’پانی بہت گرم ہے ممی‘: پانچ سالہ بچی کی قاتل سوتیلی ماں جو 50 برس تک سزا سے بچتی رہیں

- مصنف, سونجا جیسپ
- عہدہ, بی بی سی لندن
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
انتباہ: اس تحریر میں پریشان کن تفصیلات شامل ہیں
پولیس سٹیشن میں داخل ہونے والے شخص نے پولیس افسران کو بتایا کہ وہ ایک خوف ناک راز کا انکشاف کرنا چاہتا ہے، ایسا راز جو وہ تقریباً نصف صدی سے اپنے دل میں چھپائے ہوئے ہے۔
ستمبر 2022 کو اتوار کے روز لندن کے علاقے کروئڈن کے پولیس سٹیشن میں داخل ہونے والے اس شخص کا نام ڈیسمنڈ برنارڈ تھا۔
برنارڈ نے بتایا کہ سنہ 1978 میں ان کی سوتیلی ماں نے گھر میں ابلتا ہوا گرم پانی ڈال کر ان کی پانچ سالہ بہن اینڈریا کو قتل کر دیا تھا۔ یہ موت ایک حادثہ قرار دی گئی تھی۔
اس وقت برنارڈ صرف آٹھ سال کے تھے۔ انھوں نے پولیس افسران کو بتایا کہ جینس نکس نے انھیں جھوٹ بولنے کا حکم دیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ وہ دونوں بہن بھائی ہر وقت نکس کی جانب سے دی جانے والی سزاؤں کے خوف میں مبتلا رہتے تھے۔ ان کی سوتیلی والدہ انھیں مارتی پیٹتی تھیں اور بلی کا کھانا کھانے پر مجبور کرتی تھیں۔
منگل کے روز آئزل ورتھ کراؤن کورٹ میں ایک جیوری نے 67 سالہ نکس کو اینڈریا کے غیر ارادی قتل اور برنارڈ کے ساتھ بد سلوکی کا مجرم قرار دیا۔

،تصویر کا ذریعہDesmond Bernard
اس کیس کی تفتیش کرنے والی پولیس کا کہنا ہے کہ اگر کئی دہائیوں بعد برنارڈ بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے سامنے نہ آتے تو نکس کو کبھی انصاف کے کٹہرے میں نہ لایا جا سکتا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
میٹروپولیٹن پولیس کی ڈٹیکٹیو فران ہومر کے مطابق جب نومبر 2022 میں نکس کو ابتدائی تفتیش کے لیے تھانے بلایا گیا تو وہ پریشان دکھائی نہیں دیں۔
ابتدا میں ہر سوال پر ان کا جواب ہوتا تھا ’نو کمنٹ‘۔ یعنی انھوں نے کسی بھی سوال کا جواب دینے سے انکار کیا۔
ہومر کہتی ہیں کہ ’مجھے لگا جیسے وہ جانتی تھیں کہ وہ کیا کر رہی ہیں‘ کیوں کہ اس وقت ایک بالغ کے مؤقف یا بیان کا مقابلہ ایک بچے کے بیان سے تھا، تو نکس کو لگتا تھا کہ وہ بچ جائیں گی۔
جینس نکس قانون سے متعلق مسائل میں مبتلا ہونے کی عادی تھیں۔ انھوں نے ایک یادداشت بھی لکھی تھی اور اس میں اپنے ماضی کا ذکر لندن کی ایک بد نام منشیات فروش کے طور پر کیا تھا، جسے ’ماما جے‘ کہا جاتا تھا۔
سنہ 2021 میں بی بی سی سے گفتگو میں انھوں نے بتایا تآس کہ آخرکار انھوں نے جرم کی زندگی چھوڑ کر ایک پروبیشن آفیسر بننے کا فیصلہ کیا۔ (پروبیشن آفیسر حکومت کی طرف سے تعینات کیا گیا ایسا اہلکار ہوتا ہے جو عدالت کے حکم پر رہا کیے گئے مجرموں یا زیر نگرانی افراد پر نظر رکھتا ہے۔)

