آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کوڈ ورڈ میں بات اور ہجوم میں خفیہ اہلکاروں کو پہچاننے کی تربیت: وہ شخص جس کا بچپن ایف بی آئی سے بھاگتے گزرا
’جب میں چھوٹا بچہ تھا تب بھی وہ مجھے انقلابی باتیں سکھاتے تھے۔۔۔ انھوں نے مجھے سکھایا کہ ہجوم میں سادہ کپڑوں میں ملبوس پولیس اور ایف بی آئی کے اہلکاروں کو کیسے پہچانا جا سکتا ہے۔۔۔ انھوں نے مجھے یہ بھی سکھایا کہ فون پر کوڈ ورڈ میں بات کیسے کی جائے۔۔۔ میرے لیے یہ سب کسی کھیل کی طرح تھا۔‘
زید ایئرز ڈورن کا بچپن دوسرے عام بچوں جیسا نہیں تھا۔
ان کے کمرے کی دیواروں پر ڈزنی کے کرداروں کی تصاویر نہیں تھیں۔ اس کے بجائے چی گویرا اور ہو چی منہ کی تصاویر آویزاں ہوتی تھیں۔ کئی برس تک وہ پری سکول نہیں جا سکے۔ ان کے لیے گھر والوں کے ساتھ کیمپنگ پر جانے کا مطلب محض سیر و تفریح نہیں ہوتا تھا۔ ایک موقع پر تو ایسی ایک کیمپنگ کا مقصد جیل توڑنے کی کارروائی سے قبل ایک وفاقی جیل کا جائزہ لینا تھا۔
جب زید پیدا ہوئے تو ان کی والدہ برناڈین ڈورن ایف بی آئی کو مطلوب ترین مفرور افراد میں شامل تھیں۔ وہ ویدر انڈر گراؤنڈ نامی ایک شدت پسند جنگ مخالف تنظیم کی رہنما تھیں، جو امریکہ میں عدم مساوات اور نسلی ناانصافی کو اجاگر کرنے کے لیے بم دھماکوں کی ایک مہم چلا رہی تھی۔ اس مہم کا ہدف حکومت کی اہم عمارتیں تھیں، جن میں کیپیٹل، پینٹاگون اور محکمہ خارجہ بھی شامل تھے۔
ان کے والد بل ایئرز بھی اس گروہ کے شریک بانیوں میں شامل تھے۔ اس کی وجہ سے خاندان کو فرضی شناختوں کے تحت زندگی گزارنا پڑی، وہ بار بار رہائش تبدیل کرتے اور گرفتاری کے خطرے سے ہمیشہ خبردار رہتے تھے۔
تاہم زید کے لیے یہ سب معمول کی زندگی کا حصہ تھا۔
’مجھے معلوم تھا کہ ایف بی آئی ہمارے پچھے لگی ہوئی ہے۔ انھوں نے مجھ سے اس بارے میں کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ وہ مجھے یہ سب کچھ اس انداز میں سمجھاتے تھے جو اُن کے خیال میں ایک بچے کے لیے سمجھنے کے لیے آسان تھا۔ آپ یوں سمجھیں کہ انھوں نے ہمیں رابن ہڈ سے تشبیہ دی تھے۔ ہم قانون سے مفرور ایسے لوگ تھے جو امیروں سے لے کر غریبوں کو دیتے تھے، اس طرح کی باتیں۔‘
زید کے والدین کا تعلق سفید فام متوسط طبقے کے نسبتاً آسودہ گھرانوں سے تھا۔ ان کی والدہ شکاگو یونیورسٹی میں قانون کی طالبہ تھیں اور اپنی تعلیم میں نمایاں کارکردگی رکھتی تھیں۔ لیکن 1966 میں جب مارٹن لوتھر کنگ جونیئر شکاگو آئے اور کرایوں میں اضافے کے خلاف احتجاج کرنے والے کارکنوں کی حمایت کی تو وہ اس تحریک میں سرگرم ہو گئیں۔ وہ اس بات پر قائل ہوگئیں تھیں کہ امریکہ میں مزید تبدیلی کی ضرورت ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کنگ کے قتل، اور اس کے بعد بلیک پینتھر تنظیم کے رہنما فریڈ ہیمپٹن کی پولیس فائرنگ میں ہلاکت نے انھیں مزید شدت پسندانہ سوچ کی طرف دھکیل دیا۔
