مرد بانجھ پن کے بارے میں بات کرنے سے ہچکچاتے کیوں ہیں؟

مرد

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, جم ریڈ
    • عہدہ, نامہ نگار برائے صحت
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 13 منٹ

2020 کے وسط میں جب کووڈ لاک ڈاؤن نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا، لیوک اور ان کی اہلیہ نے بچے پیدا کرنے کا فیصلہ کیا۔

وہ کہتے ہیں: ’میری نوجوانی کے دوران ہمیشہ یہی پیغام دیا جاتا تھا کہ کنڈوم کے بغیر جنسی تعلق قائم نہ کرو، ورنہ آپ کسی کو حاملہ کر سکتے ہیں۔‘

’اس لیے جب آپ بڑے ہوتے ہیں تو آپ کو توقع ہوتی ہے کہ سب کچھ معمول کے مطابق ہو جائے گا۔ جب ایسا نہیں ہوتا تو آپ کو سمجھ نہیں آتی کہ کیا کرنا ہے یا کہاں جانا ہے۔‘

18 ماہ تک کوئی کامیابی نہ ملنے کے بعد، اس جوڑے نے اپنے ڈاکٹر سے ملاقات کی۔ مزید جانچ کے لیے انھیں ہسپتال اور ایک فرٹیلٹی کلینک بھیجا گیا۔

لیوک کہتے ہیں کہ اگلے تقریباً ایک سال تک تمام توجہ مکمل طور پر ان کی اہلیہ پر مرکوز رہی۔ تمام ملاقاتیں انھی کے نام پر تھیں۔ جب کاغذی کارروائی مکمل کرنی پڑی تو رابطہ بھی ان کی اہلیہ سے کیا گیا، حالانکہ ان کی اپنی تمام تفصیلات بھی ریکارڈ میں موجود تھیں۔

وہ کہتے ہیں: ’حقیقت میں پورا نظام اس مفروضے پر قائم ہے کہ یہ عورت کا مسئلہ ہے۔ مردوں سے متعلق پہلو کو تقریباً مکمل طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔‘

ایک سال سے زیادہ وقت کا عرصہ گزر جانے کے بعد لیوک کو یہ بتایا گیا کہ شاید ان کے سپرم میں کوئی مسئلہ ہے، اس دوران آئی وی ایف کا ایک مرحلہ بھی ناکام رہا۔

وہ کہتے ہیں: ’میں نے سوچا، آپ اب مجھے یہ بتا رہے ہیں؟ میرے معاملے سے متعلق بعض چیزوں کی جانچ بہت پہلے کی جا سکتی تھی۔ اس کے بجائے مجھے پورے عمل میں صرف ایک معاون کردار سمجھا گیا۔‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

بانجھ پن تقریباً ہر چھ میں سے ایک جوڑے کو متاثر کرتا ہے اور ان میں سے تقریباً نصف معاملات مردوں سے متعلق مسائل سے جڑے ہوتے ہیں، چاہے انفرادی سطح پر یا خواتین سے متعلق عوامل کے ساتھ مل کر۔

نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ہیلتھ اینڈ کیئر ایکسیلینس (نائس) کی تازہ ترین طبی ہدایات کے مطابق، وہ جوڑے جو 12 ماہ تک بغیر مانع حمل طریقوں کے جنسی تعلق قائم کرنے کے باوجود حاملہ ہونے میں ناکام رہیں، ان کی جانچ بھی مشترکہ طور پر ہونی چاہیے اور مرد و عورت دونوں کو ایک ہی وقت میں مزید ٹیسٹوں کی پیشکش کی جانی چاہیے۔

اس کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ مردوں کو اکثر تشخیص، علاج اور تولیدی صحت سے متعلق گفتگو میں پس منظر میں رکھا جاتا ہے۔