،تصویر کا ذریعہPA Media
تقریباً 20 سال پہلے جیل سے پہلی رہائی کے بعد نکس نے کہا تآس کہ مجرمانہ ریکارڈ کی وجہ سے ملازمت برقرار رکھنے میں انھیں مشکلات پیش آئیں، جس سے وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہوئیں۔
دسمبر 2016 میں نکس کو ایک سرکاری کمیٹی کے سامنے بطور گواہ پیش ہونے کی دعوت دی گئی، جہاں انھوں نے ایک سابق مجرم کے طور پر ملازمت میں درپیش مشکلات بیان کیں۔
انھوں نے کہا: ’مجھے لگا کہ معاشرہ معاف کرنے والا نہیں ہے، چاہے آپ لوگوں کو یہ دکھانے کی پوری کوشش کریں کہ آپ بدل چکے ہیں۔‘
’بیان میں تضاد‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
پولیس کے مطابق نکس نے چھ جون 1978 کو اینڈریا کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے بارے میں جو بیان دیا، تفتیش کے ابتدائی مرحلے میں ہی اس بیان میں تضادات سامنے آنے لگے۔
ابلتے پانی سے اینڈریا کے جسم کا آدھا حصہ جھلس گیا تھا اور وہ پانچ ہفتے تک تکلیف میں رہنے کے بعد 13 جولائی کو ہسپتال میں دم توڑ گئی تھیں۔
اُس وقت کوئی پولیس تفتیش نہیں ہوئی تھی۔ سرکاری وکیل استغاثہ کے مطابق اینڈریا کی موت سے متعلق تحقیقات صرف آدھے دن میں مکمل ہو گئی تھیں۔
انھوں نے کہا: ’آج کے جدید دور میں قتل کے مقدمات سے نمٹنے کا طریقہ بالکل مختلف ہے۔ آج فون کا ڈیٹا، سی سی ٹی وی فوٹیج اور آواز سمیت کئی دستاویزی ثبوت دستیاب ہوتے ہیں۔ اور جب آپ اتنا پیچھے جائیں تو گواہ بھی فوت ہو چکے ہوتے ہیں۔‘
ہومر نے بتایا کہ ہسپتال کے کوئی ریکارڈ محفوظ نہیں تھے اور افسران نے مقامی عجائب گھروں کے آرکائیو بھی تلاش کیے تاکہ کیس سے متعلق کچھ مل سکے۔ انھوں نے سابق پڑوسیوں کو تلاش کرنے کی بھی کوشش کی، لیکن کسی کے پاس متعلقہ معلومات نہیں تھیں۔
تاہم ان کے مطابق موت کی وجہ جاننے سے متعلق کی گئی تفتیش کی رپورٹ ملی جس میں اس وقت نکس کا بیان شامل تھا۔ اُس بیان میں اور حالیہ بیان میں اتنے تضادات ہیں، جن کی نکس وضاحت نہیں کر سکیں۔

