عاشورہ کے جلوس میں مبینہ زہریلے کیپسول بانٹنے والا شخص کون ہے اور وہ دو خواتین کی وجہ سے کیسے پکڑا گیا؟

    • مصنف, الپیش کرکرے، شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

ممبئی پولیس نے 26 جون کو عاشورہ کے جلوس کے دوران ایک ایسے شخص کو گرفتار کیا تھا، جو مبینہ طور پر جلوس میں شامل عزاداروں میں چوہے مار زہر سے بھرے کیپسول تقسیم کر رہا تھا۔

یہ معاملہ سنگین رُخ اختیار کر سکتا تھا مگر جلوس میں شامل دو خواتین، رُخسار سید اور اہلام حمیدی، کی بروقت ہوشیاری اور عقلمندی نے شہر کو بڑے نقصان سے بچا لیا۔

گرفتار ہونے والے شخص کی شناخت ’فیاض پریم جی‘ کے طور پر ہوئی ہے اور پولیس کے مطابق ملزم کے قبضے سے 14 ہزار 900 کیپسول برآمد کیے گئے ہیں۔

ابتدائی تفتیش میں یہ سامنے آیا ہے کہ کیپسول میں ’زِنک فاسفائیڈ‘ نامی زہریلا کیمیکل موجود تھا، اور اس مواد کی مزید جانچ کے لیے اسے لیبارٹری بھیج دیا گیا ہے جبکہ ملزم سے تفتیش کا عمل جاری ہے۔

جلوس میں رضاکار کے طور پر فرائض سرانجام دینے والی اہلام حمیدی اور رخسار سید کو فیاض پریم جی پر اُس وقت شک ہوا جب وہ جلوس کے شرکا میں یہ کیپسول بانٹ رہے تھے۔

ان دونوں خواتین نے نشاندہی پر ملزم کو پکڑا گیا اور بعدازاں پولیس کے حوالے کیا گیا اور اس کے بعد سامنے آنے تفصیلات نے بہت سے سوالات کو جنم دیا۔

رُخسار اور اہلام کو شک کیوں ہوا؟

26 جون کی شام انجیرواڑی سے نکلنے والا جلوس رحمت باغ قبرستان کی جانب رواں تھا اور اس میں تقریباً 30 ہزار افراد شریک تھے۔

جلوس کے راستے میں روایتی سرگرمیاں جاری تھیں کہ جب یہ واقعہ پیش آیا۔

اگرچہ محرم کے جلوسوں کے دوران نذر نیاز تقسیم کرنا عام بات ہے مگر اہلام حمیدی اور رخسار سید کو شک اُس وقت ہوا جب انھوں نے ملزم کو لوگوں میں کیپسول تقسیم کرتے دیکھا، کیونکہ کیپسول کی تقسیم ایسی چیز تھی جو وہ اپنی زندگیوں میں پہلی بار دیکھ رہی تھیں۔

دونوں خواتین تعلیم یافتہ ہیں اور گذشتہ کئی برسوں سے محرم کے جلوسوں کے دوران رضاکارانہ خدمات انجام دیتی رہی ہیں۔

اہلام حمیدی کافی کا کاروبار کرتی ہیں اور اپنے اہلخانہ کے ہمراہ ممبئی کے علاقے بائیکلہ میں رہتی ہیں۔ رخسار سید ممبئی کے ایک مضافاتی علاقے میں رہتی ہیں اور کاسمیٹکس کی سیلز پرسن کے طور پر کام کرتی ہیں۔

یہ دونوں آپس میں اچھی دوست بھی ہیں۔

بی بی سی مراٹھی سے بات کرتے ہوئے رخسار سید نے بتایا کہ ’اہلام اور میں مزگاؤں مسجد کے باہر موجود تھیں۔ جلوس میں شامل کچھ لوگ تھکن کی وجہ سے وہاں آرام کر رہے تھے۔ اسی دوران ایک شخص بڑی تعداد میں کیپسول تقسیم کر رہا تھا۔ وہ کہہ رہا تھا کہ یہ ہر طرح کی تکلیف اور درد میں آرام دیتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ ’لوگ اسے نیاز سمجھ کر لے رہے تھے۔ چونکہ شام کا وقت تھا، اس لیے پیکٹ پر کیا لکھا ہے یہ صاف نظر نہیں آ رہا تھا۔‘