یونیورسٹی کالج لندن کی پروفیسر بولا گریس کہتی ہیں: ’اگر یہ جان بوجھ کر نہ بھی کیا جائے، پھر بھی عملی طور پر مردوں کو ان تمام معاملات سے باہر رکھا جا سکتا ہے۔ مرد ہمیں بتاتے ہیں کہ مختلف خدمات، نگہداشت کے طریقہ کار، فرٹیلٹی کلینکس اور حتیٰ کہ کونسلنگ میں بھی ایسا ہو سکتا ہے۔‘

2019 میں پروفیسر گریس کی سربراہی میں کی گئی ایک تحقیق سے معلوم ہوا کہ بہت سے مرد تولیدی عمل میں زیادہ شامل ہونا چاہتے تھے، لیکن انھیں اکثر محسوس ہوتا تھا کہ ان کی آواز نہیں سنی جاتی۔

پروفیسر کا کہنا ہے کہ اس کا نتیجہ ایک ایسے چکر کی صورت میں نکلتا ہے جو خود کو دہراتا رہتا ہے۔ بعض تولیدی خدمات میں مردوں کو شامل ہی نہیں کیا جاتا، جس سے مردوں کی شرکت کم رہتی ہے، اور یوں یہ تصور مزید مضبوط ہو جاتا ہے کہ انھیں دلچسپی ہی نہیں۔

وہ کہتے ہیں: ’ہم نے ایک ایسا چکر بنا دیا ہے جس میں مردوں کو باہر رکھا جاتا ہے، لیکن پھر انھیں اس بات کا بھی ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے کہ وہ آگے نہیں آتے۔‘

ان کے مطابق اس کے حقیقی اثرات صرف مردوں پر ہی نہیں بلکہ خواتین پر بھی پڑتے ہیں، جنھیں اکثر ’صورتحال سے نمٹنے، منصوبہ بندی کرنے، فکر کرنے اور فیصلے کرنے‘ کا زیادہ بوجھ اٹھانا پڑتا ہے۔

اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مسائل کی تشخیص تاخیر سے ہو، ٹیسٹ اور علاج زیادہ پیچیدہ ہوں اور جوڑوں کو تولیدی علاج کے سفر میں زیادہ مشکلات اور اخراجات کا سامنا کرنا پڑے۔

اس طرح کی صورتحال میں جب مرد کو بتایا جائے کہ مسئلہ اس میں ہو سکتا ہے، تو نظام اس کی بہتر مدد کیسے اور ایسا کیا کیا جائے کہ مرد تولیدی صحت کے بارے میں کھل کر بات کر سکیں؟

بیضے کی جانب بڑھتے ہوئے سپرم
،تصویر کا کیپشنکئی مردوں نے مردانہ بانجھ پن کے بارے میں کم گفتگو ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے

’نظام نے انھیں نظر انداز کر دیا‘

1978 میں پہلے آئی وی ایف بچے کی پیدائش کے بعد سے تولیدی علاج کا مرکز زیادہ تر خواتین رہی ہیں، جس کی ایک وجہ حیاتیاتی حقائق بھی ہیں۔

آئی وی ایف کے عمل میں بیضہ دانی کو انڈے پیدا کرنے کے لیے متحرک کیا جاتا ہے، پھر انڈے نکالے جاتے ہیں، تجربہ گاہ میں ان کی فرٹیلائزیشن کی جاتی ہے اور پھر بننے والے ایمبریو کو دوبارہ رحم میں منتقل کیا جاتا ہے۔

اس کے برعکس، زیادہ تر مرد صرف سپرم کا نمونہ فراہم کرتے ہیں اور پھر انتظار کرتے ہیں کہ سائنس اپنا کام کرے۔

لوئس براؤن

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

،تصویر کا کیپشن1978 میں لوئس براؤن دنیا کی پہلی بچی تھیں جن کی پیدائش کامیاب آئی وی ایف کے ذریعے ہوئی

یونیورسٹی آف مانچسٹر میں اینڈرولوجی (طب کا شعبہ جو مردوں کی تولیدی صحت سے متعلق ہے) کے پروفیسر ایلن پیسی کا کہنا ہے کہ اسی عدم توازن نے تولیدی نگہداشت کی ترجیحات طے کیں۔