،تصویر کا ذریعہJanice Nix
نکس کو فروری 2025 میں اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ اینٹیگوا سے لندن واپس پہنچیں اور اسی دن ان پر اینڈریا کے غیر ارادی قتل اور اکتوبر 1975 سے جون 1978 کے درمیان برنارڈ کے ساتھ بد سلوکی کرنے کے الزامات عائد کیے گئے۔
ہومر نے کہا کہ نکس حیران نظر آئیں۔
’میں صرف مار سے بچنا چاہتا تھا‘
مقدمے کے دوران جیوری کو بتایا گیا کہ 1978 میں نکس نے دعویٰ کیا تھا کہ اینڈریا نے خود غسل کیا اور بعد میں بے ہوش ہونے سے پہلے ’ٹانگوں میں خارش‘ کی شکایت کی۔
نکس نے تسلیم کیا کہ اینڈریا کی موت کی وجہ جاننے کے لیے جو تفتیش کی گئی تھی، اس میں انھوں نے غلط بیان دیا، اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اصل میں وہ بچی کی نگرانی کرنے میں ناکام رہنے پر ’گھبرا گئی‘ تھیں۔
انھوں نے اسے اپنی ’لا پروائی‘ قرار دیا، جو ان سے 19 برس کی عمر میں سرزد ہوئی اور جیوری کو بتایا کہ وہ باغبانی میں مصروف تھیں جب انھوں نے اینڈریا کی چیخیں سنیں اور چند ہی لمحوں میں اسے پانی سے نکال لیا۔
ہومر نے کہا کہ ان کے کئی دعوے ’سمجھ سے بالا تر‘ تھے اور ماہرین نے بھی انھیں مسترد کیا۔ نکس کے دعوؤں میں ایک یہ بھی تھا کہ بری طرح جھلسنے کے باوجود اینڈریا بات کر سکتی تھیں اور یہ کہ پانی بوائلر خراب ہونے کی وجہ سے زیادہ گرم ہو گیا تھا۔

نکس نے عدالت میں اصرار کیا کہ انھوں نے کبھی بچوں پر تشدد نہیں کیا، لیکن ڈیسمنڈ برنارڈ نے گھر کے حالات کی بالکل مختلف تصویر پیش کی، جو اب 56 سال کے ہو چکے ہیں۔
انھوں نے جیوری کو بتایا کہ نکس بچوں کو باقاعدگی سے مارتیں۔ برنارڈ نے یہ بھی بتایا کہ ان کی سوتیلی والدہ نے انھیں سگریٹ سے جلایا اور بلی کا کھانا کھانے پر مجبور کیا۔
ڈیسمنڈ برنارڈ کے مطابق چھ جون کی دوپہر اینڈریا نے انھیں بتایا تھا کہ گھر صاف کرنے میں مدد نہ کرنے پر وہ مشکل میں ہیں۔
برنارڈ نے عدالت کو بتایا کہ نکس ان کی بہن پر چیخیں اور اسے مارا بھی۔ انھوں نے اینڈریا کو کہتے ہوئے سنا کہ: ’پانی بہت گرم ہے ممی‘ اور پھر پانی کے چھینٹوں اور چیخوں کی آوازیں آئیں۔
برنارڈ کے مطابق پھر نکس نے انھیں کہا کہ اگر وہ اس واقعے کو حادثہ بیان کریں گے ’تو وہ مجھے دوبارہ کبھی نہیں ماریں گی۔‘
استغاثہ کی وکیل کیری بروم نے جب پوچھا کہ انھوں نے جھوٹ کیوں بولا، تو برنارڈ نے جواب دیا: ’کیوں کہ میں خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتا تھا، میں صرف چاہتا تھا کہ یہ سب رک جائے۔‘
ہومر نے کہا: ’وہ دونوں نکس سے شدید خوف زدہ تھے۔‘
انھوں نے برنارڈ کو ’ایک غیر معمولی انسان‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے لیے عدالت میں اپنی سوتیلی ماں کو ’جھوٹ بول کر انھیں بد نام کرنے کی کوشش کرتے دیکھنا‘ بہت مشکل تھا۔
انسپیکٹر لوئیس کیوین نے امید ظاہر کی کہ کیس سے ظاہر ہو گا کہ متاثرین کی بات سنی جاتی ہے، چاہے طویل عرصہ ہی کیوں نہ گزر چکا ہو۔
انھوں نے کہا: ’اگر برنارڈ نہ ہوتے، تو نہ یہ کیس ہوتا اور اینڈریا کے ساتھ کیا ہوا، اس کا بھی کوئی جواب نہ ملتا۔‘



























