لائیو, ایران کا اہم دفاعی تنصیبات زیرِ زمین منتقل کرنے کا دعویٰ: جنگ کی کامیابی صرف حملہ پسپا کرنے تک محدود نہیں ہونی چاہیے، حسن روحانی

ایران نے اپنی عسکری صلاحیتوں اور ہتھیاروں کی تیاری کی استعداد کو مکمل طور پر آشکار ہونے سے بچانے کے لیے اپنی بعض اہم دفاعی تنصیبات اور صلاحیتوں کو زیرِ زمین ڈھانچے میں منتقل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ دوسری جانب ایران کے سابق صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ جنگ میں کامیابی کو صرف حملے کا مؤثر جواب دینے یا اسے پسپا کرنے تک محدود نہیں سمجھا جانا چاہیے، بلکہ اس کا مقصد پائیدار سلامتی کا قیام ہونا چاہیے۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی سات روز میں آبنائے ہرمز کھولنے کی تجویز مسترد کر دی

    ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایران کی جانب سے سات روز میں آبنائے ہرمز کھولنے اور مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بند کرنے کی تجویز مسترد کر دی ہے۔

    یاد رہے کہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے اور امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے لیے ایک ’سات روزہ منصوبہ‘ پیش کیا گیا تھا۔

    جمعے کو نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی وزیرِ خارجہ نے نئی تجاویز پر مشتمل یہ سات روزہ منصوبہ پیش کیا جسے اُنھوں نے ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کا تسلسل قرار دیا تھا۔

    ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ اگر واشنگٹن اس منصوبے میں طے شدہ شرائط کو قبول کر کے ان پر عمل کرے تو سات روزہ مدت کے اختتام پر آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی جائے گی۔

    عباس عراقچی نے کہا کہ ان تجاویز میں بیشتر نکات وہی ہیں جو جون میں ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت میں شامل تھیں۔

    تاہم سنیچر کے روز وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’میں نے ان کی تجویز مسترد کردی ہے۔۔۔ میں نے ان کی ڈیل رد کر دی ہے۔‘

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’وہ فوری طور پر آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے ایک معاہدہ کرنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ بہت بری طرح سے ہار رہے ہیں۔‘

    ’وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں اور میرے خیال میں ٹھیک بھی ہے، میں بھی ڈیل کرنا چاہتا ہوں۔ لیکن وہ فوراً آبنائے ہرمز کھولنا چاہتے ہیں۔۔۔ کیونکہ ان کے پاس پیسے نہیں آ رہے، کیونکہ ان کی ساری کمائی آبنائے ہرمز سے ہوتی ہے۔‘

    ’چین سے مشاورت کے بعد‘ آبنائے ہرمز کھولنے اور امریکہ سے مذاکرات کی بحالی کے لیے دیا گیا ایران کا سات روزہ منصوبہ کیا ہے؟ جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

  2. ایتھنز میں عمارت دھماکے سے تباہ، برطانوی شہری سمیت چھ افراد ہلاک

    Ethens

    یونان کے دارالحکومت ایتھنز کے تاریخی علاقے پلاکا میں ایک دھماکے کے نتیجے میں ایک عمارت مکمل طور پر منہدم ہو گئی، جس سے کم از کم چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک برطانوی شہری، چار امریکی سیاح اور ایک یونانی شہری شامل ہیں۔

    یہ دھماکہ جمعے کے روز ایتھنز کے سیاحتی علاقے پلاکا میں پیش آیا، جو اکروپولس اور ٹیمپل آف اولمپیئن زیوس جیسے مشہور تاریخی مقامات کے قریب واقع ہے۔

    اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والے چار امریکی سیاح اس عمارت میں قائم ایک ہالیڈے رینٹل پراپرٹی میں مقیم تھے، جبکہ یونانی شہری اور برطانوی شہری ایک بزرگ جوڑا تھا جو اسی عمارت میں رہائش پذیر تھا۔

    سنیچر کے روز جائے وقوعہ سے سامنے آنے والی تصاویر میں امدادی کارکنوں کو ملبے میں تلاشی لیتے دیکھا گیا۔ حکام کو شبہ ہے کہ دھماکا گیس لیکج کے باعث ہوا۔

    تمام چھ لاشیں ہفتے کی دوپہر تک ملبے سے نکال لی گئی تھیں۔ ایتھنز کے میئر ہیرس دوکاس نے واقعے کو ’ناقابلِ یقین سانحہ‘ قرار دیا۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پولیس کو اس وقت خدشہ ہوا کہ سیاح لاپتا ہیں جب وہ جمعہ کو ایتھنز ایئرپورٹ سے اپنی پرواز پر سوار ہونے کے لیے نہیں پہنچے۔

    دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ تین منزلہ عمارت مکمل طور پر منہدم ہو گئی، جبکہ آس پاس کی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا اور ملبہ سڑک پر دور تک بکھر گیا۔

    مقامی میڈیا کے مطابق اڑتے ہوئے ملبے سے متعدد افراد زخمی بھی ہوئے، جبکہ احتیاطی تدابیر کے تحت قریبی عمارتوں کو خالی کرا لیا گیا۔

    ریسکیو ٹیموں نے ممکنہ زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کے لیے کھدائی کی مشینوں اور تھرمل امیجنگ کیمروں کا استعمال کیا۔

    برطانیہ کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ’ہم ایتھنز میں ہونے والے مشتبہ دھماکے سے آگاہ ہیں اور مقامی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔‘

  3. ایران نے بعض اہم دفاعی تنصیبات اور صلاحیتوں کو زیرِ زمین منتقل کر دیا: وزارتِ دفاع

    Iran

    ایران نے اپنی عسکری صلاحیتوں اور ہتھیاروں کی تیاری کی استعداد کو مکمل طور پر آشکار ہونے سے بچانے کے لیے اپنی بعض اہم دفاعی تنصیبات اور صلاحیتوں کو زیرِ زمین ڈھانچے میں منتقل کر دیا ہے۔

    ایرانی وزارتِ دفاع کے ترجمان رضا طلائی نیک کے مطابق اس اقدام کا مقصد ملک کی دفاعی صلاحیتوں اور اسلحہ سازی کی استعداد کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کرنا دشمن کے لیے مشکل بنانا ہے۔

    ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق رضا طلائی نیک نے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ کے دوران امریکہ اپنے کسی بھی تزویراتی مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکا، جن میں خطے میں ایران کی سٹریٹجک پوزیشن کو نقصان پہنچانا بھی شامل تھا۔

    ان کے بقول، اس کے برعکس ایران نے ’دشمن پر قیمت عائد کی‘ اور اسے نقصان پہنچایا۔

    ایرانی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے مزید کہا کہ ملک کی دفاعی طاقت میں اضافے کے ساتھ ساتھ داخلی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا بھی ضروری ہے۔

  4. جنگ کی کامیابی صرف حملہ پسپا کرنے تک محدود نہیں ہونی چاہیے: سابق ایرانی صدر حسن روحانی

    Hassan Rohani

    ایران کے سابق صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ جنگ میں کامیابی کو صرف حملے کا مؤثر جواب دینے یا اسے پسپا کرنے تک محدود نہیں سمجھا جانا چاہیے، بلکہ اس کا مقصد پائیدار سلامتی کا قیام، مستقبل میں جارحیت کے امکانات کو کم کرنا اور ملک کو دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہونا چاہیے۔

    حسن روحانی کا یہ بیان اس تنقید اور احتجاجی مظاہروں کے بعد سامنے آیا ہے جو ان کے حالیہ ریمارکس کے ردِعمل میں کیے گئے تھے۔

    سابق ایرانی صدر نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی گفتگو کا مقصد قومی اہداف کے حصول کے لیے عوامی حمایت کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا، نہ کہ جارحیت کے خلاف دفاع کے لیے کسی ریفرنڈم یا عوامی رائے شماری کی تجویز دینا۔

    انھوں نے زور دے کر کہا کہ ان کے مؤقف کو غلط انداز میں پیش کیا گیا۔ ان کے بقول، ’میں نے نہ ریفرنڈم کا ذکر کیا اور نہ ہی رائے شماری کی بات کی۔‘

    حسن روحانی نے کہا کہ ایران نے جنگ کا آغاز نہیں کیا اور جب ملک پر حملہ کیا جائے تو اس کا دفاع کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق، ’یہ ہمارے بنیادی اصولوں میں سے ایک ہے۔‘

    سابق صدر نے مزید کہا کہ وہ دراصل اس نکتے کی طرف توجہ دلانا چاہتے تھے کہ طویل المدتی قومی اہداف، جن میں ایران کی طاقت، خوشحالی، امن، قومی یکجہتی اور بین الاقوامی مقام کا استحکام شامل ہے، وسیع عوامی حمایت کے بغیر حاصل نہیں کیے جا سکتے۔

    حسن روحانی نے حال ہی میں ’باعزت طریقے سے جنگ کے خاتمے‘ پر بھی زور دیا تھا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’بظاہر کچھ لوگ مذاکرات سے نفرت کرتے ہیں۔‘

    ان کے مطابق، ’ہمیں عوام کی بھاری اکثریت کی خواہشات کے مطابق وقار کے ساتھ جنگ کا خاتمہ کرنا چاہیے تاکہ ملک کی تعمیرِ نو کی جا سکے اور ہونے والے نقصانات کا ازالہ کیا جا سکے۔‘

