آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, امریکہ اور ایران میں تکنیکی مذاکرات جاری، تہران کے عوامی بیانات دلچسپ اور کسی حد تک پریشان کن ہیں: جے ڈی وینس

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ دوحہ میں جاری مذاکرات سے متعلق ایران کی عوامی سطح پر تردید دراصل ایک دانستہ ’فارسی طرزِ مذاکرات‘ ہے، جبکہ ان کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے درمیان تکنیکی سطح کی بات چیت جاری ہے۔

خلاصہ

  • امریکہ اور ایران میں تکنیکی مذاکرات جاری، تہران کے عوامی بیانات ’دلچسپ اور کسی حد تک پریشان کن‘ ہیں: جے ڈی وینس
  • ٹرمپ کے نمائندے سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر دوحہ میں موجود، تہران کی بھی قطر وفد بھیجنے کی تصدیق
  • آبنائے ہرمز کی اہمیت اسی وقت ہو گی جب یہاں روزانہ آمدورفت بڑھے گی نہ کہ کم ہو گی: ایرانی سپیکر انٹرویو کی اچانک بندش، پارلیمان کا احتجاج
  • ٹرمپ نے کرپٹو سے ایک ارب ڈالر سے زیادہ کمائے، امریکی صدر کے اثاثوں کی تفصیلات جاری
  • دو ہفتوں سے بھی کم عرصے میں ایران نے 40 ملین بیرل تیل برآمد کیا: ایرانی سپیکر قالیباف

لائیو کوریج

  1. خامنہ ای کی آخری رسومات: 6 جولائی کو تہران میں عام تعطیل کا اعلان

    ایرانی حکومت نے منگل 6 جولائی کو تہران میں عام تعطیل کا اعلان کیا ہے۔

    ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے کہا ہے کہ اس تعطیل کا مقصد ’ایران کے سابق رہنما کے سوگواروں کی دارالحکومت سے واپسی کو آسان بنانا‘ ہے۔

    ان کے مطابق جمعرات کے روز پورے ایران میں یومِ سوگ بھی منایا جائے گا۔ علی خامنہ ای کی تدفین جمعرات 8 جولائی کو مشہد میں کی جائے گی۔

    سرکاری شیڈول کے مطابق علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین کی تقاریب چار سے آٹھ جولائی کے درمیان تہران، قم اور مشہد میں منعقد ہوں گی، جبکہ عراق کے شہروں بغداد، کاظمین، کربلا اور نجف میں بھی تعزیتی تقریبات کا اہتمام کیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ علی خامنہ ای امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر فضائی حملوں کے ابتدائی گھنٹوں میں اس وقت مارے گئے تھے جب ان کی رہائش گاہ اور دفتر، جسے ’بیتِ رہبری‘ کہا جاتا ہے، کو نشانہ بنایا گیا، تاہم تاحال ان کی تدفین نہیں کی گئی۔

  2. آبنائے ہرمز میں پھنسے 10 جہاز واپس نکل گئے: تھائی لینڈ

    تھائی لینڈ کی وزارتِ خارجہ کے مطابق فروری کے آخر سے آبنائے ہرمز میں پھنسے 11 میں سے 10 تھائی جھنڈا بردار یا تھائی کمپنیوں کے زیرِ انتظام جہاز بحفاظت اس آبی گزرگاہ سے نکل چکے ہیں۔

    وزارت نے بتایا کہ ایک جہاز ’ہتھایا ناری‘ اب بھی اس علاقے میں موجود ہے اور کارگو لوڈ ہونے کا انتظار کر رہا ہے، جس کے بعد توقع ہے کہ وہ بھی جلد روانہ ہو جائے گا۔

  3. دو ہفتوں سے بھی کم عرصے میں ایران نے 40 ملین بیرل تیل برآمد کیا: ایرانی سپیکر قالیباف

