آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, کویت میں امریکی اڈے کی طرف فائر کیے گئے دو ایرانی میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا: سینٹکام کا دعویٰ

یو ایس سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی افواج نے کویت میں تعینات اہلکاروں کو نشانہ بنانے والے ایران کے دو بیلسٹک میزائل ناکام بنا دیے ہیں۔ ادھر ایرانی وزیرِ خارجہ نے متنبہ کیا ہے کہ جنگ بندی میں لبنان بھی شامل ہے اور خلاف ورزی کے نتائج کے ذمہ دار امریکہ اور اسرائیل ہوں گے۔

خلاصہ

  • ایران میں کئی حکومتی عہدیداروں نے صدر مسعود پزشکیان کے مستعفیٰ ہونے کی غیر مصدقہ رپورٹس کی تردید کرتے ہوئے اسے 'مایوسی پھیلانے کی غرض سے چلائی جانے والی فیک نیوز' قرار دیا ہے
  • ایران کی مجلس خبرگان رہبری کے رُکن محسن حیدری الحطیر نے دعویٰ کیا ہے رہبرِ اعلی کے جانشین کے انتخاب کے لیے ہونے والے پہلے اجلاس میں مجتبیٰ خامنہ ای کا نام 'فہرست میں شامل نہیں تھا'
  • ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے بات چیت اور پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے
  • امریکی ذرائع ابلاغ نے مطابق صدر ٹرمپ کا ایران معاہدے میں آبنائے ہرمز اور افزودہ یورینیم سے متعلق معاملات میں تبدیلیوں کا مطالبہ کیا ہے
  • اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو نے لبنان میں 'سٹریٹجک قلعے' پر اسرائیلی قبضے کو حزب اللہ کے خلاف جنگ میں 'ڈرامائی تبدیلی' قرار دیا ہے

لائیو کوریج

  1. بحری ناکہ بندی، لبنان میں اسرائیلی ’جنگی جرائم‘ امریکہ کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کا ثبوت ہیں: قالیباف

    ایران کے پارلیمانی سپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ ’بحری ناکہ بندی اور لبنان میں اسرائیل کے جنگی جرائم اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ امریکہ جنگ بندی کی پاسداری نہیں کر رہا۔‘

    انھوں نے ایکس پر ایک پوسٹ میں خبردار کیا کہ ہر فیصلے کی ایک قیمت ہوتی ہے اور اس کی ادائیگی کرنا پڑتی ہے۔ سب کچھ اپنے انجام تک پہنچے گا۔

  2. امریکی فوج کا کویت میں امریکی اڈے کو نشانہ بنانے والے ایران کے دو بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کرنے کا دعویٰ

    یو ایس سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ رات 11 بجے، امریکی افواج نے کویت میں تعینات امریکی اہلکاروں کو نشانہ بنانے والے ایران کے دو بیلسٹک میزائلوں کو کامیابی سے روک لیا۔

    ایکس پر جاری بیان میں سینٹکام کا کہنا ہے کہ ان میزائلوں کو فوری طور پر ناکام بنا دیا گیا اور کسی امریکی اہلکار کو نقصان نہیں پہنچا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ یو ایس سینٹرل کمانڈ چوکس ہے اور ایران کی جارحیت سے اپنی افواج کا تحفظ کرتے ہوئے جنگ بندی کی برقرار رکھنے میں تعاون جاری رکھے گی۔

  3. پاکستان سٹاک ایکسچینج میں مندی، انڈیکس میں 3300 پوائنٹس سے زائد کی کمی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں پیر کے روز مندی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا اور مارکیٹ میں کاروبار کے اختتام پر انڈیکس میں 3362 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی جس کے بعد انڈیکس 170600 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں آج سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص کی فروخت میں رجحان غالب نظر آیا جس کے بعد کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں کمی ہوئی۔

    سٹاک ایکسچینج میں مندی کے بارے میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان دربارہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہے جس نے کاروبار پر منفی اثرات مرتب کیے۔

    تجزیہ کار شہر یار بٹ کے مطابق گذشتہ ہفتے مارکیٹ میں کاروبار کے اختتام کے بعد امکان تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ ہو جائے گا تاہم ایسا نہیں ہوا اور دونوں کے درمیان دوبارہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کی وجہ سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جو آج 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا ہے جس کے بعد مارکیٹ نے اس پر منفی رد عمل دیا۔

    انھوں نے کہا اس کے ساتھ آنے والے بجٹ میں پاکستان میں سیلز ٹیکس کی شرح میں اضافے کے امکانات کی خبروں نے بھی کاروبار پر منفی اثر مرتب کیا۔

  4. مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے اثرات: پاکستان میں مہنگائی کی شرح 11.7 فیصد تک پہنچ گئی, سارہ حسن، صحافی

    مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے سبب پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ملک میں مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوا ہے اور مئی کے مہینے میں ملک میں مہنگائی میں اضافے کی شرح 11.7 فیصد رہی ہے۔

    وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق رواں سال اپریل کے مہینے میں ملک میں مہنگائی میں اضافے کی شرح 10.9 فیصد تھی جو مئی کے مہینے میں بڑھ کر 11.7 فیصد ہو گئی ہے۔

    یہ جون 2024 کے بعد ملک میں مہنگائی کی بلند ترین سطح ہے۔

    وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے گیارہ ماہ کے دوران ملک میں مہنگائی کی مجموعی شرح 6.6 فیصد رہی ہے جبکہ گذشتہ سال اسی دوران مہنگائی میں اضافے کی شرح 4.6 فیصد تھی۔

    حکومت نے رواں مالی سال کے دوران ملک میں افراط زر کا ہدف 7.5 فیصد مقرر کیا تھا۔ مئی 2026 میں شہری علاقوں میں مہنگائی بڑھنے کی شرح 11.8 فیصد ریکارڈ کی گئی جبکہ دیہی علاقے میں کنزیمور پرائس انڈکس (سی پی آئی) یعنی مہنگائی میں اضافے کی شرح 11.5 فیصد رہی۔

    امریکہ ایران جنگ کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور پاکستان میں بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری ہے جبکہ سٹیٹ بینک نے افراط زر کو محدود کرنے کے لیے اپریل میں شرح سود میں بھی ایک فیصد اضافہ کیا تھا۔

    اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتیں زیادہ ہونے کے سبب پاکستان کی برآمدی لاگت بڑھ ہے اور ٹرانسپورٹیشن کی لاگت بڑھنے سے ملک میں مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    وفاقی ادارہ شماریات کا کہنا ہے کہ مئی میں آٹے کی قیمت میں 11.21 فیصد اضافہ، گوشت کی قیمت میں 2.25 فیصد جبکہ تازہ دودھ، چاول، بیکری آئٹمز، کوکنگ آئل، خشک میوہ جات، تازہ پھلوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

  5. بریکنگ, جنگ بندی میں لبنان بھی شامل ہے، خلاف ورزی کے نتائج کے ذمہ دار امریکہ اور اسرائیل ہوں گے: ایرانی وزیرِ خارجہ کا انتباہ

    ایران کے وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی بلاامتیاز تمام محاذوں پر ایک مکمل جنگ بندی ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔

    انھوں نے متنبہ کیا کہ ’کسی ایک محاذ پر اس کی خلاف ورزی تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھی جائے گی اور کسی بھی خلاف ورزی کے نتائج کے ذمہ دار امریکہ اور اسرائیل ہوں گے۔‘

  6. امریکہ-ایران جنگ میں پاکستان کی ثالثی کو یورپ میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے: یورپی یونین کی اعلی نمائندہ کاجا کالاس

    یورپی یونین کی اعلی نمائندہ کاجا کالاس کا کہنا ہے کہ امریکہ-ایران جنگ میں پاکستان کی ثالثی کو یورپ میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

    اسلام آباد میں نائب وزیراعظم و وزارِ خارجہ اسحاق ڈارکے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کاجا کالاس کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ مختصر دورہ ہے، لیکن ایک اہم وقت پر ہو رہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ آج نائب وزیر اعظم اور میں نے مشرقِ وسطیٰ سمیت اہم عالمی پیش رفت پر تبادلۂ خیال کیا۔ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان اہم ثالث کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ ’آپ کی سفارتی کوششوں نے کئی مواقع پر مکمل جنگ کے خطرے کو ٹالنے میں مدد دی ہے، اور یورپ میں ان کوششوں کو بہت سراہا جاتا ہے۔‘

    ’آپ کی حمایت سے اب جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک نازک سفارتی موقع پیدا ہوا ہے۔ تاہم امریکہ اور ایران کے درمیان کسی بھی عارضی مفاہمت کے بعد ایران کے جوہری ذخیرے اور دیگر اہم مسائل پر مذاکرات ضروری ہوں گے اور دیرپا استحکام کے لیے زیادہ جامع حل درکار ہوں گے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ یورپی یونین ایک پائیدار اور پُرامن حل میں کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ ہمارے پاس اقتصادی اثر و رسوخ، جوہری امور میں مہارت، خلیجی ممالک کے ساتھ دیرینہ تعلقات اور ایران کے ساتھ براہِ راست روابط موجود ہیں۔

    یورپی یونین کی اعلی نمائندہ کا کہنا تھا کہ اس خطے میں پاکستان افغانستان کے ساتھ تنازعے میں الجھا ہوا ہے۔ حالیہ ہفتوں کی لڑائی کے سنگین انسانی نتائج برآمد ہوئے ہیں اور اس سے مزید عدم استحکام اور انتہا پسندی کے فروغ کا خطرہ بھی پیدا ہوا ہے۔

    ’اسی لیے ہم مسلسل دونوں فریقوں سے تحمل اور کشیدگی میں کمی کی اپیل کرتے رہے ہیں۔ پاکستان کو بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے اور اپنے عوام کے دفاع کا حق حاصل ہے۔‘