زید بتاتے ہیں کہ ’میرے خیال میں اسی واقعے نے میری والدہ اور ان جیسے کئی دوسرے لوگوں کو بہت زیادہ انتہا کی طرف دھکیل دیا۔ وہ [ہیمپٹن] کو نہ صرف اپنا دوست سمجھتی تھیں بلکہ انھیں اپنا رول ماڈل بھی مانتی تھیں، اور ان کی حکومت نے انھیں مار ڈالا تھا۔‘
زید کے مطابق ابتدائی طور پر ویتنام جنگ اور لازمی فوجی بھرتی کی مخالفت نے ان کے والد کو اس گروہ کی طرف مائل کیا۔
وہ بتاتے ہیں کہ اس زمانے میں ان کا ایک نعرہ تھا: ’جنگ کو گھر تک لے آؤ (برنگ دی وار ہوم)‘ جس کا مطلب یہ تھا کہ ویتنام میں جنگ کے باعث ہونے والے تشدد کو امریکہ کی سڑکوں تک لایا جائے اور اسے وہاں عملی صورت دی جائے۔
ان کے مطابق اس کا مقصد یہ تھا کہ ’لوگوں کو جھنجھوڑا جا سکے اور انھیں دکھایا جا سکے کہ ان کی حکومت بیرونِ ملک کیا کر رہی ہے اور ملک کے اندر سیاہ فام گروہوں اور رہنماؤں کے ساتھ کیا سلوک روا رکھ رہی ہے۔‘
سفید فام طلبہ جو امریکہ کی محفوظ ترین عمارتوں میں کامیابی سے بم نصب کرتے تھے
آج کے زمانے میں یہ امر بالکل خیالی لگتا ہے کہ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے طلبہ کا ایک گروہ ملک کی سب سے محفوظ سرکاری عمارتوں میں کامیابی سے بم نصب کر سکتا ہے۔ تاہم زید کا کہنا ہے کہ وہ نوجوان، سفید فام اور تعلیم یافتہ ہونے کی وجہ سے ان سے جڑی معاشرتی توقعات اور مفروضوں سے فائدہ اٹھانے میں کامیاب رہے۔
خواتین سیکریٹریوں کے روپ میں عمارتوں میں داخل ہوتیں، معلومات اکٹھی کرتیں اور نسبتاً غیر نمایاں جگہوں جیسے کہ خواتین کے بیت الخلا میں دھماکا خیز مواد نصب کرتیں۔
زید وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ان کو فائدہ یہ تھا کہ وہ کالج سے تعلیم یافتہ، پراعتماد انداز میں بات کرنے والے اور نسبتاً خوش حال سفید فام لوگ تھے جن کے اقتدار کے ان مراکز میں موجودگی پر کسی کو حیرت نہیں ہوتی تھی۔‘
اس گروہ کی نسلی حیثیت نے بلیک لبریشن آرمی کے ساتھ اس کے تعلقات کو بھی فروغ دیا۔ بلیک لبریشن آرمی بلیک پینتھر پارٹی سے نکلنے والاایک گروہ تھا۔
سفید فام کارکن اپنی رسائی اور نسبتاً گمنام رہنے کی صلاحیت کو سیاہ فام کارکنوں کی مدد کے لیے استعمال کرتے جس میں جیل سے فرار کی کارروائیوں اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے بعد فرار میں مدد دینے کے لیے گاڑی چلانے جیسے کام بھی شامل تھے۔
لیکن جیسے جیسے زید بڑے ہوتے گئے، اس خفیہ زندگی نے ان کے بچپن کو زیادہ متاثر کرنا شروع کر دیا۔ سرکاری دستاویزات نہ ہونے کے باعث وہ سکول نہیں جا سکتے تھے، اور اُن کے زیادہ تر دوست بھی ہم خیال کارکنوں کے بچوں پر مشتمل تھے۔
ان کے بچپن کا بڑا حصہ دوسرے امریکی بچوں کی طرح گزرا، جس میں سڑکوں پر طویل سفر، خاندانی سیر و تفریح اور کیمپنگ کی چھٹیاں شامل تھیں۔ تاہم ان سرگرمیوں میں بھی ایک واضح انقلابی رنگ موجود ہوتا تھا۔
