آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ایرانی کشتیوں کے ’مچھر بیڑے‘ نے آبنائے ہرمز میں امریکی بحریہ کو کیسے مشکل میں ڈالا؟
- مصنف, لوئس باہوکو
- عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے ایران کی بحریہ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے اور اسے ’صرف مشین گن سے لیس چھوٹی کشتیوں‘ تک محدود کر دیا ہے۔
تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ’چھوٹی کشتیاں‘، جنھیں مغربی ماہرین بعض اوقات ’موسکیٹو فلیٹ‘ یعنی ’مچھر بیڑے‘ کا نام دیتے ہیں اپنی چھوٹی جسامت کے باوجود مؤثر اور خطرناک ثابت ہوا ہے۔
کئی ماہ سے یہی کشتیاں آبنائے ہرمز میں شدید خلل کا باعث بن رہی ہیں۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین آبی تجارتی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے بڑی مقدار میں عالمی تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران اس حکمت عملی کے ذریعے عالمی معیشت کو متاثر کرنے اور واشنگٹن پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ وہ تہران کے خلاف اپنی جنگی پالیسی ترک کر دے۔
تاہم سوال یہ ہے کہ یہ ’موسکیٹو فلیٹ‘ یا ’مچھر بیڑا‘ دراصل کیا ہیں اور یہ کس طرح اپنے محدود وسائل کے باوجود اتنا مؤثر اور خطرناک ثابت ہو رہا ہے؟
موسکیٹو فلیٹ یا مچھر بیڑا ایسی چھوٹی مگر تیز رفتار کشتیوں کا گروپ ہوتا ہے جو تعداد اور رفتار کی وجہ سے بڑی بحری طاقت کو بھی مشکل میں ڈال دیتا ہے۔
’تنگ کرنا، جتھوں کی صورت میں حملہ کرنا اور دشمن کو الجھانا‘
ایران کے ’مچھر بیڑے‘ کی بنیاد سنہ 1980 کی دہائی میں ایران عراق جنگ کے دوران رکھی گئی تھی۔
اگرچہ اس وقت ایران عراق کے ساتھ حالتِ جنگ میں تھا، لیکن سنہ 1980 کی دہائی میں ہونے والی ’ٹینکر جنگ‘ کے دوران لڑائی خلیجِ فارس تک پھیل گئی، جس کے نتیجے میں تیل بردار جہازوں کے تحفظ کے لیے امریکہ کو بھی مداخلت کرنا پڑی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکی بحریہ کے ساتھ جھڑپوں میں ایران کی روایتی بحری قوت کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ اس کے بعد چھوٹی کشتیوں پر مشتمل بیڑا ایران کی ایک ایسی جنگی حکمتِ عملی کا حصہ بن گیا جس کا مقصد طاقتور بحری قوتوں کا مقابلہ کرنا تھا۔
یہ بیڑا ایران کی وسیع تر عسکری حکمتِ عملی کا ایک حصہ ہے، جس میں میزائل، ڈرون، بارودی سرنگیں اور پڑوسی ممالک میں اس کے اتحادی گروپوں کے حملے بھی شامل ہیں۔
یونیورسٹی آف ٹینیسی ایٹ چیٹانوگا کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اور یونائٹڈ اگینسٹ نیوکلئیر ایران کے سینیئر مشیر سعید گلکار کہتے ہیں کہ ’طاقتور پاسدارانِ انقلاب کے زیرِ انتظام یہ بیڑا روایتی بحری جنگ کے لیے نہیں بنایا گیا، بلکہ اس کا مقصد ’تنگ کرنا، جتھوں کی صورت میں حملہ کرنا، دشمن کو الجھانا اور جہاز رانی میں خلل ڈالنا‘ ہے۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’آئی آر جی سی جانتا ہے کہ وہ روایتی بحری جنگ میں امریکہ کو شکست نہیں دے سکتا۔‘
اسی لیے ایران کی حکمت عملی یہ ہے کہ خلیج سے گزرنے والے مال بردار جہازوں کی مالک کمپنیوں کے لیے خطرات اور اخراجات بڑھائے جائیں، کمرشل آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے اور آبنائے ہرمز کو زیادہ خطرناک بنا دیا جائے۔
ماہرین کے مطابق اس بیڑے کی حکمت عملی میں تجارتی جہازوں کے قریب فائرنگ، سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانا اور مختلف سمتوں سے تیز رفتار کشتیوں کے جھنڈ کی صورت میں حملے شامل ہیں۔
یہ چھوٹی تیز رفتار کشتیاں عام طور پر مشین گن، راکٹ یا اینٹی شپ میزائلوں سے لیس ہوتی ہیں۔ ان میں سے بہت سی کشتیاں ایران میں تیار کی گئی ہیں جبکہ کچھ کو عام ماہی گیری کے لیے استعمال ہونے والی کشتیوں سے تبدیل کر کے جنگی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔
واشنگٹن میں قائم ہڈسن انسٹیٹیوٹ کے ماہر کین کاساپوگلو کے مطابق یہ کشتیاں سستی ہوتی ہیں اور آسانی سے دوبارہ تیار یا تبدیل کی جا سکتی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ایران کم لاگت میں تجارتی اور فوجی جہازوں کو خطرے میں ڈال سکتا ہے اور عالمی سمندری معیشت پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حکمت عملی کا بنیادی مقصد واشنگٹن پر دباؤ ڈالنا ہے تاکہ وہ تہران کے خلاف جنگی پالیسی ترک کرے اور مستقبل میں حملوں سے گریز کرے۔
