آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’پری زاد‘ ڈرامہ میں نظر آنے والے فارم ہاؤس سے متعلق نیب اور شہری کے متضاد دعوے: ’ہم درخواست کرتے ہیں کہ جعلی خبریں نہ پھیلائیں‘
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اُردو، اسلام آباد
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
سنہ 2021 میں نجی ٹی وی چینل ’ہم ٹی وی‘ سے نشر ہونے والا معروف ڈرامہ ’پری زاد‘ اِس وقت پاکستان کے سوشل میڈیا پر ایک بار پھر زیر بحث ہے، مگر اس کی وجوہات کافی دلچسپ ہیں۔
واقعہ کچھ یوں ہے کہ اتوار (24 مئی) کے روز عثمان ظفر چیمہ نامی ایک ’ایکس‘ اکاؤنٹ سے دعویٰ کیا گیا کہ ’پری زاد ہاؤس کو کوہستان سکینڈل میں ملوث ایک کلرک سے جوڑنے والی خبر مکمل طور پر غلط ہے۔ ہم اس (فارم ہاؤس) کے 2015 سے مالک ہیں اور آج بھی اس کی ملکیت ہمارے پاس ہے ۔ ہم سب سے درخواست کرتے ہیں کہ جعلی خبریں نہ پھیلائیں۔ ایک گھر، جو محنت اور خاندانی یادوں سے بنایا گیا ہو، اسے جھوٹے بیانیے اور سنسنی خیز خبروں کا حصہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔‘
عمثان ظفر چیمہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مزید دعویٰ کیا کہ کوہستان کرپشن سکینڈل کے مقدمے میں نیب کی جانب سے جس فارم ہاؤس کو سیل کیا گیا وہ پانچ کنال پر محیط ہے اور وہاں پر، اُن کے بقول، ’پری زاد‘ ڈرامہ شوٹ نہیں ہوا تھا۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اُن کا فارم ہاوس دس کنال پر واقع ہے اور مشہور ڈرامہ پری زاد ان کے فارم ہاوس پر ہی شوٹ ہوا تھا۔ انھوں نے مزید دعویٰ کیا اُن کے فارم ہاؤس کا نمبر ’اے 84‘ ہے، جو اُن کی والدہ کی ملکیت ہے۔
عثمان ظفر چیمہ کی جانب سے یہ دعویٰ اور وضاحت نیب حکام کی جانب سے کچھ عرصہ قبل کیے گئے ایک دعوے کے پسِ منظر میں سامنے آئی ہے۔
اس بارے میں نیب حکام نے فروری 2026 میں پہلی بار اُس وقت دعویٰ کیا تھا جب نیب کے اعلیٰ حکام نے کوہستان کرپشن سکینڈل پر میڈیا بریفننگ کا انعقاد کیا اور بتایا کہ اس فارم ہاؤس کی تعمیر کوہستان میگا کرپشن سکینڈل کی رقم سے کی گئی تھی اور اُن کے بقول نیب نے مذکورہ فارم ہاؤس سمیت دیگر منجمد اثاثے، جو کہ اس کیس سے منسلک تھے، خیبر پختونخوا حکومت کے حوالے کر دیے ہیں۔ نیب حکام نے دعویٰ کیا کہ اس فارم ہاؤس میں معروف ڈرامہ پری زاد شوٹ ہوا تھا۔
کوہستان کرپشن سکینڈل صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے اپر کوہستان میں سرکاری محکمے ’سول اینڈ ورکس‘ سے جڑا 40 ارب روپے سے زیادہ مالیت کی کرپشن کا کیس ہے۔ ایک سکینڈل میں نیب تین ارب 86 کروڑ روپے کی پلی بارگین کی درخواستیں منظور کر چکا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
قومی احتساب بیورو نے اس مقدمے میں 109 کے قریب اثاثوں کو بھی ضبط کیا ہے جو اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے ملزمان کی ملکیت ہیں۔ جو غیر منقولہ اثاثے منجمد کیے گئے ہیں، نیب کے بقول، اُن کی مارکیٹ ویلیو ’17 ارب روپے سے زیادہ ہے۔‘
نیب کے مطابق اب تک ڈیڑھ ارب روپے سے زیادہ کی رقم اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے ملزمان کی نشاندہی پر برآمد کی گئی ہے جبکہ جو اثاثے ضبط کیے گئے ہیں ان میں کمرشل پلازے، فلیٹس، گھر، فارم ہاؤس اور دکانیں شامل ہیں اور یہ جائیدادیں اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، ایبٹ آباد اور مانسہرہ میں واقع ہیں۔