زید بتاتے ہیں ’ہم یقیناً کبھی ڈزنی لینڈ، امریکی کانگریس کی عمارت یا ایسی کسی جگہ نہیں گئے۔ میرے والدین مجھے انقلابی جدوجہد سے جڑی جگہیں دکھانے لے جاتے تھے۔۔۔ وہ مقامات جہاں ان کے ہیرو مارے گئے تھے۔۔۔ جہاں پولیس نے فریڈ ہیمپٹن کو قتل کیا تھا، جہاں جان براؤن کو پھانسی دی گئی تھی، اور وہ جگہ جہاں نیٹ ٹرنر نے غلاموں کی بغاوت کی قیادت کی تھی۔ اس طرح یہ دراصل امریکہ کی ایسی سیر تھی جسے وہ ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھتے تھے جس کے خلاف وہ جدوجہد کر رہے تھے۔‘
کئی برس بعد جا کر انھیں معلوم ہوا کہ گھر والوں کے ساتھ کیا جانے والے کیمپنگ کے سفر کا درحقیقت ایک اور مقصد بھی تھا۔ کیمپ اُس وفاقی جیل سے ایک کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر تھا جہاں بلیک پینتھر تنظیم کے ایک رکن کو قید رکھا گیا تھا۔
ان کے والدین نے اس سفر کو جیل کا جائزہ لینے کے لیے استعمال کیا تھا تاکہ ممکنہ فرار کی کسی کوشش سے پہلے وہاں کے حالات کا مطالعہ کیا جا سکے۔
زید کا ماننا ہے کہ اُن کے والدین کی کوشش ہوتی تھی کہ کسی کو جسمانی نقصان نہ پہنچے۔ دھماکوں سے پہلے خبردار کرنے کے لیے فون کیے جاتے تھے اور دھماکا خیز آلات کے پھٹنے کا وقت ایسا رکھا جاتا جب عمارتیں خالی ہوتی تھیں۔ لیکن ان کے بقول جب کوئی تحریک تشدد کا راستہ اختیار کر لیتی ہے تو پھر سانحات سے بچنا مشکل ہو جاتا ہے۔
’بعض اوقات ان کے فیصلے خطرناک، پرخطر اور حتیٰ کہ الٹا نقصان پہنچانے والے بھی تھے۔۔۔ انھوں نے ایسے کام کیے جو نہایت ہولناک اور المناک ثابت ہو سکتے تھے۔‘
زید کی پیدائش سے پہلے بم بنانے کے دوران ہونے والے ایک حادثے میں اُن کے والد کی اُس وقت کی گل فرینڈ اور گروہ کے دو دیگر ارکان ہلاک ہو گئے تھے۔
زید کہتے ہیں کہ وہ بچپن ہی سے ان خطرات سے واقف تھے۔
’مجھے یقیناً اس کی فکر رہتی تھی۔۔۔ میرے ایسے دوست تھے جن کے والدین مارے گئے تھے۔ میرے ایسے دوست بھی تھے جن کے والدین بہت طویل عرصے تک جیل میں رہے تھے۔‘
بڑے ہونے اور والد بننے کے بعد زید کئی برسوں تک اپنے والدین کے فیصلوں کے بارے میں سوچتے رہے۔
وہ اپنے والدین کی سوچ کا موازنہ اُن لوگوں سے کرتے ہیں جو رضاکارانہ طور پر فوج میں بھرتی ہوتے ہیں۔ اُن کے مطابق ان کے والدین اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ وہ اپنی ہی حکومت کے خلاف ایک جنگ میں شامل ہیں اور وہ اس کے نتائج بھگتنے کے لیے بھی تیار تھے۔
"کئی حوالوں سے مجھے اُن پر فخر ہے۔۔۔ ایک ایسے وقت میں جب امریکہ میں زیادہ تر لوگ، اور خاص طور پر زیادہ تر سفید فام لوگ، اپنے سامنے ہونے والی ناانصافی کو نظر انداز کر دیتے تھے اور اس کے خلاف کچھ نہیں کرتے تھے، میرے والدین اُن لوگوں میں شامل تھے جو اصرار کرتے تھے کہ کچھ نہ کچھ ضرور کیا جانا چاہیے۔‘