    کاجا کالاس کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک اہم علاقائی طاقت اور یورپی یونین کا اہم شراکت دار ہے۔ آج ہماری بات چیت کے دوران ہم نے پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ خصوصاً تجارت کے میدان میں پہلے ہی مضبوط پیش رفت موجود ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے، جو چین اور امریکہ دونوں سے مل کر بھی بڑی ہے۔ پاکستان یورپی یونین کی تجارتی ترجیحات (جی ایس پی پلس) سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والا ملک ہے۔ تاہم اس کے ساتھ واضح شرائط بھی وابستہ ہیں۔ یورپی منڈی تک ترجیحی رسائی کا تسلسل ان بین الاقوامی معاہدوں کے نفاذ میں پیش رفت پر منحصر ہے جن پر یہ نظام قائم ہے۔ اس میں اچھی حکمرانی، ماحولیاتی تحفظ، اور خاص طور پر مزدوروں اور انسانی حقوق شامل ہیں۔

    کاجا کالاس کا کہنا تھا کہ کہ ہم پاکستان سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ ان شعبوں میں عملی اور واضح پیش رفت کا مظاہرہ کرے گا۔ تجارت کے علاوہ ہم موسمیاتی استحکام، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، صاف توانائی، ہجرت اور نقل و حرکت سمیت متعدد شعبوں میں تعاون کو بھی وسعت دے رہے ہیں اور عوامی سطح کے روابط بھی ہماری شراکت داری کا ایک اہم حصہ ہیں۔

    اس موقع پر اسحاق ڈار نے یورپی کمیشن کی نائب صدر کو ان کے پہلے دورہ پاکستان پر خوش آمدید کہا اور امریکہ-ایران جنگ میں پاکستان کی ثالثی کی حمایت پر یورپی یونین کا شکریہ ادا کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ کاجا کالاس کا اسلام آباد آنا پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان شراکت داری میں بڑھتی ہوئی پیش رفت کی علامت ہے۔ کاجا کلاس میری مستقل رابطہ کار رہی ہیں۔ ہمارے درمیان بااعتماد تبادلۂ خیال پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان موجود اعتماد کی عکاسی کرتے ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ گذشتہ برس انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگ کے دوران ہم مسلسل رابطے میں رہے، اور اسی طرح امریکہ اور ایران کے درمیان علاقائی تنازعے کے دوران بھی رابطے میں ہیں۔

    اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یورپی یونین امن، سفارت کاری، جمہوریت اور انسانی حقوق کے عالمی اصولوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ ہم یورپی یونین اور اس کے رکن ممالک کے ساتھ تعمیری روابط کے لیے پُرعزم ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم نے پاکستان-یورپی یونین سٹریٹجک انگیجمنٹ پلان 2019 کے تحت مختلف شعبوں میں تعاون کا جائزہ لیا، جن میں تجارت، سرمایہ کاری، ترقی، انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی، ہجرت و نقل و حرکت، اور سلامتی و انسدادِ دہشت گردی شامل ہیں۔

    اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ یورپی یونین پاکستان کے بڑے تجارتی شراکت داروں میں شامل ہے، اور باہمی تجارتی حجم تقریباً 12 ارب یورو ہے۔ جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستان اور یورپی یونین کا تجارتی تعاون دونوں کے لیے فائدہ مند ماڈل ہے۔ آج ہماری گفتگو کا مرکز باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کو مزید فروغ دینا تھا۔

    نائب وزیراعظم نے بتایا کہ آج انھوں نے علاقائی اور عالمی مسائل پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا، جن میں امریکہ-ایران تنازعہ، جنوبی ایشیا، افغانستان، یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی کی صورتحال شامل تھی۔

    ’میں نے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں میں یورپی یونین کی حمایت پر کاجا کالاس کا شکریہ ادا کیا۔ ہم اپنی کوششوں کے اعتراف پر شکر گزار ہیں اور تنازعے کے جامع اور دیرپا حل کے لیے کام جاری رکھیں گے۔‘

    اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ’میں نے انھیں پاکستان کے خلاف انڈین جارحیت پر اپنی تشویش سے آگاہ کیا اور کشمیر تنازعے کے حل کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف کی وضاحت کی، جو کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔‘

    ’مزید برآں، میں نے بتایا کہ سندھ طاس معاہدے کے بارے میں پاکستان کا مؤقف ثالثی عدالت کے اضافی فیصلے سے درست ثابت ہوا ہے، جو رتلے اور کشن گنگا پن بجلی منصوبوں کے ڈیزائن تنازعات سے متعلق تھا۔ اس فیصلے نے پاکستان کے اس بنیادی مؤقف کی توثیق کی کہ معاہدہ مغربی دریاؤں پر انڈیا کے پانی کے کنٹرول کی صلاحیت پر واضح حدود عائد کرتا ہے۔

    نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’ہم نے سلامتی اور دہشت گردی کے مسائل پر بھی بات کی، جن میں افغانستان کی سرزمین پر موجود فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان عناصر شامل ہیں۔ پاکستان کے خلاف ان کے مسلسل حملے ہماری سب سے بڑی تشویش ہیں۔‘

