ایران کا امریکہ کے دو سمندری ڈرونز پکڑنے کا دعویٰ: ریمس 600 اور ڈائیو-ایل ڈی کیا ہیں؟

TASNIM
،تصویر کا کیپشنپاسدارانِ انقلاب کے مطابق ماہرین قبضے میں لیے گئے زیرِ آب ڈرون کا ڈیٹا بازیافت کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں
وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 6 منٹ

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے ایک ماہ میں دو امریکی سمندری ڈرونز اپنے قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نے پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حال ہی میں قبضے میں لیا گیا امریکی سمندری ڈرون ’ریمس 600‘ ہے۔

یہ ستمبر کے دوران ایران کی جانب سے امریکی زیرِ آب ڈرون قبضے میں لینے کا دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل ایرانی حکام نے ڈائیو-ایل ڈی نامی سمندری ڈرون قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا تھا۔

پہلے ڈرون کو قبضے میں لیے جانے کے واقعے کی تصدیق امریکی سینٹرل کمانڈ نے یہ کہہ کر کی تھی کہ اس سمندری ڈرون میں ’تکنیکی خرابی‘ پیدا ہوئی تھی۔

سینٹکام کے ایک ترجمان نے کہا تھا کہ یہ ڈرون ’ایک پرانا ماڈل تھا جو نہ تو حساس معلومات جمع کرتا تھا اور نہ ہی اس میں ریڈار کا سامان یا خفیہ سینسر نصب تھے۔‘

تاہم ایرانی حکام نے اس ڈرون کے فعال اور آپریشنل ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔

ایران نے یہ دعویٰ ایک ایسے وقت میں کیا ہے کہ جب آبنائے ہرمز اور خلیجی پانیوں میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے۔

ڈائیو-ایل ڈی زیرِ آب ڈرون 31 اکتوبر 2025 کو سڈنی میں اینڈورِل آسٹریلیا کی نئی ’گھوسٹ شارک‘ فیکٹری کی افتتاحی تقریب کے موقع پر نمائش کے لیے رکھا گیا (فائل فوٹو)
،تصویر کا کیپشنڈائیو-ایل ڈی زیرِ آب ڈرون 31 اکتوبر 2025 کو سڈنی میں اینڈورِل آسٹریلیا کی نئی ’گھوسٹ شارک‘ فیکٹری کی افتتاحی تقریب کے موقع پر نمائش کے لیے رکھا گیا (فائل فوٹو)

ایران اور امریکہ کے متضاد دعوے

رواں ماہ پہلی بار 8 ستمبر کو پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے آبنائے ہرمز میں ایک امریکی ’ڈائیو-ایل ڈی‘ ڈرون قبضے میں لیا ہے۔ ’ڈائیو لارج ڈِسپلیسمنٹ‘ ریمس 600 کے مقابلے میں بڑا، طویل فاصلے تک جانے والا جدید امریکی زیرِ آب ڈرون ہے۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

23 ستمبر کو ایران کے اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار محسن رضائی نے دعویٰ کیا تھا کہ ایرانی ماہرین پہلے قبضے میں لیے گئے امریکی ڈرون کی ریورس انجینیئرنگ کا عمل بھی شروع کر چکے ہیں۔

ریورس انجینئرنگ ایک ایسا عمل ہے جس کے دوران کسی ہتھیار، چیز، سافٹ ویئر یا مشین کو کھول کر اور اس کے حصوں کا تجزیہ کر کے یہ سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ وہ کس طرح کام کرتی ہے اور اسے کیسے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

پاسداران انقلاب کا الزام ہے کہ ان ڈرونز کو جاسوسی کی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا اور یہ کہ انھیں قبضے میں لینے کی کارروائی ’انٹیلی جنس نگرانی اور الیکٹرانک وارفیئر کے ذریعے کی گئی۔‘

بیان کے مطابق یہ ڈرون اب ایرانی ماہرین کے قبضے میں ہے جو اس سے معلومات اور ڈیٹا حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ایرانی فورسز نے ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے جس میں مبینہ طور پر پانی سے نکالے گئے ڈرون کو دکھایا گیا ہے۔ تاہم ایران نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ کارروائی کب انجام دی گئی۔ اس دعوے اور جاری کردہ ویڈیو کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں ایک مرتبہ پھر یہ مؤقف دہرایا کہ آبنائے ہرمز بند ہے اور کہا کہ وہ ’خطرناک نقل و حرکت‘ اور ’غیر مجاز راستوں‘ سے گزرنے والے جہازوں کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں۔

ادھر امریکی سینٹرل کمان کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے پہلے ڈرون کو قبضے میں لیے جانے کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ اس امریکی ڈرون کو خطے کے پانیوں میں آپریشنل سرگرمیوں کے دوران تکنیکی خرابی پیش آئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ نسبتاً پرانا ماڈل تھا جو نہ حساس معلومات جمع کر رہا تھا اور نہ ہی اس میں خفیہ سینسرز یا ریڈار نصب تھے۔ دوسری جانب ایران کا مؤقف تھا کہ ڈرون فعال حالت میں تھا اور آپریشنل مشن پر تعینات تھا۔

