آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سیٹلائٹ تصاویر: آٹھ ممالک میں 20 امریکی فوجی مقامات پر ایرانی حملے اور کروڑوں ڈالر کا نقصان
- مصنف, مرلن تھومس
- مصنف, الیکس مرے
- مصنف, میٹ مرفی
- عہدہ, بی بی سی ویریفائی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
بی بی سی ویری فائی نے جن سیٹلائٹ تصاویر اور ویڈیوز کا تجزیہ کیا، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک ایران نے امریکہ کے 20 فوجی مقامات کو نقصان پہنچایا ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جتنا عوامی طور پر تسلیم کیا گیا، ایران کے حملے اس سے زیادہ وسیع تھے۔
فروری کے اختتام سے اب تک ایران نے مشرق وسطیٰ کے آٹھ ممالک میں اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے، جس سے جدید ترین فضائی دفاعی نظاموں، ایندھن بھرنے والے طیاروں اور ریڈارز کو کروڑوں ڈالرز کا نقصان پہنچا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملوں کے ردعمل میں تہران نے گذشتہ تین ماہ کے دوران امریکی اڈوں اور مشترکہ فوجی تنصیبات دونوں کو نشانہ بنایا ہے۔
پینٹاگون کا کہنا ہے کہ آپریشن ایپک فیوری کے آغاز سے اب تک اس نے ایران میں 13 ہزار سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
ایران کے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے میں اپنی فوج کی کامیابی کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ منگل کو ایک بیان میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ مشرق وسطیٰ اب امریکی اڈوں کے لیے ’محفوظ جگہ‘ نہیں رہا۔
ایک جانب وائٹ ہاؤس بارہا یہ دعویٰ کر چکا ہے کہ ایران کی فوج تقریباً تباہ ہو چکی ہے، دوسری جانب تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی تنصیبات پر ہونے والا نقصان ظاہر کرتا ہے کہ تہران کے جوابی حملے اس سے کہیں زیادہ مؤثر اور وسیع پیمانے پر ہوئے جتنا کہ امریکی حکام نے اعتراف کیا ہے۔
ایک امریکی دفاعی عہدیدار نے ’آپریشنل سکیورٹی وجوہات‘ کا حوالہ دیتے ہوئے بی بی سی ویری فائی کے نتائج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
امریکا نے تنازع کے سیٹلائٹ تجزیے کو محدود کرنے کی کوشش کی ہے اور یہ تجزیہ فراہم کرنے والے بڑے ادارے پلینٹ سے درخواست کی کہ وہ ایران اور مشرق وسطیٰ کے زیادہ تر حصے کی نئی تصاویر پر ’غیر معینہ مدت تک‘ پابندی عائد کرے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کمپنی نے امریکہ کی یہ درخواست مان لی اور اپنے اقدام کے جواز میں کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ مخالفین اس کی تصاویر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال نہ کریں۔
بی بی سی ویری فائی نے پلینٹ اور دیگر اداروں کی فراہم کردہ سیٹلائٹ تصاویر سے ایرانی حملوں سے ہونے والے نقصان کا جائزہ لیا ہے۔
ایران نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، عراق، اردن، بحرین اور عمان میں واقع تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق نشانہ بنائے گئے اڈوں کی تعداد 28 تک ہو سکتی ہے۔
جس قیمتی ساز و سامان کو نقصان پہنچا، اس میں متحدہ عرب امارات کے الرویس اور الصادر ایئر بیسز اور اردن کے موفق السلتی ایئر بیس پر نصب تین جدید ترین اینٹی بیلسٹک میزائل بیٹری سسٹمز شامل ہیں۔
امریکہ کے بارے میں معلوم ہے کہ اس کے پاس ٹرمینل ہائی آلٹیٹیوڈ ایریا ڈیفنس (تھاڈ) کی آٹھ بیٹریاں ہیں، جو دنیا میں مختلف مقامات پر تعینات ہیں۔ ہر بیٹری کے بنانے پر تقریباً ایک ارب ڈالرز لاگت آتی ہے۔ ہر بیٹری کو چلانے کے لیے تقریباً 100 فوجیوں کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ اس سے جو انٹرسیپٹر داغا جاتا ہے اس کی لاگت تقریباً ایک کروڑ 27 لاکھ ڈالرز ہوتی ہے۔
آئرش دفاعی افواج کے سابق سربراہ وائس ایڈمرل مارک میلیٹ نے بی بی سی ویری فائی کو بتایا کہ یہ بیٹریاں ایک ’انتہائی پیچیدہ‘ علاقائی دفاعی نظام کا بنیادی حصہ ہیں جنھیں ’جلدی یا آسانی سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔‘
سیٹلائٹ تصاویر کے ماہرانہ تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی حملوں نے سعودی عرب کی پرنس سلطان ایئر بیس پر امریکی ایندھن بھرنے والے اور نگرانی کے طیاروں کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔ سیٹلائٹ تصاویر میں تباہ شدہ طیارے اور گڑھے واضح دکھائی دیتے ہیں جن سے دھواں اٹھ رہا ہے۔
ایک تجزیہ کار نے طیارے کی شناخت نگرانی کرنے والے ای تھری سینٹری کے طور پر کی۔ امریکی میڈیا کے مطابق اسے تبدیل کرنے پر 70 کروڑ ڈالرز تک لاگت آ سکتی ہے۔
اس کے علاوہ ایران نے کویت میں علی السالم ایئر بیس اور عارف جان کیمپ کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ تجزیہ کاروں نے سیٹلائٹ تصاویر میں ایندھن ذخیرہ کرنے والے بنکرز، طیاروں کے ہینگرز اور فوجیوں کی رہائش گاہوں کو تباہ حالت میں دیکھا۔
دفاعی انٹیلیجنس کمپنی جینز نے کیمپ عارف جان میں سیٹلائٹ مواصلاتی ساز و سامان کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچنے کی نشاندہی کی ہے۔
امریکی تنصیبات کو ہونے والے نقصان کا درست اندازہ لگانا مشکل ہے، تاہم مئی میں پینٹاگون کے ایک تخمینے کے مطابق آپریشن ایپک فیوری کی مجموعی لاگت 29 ارب ڈالرز ہے، جس کا بڑا حصہ ممکنہ طور پر تنازع میں تباہ ہونے والے ساز و سامان کی ’مرمت یا تبدیلی‘ پر خرچ ہو گا۔ ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ یہ تخمینہ اصل لاگت سے کم ہے۔
رپورٹ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ فروری سے اب تک کم از کم 42 طیارے تباہ ہوئے یا نقصان کا شکار ہوئے۔ ان میں ایف 15 اور ایف 35 لڑاکا طیارے، 24 ایم کیو نائن ریپر ڈرونز اور ایک اے 10 حملہ آور طیارہ شامل ہے۔
امریکی فوج کے مہنگے ساز و سامان کے برعکس، رپورٹ کے مطابق، ایران نے مشرق وسطیٰ میں اہداف پر حملوں کے لیے سستے ڈرونز استعمال کیے۔
بی بی سی ویری فائی سے بات کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ کے دوران ایرانی حکمت عملی میں تبدیلی آئی۔ پہلے مشرق وسطیٰ کے شہروں اور بیسز پر وسیع پیمانے پر میزائل برسائے گئے، لیکن بعد میں کیے گئے حملے زیادہ درست تھے اور مخصوص اہداف پر کیے گئے۔
امریکی تھنک ٹینک سٹمسن سینٹر سے وابستہ تجزیہ کار ڈاکٹر کیلی گرییکو نے کہا کہ ابتدا میں ایران نے زیادہ تعداد میں حملے کیے تاکہ ’دفاعی نظام کو زیر کیا جا سکے۔‘
’تاہم کچھ ہی دنوں میں ایران چھوٹے مگر اہداف کو نشانہ بنانے والے درست حملوں کی طرف منتقل ہو گیا اور باقی ماندہ میزائلوں اور ڈرونز کو مخصوص اہم اہداف کے لیے محفوظ رکھتے ہوئے اور ایسی جگہوں پر حملے کیے جہاں ہدف کو نشانہ نہ بھی بنایا جا سکے تو بھی نقصان نمایاں ہو۔‘
ایک تجزیہ کار نے بی بی سی ویری فائی کو بتایا کہ امریکی فوج ’جنگ کے ابتدائی مرحلے میں ایک حد تک لاپرواہی کی مرتکب دکھائی دیتی ہے‘ کیونکہ جیسے جیسے تہران کی حکمت عملی بدل رہی تھی، امریکی فوج نے اس حساب سے اپنے طیاروں کی جگہ تبدیل نہیں کی۔
ان کے مطابق پرنس سلطان ایئر بیس میں طیاروں کی تباہی سے پہلے اس تنصیب پر حملے کیے جا چکے تھے۔
ایران کے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نے عہد کیا ہے کہ ’خطے کے ممالک اور سر زمینیں اب امریکی اڈوں کے لیے ڈھال کا کام نہیں کریں گی‘ اور ’امریکہ کے لیے خطے میں شر انگیزی اور فوجی اڈے قائم کرنے کے لیے اب کوئی محفوظ جگہ نہیں ہو گی۔‘
اس دوران دونوں ممالک کی جنگ بندی تناؤ کا شکار بھی ہوئی ہے۔ امریکہ نے جنوبی ایران پر حملے کیے جبکہ ایران کی پاسداران انقلاب نے خطے میں ایک امریکی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔
ڈاکٹر کیلی گرییکو نے خبردار کیا کہ اگر جنگ بندی ٹوٹ جاتی ہے اور لڑائی دوبارہ شروع ہوتی ہے تو امریکی اڈوں کو پہنچنے والے موجودہ نقصان سے عندیہ ملتا ہے کہ خلیج بھر کی تنصیبات کمزور ثابت ہو سکتی ہیں۔
انھوں نے کہا: ’موجودہ تنازع میں امریکہ اور اس کے شراکت داروں کے فضائی دفاعی ذخائر نمایاں حد تک استعمال ہو چکے ہیں۔ ان کی فوری بحالی کا کوئی راستہ نہیں، جس کا مطلب ہے کہ کسی بھی نئے ایرانی حملے کا سامنا کرنے والے انٹرسیپٹرز کی تعداد تنازع کے شروع والی تعداد سے کہیں کم ہو گی۔‘
باربرا میٹزلر اور ٹام گولڈ کی اضافی رپورٹنگ