ان کے مطابق فرٹیلٹی یونٹس اور کلینکس کی قیادت عموماً گائناکالوجسٹ کرتے ہیں، جنھیں خواتین کی تولیدی صحت پر توجہ مرکوز کرنے کی تربیت دی گئی ہوتی ہے، جبکہ مردانہ تولیدی صحت کو اکثر ثانوی حیثیت دی جاتی ہے۔

وہ کہتے ہیں: ’یقیناً کچھ بہت اچھے گائناکالوجسٹ موجود ہیں جو یہ کام بہترین انداز میں کرتے ہیں، کیونکہ ان کی اس موضوع میں دلچسپی ہے۔ لیکن ابتدائی طبی مراکز سے لے کر خصوصی کلینکس تک مردوں کے بارے میں بعد میں سوچا جاتا ہے۔‘

ان کے مطابق پالیسی سازی کی سطح پر بھی اسی قسم کی عدم مساوات موجود ہے۔

محکمہ صحت نے حال ہی میں مردوں اور خواتین کی صحت کے لیے الگ الگ حکمت عملیاں شائع کی ہیں۔ ان میں خواتین کی صحت کی حکمت عملی میں تولیدی صحت کا تقریباً 20 مرتبہ ذکر کیا گیا ہے اور اس کے لیے معاونت اور طبی رہنمائی پر ایک مکمل صفحہ مختص کیا گیا ہے۔

اس کے برعکس مردوں کی صحت سے متعلق دستاویز میں اس کا صرف پانچ مرتبہ ذکر ہے، اور وہ بھی زیادہ تر موٹاپے، شراب نوشی یا دیگر طبی مسائل کے تناظر میں۔

اس پر رائے دیتے ہوئے پروفیسر پیسی نے کہا کہ ’برابری کو فروغ دینے کا موقع ضائع کر دیا گیا۔‘

وہ مزید کہتے ہیں: ’مردوں کو مناسب کردار دے کر ہم مستقبل کی صورتحال کو بنیادی طور پر بدل سکتے ہیں، چاہے بات ان کے تجربات کی ہو یا تحقیق اور علاج کی۔‘

محکمہ صحت و سماجی نگہداشت کے ایک ترجمان نے کہا: ’یہ درست ہے کہ تولیدی مسائل کا سامنا کرتے وقت مردوں کو بھی خواتین کے برابر معاونت، معلومات اور نگہداشت ملنی چاہیے۔‘

ایک موقع پر لیوک کے خصیوں کا الٹراساؤنڈ کیا گیا، لیکن اس کے بعد ایک سال تک انھیں کچھ بتایا ہی نہیں گیا، یہاں تک کہ انھوں نے خود کلینک کو یاد دہانی کرائی۔

جائزے سے معلوم ہوا کہ انھیں ویریکوسیل تھا، یعنی خصیوں کی تھیلی (سکروٹم) کی رگوں میں سوجن، جو سپرم کے معیار کو متاثر کر سکتی ہے۔

ان کا علاج کیا گیا، لیکن جوڑے کے تولیدی مسائل برقرار رہے۔

اس کے بعد بھی ایک نجی اینڈرولوجسٹ سے مشورہ لینے کے بعد لیوک کو طرز زندگی اور خوراک کے بارے میں تفصیلی انفرادی مشاورت حاصل کرنے میں مزید نو ماہ لگ گئے۔

لیوک کہتے ہیں: ’یہ بہت مشکل اور تنہائی بھرا وقت رہا ہے۔ پہلے یہ دھچکا لگتا ہے کہ مسئلے میں مردانگی کا عنصر بھی شامل ہے، لیکن اس کے بعد ایک اور سطح بھی ہے۔ یہ احساس کہ نظام نے آپ کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا ہے۔‘

