کشمیر بنے گا پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, وسعت اللہ خان
- عہدہ, صحافی و تجزیہ کار
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
عمران خان، طالبان، بلوچستان۔
تین بحران کافی نہیں تھے کہ چوتھا بھی مول لے لیا۔
بچپن سے ہمیں گھٹی پلائی گئی کہ کشمیر پاکستان کی شاہ رگ ہے۔ مظفر آباد دراصل سری نگر کی انڈین چنگل سے آزادی کا بیس کیمپ ہے۔ ہمیں بتایا گیا کہ کشمیر پاکستان کو اتنا عزیز ہے کہ اس کی خاطر انڈیا سے تین جنگیں (انیس سو اڑتالیس، انیس سو پینسٹھ، انیس سو ننانوے) لڑ لی گئیں۔
کبھی کنٹرول لائن کے پار قبائلی بھیجے گئے تو کبھی مجاہدین روانہ ہوئے۔ جہادی تنظیموں نے نوجوانوں کو بھرتی کیا، عسکری تربیت دی، چندہ جمع کیا۔ سرحد پار جاں بحق ہونے والے مجاہدین کے گھر والوں کو مبارک بادیں دی گئیں۔ سرینگر کے وسیع شہدا قبرستان میں جتنی قبریں ہیں ان میں سے ایک چوتھائی ان اٹھارہ بیس بائیس سال کے بچوں کی ہیں جو یہاں کے لوگوں کو آزادی دلانے کے لیے وہاں سے بھیجے گئے۔
جوش گرمانے کے لیے سرکاری و نجی میڈیا پر کشمیریوں پر مظالم کی دستاویزی فلمیں دکھائی جاتی ہیں، لاٹھی، گولی، آنسوگیس سے لبریز انڈین پولیس اور فوج کی کارروائیوں کے فوٹیجز تواتر سے چلائے جاتے ہیں، کشمیریوں سے یکجہتی کے لیے سیاسی و مذہبی جماعتیں اکثر و بیشتر جلسے کرتی ہیں، جلوس نکالتی ہیں۔
کشمیر کی انڈیا سے آزادی کے عہد کو یاد دلانے کے لیے پانچ فروری کا دن قومی تعطیلات کے سالانہ کیلنڈر میں بطورِ خاص شامل ہے۔
کیا ایمنسٹی انٹرنیشنل، کیا ہیومین رائٹس واچ، کیا اقوامِ متحدہ، کیا یورپی یونین اور کیا انڈیا کی انسانی حقوق سے جڑی شخصیات۔ پاکستانی میڈیا نے ان سب رپورٹوں اور بیانات کو ہمیشہ سکرین اور کاغذ پر نمایاں جگہ دی۔ ہر پاکستانی سرکار اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں کشمیریوں پر انڈین مظالم کے مفصل ڈوزئرز جمع کرواتی رہی۔
ہر پاکستانی پارلیمنٹ نے کشمیر کے نام پر جانے کتنی مذمتی قراردادیں منظور کیں۔ ایک کشمیر کمیٹی بھی موجود ہے جس کا کام عالمی برادری کو مسئلہ کشمیر سے مسلسل روشناس کروانا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اٹھتر برس یہ تصویر دکھائی جاتی رہی کہ سرحد پار مظلوم کشمیری کس قدر ناخوش اور طیش میں ہیں اور ہمارے کشمیری کتنے مطمئن، شاداں و فرحاں اور جوش و جذبے سے بھرے ہیں۔ دوسری جانب مسلسل پامالی ہے اور ہماری جانب مسلسل ترقی و خوشحالی ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
تو پھر یکایک یہ کیا ہو گیا؟
لگ بھگ چار سال پہلے میرپور اور راولاکوٹ میں بجلی کی ترسیل کے ادارے واپڈا کے عوامی بائیکاٹ سے بات شروع ہوئی۔ پھر بری گورننس کا موضوع لوگوں کی زبان پر آ گیا۔ پھر منتخب نمائندوں کے مراعاتی اللوں تللوں کی بات پھیلتی چلی گئی۔ پھر ریاست سے باہر کی 12 سیٹوں کا وجود یہ کہہ کر چیلنج ہوا کہ یہ سیٹیں نہیں بلکہ وہ ہتھیار ہے جس کی مدد سے اسلام آباد مظفر آباد پر من پسند افراد مسلط کرتا ہے، یہ سیٹیں حکومتیں گرانے اور بنانے میں کام آتی ہیں۔