    ان بیانات کے بعد حکومت کے حامی حلقوں کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ حالیہ دنوں میں بعض مظاہرین سابق صدر کے گھر کے باہر جمع ہوئے اور ان کے خلاف کارروائی اور ’مقدمہ چلانے‘ کا مطالبہ بھی کیا۔

  5. مجتبیٰ خامنہ ای مکمل صحت مند ہیں، دو بار ملاقات کر چکا ہوں: مسعود پزشکیان

    Iran

    ایرانی صدر کا کہنا ہے کہ وہ اب تک رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای سے دو بار ملاقات کر چکے ہیں۔ مسعود پزشکیان نے امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز کو بتایا ہے کہ اقتدار سنبھالنے کے بعد گذشتہ سات ماہ کے دوران وہ دو مرتبہ ایران کے رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کر چکے ہیں۔

    مسعود پزشکیان نے کہا کہ ’میں نے رہبر اعلیٰ کے ساتھ کئی گھنٹے گزارے ہیں اور اس دوران ان میں کسی قسم کی جسمانی کمزوری یا تکلیف کے آثار نہیں دیکھے۔ ہم فرش پر بیٹھ کر گفتگو کرتے رہے۔ چونکہ ہمیں اس انداز کی عادت نہیں تھی، اس لیے ہم وقفے وقفے سے اپنی نشست بدلتے رہے، لیکن وہ تمام وقت ایک ہی جگہ بیٹھے رہے اور جسمانی طور پر مکمل طور پر توانا دکھائی دیے۔‘

    اس انٹرویو کا متن ایرانی ایوانِ صدر کی سرکاری ویب سائٹ پر بھی شائع کیا گیا ہے۔

    ایرانی صدر نے کہا کہ مجتبیٰ خامنہ ای ’طبی اعتبار سے بالکل صحت مند ہیں‘۔ ان کے بقول، ’یہ بات آپ مجھ سے سن رہے ہیں، جو پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر بھی ہوں، لہٰذا اسے قبول کیجیے کہ انھیں کوئی صحت کا مسئلہ درپیش نہیں۔‘

    یاد رہے کہ 29 مارچ کو اپنے والد کی اسرائیلی اور امریکی حملے میں ہلاکت کے بعد جانشین مقرر کیے جانے کے باوجود مجتبیٰ خامنہ ای عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں اور نہ ہی انھوں نے کوئی ویڈیو یا آڈیو پیغام جاری کیا ہے۔

    سی بی ایس کے ایک سوال کے جواب میں کہ ’کیا آپ نے مجتبیٰ خامنہ ای سے امریکہ کے دورے کی اجازت طلب کی تھی؟‘، مسعود پزشکیان نے کہا کہ ’امریکہ آنے کے لیے ہمیں کسی اجازت کی ضرورت نہیں۔ ہم نے انھیں صرف اپنے دورے کے بارے میں آگاہ کیا تھا، تاہم ہمارے سرکاری دوروں کا فیصلہ حکومت خود کرتی ہے۔‘

    مسعود پزشکیان اس سے قبل فاکس نیوز کو بھی بتا چکے ہیں کہ ایران کے رہنما ’مکمل صحت مند‘ ہیں اور اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔

  6. ’سات دن ہیں، افہام و تفہیم سے مسئلہ حل کر لیں‘، سہیل آفریدی کا وفاق کو پیغام, بلال احمد، بی بی سی اردو ڈاٹ کام۔ پشاور

    Sohail Afridi

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کو مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومت مسائل کا حل چاہتی ہے تو آئندہ سات دنوں کے دوران افہام و تفہیم کے ذریعے راستہ نکالا جا سکتا ہے، تاہم پاکستان تحریک انصاف کا چار اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا فیصلہ اٹل ہے۔

    وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ تحریک انصاف نے لانگ مارچ کی کال دینے سے پہلے ہی مذاکرات کی بات کی تھی، لیکن اس وقت حکومت نے کوئی پیش رفت نہیں کی۔ انھوں نے سوال اٹھایا کہ اب احتجاج کے قریب آ کر مذاکرات کی ضرورت کیوں محسوس کی جا رہی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ چار اکتوبر صرف شروعات ہے اور اگر عوام سڑکوں پر نکل آئے تو حکومت برقرار نہیں رہ سکے گی۔ انھوں نے کہا کہ ’اس دفعہ نکلے تو واپس نہیں آئیں گے‘ اور واپسی کا فیصلہ حکومت کے مستقبل سے جڑا ہوگا۔

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ سیاسی کمیٹی نے لانگ مارچ کے آغاز میں تاخیر کا فیصلہ حکمت عملی کے تحت کیا تھا تاکہ حکومت کو معاملات حل کرنے کا موقع دیا جا سکے۔ انھوں نے کہا کہ تحریک انصاف اب بھی مسائل کے سیاسی حل کی خواہاں ہے۔