ڈائیو ایل ڈی ڈرون کیا ہے؟

ڈائیو-ایل ڈی یعنی لارج ڈسپلیسمنٹ ان مینڈ انڈر واٹر وہیکل ایک بڑی خودکار زیرِ آب ڈرون ہے جسے امریکی ڈیفنس ٹیکنالوجی کمپنی انڈیورل نے تیار کیا ہے۔

کمپنی کے مطابق یہ سمندری ڈرون ماڈیولر پے لوڈ، 10 روزہ آپریشنل صلاحیت اور 6,000 میٹر گہرائی تک کام کرنے کی صلاحیت کے ساتھ دفاعی اور تجارتی مشنز کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

انڈیورل کے مطابق یہ ڈرون سمندر کی تہہ کے قریب 6,000 میٹر گہرائی تک آپریشن کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی انٹیلی جنس، نگرانی اور جاسوسی سمیت مختلف مشنز کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے، جبکہ تجارتی سروے کے شعبے میں بھی اس کا استعمال ممکن ہے۔

اسے 31 اکتوبر 2025 کو ’گھوسٹ شارک‘ مینوفیکچرنگ فیسلٹی کی افتتاحی تقریب کے موقع پر نمائش کے لیے رکھا گیا تھا۔ اس وقت آسٹریلوی رائل نیوی نے کمپنی کے ساتھ 1.7 ارب آسٹریلوی ڈالر کا معاہدہ کیا تھا۔

ریمس 600
،تصویر کا کیپشنریمس 600 میں جدید سونار اور تصویری نظام موجود ہوتا ہے

ریمس 600 کیا ہے؟

ریمس 600 ایک جدید خودکار زیرِ آب ڈرون ہے جو سمندری سروے، نگرانی، جاسوسی، بارودی سرنگوں کی کھوج اور فوجی آپریشنز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اسے امریکی ڈیفنس کمپنی ایچ آئی آئی نے تیار کیا ہے۔

کمپنی کے مطابق اس ڈرون کو امریکی بحریہ کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا تھا۔ اسے طویل دورانیے کے مشن، زیادہ سامان اور سینسرز لے جانے کی صلاحیت، اور زیادہ گہرائی میں کارروائیوں کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

کمپنی کے مطابق اس میں وہی آزمودہ سافٹ ویئر اور الیکٹرانک نظام استعمال کیے گئے ہیں جو ریمس 100 ماڈل میں استعمال ہوتے رہے ہیں، تاہم اس کی گہرائی اور آپریشنل صلاحیتیں کہیں زیادہ ہیں۔

ریمس 600، جیسے کہ نام سے ہی ظاہر ہے، 600 میٹر تک گہرائی میں کام کر سکتا ہے اور اسے مختلف قسم کے سینسرز سے لیس کیا جا سکتا ہے۔ اس ماڈل کو سمندری سروے اور بارودی سرنگوں کی نشاندہی و تلفی جیسے دفاعی مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

کمپنی کے مطابق یہ زیرِ آب ڈرون تقریباً 70 گھنٹے تک مسلسل مشن انجام دے سکتا ہے جبکہ اس کی رفتار پانچ ناٹ (تقریباً نو کلومیٹر فی گھنٹہ) تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ 600 میٹر گہرائی میں کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کا آپریشنل دائرہ کار 286 ناٹیکل میل تک ہے۔

کمپنی کے مطابق اسے استعمال کرنے کے لیے پیچیدہ آلات کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ ایک لیپ ٹاپ اور محدود معاون سامان کی مدد سے بھی اسے آپریٹ کیا جا سکتا ہے۔

اس میں جدید سونار اور تصویری نظام موجود ہوتا ہے۔

اس مقصد کے لیے ریمس 600 میں ’سنتھیٹک اپرچر سونار‘ نصب کیا جا سکتا ہے، جو سمندر کی تہہ کی نہایت واضح اور اعلیٰ معیار کی تصاویر حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس مقصد کے لیے اس سمندری ڈرون میں تین محوروں (رول، پچ، یا) پر حرکت کو کنٹرول کرنے والے خصوصی فِنز نصب کیے گئے ہیں، جو اسے پانی کے اندر انتہائی درست انداز میں راستہ برقرار رکھنے اور بہتر تصاویر حاصل کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

اس میں لیزر سکیلر گریڈیومیٹر (ایل ایس جی) میگنیٹومیٹر، الیکٹرانک سٹِل کیمرہ اور مختصر فاصلے کا ڈوئل فریکوئنسی سائیڈ سکین سونار بھی نصب کیا جا سکتا ہے۔

یہ سینسرز اسے وسیع سمندری علاقوں کی خودکار تلاشی، مشتبہ اہداف کی نشاندہی، زیرِ آب بارودی سرنگوں کا سراغ لگانے، دریافت شدہ اہداف کی دوبارہ شناخت اور درجہ بندی کرنے کے قابل بناتے ہیں۔