    ’میں نے کثیرالجہتی نظام کو مضبوط بنانے اور اقوامِ متحدہ کے منشور کے بنیادی اصولوں کی مستقل پاسداری کی ضرورت پر زور دیا تاکہ موجودہ اور ابھرتے ہوئے عالمی چیلنجز کا مؤثر اور معتبر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔‘

  7. واشنگٹن مسلسل اپنے مؤقف میں تبدیلی اور متضاد و مختلف میڈیا پیغامات کے ذریعے مذاکرات کے عمل کو پیچیدہ بنا رہا ہے: اسماعیل بقائی

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا آغاز ’شدید شکوک و شبہات اور بداعتمادی‘ کے ماحول میں ہوا تھا اور پیغامات کا تبادلہ اب بھی اسی فضا میں جاری ہے۔

    سوموار کے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے امریکہ پر مذاکراتی عمل کو طول دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’واشنگٹن مسلسل اپنے مؤقف میں تبدیلی اور متضاد و مختلف میڈیا پیغامات کے ذریعے اس عمل کو پیچیدہ بنا رہا ہے۔‘

    انھوں زور دیا کہ ’مذاکرات یا سفارت کاری بذاتِ خود فریقین کے درمیان اعتماد کی علامت یا اس کا نتیجہ نہیں ہوتے۔‘

    اسماعیل بقائی نے بتایا کہ واشنگٹن کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، تاہم جنگ بندی کے باوجود ایران اور امریکہ کے درمیان وقفے وقفے سے فائرنگ اور حملوں کے واقعات جاری ہیں، جن میں حالیہ ہفتوں کے دوران اضافہ بھی دیکھا گیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ حالیہ واقعے میں پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا کہ امریکہ کی جانب سے سیرک جزیرے پر حملے کے جواب میں امریکہ کے خلاف کارروائی کی۔‘

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکہ اور اسرائیل کو ’دو الگ الگ فریق‘ تصور نہیں کیا جا سکتا۔

    انھوں نے لبنان میں جنگ بندی کے حوالے سے ایران کے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ’لبنان میں جنگ بندی کسی بھی معاہدے اور جنگ کے خاتمے کا لازمی حصہ ہے۔‘

  8. نیتن یاہو کا اسرائیلی فوج کو بیروت کے جنوبی علاقوں میں اہداف پر حملوں کا حکم

    اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے ایک بیان میں ملکی فوج کو لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں میں اہداف کو نشانہ بنانے کا حکم دے دیا ہے۔

    جس علاقے پر حملے کا حکم دیا گیا ہے وہ ’ضاحیہ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے اور اسے حزب اللہ کا اہم گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔

    اس سے قبل لبنان کے صدر کی جانب سے ایک بیان سامنے آیا تھا کہ جس میں انھوں نے اپنے ملک پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کی تھی۔

    دوسری جانب لبنان کی صورتحال پر غور کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس آج منعقد ہوگا، جس میں خطے کی تازہ کشیدگی اور سکیورٹی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

  9. یورپی یونین کا حقِ دفاع کا استعمال کرنے والوں کو موردِ الزام ٹھہرانا ’منافقت‘ ہے: ایران

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ’یورپی یونین کا حقِ دفاع کا استعمال کرنے والوں کو موردِ الزام ٹھہرانا ’منافقت ہے۔‘

    ایکس پر جاری بیان میں اُن کا کہنا تھا کہ ’ایران کی جانب سے ہمسایہ مُمالک میں امریکی فوج کی تنصیبات اور اڈوں کو نشانہ بنانا حقِ دفاع کے ذمرے میں آتا ہے کیونکہ یہ وہی مقامات ہیں کہ جنھیں ایران کے خلاف کارروائیوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔‘

    ایکس پر اُن کا اپنے بیان میں مزید کہنا تھا کہ ’یورپی یونین کو قانون کی حکمرانی اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے اُن اصولوں پر قائم رہنا چاہیے جن کا وہ طویل عرصے سے دعویٰ کرتی آئی ہے۔‘

    اسماعیل بقائی نے کہا کہ یورپی یونین کو چاہیے کہ ’جارح قوتوں کو خوش کرنے کے بجائے اُن ممالک کو موردِ الزام ٹھہرانا بند کرے جو غیر قانونی حملوں کا جواب دیتے ہیں اور اپنا حقِ دفاع استعمال کرتے ہیں۔‘

    اُن کی جانب سے ایکس پر اپنے بیان میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ ’ایران کی جانب سے اُن اڈوں اور اثاثوں کو نشانہ بنانا، جو ایران پر غیر قانونی حملوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں، بین الاقوامی قانون کے تحت جائز ہے۔‘

    اسماعیل بقائی کا اپنے بیان کے آخر پر کہنا تھا کہ ’ریاستوں پر یہ واضح قانونی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی سرزمین یا اثاثوں کو کسی دوسرے ملک پر حملے کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔‘

  10. لبنانی صدر نے ’اسرائیلی جارحیت‘ کو ’وحشیانہ اور ناقابلِ قبول‘ قرار دے دیا

    لبنان کے صدر جوزف عون نے کہا ہے کہ ان کا ملک اسرائیل کی ’وحشیانہ اور ناقابلِ قبول جارحیت‘ کا سامنا کر رہا ہے۔

    صدر عون نے یہ بیان اسرائیل کی جانب سے حزب اللہ کے خلاف حملوں میں شدت آنے اور تاریخی اور سٹریٹجک اہمیت کے حامل قلعے پر قبضے کے بعد دیا۔

    ایکس پر جاری اپنے پیغام میں صدر عون نے اسرائیلی کارروائی کی شدید مذمت کی اور عہد کیا کہ وہ لبنانی عوام، خصوصاً جنوبی لبنان کے رہائشیوں کی مشکلات اور مصائب کے خاتمے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔

    دوسری جانب لبنان کی صورتحال پر غور کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس آج نیویارک میں منعقد ہونے والا ہے۔

    یہ اجلاس ایسے وقت میں طلب کیا گیا ہے جب اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے شقیف قلعے پر قبضے کو تنازع کے رخ میں ’اہم اور بنیادی تبدیلی‘ قرار دیا ہے۔

  11. ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے لیکن ڈیموکریٹس اور رریپبلکنز میرا کام مشکل بنا دیتے ہیں: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران واقعی ایک معاہدہ کرنا چاہتا ہے، اور یہ ’امریکہ اور ان لوگوں کے لیے ایک اچھا معاہدہ ہوگا جو ہمارے ساتھ ہیں۔‘

    اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر انھوں نے لکھا کہ ڈیموکریٹس اور ریپبلکن جماعت کے اراکین کی طرف سے منفی تبصرے ان کے لیے کام کو درست طریقے سے انجام دینا اور مذاکرات کرنا مشکل بنا دیتے ہیں۔

    انھوں نے ڈیموکریٹس کو بطور طنز ڈمبوکریٹس لکھا، اور طنز کرنے والے ریپبلکن اراکین کو غیر محبِ وطن قرار دیا۔

    انھوں نے لکھا: ’بس آرام سے بیٹھے رہیں، آخر میں سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا، ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے!‘

  12. فضائی دفاعی نظام کا میزائل اور ڈرون حملوں کا مقابلہ جاری: کویتی فوج کا دعوی

    کویت کی افواج کا دعویٰ ہے کہ ملک کا فضائی دفاعی نظام ’دشمن کے میزائل اور ڈرون حملوں کا مقابلہ کرنے میں مصروف ہے۔‘

    کویتی فوج کے جنرل سٹاف کی جانب سے ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اگر دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں تو وہ دراصل فضائی دفاعی نظام کی جانب سے حملہ آور میزائلوں اور ڈرونز کو فضا ہی میں تباہ کرنے کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہیں۔‘

    بیان میں شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ متعلقہ حکام کی جانب سے جاری کردہ سکیورٹی اور حفاظتی ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔

    تاہم بیان میں اس بات کا ذکر موجود نہیں ہے کہ کویت میں کس علاقے میں ان حملوں کا مقابلہ کیا جا رہا ہے۔

    واضح رہے کہ تہران نے گزشتہ ہفتے کویت میں ایک فضائی اڈے کو امریکی فضائی حملوں کے جواب میں نشانہ بنایا تھا جن کے بارے میں اس نے کہا کہ وہ ایرانی کشتیوں اور میزائل حملوں کو شپنگ چینل کے اطراف بارودی سرنگیں بچھانے سے روکنے کے لیے کیے گئے تھے۔

  13. ایران میں حکومت مخالف احتجاج کے دوران گرفتار دو مظاہرین کو پھانسی دے دی گئی: ایرانی عدلیہ سے وابستہ خبر رساں ادارے میزان کا دعوی

    ایرانی عدلیہ سے وابستہ خبر رساں ادارے میزان نے خبر دی ہے کہ جنوری میں حکومت مخالف احتجاج کے دوران گرفتار کیے گئے دو افراد کو پھانسی دے دی گئی ہے۔ ان افراد کو تہران میں ہونے والے ہنگاموں سے متعلق مقدمے میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔

    میزان نیوز ایجنسی کے مطابق ان افراد کی شناخت مہرداد محمدنیا اور اشکان ملکی کے ناموں سے کی گئی ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دونوں افراد پر عدالت نے ’مسجد کو آگ لگانے، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور سکیورٹی فورسز سے جھڑپوں‘ جیسے الزامات کے تحت مقدمہ چلایا اور بعد ازاں انھیں سزائے موت سنائی گئی۔

    ایرانی عدلیہ کے مطابق دونوں افراد کی سزائے موت کو ملک کی سپریم کورٹ نے بھی توثیق کی تھی، جس کے بعد انھیں پھانسی دی گئی۔

    تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں، جن میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے ایران سے متعلق خصوصی نمائندہ بھی شامل ہیں، نے ایران میں سزائے موت کے بڑھتے ہوئے استعمال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ مائی ساتو نے کہا ہے کہ ایران سزائے موت کو ’احتجاج کو دبانے، معاشرے میں خوف پیدا کرنے اور اختلاف رائے پر پابندی لگانے‘ کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

  14. یوکرین پر روسی ڈرون حملے: خارکیف اور اوڈیسا میں شہری علاقوں کو نشانہ، متعدد افراد زخمی

    یوکرین کے شہر خارکیف اور اوڈیسا میں روسی ڈرون حملوں کے نتیجے میں شہری علاقوں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    خارکیف علاقائی فوجی انتظامیہ کے سربراہ اولیگ سینیہوبوف کے مطابق اتوار اور سوموار کی درمیانی شب خارکیف کے ضلع اوسنویانسکی پر ڈرون حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہوئے۔ حملے میں ایک پانچ منزلہ رہائشی عمارت اور قریبی بلند عمارتوں کو نقصان پہنچا۔

    حکام کے مطابق ایک گاڑی اور پانچ گیراج بھی متاثر ہوئے، جبکہ دو گیراج مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔

    سینیہوبوف نے بتایا کہ روسی افواج نے بوگودوخوف شہر پر بھی ڈرون حملہ کیا، جس میں 39 سالہ خاتون زخمی ہوئیں۔

    خارکیف کے میئر ایگور ٹیریکوف کے مطابق شہر کے سلوبودسکی اور کییفسکی اضلاع میں بھی حملوں کی اطلاعات ملی ہیں۔ ان کے مطابق ایک روسی ’مولنیا‘ ڈرون نے کھولودنوہیرسکی ضلع کو نشانہ بنایا جس سے تین نجی مکانات کو نقصان پہنچا۔

    ادھر اوڈیسا میں بھی رات بھر دو بار روسی ڈرون حملے کیے گئے۔

    شہر کی فوجی انتظامیہ کے سربراہ سرہی لیساک کے مطابق ان حملوں میں دو افراد شدید زخمی ہوئے جنھیں ہسپتال منتقل کیا گیا جبکہ دیگر زخمیوں کو موقع پر ہی طبی امداد فراہم کی گئی۔

    انھوں نے اپنے ٹیلیگرام چینل پر بتایا کہ مختلف علاقوں میں رہائشی عمارتیں، ایک انتظامی عمارت اور بنیادی ڈھانچہ متاثر ہوا ہے۔

    حکام کے مطابق حملوں کے بعد امدادی کارروائیاں جاری ہیں جبکہ نقصان کا مکمل تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔

  15. ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد حملہ آور فضائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا: پاسدارنِ انقلاب کا دعویٰ

    پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اُن کی ایرو سپیس فورس نے اس فضائی اڈے کو نشانہ بنایا ہے جہاں سے مبینہ طور پر سیریک جزیرے کے ایک ٹیلی کمیونیکیشن ٹاور پر امریکہ کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا۔

    پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں اس فضائی اڈے کے مقام کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

    بیان کے مطابق یہ کارروائی ’امریکی فوج کی جانب سے ایک گھنٹہ قبل کی گئی جارحیت‘ کے جواب میں کی گئی۔

    پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ اس کی فورسز نے ’اس فضائی اڈے کو نشانہ بنایا جہاں سے جارحیت کا آغاز ہوا تھا‘ اور حملے کے دوران مقررہ اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا۔

    بیان میں حملے سے ہونے والے ممکنہ جانی اور مالی نقصانات کے بارے میں مزید تفصیلات نہیں دی گئیں، جبکہ امریکی حکام کی جانب سے بھی فوری طور پر اس دعوے پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آیا تھا کہ امریکی افواج نے ایران کے اندر واقع ریڈار اور ڈرون کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز پر ’دفاعی کارروائی‘ کے تحت حملے کیے ہیں۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق یہ کارروائیاں سنیچر اور اتوار کے روز ایران کے شہر گوروک اور جزیرہ قشم پر کی گئیں۔

  16. ایرانی جزائر پر ریڈار اور ڈرون کنٹرول مراکز کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا ہے: امریکی سینٹرل کمانڈ کا دعویٰ

    امریکی سینٹرل کمانڈ ے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی افواج نے ایران کے اندر واقع ریڈار اور ڈرون کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز پر ’دفاعی کارروائی‘ کے تحت حملے کیے ہیں۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق یہ کارروائیاں سنیچر اور اتوار کے روز ایران کے شہر گوروک اور جزیرہ قشم پر کی گئیں۔