    بانی پی ٹی آئی کی رہائی اور سہولیات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ گذشتہ نو ماہ کے دوران انھوں نے تمام قانونی راستے اختیار کیے، عدالتوں سے رجوع کیا اور کوشش کی کہ بانی پی ٹی آئی کا علاج ان کے ذاتی ڈاکٹروں کی نگرانی میں اور اہل خانہ کی موجودگی میں ہو، لیکن ان کی کوئی بات نہیں سنی گئی۔

    انھوں نے کہا کہ اب حکومت کی جانب سے رابطے کر کے احتجاج ملتوی کرنے کا کہا جا رہا ہے، حالانکہ گذشتہ نو ماہ کے دوران ان کے مطالبات پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

    سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ لانگ مارچ کے لیے گاڑیوں اور بڑی تعداد میں موٹرسائیکلوں کا انتظام کر لیا گیا ہے اور اگر کسی قسم کی ’مہم جوئی‘ کی گئی تو عوام 24 گھنٹوں کی کال پر سڑکوں پر نکل آئیں گے۔

    اپنی ممکنہ نااہلی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر انھیں عہدے سے ہٹایا گیا یا نااہل قرار دیا گیا تو ان کا متبادل عمران خان خود طے کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ ’نااہلی کی صورت میں میں مزید خطرناک ہو جاؤں گا‘ اور اگر انھیں ہٹایا گیا تو لوگ سڑکوں پر نکل آئیں گے۔

    جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ اگر وہ تحریک انصاف کے مؤقف کے قریب آتے ہیں تو ان کا خیر مقدم کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ انھیں یقین ہے کہ مولانا فضل الرحمان بالآخر ان کی ’پچ‘ پر آئیں گے۔

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ یہ بیان منصوبہ بندی کے تحت دیا گیا اور اس سے ملک میں نفرت کے ماحول کو فروغ مل رہا ہے۔

    انھوں نے وفاقی حکومت کی معاشی کارکردگی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف کے دور میں کئی بجٹ پیش کیے جا چکے ہیں لیکن قرضوں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔

    سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر وزارتِ اعلیٰ کی کرسی ان کے مقصد اور نظریے کی راہ میں رکاوٹ بنی تو وہ یہ عہدہ چھوڑنے میں دیر نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا، ’میں ٹیپو سلطان بننا پسند کروں گا۔‘

  7. ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درازندہ میں دھماکہ، 11 ہلاک، 30 زخمی

    DIK
    ،تصویر کا کیپشنریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ اب تک 30 زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا جا چکا ہے

    ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درازندہ میں امن میلہ کے قریب ہونے والے دھماکے میں کم از کم 11 افراد ہلاک اور 30 زخمی ہو گئے ہیں۔

    ریسکیو 1122 کے مطابق دھماکے کی اطلاع ملتے ہی درازندہ سٹیشن کی امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور امدادی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا گیا۔ بعد ازاں ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر محمد عارف خان کی ہدایت پر ڈیرہ اسماعیل خان سے مزید چار ایمبولینسز اور اضافی عملہ بھی روانہ کیا گیا۔

    ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ اب تک 30 زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا جا چکا ہے، جبکہ 11 افراد کی لاشیں بھی جائے وقوعہ سے برآمد کر لی گئی ہیں۔

    ریسکیو 1122 کے مطابق امدادی ٹیمیں بدستور موقع پر موجود ہیں اور زخمیوں کو نکالنے اور طبی امداد کی فراہمی کا عمل جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ دھماکے کی نوعیت اور اسباب کے بارے میں مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔

  8. اگر کوئی رکنِ اسمبلی قتل بھی کر دے تو کیا گرفتاری کے لیے سپیکر کی اجازت درکار ہوگی؟ محسن نقوی کا خیبر پختونخوا حکومت کے مراسلے پر سوال

    Pezeskian

    خیبر پختونخوا اسمبلی سیکریٹریٹ نے صوبائی اسمبلی کے ارکان کی گرفتاری، حراست یا تحویل میں لینے کے طریقۂ کار سے متعلق انسپکٹر جنرل پولیس خیبر پختونخوا کو باضابطہ مراسلہ جاری کر دیا ہے، جس میں قانون کے تحت مقررہ طریقہ کار پر سختی سے عمل درآمد کی ہدایت کی گئی ہے۔

    سوشل میڈیا پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے خیبر پختونخوا اسمبلی کے ارکان کی گرفتاری سے قبل سپیکر کی اجازت لازمی قرار دینے کے نوٹیفکیشن پر تنقید کی ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں محسن نقوی نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں اب اگر کسی رکنِ صوبائی اسمبلی پر کسی فوجداری جرم کا الزام بھی ہو تو پولیس اس کی گرفتاری سے پہلے سپیکر کی اجازت لینے کی پابند ہوگی۔

