یورپی یونین کی اعلی نمائندہ کاجا کالاس کا کہنا ہے کہ امریکہ-ایران جنگ میں پاکستان کی ثالثی کو یورپ میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
اسلام آباد میں نائب وزیراعظم و وزارِ خارجہ اسحاق ڈارکے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کاجا کالاس کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ مختصر دورہ ہے، لیکن ایک اہم وقت پر ہو رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آج نائب وزیر اعظم اور میں نے مشرقِ وسطیٰ سمیت اہم عالمی پیش رفت پر تبادلۂ خیال کیا۔ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان اہم ثالث کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ ’آپ کی سفارتی کوششوں نے کئی مواقع پر مکمل جنگ کے خطرے کو ٹالنے میں مدد دی ہے، اور یورپ میں ان کوششوں کو بہت سراہا جاتا ہے۔‘
’آپ کی حمایت سے اب جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک نازک سفارتی موقع پیدا ہوا ہے۔ تاہم امریکہ اور ایران کے درمیان کسی بھی عارضی مفاہمت کے بعد ایران کے جوہری ذخیرے اور دیگر اہم مسائل پر مذاکرات ضروری ہوں گے اور دیرپا استحکام کے لیے زیادہ جامع حل درکار ہوں گے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ یورپی یونین ایک پائیدار اور پُرامن حل میں کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ ہمارے پاس اقتصادی اثر و رسوخ، جوہری امور میں مہارت، خلیجی ممالک کے ساتھ دیرینہ تعلقات اور ایران کے ساتھ براہِ راست روابط موجود ہیں۔
یورپی یونین کی اعلی نمائندہ کا کہنا تھا کہ اس خطے میں پاکستان افغانستان کے ساتھ تنازعے میں الجھا ہوا ہے۔ حالیہ ہفتوں کی لڑائی کے سنگین انسانی نتائج برآمد ہوئے ہیں اور اس سے مزید عدم استحکام اور انتہا پسندی کے فروغ کا خطرہ بھی پیدا ہوا ہے۔
’اسی لیے ہم مسلسل دونوں فریقوں سے تحمل اور کشیدگی میں کمی کی اپیل کرتے رہے ہیں۔ پاکستان کو بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے اور اپنے عوام کے دفاع کا حق حاصل ہے۔‘
کاجا کالاس کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک اہم علاقائی طاقت اور یورپی یونین کا اہم شراکت دار ہے۔ آج ہماری بات چیت کے دوران ہم نے پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ خصوصاً تجارت کے میدان میں پہلے ہی مضبوط پیش رفت موجود ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے، جو چین اور امریکہ دونوں سے مل کر بھی بڑی ہے۔ پاکستان یورپی یونین کی تجارتی ترجیحات (جی ایس پی پلس) سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والا ملک ہے۔ تاہم اس کے ساتھ واضح شرائط بھی وابستہ ہیں۔ یورپی منڈی تک ترجیحی رسائی کا تسلسل ان بین الاقوامی معاہدوں کے نفاذ میں پیش رفت پر منحصر ہے جن پر یہ نظام قائم ہے۔ اس میں اچھی حکمرانی، ماحولیاتی تحفظ، اور خاص طور پر مزدوروں اور انسانی حقوق شامل ہیں۔
کاجا کالاس کا کہنا تھا کہ کہ ہم پاکستان سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ ان شعبوں میں عملی اور واضح پیش رفت کا مظاہرہ کرے گا۔ تجارت کے علاوہ ہم موسمیاتی استحکام، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، صاف توانائی، ہجرت اور نقل و حرکت سمیت متعدد شعبوں میں تعاون کو بھی وسعت دے رہے ہیں اور عوامی سطح کے روابط بھی ہماری شراکت داری کا ایک اہم حصہ ہیں۔
اس موقع پر اسحاق ڈار نے یورپی کمیشن کی نائب صدر کو ان کے پہلے دورہ پاکستان پر خوش آمدید کہا اور امریکہ-ایران جنگ میں پاکستان کی ثالثی کی حمایت پر یورپی یونین کا شکریہ ادا کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ کاجا کالاس کا اسلام آباد آنا پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان شراکت داری میں بڑھتی ہوئی پیش رفت کی علامت ہے۔ کاجا کلاس میری مستقل رابطہ کار رہی ہیں۔ ہمارے درمیان بااعتماد تبادلۂ خیال پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان موجود اعتماد کی عکاسی کرتے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ گذشتہ برس انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگ کے دوران ہم مسلسل رابطے میں رہے، اور اسی طرح امریکہ اور ایران کے درمیان علاقائی تنازعے کے دوران بھی رابطے میں ہیں۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یورپی یونین امن، سفارت کاری، جمہوریت اور انسانی حقوق کے عالمی اصولوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ ہم یورپی یونین اور اس کے رکن ممالک کے ساتھ تعمیری روابط کے لیے پُرعزم ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے پاکستان-یورپی یونین سٹریٹجک انگیجمنٹ پلان 2019 کے تحت مختلف شعبوں میں تعاون کا جائزہ لیا، جن میں تجارت، سرمایہ کاری، ترقی، انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی، ہجرت و نقل و حرکت، اور سلامتی و انسدادِ دہشت گردی شامل ہیں۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ یورپی یونین پاکستان کے بڑے تجارتی شراکت داروں میں شامل ہے، اور باہمی تجارتی حجم تقریباً 12 ارب یورو ہے۔ جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستان اور یورپی یونین کا تجارتی تعاون دونوں کے لیے فائدہ مند ماڈل ہے۔ آج ہماری گفتگو کا مرکز باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کو مزید فروغ دینا تھا۔
نائب وزیراعظم نے بتایا کہ آج انھوں نے علاقائی اور عالمی مسائل پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا، جن میں امریکہ-ایران تنازعہ، جنوبی ایشیا، افغانستان، یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی کی صورتحال شامل تھی۔
’میں نے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں میں یورپی یونین کی حمایت پر کاجا کالاس کا شکریہ ادا کیا۔ ہم اپنی کوششوں کے اعتراف پر شکر گزار ہیں اور تنازعے کے جامع اور دیرپا حل کے لیے کام جاری رکھیں گے۔‘
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ’میں نے انھیں پاکستان کے خلاف انڈین جارحیت پر اپنی تشویش سے آگاہ کیا اور کشمیر تنازعے کے حل کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف کی وضاحت کی، جو کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔‘
’مزید برآں، میں نے بتایا کہ سندھ طاس معاہدے کے بارے میں پاکستان کا مؤقف ثالثی عدالت کے اضافی فیصلے سے درست ثابت ہوا ہے، جو رتلے اور کشن گنگا پن بجلی منصوبوں کے ڈیزائن تنازعات سے متعلق تھا۔ اس فیصلے نے پاکستان کے اس بنیادی مؤقف کی توثیق کی کہ معاہدہ مغربی دریاؤں پر انڈیا کے پانی کے کنٹرول کی صلاحیت پر واضح حدود عائد کرتا ہے۔
نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’ہم نے سلامتی اور دہشت گردی کے مسائل پر بھی بات کی، جن میں افغانستان کی سرزمین پر موجود فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان عناصر شامل ہیں۔ پاکستان کے خلاف ان کے مسلسل حملے ہماری سب سے بڑی تشویش ہیں۔‘
’میں نے کثیرالجہتی نظام کو مضبوط بنانے اور اقوامِ متحدہ کے منشور کے بنیادی اصولوں کی مستقل پاسداری کی ضرورت پر زور دیا تاکہ موجودہ اور ابھرتے ہوئے عالمی چیلنجز کا مؤثر اور معتبر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔‘