آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
صومالیہ میں ہلاک ہونے والے پاکستانیوں کے اہلخانہ کا حکومت سے شکوہ: ’میرے والد ہر کال پر کہتے تھے کہ قزاق انھیں قتل کر دیں گے‘
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو، کراچی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
’گذشتہ پانچ ماہ کے دوران ہماری جب بھی اپنے والد سے بات ہوتی تھی تو وہ یہی کہتے تھے کہ قزاق انھیں قتل کر سکتے ہیں۔ وہ کہتے تھے کہ پاکستانی حکومت سے اس حوالے سے کچھ اقدامات کرنے کی درخواست کی جائے۔ ہم نے حکومت سے درخواستیں بھی کیں اور احتجاج بھی کیا، مگر کچھ نہ ہوا۔ اب میرا یہی مطالبہ ہے کہ میرے والد کی میت جلد از جلد پاکستان لائی جائے۔‘
یہ کہنا ہے اذان عمر کا جن کے والد کاشف عمر پُنٹ لینڈ میں بحری قزاقوں کے ہاتھوں ہائی جیک ہونے والے ایک آئل ٹینکر کی بازیابی کے لیے کیے گئے آپریشن کے دوران ہلاک ہوئے ہیں۔
پاکستانی وزارت خارجہ نے بدھ کی شام تصدیق کی ہے صومالیہ کے ساحل کے قریب آئل ٹینکر ’ایم ٹی آنر 25‘ کو مسلح قزاقوں سے چھڑانے کے آپریشن کے دوران اس جہاز پر موجود عملے کے تین پاکستانی اراکین بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
وزارتِ خارجہ نے ہلاک ہونے والے پاکستانی شہریوں کی شناخت رفیع اللہ خان، سید کاشف عمر اور محمود احمد انصاری کے ناموں سے کی ہے۔
ہلاک اور زخمی ہونے پاکستانی شہریوں کے اہلخانہ کا دعویٰ ہے کہ گذشتہ پانچ ماہ کے دوران اُن کی اپیلوں اور احتجاج کے باوجود پاکستانی حکومت نے اُن کے پیاروں کو محفوظ انداز میں قزاقوں سے بازیاب کرنے کے لیے ضروری اقدامات نہیں کیے۔
تاہم پاکستان کے وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انوار چودھری نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے پاکستانی ملاحوں کے اہلِ خانہ کی جانب سے حکومت پر بروقت اقدامات نہ کرنے کے الزامات کی تردید کی ہے۔
اذان عمر کا کہنا ہے کہ انھیں اپنے والد کی موت کی اطلاع بھی انصار برنی ٹرسٹ اور جہاز پر موجود سیکنڈ انجینیئر سید حسین یوسف کے ذریعے ہی ملی تھی۔
’ہلاک ہونے والوں کی فہرست میں بھی پہلا نام میرے والد سیکنڈ آفیسر سید کاشف عمر کا ہی تھا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اذان عمر کے مطابق ان کے والد تقریباً 30 سال سے شپنگ کے شعبے سے وابستہ تھے اور یہ ان کی زندگی میں پہلا ہائی جیکنگ کا واقعہ تھا۔
کاشف عمر کے والد عمر فاروق کے مطابق اُن کا بیٹا سات اپریل کو کراچی سے عمان گیا تھا مگر وہاں کے حالات کے باعث جہاز کا روٹ تبدیل کر دیا گیا اور 21 اپریل کو جہاز ہائی جیک ہو گیا۔
والد عمر فاروق کا دعویٰ ہے کہ اُن کے خاندان نے بارہا پاکستان میں متعلقہ حکام سے رابطہ کیا مگر انھیں ہر بار یہی بتایا جاتا رہا کہ ’کام ہو رہا ہے‘، لیکن کوئی واضح پیش رفت یا تفصیلات کبھی فراہم نہیں کی گئیں۔
آپریشن کے روز پیش آنے والی صورتحال بیان کرتے ہوئے عمر فاروق کا کہنا تھا کہ صبح تقریباً 10 بجے انھیں فون کر کے بتایا گیا کہ آپریشن ہو رہا ہے۔
اُن کے مطابق دوپہر تقریباً 12 بجے جہاز کے کپتان کی جانب سے فون آیا اور بتایا گیا کہ آپریشن مکمل ہو گیا ہے اور عملے کے تمام افراد محفوظ ہیں، مگر شام کو اطلاع ملی پانچ افراد ہلاک اور چار زخمی ہو گئے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ انصار برنی ٹرسٹ کی جانب سے مسلسل رابطے اور اصرار کے بعد ہلاک ہونے والے افراد کے نام بتائے گئے، جن میں پہلا نام اُن کے بیٹے کاشف عمر کا تھا۔
