فلائی دبئی پرواز میں مبینہ ’حملہ آور‘ پائلٹ کی شناخت کا معمہ: ’وہ چلا چلا کر کہہ رہا تھا مجھے مار دو، مجھے مار دو‘

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
- مصنف, اولیویا آئر لینڈ
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
بدھ کے روز متحدہ عرب امارات کی ریاست ابو ظہبی سے اسرائیل کے لیے اڑان بھرنے والی فلائی دبئی کی پرواز میں فرسٹ آفیسر کی ساتھی پائلٹ پر چاقو سے حملے اور بعد ازاں فلائٹ کی سعودی عرب کے شہر تبوک میں ہنگامی لینڈنگ کے واقعے کے حوالے سے کافی تفصیلات سامنے آ چکی ہیں۔
ایک طرف جہاں کاک پٹ میں ہونے والی لڑائی، مسافروں کی جانب سے حملہ آور فرسٹ آفیسر پر قابو پانے، جہاز کو کنٹرول کرنے اور اس واقعے میں زخمی ہونے والے پائلٹ کی شناخت سمیت متعدد تصیلات منظرِ عام پر آ چکی ہیں وہیں حملہ آور کی شناخت اب بھی کافی حد تک ایک معمہ ہے۔
فلائی دبئی جس کی پرواز کے دوران یہ واقعہ پیش آیا اور متحدہ عرب امارات، جہاں یہ فضائی کمپنی رجسٹرڈ ہے، نے تاحال حملہ آور فرسٹ آفیسر کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے اور نہ ہی یہ بتایا کہ مذکورہ افسر کس ملک کا شہری ہے۔
فرسٹ پائلٹ کے پرواز کے مجموعی تجربے، پیشہ ورانہ اہلیت یا اس بارے میں تاحال کوئی معلومات سامنے نہیں آئی ہیں کہ آیا وہ اس سے قبل فلائی دبئی کے طیارے پر اسرائیل پرواز کر چکے تھے یا نہیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA
تاہم اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو کا دعویٰ ہے کہ حملہ آور کا تعلق عمان سے ہے جو ’انتہاپسندانہ اسلامی نظریاتی تربیت‘ سے گزرا تھا۔
تاہم انھوں نے اپنے دعووٖں کے حق میں کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا ہے۔
یاد رہے کہ فلائی دبئی کی پرواز FZI073 بدھ کے روز دبئی انٹر نیشنل ایئر پورٹ سے تل ابیب کے بین گورین ایئر پورٹ کے لیے روانہ ہونے کے تقریباً دو گھنٹے بعد اچانک 17,000 فٹ (5,200 میٹر) سے زیادہ نیچے آ گئی تھی جس کے باعث جہاز پر سوا مسافروں میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔
بعد ازاں پتا چلا کہ اس کی وجہ فرسٹ آفیسر کی جانب سے ساتھی پائلٹ پر حملہ تھا۔ تاہم مسافروں اور عملے نے حملہ آور کو قابو میں کر کے اور طیارے کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا اور اسے سعودی عرب کے شہر تبوک کے شہزادہ سلطان بن عبدالعزیز ایئر پورٹ پر بحفاظت اتار لیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
فرسٹ آفیسر کون ہوتا ہے اور اس کی ذمہ داری کیا ہوتی ہے؟
برطانوی حکومت کی تعلیم اور ہنر کی ویب سائٹ پر دستیاب معلومات کے مطابق فرسٹ آفیسر کو شریک پائلٹ بھی کہا جاتا ہے اور وہ مختلف اقسام کے طیاروں جن میں تجارتی، عسکری، مسافر بردار اور مال بردار طیارے شامل ہیں پر پائلٹ کے ساتھ تعینات ہوتے ہیں۔
معاون پائلٹ کی ذمہ داری طیارے کے کپتان کی معاونت کرنا اور پرواز کو محفوظ اور مؤثر انداز میں انجام دینے میں ان کی مدد کرنا ہوتی ہے۔
برطانوی حکومت کی ویب سائٹ کے مطابق اگر کسی وجہ سے کپتان اپنی ذمہ داریاں انجام دینے کے قابل نہ رہے تو معاون پائلٹ طیارے کی کمان سنبھالتا ہے اور طیارے، عملے، مسافروں اور کارگو کی حفاظت اور انتظام کی مکمل ذمہ داری اس کے ہاتھ میں آ جاتی ہے۔
حملہ آور ’انتہاپسندانہ اسلامی نظریاتی تربیت‘ سے گزرا تھا: نیتن یاہو کا دعویٰ
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ فلائی دبئی کی پرواز میں اپنے ساتھی پائلٹ پر چاقو سے حملہ کرنے والا شخص ’اسلام پسند انتہاپسندانہ نظریاتی تربیت‘ سے گزرا تھا۔
نیتن یاہو نے فوکس نیوز کو بتایا کہ اس بات کا ’بہت زیادہ امکان‘ ہے کہ حملہ آور، جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ عمانی شہری ہے، ’طیارے کو گرانے کا ارادہ رکھتا تھا۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ جب مسافروں اور عملے نے حملہ آور کو قابو میں کر کے باندھ دیا تو وہ ’عملے کو چلا چلا کر کہہ رہا تھا ’مجھے مار دو، مجھے مار دو۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اس سے واضح ہے کہ وہ ’خودکشی کے ارادے سے آیا تھا اور اس میں کوئی شک نہیں۔‘
’اتنے مسافروں کی موجودگی اور جب آپ اس حقیقت کو بھی مدنظر رکھیں جو میں نے ابھی آپ کو بتائی، اس کے پس منظر میں اسلام پسند رجحانات اور انتہاپسندی کی طرف مائل ہونے کے شواہد ملے ہیں، تو میرے خیال میں... یہ ہمیں کافی اہم سراغ فراہم کرتا ہے۔‘