اب یہ جوڑا آئی وی ایف کے ایک اور مرحلے سے گزر رہا ہے۔

اس تکنیک میں ایک نہایت باریک سوئی کے ذریعے ایک واحد سپرم کو براہ راست انڈے میں داخل کیا جاتا ہے، بجائے اس کے کہ تجربہ گاہ میں ہزاروں سپرم کے درمیان انڈے کو رکھ کر قدرتی بارآوری کا انتظار کیا جائے۔

شترمرغ والا لمحہ

ماہر ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ حالات بدلنا شروع تو ہو گئے ہیں، لیکن تبدیلی کی رفتار بہت سست ہے۔

یونیورسٹی کالج لندن ہاسپٹلز اور کلیولینڈ کلینک لندن کے یورولوجیکل سرجن پروفیسر حسین النجار کہتے ہیں: ’چیزیں درست سمت میں جا رہی ہیں، لیکن ہم اب بھی کافی پیچھے ہیں۔‘

مثال کے طور پر اگر سیمن کے ابتدائی تجزیے میں کسی مسئلے کی نشاندہی ہو، تو اب نسبتاً زیادہ عام ہوتا جا رہا ہے کہ مرد کسی ماہر سے ملے۔

وہ کہتے ہیں: ’میرا مطلب یہی ہے کہ چیزیں بدل رہی ہیں، لیکن بہت آہستہ۔ مجموعی طور پر اب بھی زیادہ امکان اسی بات کا ہے کہ پانجھ پن کے معاملات میں پہلی جانچ عورت کی کی جائے گی۔‘

شمالی یارکشائر کے 34 سالہ جیمز بھی اسی سست رفتار تبدیلی کا شکار ہوئے۔

جب جیمز اور ان کی اہلیہ کو حاملہ ہونے میں دشواری پیش آئی تو انھوں نے وہ کیا جسے وہ خود 'شترمرغ والا لمحہ' کہتے ہیں۔ کئی ماہ تک انھوں نے حقیقت سے نظریں چرائے رکھیں جبکہ ان کی اہلیہ تمام ٹیسٹوں اور جانچ کے مراحل سے گزرتی رہیں۔

وہ کہتے ہیں: ’میں روزانہ اس لمحے اور اس وقت کے بارے میں سوچتا ہوں جو ضائع ہو گیا۔‘

جب ان کے سپرم کے تجزیے کے نتائج آئے تو وہ کام کے سلسلے میں ایک تعمیراتی مقام پر تھے۔

انھیں بتایا گیا کہ ان کے سپرم ’کمزور، سست رفتار اور غیر معمولی ساخت والے‘ ہیں جس کی وجہ سے قدرتی طور پر حمل ٹھہرنا بہت مشکل ہو گا۔

اس دن تقریباً تین گھنٹے کی ڈرائیو کر کے گھر واپسی کا سفر ’دھندلا اور انتہائی تکلیف دہ‘ تھا۔

ان کی تشخیص میں بھی تاخیر ہوئی۔ مکمل جسمانی معائنے اور جدید ہارمونل ٹیسٹ کروانے سے پہلے انھیں مزید دو سال انتظار کرنا پڑا اور ایک نجی یورولوجسٹ سے مشورہ بھی لینا پڑا۔

سالہا سال کی کوشش اور آئی وی ایف کے متعدد مراحل سے گزرنے کے باوجود، بالآخر اس جوڑے کا تولیدی علاج کامیاب نہ ہو سکا۔

جیمز کہتے ہیں: ’آپ اس شخص کے شریک حیات ہوتے ہیں جس سے آپ غیر مشروط محبت کرتے ہیں، لیکن آپ خود کو اس کے درد کی وجہ سمجھنے لگتے ہیں۔ آپ کو لگتا ہے کہ بچے نہ ہونے کی وجہ آپ ہی ہیں۔‘

شان اپنی شریکِ حیات اور دو کم عمر بچوں کے ساتھ
،تصویر کا کیپشنشان نے میل فرٹیلٹی پوڈکاسٹ کی مشترکہ بنیاد رکھی اور تولیدی مسائل کا سامنا کرنے والے مردوں کے لیے ایک معاونتی نیٹ ورک بھی شروع کیا۔

