کالینن گراڈ کو خطرہ ہوا تو روس ’تمام دستیاب ہتھیار‘ استعمال کر سکتا ہے: ولادیمیر پوتن

،تصویر کا ذریعہGetty Images
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ایک بار پھر کہا ہے کہ روس کسی پر حملہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا، لیکن اگر نیٹو کی جانب سے ’جارحیت‘ کی گئی تو روس جواب دے گا اور اپنے پاس موجود تمام ہتھیار استعمال کرے گا۔
پوتن نے ڈسکشن کلب ’والدائی‘ کے اجلاس میں کہا ’اگر روسی فیڈریشن پر براہِ راست حملے کی بات ہوئی، اور اس تناظر میں کالینن گراڈ مراد ہے، تو یقیناً فوری طور پر یہ سوال پیدا ہوگا کہ روس اپنے پاس موجود تمام ہتھیار استعمال کرے۔ یہ ہتھیار کون سے ہوں گے، اس کا فیصلہ ہم بعد میں کریں گے۔‘
پوتن نے مزید کہا کہ روس کے پاس اس وقت ایسے ہتھیار موجود ہیں جن کی مثال دنیا میں کسی اور ملک کے پاس نہیں ملتی۔
ان کے مطابق یہی صلاحیت روس کو یورپ کی دو جوہری طاقتوں، فرانس اور برطانیہ، پر برتری دیتی ہے۔
یہ بیان دیتے ہوئے پوتن نے روسی وزارتِ خارجہ کے ایک خط کا حوالہ دیا، جس میں نیٹو کو خبردار کیا گیا تھا کہ اگر اتحاد نے کالینن گراڈ کے علاقے کو الگ تھلگ کرنے کی کوشش کی تو روس جوہری ہتھیار استعمال کرنے کے لیے تیار ہے۔
پوتن نے اس خط کو ’دھمکی نہیں بلکہ ہمیں ڈرانے کی کوششوں کا جواب‘ قرار دیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کالینن گراڈ کیا ہے؟
کالینن گراڈ روس کا ایک علاقہ ہے جو روس کے مرکزی حصے سے الگ واقع ہے۔ یہ بحیرہ بالٹک کے ساحل پر پولینڈ اور لتھوانیا کے درمیان واقع ہے، اس لیے وہاں پہنچنے کے لیے روس کو دوسرے ممالک کے راستے استعمال کرنا پڑتے ہیں۔ ماضی میں یہ علاقہ جرمنی کا حصہ تھا اور اس کا نام کونیگس برگ تھا، لیکن دوسری عالمی جنگ کے بعد یہ سوویت یونین کے قبضے میں آ گیا۔
یہ علاقہ روس کے لیے بہت اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہاں اہم فوجی اڈے، میزائل نظام اور بحری تنصیبات موجود ہیں۔ روس نے یہاں اپنی فوجی موجودگی مضبوط کر رکھی ہے، جس کی وجہ سے یہ نیٹو ممالک کے لیے بھی خاص اہمیت اور تشویش کا باعث ہے۔
حالیہ برسوں میں کالینن گراڈ کا نام روس اور نیٹو کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں بار بار سامنے آیا ہے۔ روس کا کہنا ہے کہ اگر اس علاقے کو کسی قسم کا خطرہ لاحق ہوا یا اسے باقی روس سے الگ تھلگ کرنے کی کوشش کی گئی تو وہ اپنے تمام دستیاب ہتھیار استعمال کرنے پر غور کر سکتا ہے۔

