پہنچانے اور علاج کرنے میں بڑا فرق ہے۔

ڈاکٹر سولیٹا کے مطابق نزلہ زکام عام طور پر ایک ہفتے کے اندر خود ہی ٹھیک ہو جاتا ہے، چاہے علاج کیا جائے یا نہیں۔ پیاز کا سوپ اسے جلد ٹھیک کرنے میں مدد نہیں دیتا۔

اگرچہ پیاز پکانے کے دوران کچھ وٹامن سی ضائع ہو جاتا ہے، لیکن اس کا کچھ حصہ پانی میں شامل ہو جاتا ہے اور سوپ کے ذریعے استعمال کیا جا سکتا ہے جو جسم کی مدافعتی صلاحیت کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔

تاہم تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ کچا پیاز زیادہ وٹامن سی محفوظ رکھتا ہے کیونکہ طویل وقت تک پکانے سے اس کی مقدار کم ہو جاتی ہے۔

اگر نزلہ زکام کی علامات مثلاً تیز بخار چند دن سے زیادہ برقرار رہیں تو طبی مشورے کی ضرورت پڑ سکتی ہے، جبکہ بچوں کے لیے اس سے بھی پہلے ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیے۔

جہاں تک سوزش کا تعلق ہے تو ماہرین کے مطابق اسے ہمیشہ ’ختم‘ کرنا ضروری نہیں ہوتا۔ درحقیقت یہ انفیکشن یا چوٹ کے خلاف جسم کے مدافعتی نظام کا ردعمل ہے۔

یہ ردعمل جسم کو اپنے تحفظ اور متاثرہ ٹشوز کی مرمت شروع کرنے میں مدد دیتا ہے۔

جسم میں سوزش کہاں ظاہر ہو رہی ہے اور اس کی وجہ کیا ہے، اسی بنیاد پر علاج یا اقدامات کا تعین ہونا چاہیے۔

اس کی عام علامات میں سوجن، درد اور گرمی شامل ہیں، تاہم اگر یہ علامات مسلسل برقرار رہیں اور ان کے ساتھ دیگر غیر واضح علامات بھی موجود ہوں تو ماہرین کے مطابق بہترین راستہ طبی مدد حاصل کرنا ہے نہ کہ پیاز کا استعمال علاج سمجھ کے کیا جائے۔ ۔

ڈاکٹر سولیٹا کہتی ہیں کہ ’بدقسمتی سے ان دعوؤں کا ایک نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لوگ بروقت طبی نگہداشت حاصل کرنے میں تاخیر کر دیتے ہیں۔‘

وہ خبردار کرتی ہیں کہ آن لائن طبی مشورے اکثر طب اور سائنس کی زبان تو استعمال کرتے ہیں لیکن ان کے پیچھے سائنسی ثبوت موجود نہیں ہوتے۔

ان کے مطابق ’اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ پیاز، کوئی سپلیمنٹ یا کوئی اور چیز جسم سے زہریلے مادے خارج کر سکتی ہے یا ڈیٹاکس کر سکتی ہے تو اس سے ضرور پوچھیں کہ کون سے زہریلے مادے؟ اور یہ کیسے کام کرتا ہے؟ اگر وہ یہ واضح نہ کر سکیں کہ یہ طریقہ کیسے کام کرتا ہے تو اسے شک کی علامت سمجھنا چاہیے۔‘