مردانہ بانجھ پن کو اکثر مردانگی اور جنسی صلاحیت سے جوڑ کر دیکھا جاتا ہے، جس کی وجہ سے بعض مردوں کے لیے اس مسئلے کو قبول کرنا یا اس پر بات کرنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔

پروفیسر پیسی کو ایک باربی کیو تقریب یاد ہے، جہاں ’تمام خواتین ایک طرف بیٹھی آئی وی ایف کے بارے میں بات کر رہی تھیں اور تمام مرد دوسری طرف فٹبال پر گفتگو کر رہے تھے۔‘

جیمز نے اپنے تولیدی مسائل کو اپنی مردانگی کے لیے چیلنج نہیں سمجھا، تاہم اس مسئلے سے جڑے سماجی داغ کی وجہ سے اُس وقت ان کے لیے مدد حاصل کرنا بہت مشکل تھا۔

وہ کہتے ہیں: ’اس تمام معاملے کا سامنا صرف آپ اور آپ کے شریکِ حیات کو کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ آپ ایک جزیرے کی طرح تنہا ہیں اور آپ جیسا کوئی اور نہیں۔ آپ کو سمجھ نہیں آتی کہ کہاں جانا ہے، کس سے مدد مانگنی ہے یا کیا کہنا ہے۔‘

برطانیہ کے قانون کے تحت، تولیدی صحت سے متعلق کلینکس کے لیے علاج سے پہلے کونسلنگ کی پیشکش کرنا لازمی ہے، تاہم یہ ضروری نہیں کہ یہ سہولت مفت ہو یا مستقل بنیادوں پر فراہم کی جائے۔

تولیدی علاج کی نگرانی کرنے والے ادارے ایچ ایف ای اے کے مطابق مردوں کے لیے معاونتی گروپ خواتین کے مقابلے میں کہیں کم ہیں۔

تاہم، کچھ اشارے مل رہے ہیں کہ اب یہ صورتحال بدلنا شروع ہو سکتی ہے۔

سیارن اپنی شریکِ حیات اور بچوں کے ساتھ
،تصویر کا کیپشنسیارن کو 2012 میں بتایا گیا تھا کہ انھیں تولیدی مسائل کا سامنا ہے۔

43 سالہ شان گریناوے کو 2018 میں معلوم ہوا کہ انھیں ایزو سپرمیا ہے، ایک ایسی کیفیت جس میں منی میں کوئی سپرم موجود نہیں ہوتا۔

اس کی وجہ واضح نہیں ہے، اگرچہ نوجوانی میں انھیں شدید ممپس ہوئے تھے، ایک ایسا وائرس جسے مردانہ بانجھ پن سے جوڑا جاتا ہے۔

بالآخر انھوں نے اور ان کی اہلیہ نے سپرم ڈونیشن کے ذریعے بچوں کو جنم دیا، تاہم شان کا کہنا ہے کہ اس پورے تجربے کا بڑا حصہ ان دونوں نے تنہا جھیلا۔

وہ کہتے ہیں: ’کوئی معاونت موجود نہیں تھی اور کوئی بھی اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر اس موضوع پر بات نہیں کر رہا تھا۔ اسی لیے میں نے فیصلہ کیا کہ میں اپنی کہانی لوگوں کے ساتھ شیئر کروں گا۔‘

اپنے دوست، 40 سالہ سیارن ہیننگٹن کے ساتھ مل کر انھوں نے میل فرٹیلٹی پوڈکاسٹ اور تولیدی مسائل کا سامنا کرنے والے مردوں کے لیے ایک معاونتی نیٹ ورک کی بنیاد رکھی، جس میں واٹس ایپ گروپس اور بالمشافہ ملاقاتوں کے پروگرام بھی شامل ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مردانہ بانجھ پن پر ہونے والی موجودہ گفتگو اسی مرحلے پر ہے جہاں تقریباً ایک دہائی قبل ذہنی صحت سے متعلق بحث تھی، یعنی یہ اب بھی ایک ممنوع موضوع تو ہے لیکن آہستہ آہستہ اس پر زیادہ کھل کر بات کی جا رہی ہے۔

