مکڑی، سانپ اور ہمارا خوف: یہ ڈر کہاں سے آتا ہے اور اس پر کیسے قابو پایا جائے؟

،تصویر کا ذریعہArt Images via Getty Images
- مصنف, ڈیزی سٹیونز
- عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
اگر آپ اچانک اپنے ڈرائنگ روم کے فرش پر ایک مکڑی کو دوڑتے ہوئے دیکھیں تو کیسا محسوس کریں گے؟
زیادہ تر مکڑیاں زہریلی ہوتی ہیں، لیکن ان میں سے بہت کم انسانوں کے لیے خطرناک ثابت ہوتی ہیں۔ ماحولیاتی تحقیق و تعلیم کے ادارے کے اندازوں کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال مکڑی کے کاٹنے سے 10 سے بھی کم افراد ہلاک ہوتے ہیں، اگرچہ اس بارے میں درست اعداد و شمار حاصل کرنا مشکل ہے۔
اس کے باوجود میرے سمیت بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ وہ مکڑیوں کے فوبیا کا شکار ہیں۔ اگر مجھے معلوم ہو کہ میرے کمرے میں مکڑی موجود ہے تو میں سو نہیں سکتی، اور صرف مکڑی کے جالے کا خیال ہی میرے بدن میں سنسنی دوڑا دیتا ہے۔
بہت سے معاملات میں فوبیا کسی ایسی چیز کا بہت زیادہ خوف ہوتا ہے جو کم از کم بذاتِ خود ہمیں کوئی سنگین نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ تو پھر یہ خوف اتنے عام کیوں ہیں؟ اور ان کی ابتدا کہاں سے ہوتی ہے؟
خوف سے فوبیا تک
امریکی ریاست نیو جرسی کی روٹجرز یونیورسٹی میں نفسیات کی پروفیسر وینیسا لوبو کہتی ہیں کہ خوف انسانی بقا کے لیے ایک بنیادی احساس ہے۔
وہ وضاحت کرتی ہیں: ’خوف اہم ہے کیونکہ یہ ہمیں ان چیزوں سے بچاتا ہے جو ہمارے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔‘
گھر کے اندر مکڑیاں دیکھنا بہت سے لوگوں کے لیے معمول کی بات ہے، لیکن بعض افراد ان کے بارے میں زیادہ بے چینی اور خوف محسوس کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہdlewis33 via Getty Images
لیکن ہنگری کی یونیورسٹی میں لیبارٹری برائے بصری ادراک اور جذبات کے سربراہ آندراس زیڈو کے مطابق جب خوف اس حد تک بڑھ جائے کہ انسان کی زندگی میں رکاوٹ بننے لگے تو اسے فوبیا قرار دیا جا سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ کہتے ہیں: ’اسے ایک مرحلہ وار سلسلے کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے، جو ایک بالکل فطری خوف سے شروع ہوتا ہے۔ ہر شخص کسی نہ کسی چیز سے خوفزدہ ہوتا ہے۔ لیکن جب یہی خوف آپ کی روز مرہ زندگی میں خلل ڈالنے لگے تو اسے فوبیا کہا جا سکتا ہے۔‘
لوبو کا یہ بھی کہنا ہے کہ فوبیا اکثر حقیقی خطرے کے مقابلے میں بہت زیادہ شدید ہوتا ہے۔
مثال کے طور پر دنیا کے بعض حصوں، جیسے برطانیہ میں، جہاں میں رہتی ہوں، سانپوں کی زیادہ تر اقسام انسانوں کے لیے خطرناک نہیں ہوتیں، لہٰذا ان سے انتہائی خوف غیر منطقی سمجھا جا سکتا ہے اور اسے فوبیا قرار دیا جا سکتا ہے۔ تاہم دنیا کے دیگر علاقوں میں اس خوف کا جواز پیش کیا جا سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہElva Etienne via Getty Images
فطری یا سیکھا ہوا؟
اگرچہ بعض فوبیا بہت عام ہیں، لیکن اکثر ماہرین کا خیال ہے کہ ہم ان کے ساتھ پیدا نہیں ہوتے۔ لوبو کے مطابق زندگی کے ابتدائی مہینوں میں بچے خوف محسوس کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
وہ کہتی ہیں: ’ہم خوف اس عمر میں محسوس کرنا شروع کرتے ہیں جب ہمیں اس بات کا علم ہو جاتا ہے کہ کوئی چیز ہمارے لیے خطرہ ہے۔ اس سمجھ تک پہنچنے کے لیے پہلے آپ کو اپنے ارد گرد کی دنیا کے بارے میں کچھ علم حاصل کرنا ہوتا ہے۔‘
اگر ہم مکڑیوں یا سانپوں کے خوف کے ساتھ پیدا نہیں ہوئے تو پھر لوگ خاص طور پر انھی جانداروں سے کیوں خوف کھاتے ہیں؟