زکام اسلام آباد کو ہوتا ہے اور چھینکیں مظفر آباد کو آتی ہیں۔ اسلام آباد میں حکومت بدلتی ہے تو مظفر آباد میں بھی چہرے بدل جاتے ہیں اور اس میوزیکل چیئر گیم سے ریاست کے عوام بالکل باہر ہیں۔
رہی بات جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی تو یہ ایک خودرو پودے کی طرح تب زمین سے اُگی جب متوسط طبقے کے نوجوانوں اور کاروباریوں کا گورنننس اور روایتی سیاسی چہروں سے یقین رفتہ رفتہ اٹھتا چلا گیا۔ پھر مقامی سطح پر مظاہرے ہونے لگے، لانگ مارچ کی کوششیں ہوئیں۔ ٹال مٹول اور سودے بازی چلتی رہی۔ بظاہر تحریری معاہدے بھی ہوئے۔ ان معاہدوں پر عمل درآمد کے لیے ٹائم لائن بھی طے ہوئی۔
مگر وقفے کو امن سمجھنے کی عادتِ خراب اور غیر سنجیدگی سے کبھی چھٹکارا نہیں ملا۔ عدم اعتماد کی جو دراڑ ڈھائی تین برس پہلے پیدا ہوئی اسے فوری فیصلہ سازی کے سیمنٹ سے بھرنے کے بجائے ویسے ہی کھلا چھوڑ دیا گیا۔
اب وہ دراڑ ایسی خلیج بن چکی ہے جس کے پانی میں سرخی بڑھتی جا رہی ہے۔ جو سردرد کچھ عرصہ پہلے تک چند پین کلرز سے ٹھیک ہو سکتا تھا اب ایسا رستا ناسور بن گیا ہے کہ آئی سی یو اور آپریشن کی نوبت آ گئی۔ یہ آپریشن ماہر سرجن کر رہے ہیں یا عطائی؟ کوئی نہیں جانتا۔

،تصویر کا ذریعہEPA
گورننس اور بیانیے کی لڑائی کو اب غیر ملکی مداخلت اور دہشت گردی سے ملا دیا گیا ہے۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کالعدم بھی ہے اور اس سے بات چیت اور مین سٹریم سیاسی و انتخابی عمل کا حصہ بننے کی پیش کش بھی اپنی جگہ ہے۔
انٹرنیٹ کا بلیک آؤٹ ہے۔ موبائل فون سروس محدود ہے۔ پھر بھی سرکار کہتی ہے لوگ افواہوں پر کان نہ دھریں اور سوشل میڈیا کے بہکاوے میں نہ آئیں۔ بس سرکاری پریس ریلیز پر دھیان دیں۔ سنتے تھے کہ استحکام کے لیے ضروری ہے کہ تشدد پر صرف ریاست کی مونوپلی رہے۔ مگر اب تو خبر پر بھی ریاست کی مونوپلی ہے۔
پروفیشنل میڈیا کا منھ سلا ہوا نہیں بلکہ سی دیا گیا ہے۔ سابق فاٹا اور بلوچستان تو پہلے ہی سے قومی میڈیا کی پہنچ میں نہیں تھے۔ اب کشمیر بھی خبری بلیک ہول بن چکا ہے۔ بھلے یہ کشمیر ہو یا وہ والا کشمیر۔
میڈیا پر کشمیر کی کوریج دراصل بچے کے بہلاوے کی طرح ہے۔ ہمارے بچپن میں نائی سنتوں سے پہلے دہشت زدہ بچے کی توجہ بٹانے کے لیے کہتا تھا ’دیکھو بیٹا آسمان کی طرف، چڑیا اڑی، کوا اڑا، بلبل اڑی۔ مینڈک اڑا۔ وہ دیکھو مسلم لیگ اتنی سیٹوں پر آگے ہے، وہ دیکھو بلاول کے جلسے میں کتنے لوگ آ رہے ہیں۔
’کشمیر کے پہاڑ دیکھو، آبشاروں کا سنگھار دیکھو، بارہ من کی دھوبن دیکھو۔ وہ دیکھو یہ دیکھو، ادھر ادھر نہیں بس سیدھے سیدھے دیکھو۔۔۔‘
وہی ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومین رائٹس واچ، یورپی یونین، اقوامِ متحدہ کا انسانی حقوق کا ادارہ جس کی انڈین کشمیر سے متعلق ہر رپورٹ چوم کے آنکھوں سے لگائی جاتی ہے۔ یہی تنظیمیں جب پاکستانی کشمیر کے حالات کے بارے میں سوال اٹھانے لگی ہیں تو انھیں گمراہ اور حقائق سے لاعلم بتایا جا رہا ہے۔
مخلوقِ خدا جب کسی مشکل میں پھنسی ہو
سجدے میں پڑے رہنا عبادت نہیں ہوتی (جالب)



