    انھوں نے سوال اٹھایا کہ ’اگلا قدم کیا ہوگا؟ اگر کوئی رکنِ اسمبلی کسی شخص کو قتل کر دے تو کیا پولیس اس کی گرفتاری کے لیے بھی پہلے سپیکر کی اجازت کا انتظار کرے گی؟‘

    محسن نقوی نے مزید کہا کہ یہ ’قانون کے سامنے برابری‘ کے اصول کی ایک غیر معمولی تشریح ہے۔ انھوں نے طنزیہ انداز میں کہا، ’شاباش، اسی طرح جاری رکھیں۔ کیا یہی ریاستِ مدینہ ہے؟‘

    25 ستمبر 2026 کو جاری کیے گئے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا صوبائی اسمبلی (اختیارات، استثنیٰ اور مراعات) ایکٹ 2026 کی دفعہ 11 کے مطابق کسی رکنِ صوبائی اسمبلی کو کسی فوجداری الزام یا جرم کے تحت گرفتار کرنے یا انتظامی حکم کے تحت حراست میں لینے سے پہلے سپیکر اسمبلی سے پیشگی اجازت حاصل کرنا ضروری ہو گی۔

    مراسلے کے مطابق متعلقہ مجسٹریٹ یا انتظامی اتھارٹی کو گرفتاری یا حراست کی وجوہات تحریری طور پر سپیکر کو فراہم کرنا ہوں گی۔ قانون کے تحت سپیکر اگر اسے عوامی مفاد میں ضروری سمجھیں تو متعلقہ پولیس افسر سے پولیس رپورٹ یا چالان طلب کر سکتے ہیں تاکہ معاملے کے حقائق کا جائزہ لیا جا سکے۔

    نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ سپیکر اپنے صوابدیدی اختیارات استعمال کرتے ہوئے عدالت میں چالان جمع کرانے سے پہلے مزید انکوائری کا حکم بھی دے سکتے ہیں۔

    صوبائی اسمبلی سیکریٹریٹ نے آئی جی پولیس اور دیگر متعلقہ حکام سے کہا ہے کہ کسی بھی رکنِ صوبائی اسمبلی کی گرفتاری یا حراست کی صورت میں مذکورہ قانونی تقاضوں اور طریقہ کار کی مکمل پابندی کو یقینی بنایا جائے۔

  9. امریکہ کی غلطی کی صورت میں مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈے نشانہ بنیں گے، ایران کی فوجی قیادت کا انتباہ

    ایران کی اعلیٰ فوجی کمان خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر نے خبردار کیا ہے کہ اگر واشنگٹن نے ایران کے خلاف ’کوئی غلطی‘ کی تو خطے میں موجود تمام امریکی فوجی تنصیبات، تعیناتی مراکز اور مفادات کو نشانہ بنایا جائے گا۔

    نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی مہر کے مطابق یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تہران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق اپنے سات روزہ منصوبے پر امریکہ کے ردعمل کا منتظر ہے۔

    مہر نیوز ایجنسی نے کہا کہ خطہ اس وقت ’سلامتی کے انتہائی حساس مرحلے‘ سے گزر رہا ہے، جہاں امریکی فوجی نقل و حرکت کشیدگی میں اضافے کے خدشات کو بڑھا رہی ہے، جبکہ سفارتی رابطے اور ثالثی کی کوششیں بھی جاری ہیں۔

    ایجنسی کے مطابق تہران کا مؤقف یہ ہے کہ ’ایران جنگ کا آغاز نہیں کرے گا، لیکن اگر دشمن جنگ مسلط کرتا ہے تو ایران اپنی سلامتی اور علاقائی خودمختاری کے دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہے۔‘

  10. امریکی پابندیوں اور اسرائیلی مؤقف کے باوجود ایران ثابت قدم رہے گا، صدر پزشکیان

    Masood Pezeshkian

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ جن لوگوں نے یہ سمجھا کہ پابندیوں کے ذریعے ایرانی عوام کو نشانہ بنا کر انھیں کمزور کیا جا سکتا ہے، انھوں نے غلط اندازہ لگایا۔ ان کے بقول امریکہ اور اسرائیل ایران کو خود انحصاری سے روکنا چاہتے ہیں، تاہم ایران اپنے عوام اور داخلی صلاحیتوں میں سرمایہ کاری جاری رکھے گا۔