    ایرانی پارلیمان کے سپیکر اور امریکہ کے ساتھ مذاکراتی ٹیم کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے سرکاری میڈیا کو دیے گئے ایک تفصیلی انٹرویو میں کہا ہے کہ ایران نے امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے کے بعد دو ہفتوں سے کم عرصے میں 40 ملین بیرل سے زائد تیل برآمد کیا ہے۔

    انھوں نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف عائد بحری پابندیوں کا خاتمہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عسکری طاقت کے ساتھ سفارت کاری بھی ٹھوس نتائج دے سکتی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایران کی اصل ضمانت اس کی عسکری قوت ہے، اسی لیے اس کا میزائل پروگرام اور دفاعی صلاحیتیں ’کسی صورت مذاکرات کا حصہ نہیں بن سکتیں‘۔

    قالیباف نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران اپنے جوہری حقوق سے دستبردار نہیں ہوگا۔ ان کے بقول ’یورینیم کی افزودگی ہمارا جائز اور ناقابلِ تنسیخ حق ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ مفاہمتی یادداشت کے تحت حتمی معاہدے کے لیے دی گئی 60 روزہ مدت میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے، اور مذاکرات اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک امریکہ اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے عائد تمام بنیادی اور ثانوی پابندیاں ختم نہیں ہو جاتیں۔

    اسی انٹرویو میں قالیباف نے بتایا کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں سمندری خدمات کے نظم و نسق کے حوالے سے قانونی اور سروس سے متعلق تمام امور پر اتفاق ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات اس وقت تک آگے نہیں بڑھیں گے جب تک مفاہمتی یادداشت کی پانچ شقوں پر عملدرآمد نہیں ہوتا، جن میں لبنان میں کشیدگی کا خاتمہ، ایرانی تیل کی برآمدات کو یقینی بنانا اور منجمد اثاثوں کی رہائی شامل ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ایران، امریکہ اور لبنان نے ایک ’ڈی کنفلکشن سیل‘ قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے، جس کا مقصد کشیدگی کو کم کرنا ہے، اور تہران اور واشنگٹن اس کے لیے اپنے نمائندے مقرر کر چکے ہیں جبکہ بیروت کی جانب سے بھی جلد نامزدگی متوقع ہے۔

    قالیباف کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت کا مقصد لبنان کی خودمختاری کا تحفظ ہے، جبکہ امریکہ کی ثالثی میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والا الگ فریم ورک اسرائیل کی سکیورٹی کو یقینی بنانے پر مرکوز ہے۔

    آبنائے ہرمز کے حوالے سے بات کرتے ہوئے قالیباف نے کہا کہ ایران اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنی خودمختاری برقرار رکھے گا اور مفاہمتی یادداشت کے تحت دی گئی 60 روزہ رعایت صرف عارضی نوعیت کی ہے، جس کے تحت سمندری خدمات کی فیس میں چھوٹ دی گئی ہے۔

    ان کے بقول ’یہ ہمارے علاقائی پانی ہیں اور ہم امریکہ کو یہ اجازت نہیں دیں گے کہ وہ یہ تاثر دے کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو عسکری شکل دے دی ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ایران ’کسی بھی صورت میں اپنے اس مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا‘ اور آبنائے ہرمز کو ایک ایسی اہمیت کا حامل قرار دیا جو ان کے بقول ’ہماری سب سے بڑی طاقت کا ذریعہ‘ ہے۔

  4. خلیج میں پھنسا جنوبی کوریا کا جہاز مرمت مکمل ہوتے ہی روانگی کے لیے تیار

    جنوبی کوریا کی وزارتِ سمندر و جہاز رانی کا کہنا ہے کہ کارگو جہاز ’نامو‘، جسے مئی میں ایک حملے میں نقصان پہنچا تھا، مرمت مکمل ہونے کے بعد آبنائے ہرمز سے باہر نکل جائے گا۔

    یہ بلک کیریئر جہاز، جسے ایچ ایم ایم کمپنی چلا رہی ہے، 28 فروری سے خلیج میں پھنسا ہوا ہے، جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ شروع کی تھی۔