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
آسٹریا کی ویانا یونیورسٹی میں ارتقائی نفسیات کی پروفیسر سٹیفنی ہال کی ایک تحقیق سے معلوم ہوا کہ بچوں کی آنکھوں کی پتلیاں اس وقت زیادہ پھیل جاتی ہیں جب وہ سانپوں یا مکڑیوں کی تصاویر دیکھتے ہیں، بنسبت پھولوں یا مچھلیوں کی تصاویر کے۔
آنکھ کی پتلی کا پھیلنا ممکنہ خطرے کے ادراک کی علامت ہو سکتا ہے۔ اس کا تعلق نورایڈرینالین نظام کی فعالیت سے ہے، جو جسم کے ’لڑو یا بھاگو‘ ردعمل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس دوران دل کی دھڑکن، فشار خون اور سانس لینے کی رفتار بڑھ جاتی ہے جبکہ جسم خود کو خطرے سے نمٹنے یا اس سے فرار ہونے کے لیے تیار کرتا ہے۔
ہال یہ نہیں سمجھتیں کہ خوف فطری ہوتا ہے، لیکن ان کے خیال میں ممکن ہے کہ ہم اپنے ارد گرد بعض چیزوں کو دوسری چیزوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے محسوس کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں، اور اس کی ایک وجہ ان کے حرکت کرنے کا انداز بھی ہو سکتی ہے۔
وہ کہتی ہیں: ’دنیا میں بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن سے خوف محسوس کرنے کے لیے ہمارا ذہن فطری طور پر زیادہ تیار ہوتا ہے۔‘
ممکن ہے ہم فوبیا کے ساتھ پیدا نہ ہوتے ہوں، لیکن بعض ماہرین کا خیال ہے کہ ہم جینیاتی طور پر ہی بعض مخصوص چیزوں سے خوف زدہ ہونے پر آمادہ ہوتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہMaskot via Getty Images
لوبو کے مطابق دوسرے جانداروں کے مقابلے میں ہم مکڑیوں اور سانپوں سے خوف زدہ ہونے کے لیے اس لیے زیادہ آمادہ ہو سکتے ہیں کیوں کہ وہ ہمیں ’عجیب‘ دکھائی دیتے ہیں۔
وہ کہتی ہیں: ’سانپ کے بارے میں سوچیں، دنیا میں اس جیسی کوئی دوسری چیز نہیں۔‘
’سوچیں کہ بچوں کو کس طرح کے جانور دیکھنے کی عادت ہوتی ہے؟ ایسے، جو چار ٹانگوں پر چلتے ہوں؟ سانپ ایسا نہیں کرتا۔ مکڑیاں بھی غیر مانوس انداز میں حرکت کرتی ہیں، اور یہی چیز ہمیں پریشان کرتی ہے۔‘
کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ بعض چیزوں سے خوف کا یہ رجحان ارتقائی عمل کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔
زیڈو کہتے ہیں: ’ابتدا میں انسان ایسے ماحول میں رہتے تھے جہاں یہ پیش گوئی کرنا مشکل تھا کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔‘
’انسانی ارتقا کے کسی مرحلے پر ہر خوف اور ہر فوبیا منطقی اور معقول تھا، لیکن ان میں سے بہت سی چیزیں اب ہماری روزمرہ زندگی میں اتنی مفید یا منطقی نہیں رہیں۔‘
لوبو کے مطابق مکڑیاں اور سانپ جس انداز سے حرکت کرتے ہیں، وہ بہت سے لوگوں میں بے چینی اور ناگواری کا احساس پیدا کر سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہCatherine Falls Commercial via Getty Images
تاہم مخصوص اقسام کے خوف سیکھنے کے لیے ارتقائی آمادگی، جسے ’نظریۂ آمادگی‘ کہا جاتا ہے، فوبیا پیدا ہونے کے لیے اکیلی کافی نہیں ہوتی۔
لوبو کے مطابق کسی جانور یا شے کے ساتھ براہِ راست منفی تجربہ اس سے خوف زدہ ہونا سیکھنے کے تیز ترین طریقوں میں سے ایک ہے، خصوصاً اگر ہمارے اندر پہلے سے ہی اس سے خوف محسوس کرنے کا فطری رجحان موجود ہو۔
تاہم ہم دوسروں کے منفی ردِعمل کو دیکھ کر بھی خوف زدہ ہونا سیکھ سکتے ہیں۔
لوبو کہتی ہیں: ’آپ جسمانی ردِعمل دیتے ہیں، مثلاً آپ کو کوئی چیز کاٹ لے یا آپ اچانک بری طرح گھبرا جائیں۔ پھر آپ اپنی والدہ کا ردِعمل دیکھتے ہیں، یا انھیں یہ کہتے سنتے ہیں کہ ہاں، یہ واقعی بری چیز ہے۔۔۔ یوں آپ کے اس چیز سے خوف زدہ ہونا سیکھنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔‘
اسی وجہ سے ہال کا کہنا ہے کہ فوبیا ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہو سکتا ہے۔
فلموں کو دیکھیے
چونکہ ہمارے تجربات ان چیزوں پر اثر انداز ہوتے ہیں جن سے ہم خوف سیکھتے ہیں، اس لیے لوبو کا خیال ہے کہ مقبول ثقافت بھی سانپوں اور مکڑیوں کے فوبیا کے پھیلاؤ میں کچھ ذمہ داری رکھتی ہے۔
وہ کہتی ہیں: ’فلموں اور کتابوں کو دیکھیے۔ سانپ یا مکڑی کب ہیرو یا نجات دہندہ کے طور پر دکھائے جاتے ہیں؟ کبھی نہیں۔‘
لوبو کے مطابق فلموں اور کتابوں میں بعض جانوروں کو جس طرح پیش کیا جاتا ہے، یہ بھی لوگوں کے خوف میں اضافہ کر سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہFlashpop via Getty Images
خوف کی ایک اور وجہ قدرتی ماحول میں پائی جانے والی چیزیں بھی ہو سکتی ہیں۔
زیڈو نے اس بات کا جائزہ لیا کہ آیا شہری ماحول میں رہنے والے شخص کا جانوروں کے فوبیا میں مبتلا ہونے کے امکانات کے درمیان کوئی تعلق موجود ہے۔ معلوم ہوا کہ جیسے جیسے شہروں میں آبادی بڑھ رہی ہے ویسے ویسے جانوروں سے خوفزدہ ہونا (زو فوبیا) بڑھ رہا ہے۔
وہ کہتے ہیں: ’ایسا لگتا ہے کہ جو لوگ فطرت میں زیادہ وقت گزارتے ہیں، وہ ان جانوروں سے کم خوفزدہ ہوتے ہیں جن کا انھیں سامنا ہو سکتا ہے۔‘
آج دنیا کی 80 فیصد سے زیادہ آبادی شہری علاقوں میں رہتی ہے، اس لیے یہ حیرت کی بات نہیں کہ جانوروں سے متعلق فوبیا اتنا عام ہو۔
اپنے خوف پر قابو پانا
زیادہ تر ماہرین دو باتوں پر متفق ہیں: فوبیا کا علاج ممکن ہے، اور اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ بتدریج اس چیز کا سامنا کریں جس سے آپ خوف کھاتے ہیں۔
ہال کہتی ہیں: ’اگر آپ بعض حالات میں بے آرامی محسوس کرتے ہیں تو خود کو ان حالات کا سامنا کرنے پر آمادہ کرنا فائدہ مند ہو سکتا ہے۔‘
لوبو مشورہ دیتی ہیں کہ ابتدا چھوٹے اقدامات سے کی جائے، مثلاً اس چیز کی تصاویر دیکھنا جس سے ہم ڈرتے ہیں، اس کے بارے میں مثبت معلومات حاصل کرنا، اور پھر آہستہ آہستہ اس کے ساتھ رابطہ بڑھانا۔
اگر فوبیا شدید ہو اور کسی کی زندگی پر نمایاں اثر ڈال رہا ہو تو بہتر ہے کہ پیشہ ورانہ مدد حاصل کر لی جائے۔
تحقیق بتاتی ہے کہ جو لوگ فطرت میں زیادہ وقت گزارتے ہیں ان میں فطرت سے متعلق فوبیا پیدا ہونے کا امکان کم ہوتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہJustin Paget via Getty Images
زیڈو کی تحقیق بھی اس خیال کی حمایت کرتی ہے کہ جس چیز کا خوف ہو، اس کا سامنا کرنے سے نہ صرف خوف کم ہوتا ہے بلکہ ختم بھی ہو سکتا ہے۔
وہ کہتے ہیں: ’ذاتی تجربہ خوف پیدا کرنے میں سب سے اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگر بچپن میں کسی چیز کے حوالے سے تجربہ مثبت رہا ہو تو وہ خوف کی نشوونما کے خلاف حفاظتی کردار ادا کرتا ہے۔‘
لوبو اس بات پر زور دیتی ہیں کہ خوف ہمیں محفوظ رکھنے میں مدد دیتا ہے اور اس کا وجود مفید ہے، لیکن اسی کے ساتھ وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ ہم اپنے فوبیا کے سامنے بے بس نہیں۔
وہ کہتی ہیں: ’ضروری نہیں کہ کسی چیز سے ہمیشہ خوف زدہ ہونا آپ کے مقدر میں لکھ دیا گیا ہو، اگر آپ کسی چیز سے ڈرتے ہیں اور نہیں چاہتے کہ یہ خوف برقرار رہے تو اس کے حل موجود ہیں۔‘
جہاں تک میرا تعلق ہے، مجھے نہیں معلوم کہ میں نے مکڑیوں کا خوف اپنے والدین سے سیکھا، کسی فلم کی وجہ سے اس کا شکار ہوئی، یا اس وجہ سے سے کہ مجھے زندگی میں مکڑیوں سے زیادہ واسطہ نہیں پڑا۔ شاید وجہ ان سب چیزوں کا مجموعہ ہو۔ لیکن ممکن ہے کہ یہ تحریر لکھنا اس خوف پر قابو پانے کی جانب میرا پہلا قدم ہو۔



