    قطر کے ٹی وی چینل الجزیرہ کو دیے گئے انٹرویو میں مسعود پزشکیان نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل نے خطے کے بعض ممالک کو جنگ میں گھسیٹ لیا، کیونکہ انھیں یقین تھا کہ ایرانی نظام چند دنوں میں گر جائے گا۔ تاہم، ان کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام امریکی اور اسرائیلی حملوں کے سامنے ڈٹے رہے ہیں اور آئندہ بھی ثابت قدم رہیں گے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ خطے کی سلامتی علاقائی ممالک کے باہمی تعاون سے ممکن ہے اور خطے کو کسی ’چوکیدار‘ یا بیرونی طاقت کی ضرورت نہیں۔

    ’امریکہ اور اسرائیل مسلم ممالک کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کر رہے ہیں‘

    مسعود پزشکیان نے الزام عائد کیا کہ اسرائیل اور امریکہ خطے کی دولت پر کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے مسلم ممالک کو ایک دوسرے کے خلاف صف آرا کر رہے ہیں۔

    ان کے مطابق ایران پر حملے بعض مسلم ممالک کی فضائی حدود استعمال کرتے ہوئے کیے گئے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’دشمن‘ ایرانی حکام کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن آج ایران میں غیر معمولی اتحاد اور یکجہتی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

    ’یمن میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس کا ایران سے تعلق نہیں‘

    یمن کے حوالے سے ایرانی صدر نے کہا کہ حوثی گروہ اور سعودی عرب کو اپنے اختلافات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے چاہییں اور ایران اس تنازع کے حل میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’یمن میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس کا ایران سے کوئی تعلق نہیں‘ اور ایران ہر اس قوم کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا ہے جو ناانصافی کا شکار ہو۔

    مسعود پزشکیان نے زور دے کر کہا کہ ایران جنگ کا خواہاں نہیں ہے اور ’ایک بھائی کو اپنے بھائی سے نہیں لڑنا چاہیے‘۔

  11. ایرانی پروازوں پر امریکی پابندیاں، عراق کا بعض ہوائی اڈوں کے لیے استثنیٰ کا مطالبہ

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    عراقی وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ نئے امریکی پابندیوں سے عراق کے بعض ہوائی اڈوں کو استثنیٰ دلانے کے لیے امریکی حکام سے براہِ راست مذاکرات کر رہا ہے۔

    امریکہ نے حالیہ پابندیوں کے تحت ان ہوائی اڈوں کو بھی پابندیوں کی زد میں لانے کی دھمکی دی ہے جہاں ایرانی پروازوں کو سہولت یا خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں گذشتہ چند روز کے دوران عراق سمیت پڑوسی ممالک کے لیے متعدد ایرانی پروازیں معطل ہو گئی ہیں۔

    عراقی وزیر اعظم کے دفتر نے سنیچر کو جاری بیان میں کہا کہ مذاکرات کا مقصد ایسا استثنیٰ حاصل کرنا ہے جس سے طبی علاج، تعلیم، مذہبی زیارات اور شہری امور سمیت انسانی بنیادوں پر فضائی سفر بحال کیا جا سکے۔

    بیان میں کہا گیا کہ عراق خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ اس بات پر زور دیتا ہے کہ بحران کا جاری رہنا صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دے گا۔

    عراق نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ موجودہ بحران اور تنازعات کے خاتمے کے لیے مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے ایسے حل تلاش کیے جائیں جو خطے کے ممالک اور عوام کے مفاد میں ہوں۔

  12. اسرائیلی فوج کے مقبوضہ مغربی کنارے کی کئی بستیوں پر چھاپے

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    فلسطینی خبر رساں ادارے وفا کے مطابق اسرائیلی فورسز نے آج صبح مقبوضہ مغربی کنارے میں یروشلم کے شمال میں واقع کفر عقب قصبے اور البیرہ شہر پر چھاپے مارے۔

    رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فورسز نے کفر عقب کی سڑکوں پر اپنی گاڑیاں چلائیں اور پھر البیرہ کی جانب روانہ ہوئیں، جہاں انھوں نے مختلف علاقوں میں داخل ہو کر العماری پناہ گزین کیمپ میں سٹن گرینیڈ پھینکے۔

    ابھی تک اس حملے کے بارے میں کوئی سرکاری رپورٹ جاری نہیں کی گئی۔

  13. اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت ای سی او وزرائے خارجہ کا غیر رسمی اجلاس، علاقائی تعاون پر زور

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے نیویارک میں اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کے وزرائے خارجہ کے 27ویں غیر رسمی اجلاس کی صدارت کی۔

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ہونے والے اجلاس میں علاقائی اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے خطے اور مشرق وسطیٰ کی موجودہ سکیورٹی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تنازعات کے پرامن حل اور علاقائی تعاون بڑھانے پر زور دیا۔

    اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کی ای سی او کی 2026-27 کی صدارت کے دوران ترجیحات میں علاقائی تجارت، معاشی انضمام، وسطی ایشیا کو بحیرہ عرب سے ملانے والے رابطہ اور ٹرانزٹ منصوبوں کو مضبوط بنانا اور موسمیاتی لچک کے لیے تعاون بڑھانا شامل ہے۔

    اجلاس میں ای سی او کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی، جبکہ تنظیم کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر اسد مجید خان نے بھی اجلاس کو بریفنگ دی۔

  14. جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں پر اسرائیلی بمباری

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے صور کے علاقے میں منصوری اور مجدل زون کے علاقوں پر گولہ باری کی۔

    خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی فورسز نے مجدل زون کے مضافات میں واقع وادی حسن کو بھی توپ خانے سے نشانہ بنایا۔

    رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فورسز نے مقامی وقت کے مطابق نصف شب کے بعد نبطیہ گورنری کے علاقے بنت جبیل میں برعشیت اور حداثا کے علاقوں پر بھی بمباری کی۔

    اس دوران صور شہر اور اس کے اطراف کے قصبوں اور دیہات کے اوپر اسرائیلی جنگی طیاروں کی نچلی پروازوں کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

  15. دُکی میں تعمیراتی کمپنی کے کیمپ پر مسلح افراد کا حملہ، 12 مزدور اغوا، سکیورٹی گارڈ ہلاک, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع دُکی میں نامعلوم مسلح افراد نے تعمیراتی کمپنی کے کیمپ پر حملہ کر کے ایک سکیورٹی گارڈ کو ہلاک اور دوسرے کو زخمی کر دیا، جبکہ 12 مزدوروں کو اغوا کر لیا گیا۔

    دُکی پولیس کے سربراہ منصور احمد بزدار نے بتایا کہ گذشتہ شب تقریباً ساڑھے 10 بجے 30 سے زائد مسلح افراد نے پلڑی کے علاقے میں سڑک تعمیر کرنے والی کمپنی کی سائٹ پر حملہ کیا۔

    ان کے مطابق حملے میں ایک نجی سکیورٹی گارڈ ہلاک جبکہ دوسرا زخمی ہوا۔ حملہ آوروں نے کمپنی کی چار گاڑیوں کو بھی نذرِ آتش کیا اور فرار ہوتے ہوئے 12 مزدوروں کو اغوا کر لیا، جن میں سے 10 کا تعلق پنجاب سے ہے۔

    منصور احمد بزدار کے مطابق اطلاع ملتے ہی پولیس اور ایف سی کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی، جبکہ حملہ آوروں کے خلاف کارروائی اور مغوی مزدوروں کی بحفاظت بازیابی کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ کمپنی ایک بڑے منصوبے پر کام کر رہی ہے، تاہم کمپنی کی جانب سے سکیورٹی کے لیے مناسب انتظامات نہیں کیے گئے تھے۔

    دُکی بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے تقریباً 315 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے۔ ضلع کے بعض علاقوں میں طویل عرصے سے وقفے وقفے سے بدامنی کے واقعات پیش آتے رہے ہیں، تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال میں بہتری کے لیے اقدامات جاری ہیں اور ماضی کے مقابلے میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔

  16. این اے 168 بہاولپور میں ضمنی انتخاب کی تیاری مکمل، چار لاکھ سے زائد ووٹرز کل اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے: الیکشن کمیشن آف پاکستان

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان کے صوبہ پنجاب میں قومی اسمبلی کی نشست ’این اے 168 بہاولپور‘ میں کل یعنی بروز اتوار ضمنی انتخاب ہونے جا رہا ہے۔

    بہاولپور کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 168 میں ضمنی انتخاب کے لیے پولنگ 27 ستمبر کو ہوگی جہاں چار لاکھ 83 ہزار سے زائد ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے، جبکہ پولنگ کے لیے 292 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں۔

    قومی اسمبلی کی یہ نشست مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی ملک محمد اقبال چنڑ کی وفات کے بعد خالی ہوئی تھی۔

    ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ ن نے مرحوم اقبال چنڑ کے صاحبزادے ملک منیر اقبال چنڑ کو امیدوار نامزد کیا ہے، جبکہ دیگر امیدواروں میں ولی داد چیمہ بھی شامل ہیں جو سابق وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ کے صاحبزادے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ ن کے امیدوار کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ضمنی انتخاب کے حوالے سے عوام کی شکایات کے اندراج اور بروقت ازالے کے لیے الیکشن مانیٹرنگ اینڈ کنٹرول سنٹر (EMCC) قائم کیا ہے۔