تاہم انھوں نے زور دیا کہ وہ ابھی اس واقعے کے محرکات کے بارے میں کوئی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کرنا چاہتے۔
جب نیتن یاہو سے سوال کیا گیا کہ مشتبہ عمانی پائلٹ اس طیارے میں کیسے موجود تھے، تو انھوں نے کہا کہ جن ممالک کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ہیں، ان ممالک کے پائلٹوں کو عموماً اسرائیل کے لیے پرواز کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔
انھوں نے مزید کہا تاہم اس سے واضح ہوتا ہے کہ اس سارے عمل میں خامی موجود تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اماراتی حکومت کے تعاون سے وہ دیگر امور کے ساتھ ساتھ اس کا بھی تدارک کر رہے ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنا جا سکے کہ ایسا دوبارہ نہ ہو۔
متحدہ عرب امارات کے برعکس عمان نے اسرائیل کے ساتھ باضابطہ سفارتی تعلقات قائم نہیں کیے ہیں۔
نیتن یاہو سے اس قبل یہ بھی پوچھا گیا کہ کیا اس بات کے کوئی اشارے ہیں کہ ایران اس واقعے میں ملوث تھا۔ اس پر ان کا کہنا تھا کہ ’ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا۔‘

مبینہ ’حملہ آور‘ فرسٹ آفیسراب کہاں ہے؟
سعودی عرب کی جانب سے جمعرات کی شب ایک بیان جاری کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ ملک کے متعلقہ اداروں نے فلائی دبئی کی پروازFZI073 نے بدھ 30 ستمبر کو تبوک کے ایئر پورٹ پر مقامی وقت کے مطابق صبح 9 بج کر 45 منٹ پر ہنگامی لینڈنگ کی تھی۔ بیان کے مطابق طیارے میں 174 مسافر جبکہ عملے کے آٹھ ارکان سوار تھے۔
وزاتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ اس ہی شام تمام مسافروں کو فلائی دبئی کے متبادل طیارے کے ذریعے ان کی منزل کی جانب بھیج دیے گیا جبکہ پرواز کا عملہ ایک دوسرے طیارے کے ذریعے دبئی واپس روانہ ہوا۔
بیان میں بتایا گیا ہے واقعے میں زخمی ہونے والے کپتان اور معاون پائلٹ کو طبی معائنے کے بعد ضروری علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔
سعوی وزارتِ داخلہ کے ایک ذریعے نے بتایا کہ سعودی حکام اور متحدہ عرب امارات کی سکیورٹی ٹیم کی ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوا ہے کہ طیارے کے فرسٹ آفیسر نے کپتان پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں دونوں کو مختلف نوعیت کی چوٹیں آئیں۔
ذریعے کے مطابق، دونوں کی حالت میں بہتری آنے اور طبی ٹیم کی اجازت ملنے کے بعد کپتان اور معاون پائلٹ کو جمعرات کی صبح متحدہ عرب امارات کی سکیورٹی ٹیم کے ہمراہ ابو ظہبی روانہ کر دیا گیا تھا۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے خبر دی ہے کہ وہاں یہ تعین کرنے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے کہ ’آیا یہ واقعہ کسی قسم کی دہشت گردی کے مقصد سے منسلک تھا یا نہیں۔‘
متحدہ عرب امارات کے حکام نے اس سے قبل اس واقعے پر اپنا دائرۂ اختیار ہونے کا دعویٰ کیا تھا کیونکہ جس طیارے میں یہ واقعہ پیش آیا وہ متحدہ عرب امارات میں رجسٹرڈ ہے اور اسی کے پرچم تلے پرواز کرتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
مبینہ حملہ آور کا ارادہ طیارے کو تباہ کرنے کا تھا: اسرائیل کا دعویٰ
ایک اسرائیلی سکیورٹی ذریعے نے بی بی سی عربی کو بتایا کہ اس واقعے سے متعلق ایک علیحدہ اسرائیلی تفتیش کے ابتدائی نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ مبینہ حملہ آور کا ارادہ طیارے کو تباہ کرنے کا تھا۔
ذرائع کے مطابق اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کی سربراہی میں ہونے والی اس تحقیق میں تل ابیب پہنچنے کے بعد مسافروں کے انٹرویوز کیے گئے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ طیارے میں کیا ہوا تھا۔
فلائی دبئی کی اسرائیل کے لیے پروازیں معطل
اس واقعے سے متعلق اپنی داخلی تحقیقات کے دوران فلائی دبئی نے دبئی اور تل ابیب کے درمیان پروازیں عارضی طور پر معطل کر دی ہیں۔
اسرائیل کی وزارتِ ٹرانسپورٹ نے کہا ہے کہ پروازوں کی معطلی بنیامن نیتن یاہو کی ہدایت کے مطابق کی گئی ہے۔
اسرائیلی فضائی کمپنیوں ایل ال، اسرائر اور آرکیا نے کہا ہے کہ دبئی میں پھنسے ہوئے مسافروں کو واپس لانے کے لیے جمعے سے خصوصی پروازوں کا انتظام کیا گیا ہے۔
وزارتِ ٹرانسپورٹ نے یہ بھی بتایا کہ اس نے اتحاد ایئرویز کو ایک ہنگامی درخواست بھیجی ہے جس میں ابوظبی اور تل ابیب کے درمیان پروازوں کی تعداد بڑھانے کا کہا گیا ہے۔




