رخسار نے کہا کہ ’اہلام نے اس شخص سے کیپسول کا ایک پیکٹ لیا۔ اس پر کچھ واضح نہیں لکھا تھا، جس سے ہمیں شک ہوا۔ ہم نے ایک کیپسول کھول کر دیکھا تو اس میں سیاہ رنگ کا پاؤڈر تھا۔ تب ہمیں لگا کہ یہ کوئی خطرناک چیز ہو سکتی ہے۔‘

رخسار نے بتایا کہ ’وہ شخص وہاں سے جانے ہی والا تھا جب ہم نے اسے روک لیا۔ اس کے پاس ایک بڑا نیلے رنگ کا پلاسٹک کا بیگ تھا جس میں بہت سے کیپسول تھے۔ جب ہم نے اُس سے ان کے بارے میں پوچھنا شروع کیا تو وہ گھبرا گیا۔ اس کے ساتھ دو لوگ اور بھی تھے جن کے بیگز میں بھی کیپسول موجود تھے۔ میں نے اس کا گریبان پکڑا اور فوراً پولیس کو اطلاع دی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہم نے جلوس میں اعلان کروایا کہ لوگ یہ کیپسول استعمال نہ کریں۔ پھر رضاکاروں کی مدد سے لوگوں میں تقسیم کیے گئے کیپسول جمع کیے اور پولیس کے حوالے کر دیے۔‘

’تبرک تو ایسے نہیں بانٹا جاتا‘

جبکہ اہلام حمیدی نے بتایا کہ ’وہ شخص کیپسول جلوس میں شامل لوگوں کی جانب پھینک کر انھیں تقسیم کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ہمیں شک اس بات کا ہوا کہ تبرک تو اس طرح سے نہیں بانٹا جاتا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اس کے پھینکے ہوئے کیپسول میں سے ایک میرے قدموں کے پاس گرا۔ میں نے اسے کھول کر دیکھا۔ ابتدا میں لگا شاید کوئی دوا ہو، لیکن جب اسے منہ کے قریب کیا تو اس کی بُو بہت تیز اور عجیب تھی۔‘

اہلام نے مزید بتایا کہ ’پیکٹ پر کچھ معلومات درج تھیں، مگر ذہن میں سوال یہ تھا کہ آخر کیسے صرف ایک کیپسول اتنی بیماریوں کے لیے فائدہ مند ہو سکتے ہیں۔ رخسار کو بھی شک ہونے لگا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’جب ہم نے اس شخص کو دیکھا تو فوراً روک لیا اور پکڑ لیا۔ وہ کہنے لگا کہ ’میں نے کیا کیا ہے؟‘ ہم نے جواب دیا کہ ’یہ تو آپ کو اب پولیس ہی بتائے گی۔‘

اہلام نے بتایا کہ ’میں نے اس کے ہاتھ سے کیپسول سے بھرا پلاسٹک بیگ چھین لیا۔‘

انھوں نے کہا ’ہم نے لوگوں سے درخواست کی کہ یہ کیپسول استعمال نہ کریں اور انھیں رضاکاروں یا پولیس کے حوالے کر دیں۔ یہ سارا واقعہ تقریباً 20 منٹ تک جاری رہا۔‘

ملزم فیاض پریم جی کون ہیں؟

ممبئی پولیس نے جس شخص کو لوگوں کو اجتماعی طور پر چوہا مار زہر دے کر مارنے کی سازش کے الزام میں گرفتار کیا ہے، اُن کا نام فیاض نثار حسین پریم جی ہے۔

فیاض مہاراشٹر کے شہر پونے کے رہائشی ہیں اور اُن کا تعلق خوجہ شیعہ برادری سے ہے۔

فیاض پریم جی خود کو ایک اصلاح پسند کہتے ہیں اور وہ اپنے خیالات کی ترویج کے لیے یوٹیوب اور فیس بک جیسے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز کا استعمال کرتے تھے۔

