آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
آئل ٹینکر ’ایم ٹی آنر 25‘: قزاقوں کے خلاف صومالی فورسز کا آپریشن اور تین پاکستانی شہریوں کی ہلاکت کا دعویٰ
صومالیہ کے نیم خودمختار علاقے پنٹ لینڈ کی میری ٹائم پولیس فورس (پی ایم پی ایف) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کئی گھنٹوں پر محیط آپریشن کے بعد بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود آئل ٹینکر ’ایم ٹی آنر 25‘ کو بازیاب کرا لیا ہے۔
پنٹ لینڈ حکام کے مطابق آپریشن شروع ہونے سے قبل قزاقوں نے عملے کے پانچ ارکان کو ہلاک کر دیا تھا، جن میں تین پاکستانی، ایک انڈین اور ایک میانمار کا شہری شامل تھا، جبکہ مزید چار افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں تین پاکستانی بھی شامل ہیں۔
پنٹ لینڈ پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران 16 قزاقوں کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ فرار ہونے والے دیگر افراد کی تلاش جاری ہے۔
تاہم پاکستان کے دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستانی شہریوں کے جانی نقصان سے متعلق اطلاعات کی تاحال آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق جبوتی میں پاکستانی مشن کو بحری جہاز کی بازیابی کی غیر مصدقہ اطلاعات ملی ہیں اور وہ صورتحال کی تصدیق اور حقائق کے تعین کے لیے متعلقہ حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔
دفترِ خارجہ کے مطابق اس جہاز پر 10 پاکستانی شہری بھی یرغمال بنائے گئے تھے۔ تاہم پاکستانی شہریوں کے جانی نقصان سے متعلق اطلاعات کی تاحال آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ مشن حقائق کا تعین کرنے اور صورتحال کی تصدیق کے لیے متعلقہ حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔ سرکاری تصدیق دستیاب ہوتے ہی مزید معلومات فراہم کر دی جائیں گی۔
’ایم ٹی آنر 25‘ نامی بحری جہاز کو رواں برس اپریل میں صومالی قزاقوں نے اغوا کر لیا تھا۔ اس جہاز پر سوار 17 رکنی عملے میں 10 کا تعلق پاکستان سے ہے جبکہ عملے میں انڈونیشین، سری لنکن، انڈین اور میانمار کے شہری بھِی شامل ہیں۔
پاکستان میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے انصار برنی ٹرسٹ کے مطابق بحری قزاقوں نے مغویوں کی رہائی کے لیے 30 لاکھ امریکی ڈالر تاوان کا مطالبہ کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’ایم ٹی آنر 25‘ کی آپریٹنگ کمپنی ’وارف چارٹرنگ‘ انڈونیشیا میں رجسٹرڈ ہے۔ جہاز کے کپتان کا تعلق انڈونیشیا سے ہے جبکہ عملے میں بھی چار انڈونیشی شہری شامل ہیں۔
گذشتہ پانچ ماہ کے دوران مغویوں کے اہلخانہ کی جانب سے احتجاجی مظاہرے بھی کیے جاتے رہے ہیں جبکہ جہاز میں موجود افراد کی تصاویر اور ویڈیوز بھی گردش کرتی رہی ہیں جن میں وہ اپنی حکومتوں سے اپیلیں کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
’ماموں نے بتایا تھا کہ جہاز پر آپریشن شروع کر دیا گیا ہے‘