عمر فاروق کے مطابق کاشف اُن کے سب سے بڑے بیٹے تھے۔
کاشف عمر کے خاندان کا کہنا ہے کہ اب ان کی اولین ترجیح میت کی پاکستان واپسی ہے، جبکہ وہ اس معاملے میں حکومت کے کردار اور پانچ ماہ کے دوران کیے گئے اقدامات کے بارے میں بھی واضح جواب چاہتے ہیں۔
تاہم وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انوار چودھری کا کہنا ہے کہ حکومت نے 21 اپریل کو پیش آئے اس واقعے کے بعد فوری طور پر صومالیہ کی حکومت سے رابطہ کیا تھا اور پاکستانی شہریوں کی بحفاظت واپسی کے لیے اقدامات کی درخواست کی تھی۔
پاکستانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ایم ٹی آنر 25 کے زندہ بچ جانے والے عملے کو بحفاظت ’بندر بیلا‘ پہنچا دیا گیا ہے اور جبوتی میں پاکستانی سفارتخانے کی ٹیم پاکستانی شہریوں کی مدد کے لیے بندر بیلا روانہ ہو رہی ہے۔
’سکیورٹی آپریشن ہی کرنا تھا تو پہلے کیوں نہ کیا؟‘
متاثرہ خاندانوں میں عائشہ امین بھی شامل ہیں، جن کے شوہر امین بن شمس اس آئل ٹینکر کے عملے کے اراکین میں شامل تھے اور صومالی قزاقوں کے خلاف ہونے والے آپریش کے دوران زخمی ہوئے ہیں۔
عائشہ امین کے مطابق اغوا کیے جانے کے دو روز بعد انھیں اپنے شوہر کا وائس میسج موصول ہوا، جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ’یہ ہمیں مار دیں گے، یہ ہمیں لے کر جا رہے ہیں۔ میرا رابطہ نہیں ہو پائے گا، میرے بچوں کا خیال رکھنا اور انھیں اچھی طرح پڑھانا لکھانا۔‘
ان کے مطابق اس کے بعد متاثرہ خاندانوں نے ایک دوسرے سے رابطہ کیا اور انصار برنی ٹرسٹ، جے ڈی سی فاؤنڈیشن، وزارتِ خارجہ اور دیگر اداروں سے مدد طلب کی۔
وہ حکومت پر الزام لگاتی ہیں کہ ’پانچ ماہ میں حکومتی سطح پر کوئی مؤثر پیش رفت نہیں ہوئی۔‘
عائشہ امین کے مطابق حکومت کے ایک نمائندے نے انھیں بتایا تھا کہ ’اگر جہاز کی بازیابی کے لیے سکیورٹی آپریشن کیا جاتا ہے اور اس دوران کوئی جانی نقصان ہوتا ہے تو حکومت ذمہ دار نہیں ہو گی۔‘
ان کے مطابق اُن کا خاندان سکیورٹی آپریشن کے بجائے مذاکرات اور اغوا کاروں کے مطالبات پر بات چیت چاہتا تھا۔
وہ بتاتی ہیں کہ قزاقوں کا تاوان کا مطالبہ ابتدا میں ’30 لاکھ ڈالر‘ تھا جو بعد میں ’10 لاکھ ڈالر‘ تک آ گیا تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ ’اگر کئی ماہ بعد بھی نتیجہ سکیورٹی آپریشن ہی تھا تو یہ کارروائی پہلے کیوں نہیں کی گئی۔‘
اُن کے مطابق اس عرصے کے دوران متاثرہ خاندانوں کو امید رہی کہ ان کے پیارے زندہ سلامت واپس آئیں گے۔
وہ چاہتی ہیں کہ واقعے میں ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف ملے۔
’قزاقوں نے خبردار کیا تھا کہ آپریشن ہوا تو یرغمالیوں کو قتل کر دیں گے‘
فلاحی ادارے انصار برنی انٹرنیشنل کی ایڈووکیٹ قرۃ العین کے مطابق جہاز ہائی جیک ہونے کے تین روز بعد 24 اپریل کو متاثرہ پاکستانی خاندانوں نے اُن سے رابطہ کیا تھا اور بعد میں پاکستان کی تمام دس متاثرہ فیملیز بھی ان کے رابطے میں آ گئیں۔
ان کے مطابق متاثرہ خاندانوں اور جہاز پر موجود افراد سے رابطے کے دوران ملنے والی تمام معلومات بروقت متعلقہ پاکستانی حکام تک پہنچائی جاتی رہیں۔