تاہم زید کے لیے یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ اگر ان کے اپنے بچے گھر پر موجود ہوں تو وہ خود کسی بینک ڈکیتی یا کسی قیدی کو جیل سے فرار کروانے جیسا قدم اٹھائیں۔
’لیکن میرا خیال ہے کہ یہ بھی اپنے آپ میں ایک طرح کی مراعات یافتہ حیثیت ہے۔ میرے نزدیک دنیا میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جن کے پاس جبر اور ناانصافی کے خلاف جدوجہد کی خاطر اپنے خاندانوں کو خطرے میں ڈالنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔‘
زید کے چھوٹے بھائی کی پیدائش کے بعد ان کی والدہ برناڈین نے بالآخر خود کو قانون کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ خاندان کی زندگی کسی حد تک معمول پر آ جائے۔
ابتدا میں ایف بی آئی کی تفتیش میں غیر قانونی طریقوں کے استعمال اور دیگر غلطیوں کی وجہ سے انھیں جیل نہیں کاٹنی پڑی۔ تاہم جب انھوں نے ویدر انڈر گراؤنڈ کے اپنے ساتھی ارکان کے خلاف گواہی دینے سے انکار کیا تو انھیں تقریباً ایک سال کے لیے قید کر دیا گیا۔
اس دوران زید کے والد کو نہ صرف زید اور اُن کے چھوٹے بھائی کی دیکھ بھال کرنی پڑی بلکہ ایک اور قید کارکن کے بچے کی ذمہ داری بھی سنبھالنی پڑی۔
اس وقت پانچ سالہ زید کے لیے یہ صورتِ حال تکلیف دہ تھی۔ وہ کافی ناراض اور پریشان تھے اور اپنی والدہ سے گھر واپس آنے کی منتیں کرتے تھے۔ جیل سے برناڈین انھیں خطوط لکھتی تھیں جن میں وہ اپنے فیصلوں کی وضاحت کرنے کی کوشش کرتیں۔ زید آج بھی وہ خطوط پڑھتے ہیں۔
زید کہتے ہیں کہ ’وہ لکھتی تھیں کہ ماں ہونا ان کے لیے دنیا کی سب سے اہم چیز ہے لیکن انقلابی ہونا بھی ان کے لیے اتنا ہی اہم ہے۔‘
’مثال کے طور پر وہ اپنے ہیروز کا ذکر کرتی تھیں، جیسے مارٹن لوتھر کنگ جونیئر، فریڈ ہیمپٹن اور میلکم ایکس۔ وہ کہتی تھیں کہ یہ سب لوگ ایک مقصد کے لیے جدوجہد کرتے تھے، اور ان سب کے بھی بچے تھے۔‘
آج ان کے دونوں والدین اسی برس کی دہائی میں ہیں۔
زید اپنے والدین کو ’بہترین دادا دادی‘ قرار دیتے ہیں، لیکن ساتھ ہی اس خیال پر ہنستے بھی ہیں کہ بڑھتی عمر کے ساتھ ان کی سیاسی سوچ میں نرمی آ گئی ہے۔
خفیہ زندگی ترک کرنے کے بعد ان کی والدہ قانون کی پروفیسر بن گئیں اور تقریباً چار دہائیوں تک ایک قانونی فرم چلاتی رہیں جہاں وہ ان لوگوں کی مدد کرتی تھیں جن کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ غیر منصفانہ فوجداری نظام نے انھیں نظر انداز کیا ہے یا ان کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔ ان کے والد بھی پروفیسر بن گئے اور انھوں نے خود کو سرکاری تعلیمی نظام میں اصلاحات کے لیے وقف کر دیا۔
ان کے طریقۂ کار تو بدل گئے تھے لیکن ان کے نظریات وہی ہیں۔
زید کہتے ہیں کہ ’اگر کوئی انھیں معتدل مزاج یا لبرل کہے تو وہ انھیں کافی ناگوار گزرتا ہے۔‘
یہ مضمون بی بی سی ورلڈ سروس کے پروگرام آؤٹ لک کی ایک قسط ’امریکہ کے مطلوب ترین افراد: فرار کی زندگی گزارنے والا میرا خاندان‘ پر مبنی ہے۔