بحری جہاز کے سیکنڈ انجینئر حسین یوسف کے بھانجے طالب رضا نے بی بی سی کو بتایا کہ اُن کی آپریشن کے بعد ماموں سے فون پر بات ہوئی ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ پنٹ لینڈ کی حکومت پیر سے اس جہاز پر آپریشن کر رہی تھی اور ماموں نے بتایا ہے کہ آپریشن کے دوران کچھ افراد ہلاک اور زخمی بھی ہوئے ہیں۔
طالب رضا کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت سے درخواست ہے کہ جہاز پر موجود پاکستانیوں کی دیکھ بھال کے لیے فوری انتظامات کیے جائیں۔
’اہلخانہ پچھلے پانچ ماہ سے مغویوں کی رہائی کے لیے اپیلیں کر رہے تھے، لیکن حکومت نے کوئی ایکشن نہیں لیا اور آخرکار پنٹ لینڈ کی پولیس نے ایکشن کر دیا۔‘
طالب رضا کے بقول اُنھیں منگل کی صبح پتہ چلا کہ جہاز پر آپریشن شروع کر دیا گیا ہے، ابتدا میں پنٹ لینڈ پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ جہاز میں سارے لوگ محفوظ ہیں، لیکن بعد میں ہلاکتوں اور زخمیوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
واقعہ کیسے پیش آیا؟
مغویوں کے اہلخانہ کے مطابق یہ آئل ٹینکر عمان سے صومالیہ کے لیے روانہ ہوا تھا جب رواں برس 21 اپریل کو قزاقوں نے اس پر قبضہ کر لیا۔
اہلخانہ کے مطابق ابتدائی طور پر قزاقوں نے تمام عملے سے موبائل فونز لے لیے تھے، تاہم بعد ازاں مختصر وقت کے لیے اپنے اپنے اہلخانہ کو اطلاع دینے کی اجازت دی گئی۔
پاکستانی مغویوں میں احمد علی (سکیورٹی وجوہات کی بنا پر نام تبدیل کیا گیا ہے) بھی شامل ہیں۔ احمد علی کے کزن نے بتایا کہ 21 اپریل کو ایک نامعلوم نمبر سے اہلخانہ کو کال موصول ہوئی اور دوسری جانب احمد بات کر رہے تھے۔
ان کے مطابق ’احمد نے بتایا کہ جہاز اغوا ہو چکا ہے اور اب ان کی زندگیاں اس بات پر منحصر ہیں کہ اہلخانہ، حکومت اور متعلقہ کمپنی قزاقوں سے کس طرح معاملات طے کرتی ہے۔‘
ایک اور مغوی راشد (سکیورٹی وجوہات کی بنا پر نام تبدیل کیا گیا ہے) کے اہلخانہ کے مطابق انھیں راشد کے اغوا کی اطلاع 23 اپریل کو دی گئی۔ اہلخانہ کے مطابق قزاق ’مغویوں کے سر پر کھڑے ہو کر مختصر کال کرواتے ہیں۔‘
ایک اور مغوی کے بیٹے کے مطابق، انھیں بھی اپنے والد کے اغوا کی اطلاع 23 اپریل کو ہی ملی جس میں بتایا گیا کہ قزاقوں کے مطالبات پورے کرنا ہوں گے۔
بیٹے کے مطابق 23 اپریل کے بعد سے اُن کے والد کا نمبر بند ہے۔
اس جہاز پر سوار دس پاکستانی سیلرز کو کراچی کی ہیلمزمین میننگ سروسز کے ذریعے بھرتی کیا گیا تھا۔ کمپنی نے وضاحت کی ہے کہ اُن کا کردار صرف عملے کی بھرتی تک محدود تھا، جبکہ جہاز کے آپریشنل معاملات اور کسی بھی ہنگامی صورتحال کی ذمہ داری مکمل طور پر جہاز کے مالکان اور منیجرز پر عائد ہوتی ہے۔
منگل کی رات پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق مشن حقائق کا تعین کرنے اور صورتحال کی تصدیق کے لیے متعلقہ حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور سرکاری تصدیق دستیاب ہوتے ہی مزید معلومات فراہم کر دی جائیں گی۔
انصار برنی ٹرسٹ نے اس سے قبل دعویٰ کیا تھا کہ ان کا بحری قزاقوں سے رابطہ ہوا ہے، جس میں بحری قزاقوں نے بتایا کہ انھوں نے حکومت پاکستان کو ایک تفصیلی ای میل لکھی تھی مگر اس کا انھیں کوئی جواب نہیں ملا۔