    وزارت کے مطابق یہ جہاز اس وقت دبئی کی ایک بندرگاہ پر مرمت کے عمل سے گزر رہا ہے اور توقع ہے کہ جولائی کے آخر تک آبنائے ہرمز سے نکل جائے گا۔ ایران نے اس جہاز کو نشانہ بنانے کی تردید کی ہے، جبکہ جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ وہ یہ حتمی طور پر تعین نہیں کر سکا کہ حملے کا ذمہ دار کون تھا یا آیا یہ حملہ جان بوجھ کر کیا گیا تھا یا نہیں۔

    ’نامو‘ پر عملے کے 32 افراد سوار ہیں اور یہ ان دو جنوبی کوریائی جہازوں میں سے ایک ہے جو اب بھی آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے ہیں، جبکہ اب تک تقریباً 24 جہاز اس آبی گزرگاہ سے نکل چکے ہیں۔

  5. امریکہ اور ایران میں تکنیکی مذاکرات جاری ہیں: نائب صدر جے ڈی وینس

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ دوحہ میں جاری مذاکرات سے متعلق ایران کی عوامی سطح پر تردید دراصل ایک دانستہ ’فارسی طرزِ مذاکرات‘ ہے، جبکہ ان کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے درمیان تکنیکی سطح کی بات چیت جاری ہے۔

    دی مائیکل نولز شو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں، جو منگل کو نشر کیا گیا، جے ڈی وینس نے کہا’مقررہ مذاکرات ہونے تھے، دراصل تکنیکی نوعیت کے مذاکرات، جو پہلے سے جاری بات چیت کی بنیاد پر آگے بڑھ رہے ہیں، اور یہ یقینی طور پر یکم جولائی کو ہو رہے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ تہران کے عوامی بیانات انھیں ’دلچسپ اور کسی حد تک پریشان کن‘ لگتے ہیں، کیونکہ ایرانی حکام ایک طرف امن مذاکرات کی تردید کرتے ہیں جبکہ دوسری جانب تکنیکی سطح کی بات چیت کو تسلیم بھی کرتے ہیں۔

    ان کے بقول ’وہ کہتے ہیں کہ نہیں، امن مذاکرات نہیں ہو رہے، لیکن ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کے حوالے سے تکنیکی مذاکرات جاری ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ ایک فارسی طرزِ مذاکرات اور بیانیہ ہے جسے میں سمجھ نہیں پاتا۔‘

    وائٹ ہاؤس کے نمائندے سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر پیر کے روز اس وقت دوحہ روانہ ہوئے تھے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے قطری دارالحکومت میں ملاقات کی درخواست کی ہے۔ تاہم ایران نے امریکہ کے ساتھ کسی براہ راست ملاقات کی منصوبہ بندی کی تردید کی ہے، جبکہ یہ بھی کہا ہے کہ ثالثوں کے ذریعے مشاورت کا عمل جاری ہے۔

  6. امریکہ-ایران مذاکرات پر خدشات: تیل کی قیمتوں میں اضافہ، ایشیائی منڈیوں میں غیر یقینی

    امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے اور اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز تک رسائی سے متعلق مذاکرات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے جبکہ ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں ملا جلا رجحان رہا۔

    برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 33 سینٹ یا 0.45 فیصد اضافے کے ساتھ 73.28 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ 34 سینٹ یا 0.49 فیصد بڑھ کر 69.84 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔

    تیل کی منڈی کے تجزیاتی ادارے وانڈا انسائٹس کی بانی وندانا ہری نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھل تو رہی ہے، تاہم صورتحال غیر ہموار، غیر یقینی اور مکمل طور پر شفاف نہیں۔

    ان کے مطابق جب تک واشنگٹن اور تہران کے درمیان کوئی نئی مفاہمت نہیں ہوتی، منڈی ممکنہ طور پر مستقل امن و سکون کے واضح آثار کا انتظار کرے گی، اس سے پہلے کہ خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا رجحان دوبارہ شروع ہو۔

    ادھر ایشیا کی سٹاک مارکیٹس میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا۔