سیارن، جنھیں 2012 میں بتایا گیا تھا کہ انھیں بھی تولیدی مسائل کا سامنا ہے، کہتے ہیں: ’اس موضوع سے ایک گہرا سماجی داغ جڑا ہوا ہے، لیکن بد قسمتی سے یہ ان مسائل میں سے ایک ہے جن پر آپ اس وقت تک توجہ نہیں دیتے جب تک خود اس کا سامنا نہ کرنا پڑے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ اپنی صورتحال کو ’اپنے قابو میں لینے‘ اور طرز زندگی میں تبدیلیاں لانے میں انھیں دو سال لگ گئے، جن میں خوراک بہتر بنانا، شراب نوشی ترک کرنا اور ورزش کے معمولات میں تبدیلی شامل تھی۔

آئی وی ایف کے سات مراحل اور دو اسقاطِ حمل کے بعد، بالآخر ان کی اہلیہ جینیفر نے ایک بیٹے اور ایک بیٹی کو جنم دیا۔

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ذہنی دباؤ، نیند کی کمی، تمباکو نوشی، شراب نوشی اور خوراک، یہ سب سپرم کے معیار کو متاثر کر سکتے ہیں۔

تاہم پروفیسر پیسی کا کہنا ہے کہ طرز زندگی میں قلیل مدتی یا عارضی تبدیلیوں کا اثر بہت محدود ہوتا ہے۔

وہ کہتے ہیں: ’طرزِ زندگی میں کسی بھی تبدیلی کو مستقل بنیادوں پر برقرار رکھنا ضروری ہے۔ سپرم بننے کے پورے عمل میں تقریباً تین ماہ لگتے ہیں۔ اس لیے اگر آپ جمعے کی رات شراب پینا چھوڑ دیں تو پیر کی صبح تک بہتری کی توقع نہ کریں۔‘

تاہم تمام مرد اس مشورے پر عمل نہیں کرتے۔

شان کہتے ہیں کہ انھوں نے چند خواتین سے بات کی ہے، جنھوں نے بتایا کہ ان کے شریکِ حیات نے سگریٹ نوشی، شراب اور منشیات ترک کرنے سے انکار کر دیا، حالانکہ انہیں بتایا گیا تھا کہ یہ چیزیں بچوں کی پیدائش کے امکانات کو متاثر کر سکتی ہیں۔

2022 میں یونیورسٹی آف ڈنڈی کے محققین کی جانب سے کی گئی ایک تحقیق سے معلوم ہوا کہ تقریباً ہر چھ میں سے ایک یورپی ماہر برائے تولیدی صحت نے کہا کہ انھیں مردوں کو سپرم ٹیسٹ کروانے پر آمادہ کرنے میں دشواری پیش آتی ہے۔

بعض مرد منی کا نمونہ دینے میں جھجک محسوس کرتے تھے، جبکہ کچھ یہ سمجھتے تھے کہ انھیں تولیدی مسئلہ نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ جنسی طور پر فعال تھے یا ان کے پہلے سے بچے موجود تھے۔

تبدیلی کے آثار

اس موضوع کے بارے میں آگاہی کے حوالے سے تبدیلی کے آثار نظر آ رہے ہیں۔

برٹش فرٹیلٹی سوسائٹی اور کارڈف یونیورسٹی کی جانب سے انگلینڈ کے سکولوں کے لیے تیار کیے گئے نئے نصاب میں اب مردانہ تولیدی صحت کو درپیش خطرات، مثلاً غیر صحت مند غذا، تمباکو نوشی اور سٹیرائڈز کے استعمال کو بھی وہی اہمیت دی گئی ہے جو خواتین کی تولیدی صحت سے متعلق خطرات کو دی جاتی ہے۔

اس کے علاوہ، اس سال لندن میں منعقد ہونے والے بڑے فرٹیلٹی شو کے منتظمین کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ مردانہ بانجھ پن کو مرکزی موضوع بنایا گیا۔