نیب حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان سے ہونے والی اربوں روپے کی پلی بارگین کے نتیجے میں ملزمان کی جانب سے متعلقہ احتساب عدالت میں جو جائیدادیں سرنڈر کی گئی ہیں، اُن میں اسلام آباد کے علاقے گلبرگ گرین میں واقع ایک فارم ہاوس بھی ہے اور نیب نے اس جائیداد کو سیل کیا ہوا ہے۔
نیب حکام کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اِس فارم ہاوس میں نجی پروڈکشن میں بننے والہ ڈرامہ ’پری زاد‘ بھی شوٹ ہوا تھا۔
قومی احستاب بیورو یعنی نیب کے ترجمان برج لال دوسانی نے پیر (25 مئی) کے روز بی بی سی کو بتایا کہ یہ جائیداد چونکہ میگا کرپشن کے نتیجے میں خریدی گئی تھی اور وہ اس مقدمے کے ساتھ منسلک ہے اس لیے اس فارم ہاؤس کو سیل کیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ عدالتی حکم پر ہی اس پراپرٹی سمیت دیگر پراپرٹیز کو سیل کیا گیا اور عدالتی حکم پر ہی اس جائیداد کو ڈی سیل کرنے یا فروخت کرنے کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔
کوہستان میگا سیکنڈل کے مرکزی ملزم قیصر اقبال نے چند روز قبل نیب سے اس مقدمے میں ایک ارب 23 کروڑ اور50 لاکھ روپے کی پلی بارگین کی ہے۔
نیب کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس مقدمے میں جتنے بھی ملزمان ہیں اس کے خلاف تحقیقات جاری ہیں اور نیب کی یہ کوشش ہو گی کہ ملزمان سے تمام رقم کی وصولی کی جائے۔
تاہم نیب کے دعوؤں کے برعکس عثمان ظفر چیمہ کا کہنا ہے کہ یہ فارم ہاوس اُن کی والدہ کے نام پر ہے اور یہ فارم ہاوس سیل نہیں ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ اُن کے خاندان نے یہ فارم ہاؤس کرائے پر دیا ہوا ہے اور وہاں پر ایک نجی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا آفس قائم ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس نجی یونیورسٹی سے جو کرایہ باقاعدگی سے آتا ہے، اُس کی رسیدیں بھی اُن کے پاس موجود ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اُن کا فارم ہاوس دس کنال پر واقع ہے اور مشہور ڈرامہ پری زاد ان کے فارم ہاوس پر ہی شوٹ ہوا تھا۔
جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا وہ نیب کے اس دعوے کے حوالے سے نیب حکام یا پھر ان کے خلاف کوئی قانونی چارہ جوئی کریں گے تو عثمان چیمہ کا کہنا تھا کہ جب اُن کا فارم ہاوس سیل ہی نہیں ہوا تو انھیں نیب کے حکام سے رابطہ کرنے یا کسی دوسرے فورم کو استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
عثمان چیمہ، جو کہ تعمیراتی کاروبار سے وابستہ ہیں، کا کہنا تھا کہ پری زاد ڈرامہ اُن کے فارم ہاؤس پر ہی شوٹ ہوا تھا۔ انھوں نے کہا کہ 12 دن تک اس ڈرامے کی شوٹننگ جاری رہی تھی اور ڈرامے کی پروڈکشن ٹیم نے 66 ہزار روپے یومیہ کے حساب سے کرایہ ادا کیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ اس ڈرامے کی پروڈکشن ٹیم سے انھیں جو پیسے وصول ہوئے، اس کی رسید بھی اُن کے پاس ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اس شوٹنگ کے دوران اُن کے فارم ہاؤس کا لان، باہر والہ حصہ اور ڈرائنگ روم استعمال ہوا تھا، جبکہ اس ڈرامے میں دکھایا جانے والا سوئمنگ پول اور سمندر کے ساحل کی طرف نکلنے والا راستہ کراچی میں واقع ایک اور گھر میں شوٹ ہوئے تھے۔