قرۃ العین کا کہنا ہے کہ ’ابتدا میں معاملے کی ذمہ داری وزارتِ خارجہ کے پاس تھی اور حکومت کی جانب سے پانچ ممکنہ آپشنز پر مشتمل ایک منصوبہ بھی شیئر کیا گیا تھا، جس میں تاوان سے متعلق ایک تجویز بھی شامل تھی۔‘
تاہم ان کے مطابق بعد میں اس کیس کی قیادت ’وزارتِ انسانی حقوق کو دے دی گئی اور اس کے بعد معاملے پر کوئی واضح اور جامع حکمتِ عملی سامنے نہیں آئی۔‘
ان کے مطابق 28 ستمبر سے پُنٹ لینڈ کی افواج جہاز کے قریب موجود تھیں اور قزاقوں کو جہاز چھوڑنے کی وارننگ دی جا رہی تھی۔
قرۃ العین کا کہنا ہے کہ ’کارروائی سے تقریباً ایک ہفتہ قبل قزاقوں اور جہاز کے عملے نے متاثرہ خاندانوں کے نمائندوں کو فون کرکے خبردار کیا تھا کہ اگر فوجی آپریشن کیا گیا تو یرغمالیوں کو قتل کر دیا جائے گا۔‘
29 ستمبر کی صبح فورسز نے کارروائی کی کوشش کی۔ ان کے مطابق زیادہ تر قزاق فرار ہو گئے تاہم دو قزاق جہاز پر موجود رہے اور ان کے پاس یرغمال بنائے گئے افراد موجود تھے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل صومالیہ کے نیم خودمختار علاقے پُنٹ لینڈ کے نائب وزیر اطلاعات بلی قابوسادے نے ان الزامات کو مسترد کیا تھا کہ پُنٹ لینڈ کی فورسز نے بعض قزاقوں کو فرار ہونے میں مدد فراہم کی۔ اُن کا کہنا تھا کہ یرغمالیوں کو فورسز کے جہاز پر پہنچنے سے قبل ہی ہلاک کر دیا گیا تھا۔
قرۃ العین کے مطابق متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ ’جب ان کے پیارے زندہ تھے تو حکومت نے ان کی مناسب انداز میں نہ تو مدد کی اور نہ ہی اُن سے رابطہ کیا، اس لیے اب وہ کسی حکومتی عہدیدار سے ملاقات یا میڈیا کو مزید فوٹیج دینے کے بجائے اپنی ترجیحات واضح طور پر بتا چکے ہیں۔‘
ان کے مطابق خاندان چاہتے ہیں کہ ’اُن کے پیاروں کی میتیں مکمل احترام کے ساتھ پاکستان واپس لائی جائیں اور زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جائے۔‘
قرۃ العین نے حکومت پر مؤثر کردار ادا نہ کرنے کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ متاثرہ خاندانوں کو بروقت معلومات اور صورتحال سے متعلق واضح سرکاری مؤقف نہیں دیا گیا۔
’یہ تاثر درست نہیں کہ اپنے شہریوں کی بازیابی کے اقدامات میں تاخیر کی گئی‘
پاکستان کے وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انوار چودھری نے بی بی سی اردو کے عبید ملک سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ایم ٹی آنر 25 پاکستانی پرچم بردار بحری جہاز نہیں تھا اس کی ملکیت ایک صومالی کمپنی کے پاس ہے۔‘
جنید انوار کا کہنا تھا کہ ’رواں سال 21 اپریل کو جب اس جہاز کے ہائی جیک ہونے کی اطلاع آئی تو ہماری جانب سے پاکستانی وزارتِ خارجہ کو تمام تر ڈیٹا کے ساتھ 24 اپریل کو صومالیہ کی حکومت سے رابطہ کرنے کی درخواست کر دی گئی تھی۔‘
’یہاں یہ تاثر درست نہیں کہ حکومتِ پاکستان کی جانب سے اپنے شہریوں کی صومالیہ کے بحری قزاقوں سے بازیابی کے اقدامات میں تاخیر کی گئی۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’کیونکہ ایم ٹی آنر 25 ایک تیل بردار بحری جہاز تھا اس لیے اس پر قزاقوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی تھی۔‘
جنید انوار کا کہنا تھا کہ ’ہماری جانب سے تو مکمل طور پر کوشش کی گئی مگر صومالیہ کی انتظامیہ اس معاملے پر قابو پانے میں ناکام رہی جس کی وجہ سے قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا۔‘