    کمیشن کے مطابق شکایات کے فوری ازالے کے لیے چار سطحوں پر کنٹرول سنٹر قائم کیے گئے ہیں، جن میں الیکشن کمیشن سیکریٹریٹ اسلام آباد کے علاوہ صوبائی، ڈویژن اور ضلعی سطح کے کنٹرول روم شامل ہیں۔

    کنٹرول سنٹر میں سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کی مانیٹرنگ کی سہولت بھی موجود ہے، جبکہ ای ایم سی سی آج سے نتائج موصول ہونے تک شکایات وصول کرے گا اور پولنگ کے دن سے نتائج موصول ہونے تک مسلسل کام کرے گا۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق عوام انتخاب سے متعلق شکایات complaints@ecp.gov.pk پر ای میل کے ذریعے درج کرا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ 051111327000 ہیلپ لائن اور 0519204404 فیکس نمبر کے ذریعے بھی شکایات بھیجی جا سکتی ہیں۔

  17. ایرانی صدر مسعود پزشکیان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے بعد نیویارک سے تہران روانہ

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    ایرانی میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک جانے والے ایرانی صدر مسعود پزشکیان تہران کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔

    دورے کے دوران مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل، لبنان اور پاکستان سمیت بعض ممالک کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں جبکہ فاکس نیوز اور سی بی ایس کو انٹرویوز بھی دیے۔

    اخبار دی گارڈین نے رپورٹ کیا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی، جو ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے پہلے نیویارک پہنچے تھے، اتوار تک وہیں رہنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

  18. ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو ’ٹرمپ سٹریٹ‘ کہا، نام تبدیل کرنے کا نقشہ جاری کر دیا

    @realDonaldTrump

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹرتھ سوشل‘ پر آبنائے ہرمز کا ایک نقشہ جاری کیا ہے، جس پر ’ٹرمپ سٹریٹ‘ کے الفاظ درج ہیں۔

    یہ نقشہ ایسے وقت میں دوبارہ جاری کیا گیا ہے جب ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ’تہران نے قطر کے ذریعے امریکہ کو اپنا سات روزہ منصوبہ پیش کیا ہے۔‘ ان کے مطابق اگر واشنگٹن اس منصوبے کو قبول کر لیتا ہے تو اس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کھولی جا سکتی ہے اور وہاں بحری آمدورفت معمول پر آ سکتی ہے۔

    دوسری جانب وال سٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے اس منصوبے کو مسترد کر دیا ہے اور اپنے معاونین سے کہا ہے کہ وہ ممکنہ طور پر نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ بمباری شروع کر دیں گے۔

  19. خلیج تعاون کونسل کے سیکریٹری جنرل کی سعودی عرب پر حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں کی مذمت

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے سیکریٹری جنرل جاسم محمد البدیوی نے ریاض اور خمیس مشیط شہروں کو نشانہ بنانے کے لیے حوثیوں کی جانب سے کیے گئے حالیہ بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔

    البدیوی نے سعودی عرب کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مملکت کو اپنی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق حاصل ہے۔

    انھوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ حوثیوں کو ان کے اقدامات کا جواب دہ بنانے کے لیے دوٹوک مؤقف اختیار کرے۔

    اس سے قبل یمن میں سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے کہا تھا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے حوثیوں کی جانب سے ریاض کے علاقے اور خمیس مشیط کی طرف داغے گئے ڈرونز اور ایک بیلسٹک میزائل کو روک کر تباہ کر دیا۔

  20. امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف فوجی کارروائی میں یورپ کو جوابدہ ہونا چاہیے: اسماعیل بقائی

    IRNA
    ،تصویر کا کیپشنایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی (فائل فوٹو)

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ’یورپی یونین، اس کے رکن ممالک اور نیٹو کے رکن ممالک کو ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی فوجی کارروائی میں اپنے کردار اور شرکت پر جوابدہ ہونا چاہیے۔‘

    اسماعیل بقائی نے ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ ’نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے کا بیان اس بات کا ایک اور واضح اعتراف ہے کہ یورپ نے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ میں جان بوجھ کر اور فعال طور پر حصہ لیا، حالانکہ جنگ کے دوران اس کی بارہا تردید کی جاتی رہی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’یورپی حکومتوں کی جانب سے فوجی، سیاسی، لاجسٹک یا دیگر معاونت، جس کے نتیجے میں ہلاکتیں اور تباہی ہوئی، کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔‘

    ان کے بقول یورپی شہریوں کو اپنی حکومتوں سے اس جنگ کی حمایت یا اس میں شرکت سے متعلق فیصلوں پر جواب طلب کرنے کا حق ہے۔

    بقائی نے مزید کہا کہ ’ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی دیگر مشکلات کو بھی اس تناظر میں دیکھا جانا چاہیے کہ یورپی حکومتوں نے اس جنگ کی حمایت اور معاونت میں کیا کردار ادا کیا۔‘