    امریکی فوج کے مطابق یہ کارروائیاں ایران کی ’جارحانہ سرگرمیوں‘ کے جواب میں کی گئیں، جن میں ایک امریکی ’ایم کیو ون‘نامی ڈرون کو بین الاقوامی فضائی حدود میں مار گرانا بھی شامل تھا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی جنگی طیاروں نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے ایران کے فضائی دفاعی نظام، ایک زمینی کنٹرول سٹیشن اور دو خودکش حملہ آور ڈرونز کو تباہ کر دیا جو علاقائی سمندری راستوں سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے خطرہ بن سکتے تھے۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق اس کارروائی میں کسی امریکی فوجی کو نقصان نہیں پہنچا۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ وہ جاری جنگ بندی کے دوران بھی ایران کی ’بلاجواز جارحیت‘ کے جواب میں امریکی اثاثوں اور مفادات کے تحفظ کے لیے اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی۔

  17. ایران میں سکیورٹی کریک ڈاؤن تیز: اسرائیل کو معلومات فراہم کرنے کے الزام میں دو افراد گرفتار، 75 افراد کے اثاثے ضبط

    ایران کے شمال مغربی صوبے مغربی آذربائیجان کے شہر ارومیہ میں پاسدارانِ انقلاب کے انٹیلی جنس ونگ نے دو افراد کو اسرائیل کو حساس معلومات فراہم کرنے کے شبہے میں گرفتار کر لیا ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق گرفتار افراد پر الزام ہے کہ انھوں نے اسرائیل کو سکولوں، مساجد اور بسیج مراکز کی تصاویر اور معلومات فراہم کیں۔ رپورٹ میں انھیں ’کرائے کے ایجنٹ‘ اور ’غدار‘ قرار دیا گیا ہے۔ تسنیم کے مطابق بعد ازاں ان افراد نے انہی مقامات کی تصاویر بھی شیئر کیں جب وہ بمباری کا نشانہ بنے۔

    سرکاری خبر رساں ادارے آئی آر آئی بی نیوز کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی زمینی فورس کے حمزہ سیدالشہدا ہیڈکوارٹر نے بتایا کہ یہ کارروائی ایران کے صوبے مغربی آذربائیجان میں انٹیلی جنس آپریشنز کے نتیجے میں عمل میں آئی۔

    بیان کے مطابق ضبط شدہ سامان میں جدید کیمرے اور نگرانی کے آلات شامل تھے، جو مبینہ طور پر ’علیحدگی پسند گروہوں‘ تک پہنچائے جانے تھے۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ ان گروہوں کو ’دشمن کی خفیہ ایجنسیوں‘ کی حمایت حاصل ہے۔

    صوبہ خوزستان میں پولیس نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے 264 آتشیں اسلحہ قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔

    تسنیم نیوز کے مطابق پولیس ترجمان نے بتایا کہ برآمد شدہ اسلحے میں 96 جنگی ہتھیار، 168 رائفلیں اور تقریباً چار ہزار گولیاں شامل ہیں جبکہ کارروائیوں کے دوران 187 افراد کو گرفتار کیا گیا۔

    دوسری جانب ایرانی عدلیہ سے منسلک خبر رساں ادارے میزان نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ صوبہ مرکزی میں ’دشمن کی حمایت‘ کے الزام میں 75 افراد کے اثاثے ضبط کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

    میزان کے مطابق صوبہ مرکزی کے چیف جسٹس حجت اللہ درودگر نے کہا کہ صوبائی دارالحکومت اراک میں ’غیر ملکی میڈیا‘ سے رابطوں کے الزام میں مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔

    انھوں نے ایسے روابط کو ’ناقابلِ معافی جرم‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام کی سلامتی اور اسلامی جمہوریہ ایران کا تحفظ ملک کی ’سرخ لکیر‘ ہے۔

    ان کے بقول ’غداری‘ اور غیر ملکی دراندازی کے خلاف کارروائی میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی اور ملوث افراد کو سخت ترین قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

  18. اسلام آباد میں بازار اور شاپنگ مالز رات 8 بجے بند کرنے کا نوٹیفکیشن جاری

    اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے کاروباری اوقات کار سے متعلق نیا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جس کے مطابق شہر بھر میں مارکیٹس اور شاپنگ مالز رات 8 بجے بند کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

    اوقاتِ کار سے متعلق نئی پابندیاں یکم جون 2026 یعنی آج سے نافذ العمل ہوں گی۔

    ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول پمپس، سی این جی سٹیشنز معمول کے مطابق کھلے رہیں گے، جبکہ دودھ اور ڈیری شاپس پر نئے اوقات کار کی پابندی لاگو نہیں ہوگی، جمز اور پیڈل کورٹس سمیت سپورٹس سہولیات مستثنیٰ قرار دی گئیں ہیں اور آئی ٹی کمپنیاں اور کال سینٹرز معمول کے مطابق کام جاری رکھ سکیں گے۔

    جاری نوٹیفکیشن کے تحت ریسٹورنٹس، فوڈ آؤٹ لیٹس اور تندور رات 10 بجے بند ہوں گے، کریانہ، سبزی، پھل اور بیکری شاپس کیلئے بھی رات 10 بجے بندش کا وقت مقرر کر دیا گیا، ٹیک اوے اور ہوم ڈیلیوری سروس پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔

    اس کے علاوہ شادی ہالز اور مارکیز رات 10 بجے بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے، نجی مقامات پر ہونے والی تقریبات پر بھی رات 10 بجے کی پابندی لاگو ہوگی۔

  19. میانمار: باغیوں کے زیرِ کنٹرول علاقے میں دھماکہ 55 افراد ہلاک، درجنوں زخمی

    میانمار کے شورش زدہ صوبہ شان میں باغیوں کے زیرِ کنٹرول ایک گاؤں میں ہونے والے خطرناک دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 55 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔

    بی بی سی کو زمینی صورتحال سے آگاہ ایک ذریعے نے بتایا کہ چینی سرحد کے قریب نامکھم ٹاؤن شپ کے گاؤں کاؤنگ تات میں ہونے والے دھماکے میں 25 خواتین اور 30 مرد ہلاک ہوئے۔ تاہم بعض دیگر رپورٹس میں ہلاکتوں کی تعداد مختلف بتائی گئی ہے۔

    اتوار کے روز دھماکے کے فوراً بعد گاؤں کے اوپر دھوئیں کا ایک بہت بڑا بادل اٹھتا ہوا دیکھا گیا، جس نے پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

    علاقے پر کنٹرول رکھنے والی اور فوجی جنتا کے خلاف برسرِ پیکار تنظیم تانگ نیشنل لبریشن آرمی نے کہا ہے کہ کان کنی اور پتھر توڑنے کے کام میں استعمال ہونے والا دھماکا خیز مواد اچانک پھٹ گیا۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق تانگ نیشنل لبریشن آرمی کے بیان میں کہا گیا کہ یہ دھماکہ ’حادثاتی‘ تھا جو اتوار کو مقامی وقت کے مطابق دوپہر 12 بجے کے قریب ہوا۔

    تنظیم کے مطابق ’اس دھماکے کے باعث متعدد مقامی دیہاتی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ بہت سے افراد زخمی ہوئے اور ان کے گھروں کو شدید نقصان پہنچا۔‘

    واقعے کی ویڈیوز میں زمین پر ایک بہت بڑا گڑھا، ملبے کے ڈھیر، تباہ شدہ عمارتیں، جلے ہوئے درخت اور اب بھی اٹھتا ہوا دھواں دیکھا جا سکتا ہے، جو دھماکے کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔

    تانگ نیشنل لبریشن آرمی میانمار میں فوجی حکومت کے خلاف سرگرم طاقتور نسلی مسلح گروہوں میں سے ایک ہے۔ میانمار جسے ماضی میں برما بھی کہا جاتا تھا، میں کئی باغی تنظیمیں اپنی سرگرمیوں کے اخراجات پورے کرنے کے لیے قیمتی معدنیات کی کان کنی پر انحصار کرتی ہیں۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کان کنی کے شعبے میں حفاظتی اقدامات کی کمی کے باعث کانوں کے دھنسنے، دھماکوں اور دیگر حادثات معمول کا حصہ بن چکے ہیں۔

  20. ایران نے عراقی کردستان میں واقع پارٹی کے ہیڈکوارٹر پر دو میزائل داغے: کوملہ ژامشکان پارٹی کا دعویٰ

    ایرانی کرد جماعت کوملہ ژامشکان پارٹی کے ایک سینئر عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے گزشتہ شب مقامی وقت کے مطابق رات آٹھ بجے عراقی کردستان میں واقع پارٹی کے مرکزی ہیڈکوارٹر پر دو میزائل حملے کیے۔

    پارٹی کے رہنما امجد حسین پناہی نے اپنی فیس بک پوسٹ میں بتایا کہ ان حملوں میں خالدان کے علاقے میں واقع آلانہ وادی میں پارٹی کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا گیا۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد سے اسلامی جمہوریہ ایران عراقی کردستان میں موجود اس ایرانی کرد جماعت کے ٹھکانوں پر 81 سے زائد میزائل اور ڈرون حملے کر چکا ہے۔

    دوسری جانب اربیل میں قائم ایک اور ایرانی کرد تنظیم، کردستان فریڈم پارٹی نے بھی اعلان کیا ہے کہ گزشتہ روز علی الصبح ایران کا ایک میزائل شہر کے قریب واقع اس کے ایک اڈے سے ٹکرایا۔

    پارٹی کے ترجمان کے مطابق ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے آغاز کے بعد سے ان کی جماعت کے ٹھکانوں پر 50 سے 60 مرتبہ حملے کیے جا چکے ہیں۔

    ان دعوؤں کے حوالے سے ایرانی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

    واضح رہے کہ ایرانی کرد جماعت کوملہ ژامشکان پارٹی ایران کی ایک کرد سیاسی و مسلح تنظیم ہے جو کئی دہائیوں سے ایران کے کرد علاقوں میں سیاسی حقوق، خودمختاری اور سماجی آزادیوں کے مطالبات کرتی رہی ہے۔

    یہ تنظیم ایران کے اندر ممنوع ہے، اس لیے اس کی مرکزی قیادت اور کیمپ زیادہ تر عراقی کردستان میں موجود ہوتے ہیں۔