حمل کے لیے غذائی سپلیمنٹس اور انڈوں کو منجمد کرنے کی خدمات کے ساتھ ساتھ، نمائش میں جدید سپرم ٹیسٹنگ کٹس پیش کرنے والے سٹال بھی موجود تھے۔ جبکہ سیمینارز میں سپرم کے معیار اور مردوں کے لیے دستیاب علاج کے جدید ترین آپشنز پر بھی توجہ مرکوز کی گئی۔

شو کی کنٹینٹ ڈائیریکٹر سوفی سلیہریا نے کہا: ’یہ محض رسمی طور پر شامل کی گئی کوئی چیز نہیں۔ یہ کوئی ضمنی یا ثانوی گفتگو بھی نہیں ہے۔‘

انھوں نے کہا: ’یہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کا معاملہ ہے کہ مردانہ تولیدی صحت کوئی چھوٹا یا محدود موضوع نہیں۔ یہ تولیدی صحت کا ایک بنیادی حصہ ہے اور اتنی ہی توجہ، اتنی ہی سرمایہ کاری اور اتنی ہی حساسیت کا مستحق ہے۔‘

اس شعبے میں کام کرنے والے ڈاکٹروں کا بھی کہنا ہے کہ وہ تبدیلی کے آثار دیکھ رہے ہیں اور یہ تبدیلی صرف خاندان شروع کرنے کے معاملے سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

انگلینڈ کے سکولوں کے لیے متعارف کرائے گئے نئے نصاب میں مردانہ تولیدی صحت کو درپیش خطرات کی بھی وضاحت کی گئی ہے

،تصویر کا ذریعہUniversal Images Group via Getty Images

،تصویر کا کیپشنانگلینڈ کے سکولوں کے لیے متعارف کرائے گئے نئے نصاب میں مردانہ تولیدی صحت کو درپیش خطرات کی بھی وضاحت کی گئی ہے

پروفیسر النجار، جو برٹش ایسوسی ایشن آف یورولوجیکل سرجنز کی نمائندگی بھی کرتے ہیں، کے مطابق بڑھتے ہوئے شواہد سے پتا چلتا ہے کہ مردانہ بانجھ پن موٹاپے، تمباکو نوشی یا ہارمونز سے متعلق بے قاعدگیوں جیسی صحت کی بڑی مشکلات کی علامت ہو سکتا ہے۔

وہ کہتے ہیں: ’زیادہ صحت مند مردوں کی تولیدی صحت عموماً بہتر ہوتی ہے، اور بعض اوقات سپرم ٹیسٹ کے غیر معمولی نتائج اس بات کا پہلا اشارہ ہوتے ہیں کہ مزید طبی جانچ کی ضرورت ہے۔

’اسی لیے میرا ماننا ہے کہ مردانہ بانجھ پن کو صرف حمل ٹھہرنے میں مشکل کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔ اسے مردوں کی صحت سے جڑا ایک اہم مسئلہ بھی سمجھا جانا چاہیے۔‘

جیمز جیسے مردوں کے لیے، جن کی زندگی بانجھ پن کے تجربے سے متاثر ہوئی ہے، ایسی پیش رفت جتنی جلدی ہو اتنا ہی بہتر ہے۔

وہ کہتے ہیں: ’اگر ہم اپنا سر ریت میں دفن کر کے اس مسئلے کو نظر انداز کرتے رہیں تو ہم اس سماجی داغ کو ختم نہیں کر سکتے جو اب بھی موجود ہے۔ ہمیں اس کے بارے میں کھل کر بات کرنا ہو گی اور اسے منظرِ عام پر لانا ہو گا۔

’جیسے جیسے ہم اس موضوع پر زیادہ کھل کر بات کریں گے، ویسے ویسے کم لوگ اسے ممنوع موضوع سمجھیں گے یا یہ خیال کریں گے کہ اس پر بات کرنے سے کسی شخص کا مردانہ پن کم ہو جاتا ہے۔‘