ان کشتیوں کی ایک بڑی خاصیت یہ بھی ہے کہ یہ پانی میں بہت نیچی ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے ریڈار پر انھیں دور سے دیکھنا مشکل ہوتا ہے۔ ان کی مؤثر نگرانی کے لیے مسلسل ڈرون، ہیلی کاپٹر یا گشت کرنے والے طیاروں کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس بیڑے کا درست حجم معلوم نہیں کیونکہ بہت سی کشتیاں ایران کے جنوبی ساحل پر غاروں اور زیرِ زمین سرنگوں میں چھپا کر رکھی جاتی ہیں۔ تاہم اندازہ ہے کہ ان کی تعداد 500 سے لے کر ایک ہزار سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔
ایرانی حکومت وقتاً فوقتاً اس ’مچھر بیڑے‘ کے ساتھ بڑے بحری مشقیں بھی کرتی رہتی ہے۔
’سمندر میں گوریلا جنگ‘
تجزیہ کار اکثر ایران کی اس حکمتِ عملی کو سمندر میں گوریلا وار یا جنگ سے تشبیح دیتے ہیں۔
سعید گلکار کے مطابق اگرچہ امریکی بحریہ کھلے سمندر میں سامنے آنے والی ایرانی تیز رفتار کشتیوں کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے لیکن پاسدارانِ انقلاب آمنے سامنے آنے اور کھلے تصادم سے گریز کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’پاسدارانِ انقلاب براہِ راست ٹکراؤ سے بچتے ہیں اور اس کے بجائے اچانک حملہ کر کے نکل جانے کی حکمتِ عملی، جتھوں کی صورت میں حملے، بارودی سرنگیں، ڈرون، میزائل اور چھوٹی کشتیوں کے ذریعے امریکی اور تجارتی سرگرمیوں کی لاگت بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔‘
ایران اپنی تباہ ہو جانے والی کشتیوں کو تیزی سے اور کم خرچ میں دوبارہ تیار کر سکتا ہے جبکہ اس کے برعکس امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو تجارتی جہازوں کے تحفظ کے لیے مہنگے بحری جہاز اور طیارے تعینات کرنا پڑتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایران ہمیشہ جنگی جہازوں کو مکمل طور پر تباہ کرنے کی کوشش نہیں کرتا بلکہ صرف خطرے کا تاثر پیدا کرنا بھی کافی ہوتا ہے۔ اس سے انشورنس اخراجات بڑھ جاتے ہیں اور کمپنیاں اس راستے سے گزرنے سے گریز کرنے لگتی ہیں۔
یہاں تک کہ سمندر میں بارودی سرنگوں کا محض خدشہ بھی جہاز رانی کی رفتار کو کم کر دیتا ہے یا اسے عارضی طور پر روک دیتا ہے کیونکہ بارودی سرنگوں کو صاف کرنا ایک سست اور وقت طلب عمل ہوتا ہے۔
کیا ایرانی حکمتِ عملی کام کر رہی ہے؟
آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی جنگ سے قبل کی سطح کے مقابلے میں انتہائی کم ہو کر رہ گئی ہے۔
ریئل ٹائم نگرانی کے پلیٹ فارم ’ہرمز سٹریٹ مانیٹر‘ کے مطابق اس وقت روزانہ تقریباً 10 جہاز اس آبی راستے سے گزرتے ہیں، جو معمول کے 60 جہازوں کی اوسط یومیہ تعداد کا تقریباً 8 فیصد ہے۔
برطانیہ کی رائل نیوی کی علاقے میں تعینات ٹیم کے مطابق مجموعی بحری ٹریفک جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں 90 فیصد سے بھی کم ہو چکی ہے۔
8 اپریل کو امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے بعد سرگرمیوں میں کچھ دیر کے لیے اضافہ دیکھا گیا، تاہم چند ہی دن بعد امریکہ کی جانب سے ایران سے آنے جانے والے سامان پر اپنی پابندیاں نافذ کرنے کے بعد یہ بحالی دوبارہ ختم ہو گئی۔
ادھر آبنائے ہرمز میں حملوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
گذشتہ ہفتے برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر نے جو عالمی جہاز رانی کے راستوں کی نگرانی کرتا ہے، بتایا کہ ایک مال بردار جہاز کو قطر کے شہر دوحہ کے شمال مشرق میں تقریباً 23 بحری میل کے فاصلے پر ’نامعلوم میزائل نما شے‘ نے نشانہ بنایا، جس سے جہاز میں معمولی آگ لگ گئی، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
بعد ازاں ایران کی خبر رساں ایجنسی فارس نے رپورٹ کیا کہ مذکورہ جہاز امریکی پرچم تلے چل رہا تھا اور اس کا تعلق امریکہ سے تھا۔
اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے مطابق تقریباً 1500 جہاز اور 20 ہزار سے زائد عملے کے ارکان اس ناکہ بندی سے متاثر ہو رہے ہیں۔
آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل کی مقدار میں کمی کے باعث بعض ماہرین کے مطابق تاریخ کا سب سے بڑا تیل سپلائی بحران پیدا ہو گیا ہے اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں ریکارڈ سطح کے قریب پہنچ گئی ہیں۔