امریکی صدر ٹرمپ کا ایک بار پھر جنگ کے جلد ختم ہونے اور ایران کے خلاف ’کامیابی‘ کا دعویٰ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا ہے کہ ’ایران کے ساتھ جنگ بہت جلد ختم ہو جائے گی اور اس کے بعد تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئے گی۔‘
امریکی خبر رساں ادارے فاکس نیوز سے گفتگو میں ٹرمپ نے کہا کہ ’میرے خیال میں ہم یہ جنگ بہت جلد جیتنے والے ہیں اور جیسے ہی ہم جیتیں گے، تیل کی قیمت ڈرامائی طور پر کم ہو جائے گی اور جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آ جائے گی۔‘
انھوں نے کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ عسکری اعتبار سے یہ جنگ ’تقریباً جیت چکا ہے‘، تاہم فوجی کارروائیاں اب بھی جاری ہیں۔
امریکی صدر نے ایران کی معیشت اور کرنسی کو بھی تباہ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران میں افراطِ زر کی شرح تقریباً 300 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’میں نے آج صبح 318 فیصد کا ہندسہ بھی سنا ہے۔‘
ٹرمپ نے گفتگو کے اختتام پر کہا کہ ’ان کی کرنسی ختم ہو چکی ہے، ان کی معیشت ختم ہو چکی ہے اور ان کی فوج ختم ہو چکی ہے۔‘
امریکی صدر اس سے قبل بھی ایران کے خلاف فیصلہ کن فوجی فتح اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول یا اسے کھلا رکھنے کے دعوے کرتے رہے ہیں۔
تاہم عالمی بحری جہازوں کی نگرانی کرنے والے مراکز کے اعداد و شمار کے مطابق خلیج فارس میں امریکی اور اسرائیلی جنگ سے پہلے اور بعد میں تجارتی جہازوں اور تیل بردار ٹینکروں کی آمدورفت میں نمایاں فرق آیا ہے۔
دوسری جانب امریکی انٹیلیجنس اور فوجی ذرائع کی بعض رپورٹس ایران کی فوجی صلاحیت کو پہنچنے والے نقصان کے بارے میں ٹرمپ اور امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے دعوؤں سے مکمل طور پر مطابقت نہیں رکھتیں۔ بعض اندازوں کے مطابق ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیتیں 50 فیصد تک برقرار ہیں۔