انھوں نے ان ویڈیوز کی مدد سے اپنی کمیونٹی کے نوجوانوں کو اپنے خیالات کی جانب راغب کیا، لیکن آگے چل کر جب انھوں نے بنیادی مذہبی عقائد اور روایات کو چیلنج کرنا شروع کیا تو رفتہ رفتہ خوجہ برادری کے لوگ اُن سے دوری اختیار کرنے لگے۔

خوجہ شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کے مطابق انھوں نے سوشل میڈیا پر خوجہ برادری پر طرح طرح کی تنقید کرنا شروع کی۔

فیاض پریم جی نے اپنے سوشل میڈیا پر خود بتایا کہ وہ نظریات کے سبب خود مسلمانوں سے اتنے بیزار ہو گئے کہ 2019 میں انھوں نے اسلام ترک کرنے کا اعلان کر دیا۔ انھوں نے ایک موقع پر یہ اعلان بھی کیا کہ وہ لامذہب ہو چکے ہیں۔ وہ ایران بھی گئے لیکن کچھ عرصہ وہاں رہ کر واپس آ گئے۔

مذہب ترک کرنے کے بعد وہ اکثر ہندوتوا حامی رائٹ ونگ کے یوٹیوب پوڈکاسٹ چینلوں پر بحث و مباحثوں میں شریک ہوتے اور شیعہ اسلام، ایران اور اپنے مذہب ترک کرنے کے بارے میں تفصیل سے باتیں کرتے۔

سنہ 2020 میں یوٹیوب پر رائٹ ونگ کی ایکٹیوسٹ مدھو کشور کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا تھا کہ ’مسلمان کیسا بھی ہو، مانتا تو قرآن ہی کو ہی ہے، اس لیے وہ اعتدال پسند نہیں ہو سکتا۔‘

ان کے اس طرح کے خیالات سے ان کی برادری نے اُن سے سماجی سطح پر دوری اختیار کر لی۔

’خوجہ شیعہ اثنا عشری جماعت‘ کے سربراہ علی اکبر محمد رضا شراف کا کہنا ہے کہ پوری برادری فیاض پریم جی کے زہریلے کیپسول کے معاملے پر صدمے میں ہے۔

انھوں نے ممبئی پولیس سے فیاض پریم جی کے معاملے کی جامع تفتیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’فیاض نے سات آٹھ برس تک ایسے غیر معقول سوالات اٹھائے اور وہ اتنی انتہا پسندی کی سوچ پر چلا گیا کہ لوگ اسے پاگل پن سے تعبیر کرنے لگے۔'

علی اکبر شراف کا دعویٰ ہے کہ فیاض پریم جی ’اسلام کے بنیادی عقائد کے بارے میں سوالات کرتے۔ وہ کہتے تھے کہ زکوٰۃ کیوں دینی چاہیے۔ شیعہ برادری جو خمس کا پیسہ نکال کر عراق بھیجتی ہے، وہ اس کی مخالفت کرتے۔ آئے دن کسی کے گھر کے باہر دھرنا دیتے تو کبھی احتجاج کرتے۔‘

یاد رہے کہ انڈیا میں خوجہ شیعہ برادری ایک نظم و ضبط کی پابند اور قانون کا احترام کرنے والی کمیونٹی کے طور پر جانی جاتی ہے اور انھیں انڈیا میں احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔

اس کمیونٹی کے لوگ ڈاکٹر، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ، پروفیشنل، کامیاب وکلا اور بزنس فیلڈ کے ساتھ ساتھ بڑی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں میں نظر آتے ہیں۔ انڈیا میں ان کی مجموعی تعداد تقریباً 40 ہزار ہے جس میں سے بڑی تعداد ممبئی میں آباد ہے۔

ممبئی پولیس کے تفتیش کار یہ پتہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آخر ایسا کیا ہوا جس کے سبب انھوں نے مبینہ طور پر اتنے بڑے حملے کا منصوبہ تیار کیا۔