ایران کے خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق صدر مسعود پزشکیان نے خبردار کیا ہے کہ بعض ’اندرونی اور بیرونی عناصر‘ ایران کے اتحاد کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انھوں نے یہ بات 28 جون کو ایران کے مذہبی مرکز قم کے دورے کے دوران اعلیٰ مذہبی شخصیات بشمول آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی سے ملاقات میں کہی۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات کے تناظر میں حکومت کے لیے حمایت کو مضبوط بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔
آیت اللہ مکارم شیرازی کو جنگ کے بعد کی صورتحال اور سفارتی کوششوں پر بریفنگ دیتے ہوئے پزشکیان نے ملک کے اندر اتحاد کی ضرورت پر زور دیا۔ انھوں نے کہا کہ ’ملک کے اندر اور باہر بعض حلقے قومی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے اور معاہدے کے عمل کو متاثر کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔‘
ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات پر قدامت پسند حلقوں کی جانب سے تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔
صدر پزشکیان کا کہنا تھا کہ انھیں امید ہے کہ مذاکرات میں پیش رفت سے ’ملک کے معاشی اور سماجی مسائل کے ایک بڑے حصے‘ کو حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
آیت اللہ مکارم شیرازی نے جنگ اور اس کے بعد کے معاملات سے نمٹنے میں حکومت کی کارکردگی کو سراہا۔ انھوں نے حالیہ معاہدوں کے ’ممکنہ مثبت اثرات‘ کا بھی ذکر کیا۔
تاہم انھوں نے حکومت پر زور دیا کہ ایسے کسی قدم سے گریز کیا جائے جو ’دشمنوں کو حوصلہ دے سکتا ہو۔‘
اس کے علاوہ ایرانی صدر نے قم میں رہبرِ اعلیٰ کے نمائندے آیت اللہ سید محمد سعیدی سے ایک الگ ملاقات کی جس کے دوران مسعود پزشکیان نے ان سیاسی اور سفارتی کوششوں کا جائزہ پیش کیا جس کے باعث ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی معاہدہ ہوا۔
انھوں نے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے ’تزویراتی اور رہنما کردار‘ کو بھی اجاگر کیا۔
صدر نے اس معاہدے کے نتیجے میں ’لبنان میں نسبتی امن و استحکام‘ اور ’کچھ اقتصادی مواقع‘ کا بھی حوالہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا سہرا رہبرِ اعلیٰ کی رہنمائی اور حکومت کی عمل درآمد کو جاتا ہے۔