  7. ایران کے ساتھ مذاکرات ناکام بھی ہوئے تو امریکہ ’مضبوط پوزیشن‘ میں ہوگا: امریکی نائب صدر

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے حوالے سے مختلف میڈیا اداروں کو دیے گئے انٹرویوز میں کہا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام بھی ہو جاتے ہیں تب بھی امریکہ ایک ’بہت مضبوط پوزیشن‘ میں ہوگا۔

    امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نتائج سے قطع نظر مضبوط حالات میں ہے۔ ان کے بقول امریکہ ’واضح طور پر‘ چاہتا ہے کہ مذاکرات کامیاب ہوں، تاہم اگر ایسا نہ بھی ہوا تو بھی امریکہ ایران کے مقابلے میں ’کہیں زیادہ مضبوط پوزیشن‘ میں رہے گا۔

    جے ڈی وینس نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ تہران کے جوہری پروگرام اور فوجی صلاحیت کو ’تباہ کر دیا گیا ہے‘۔ انھوں نے خبردار کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر ایران کی کسی بھی کارروائی کے جواب میں امریکہ فوجی ردعمل دے گا۔

    انھوں نے ایک بار پھر کہا کہ اگر ایک مستقل حل کے لیے جاری مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو ایران ’بنیادی طور پر تبدیل‘ ہو جائے گا۔

    اس سے قبل نائب صدر نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل دوبارہ جنگ سے پہلے کی سطح پر پہنچ چکی ہے، جبکہ ایران کے ساتھ تکنیکی سطح پر مذاکرات جاری ہیں۔ تاہم تہران کی جانب سے امریکہ کے ساتھ کسی قسم کے امن مذاکرات کی تردید کی جا رہی ہے۔

  8. پیپلز پارٹی اور جے یو آئی کا پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں انتخابی اتحاد کا اعلان

    جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے منگل کے روز پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں آئندہ انتخابات کے لیے انتخابی اتحاد کا اعلان کیا ہے، جبکہ ساتھ ہی جاری صورتحال کے حل کے لیے مذاکرات پر بھی زور دیا ہے۔

    ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور جے یو آئی (ف) آزاد کشمیر کے آنے والے انتخابات مشترکہ طور پر لڑیں گے۔ ان کے بقول پیپلز پارٹی کی خواہش ہے کہ کشمیر میں جے یو آئی (ف) کے ساتھ مل کر حکومت بنائی جائے۔

    مولانا فضل الرحمن نے بھی کہا کہ اگر ان کی جماعت کا ’آزاد کشمیر چیپٹر پیپلز پارٹی کے ساتھ انتخابی اتحاد کرتی ہے تو وہ اس کی مکمل حمایت کریں گے۔‘

    واضح رہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے الیکشن کمیشن نے ریاست بھر میں عام انتخابات کے شیڈول کا اعلان کیا ہے، جس کے مطابق عام انتخابات 27 جولائی کو منقعد ہوں گے۔ اس خطے کے الیکشن کمشنر غلام مصطفی مغل کا کہنا تھا کہ ’الیکشن کو پر امن اور شفاف بنانے کے لیے فوج اور رینجرز کی مدد طلب کر لی گئی ہے۔ ‘

    بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن نے ہمیشہ سیاست میں اہم کردار ادا کیا ہے اور وہ ان سے کشمیر میں جاری صورتحال پر تبادلہ خیال کے لیے ملے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں رہنماؤں کو احتجاجی تحریکوں کا وسیع تجربہ ہے۔

    اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے کشمیر میں جاری کشیدگی کے حل کے لیے بات چیت کی ضرورت پر زور دیا۔ مولانا فضل الرحمن نے بتایا کہ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے بحران کے حل میں کردار ادا کرنے کے لیے ان سے رجوع کیا ہے۔ ان کے مطابق ان کی ثالثی کی پیشکش کے بعد کمیٹی نے ایک وفد بھی بھیجا اور باضابطہ طور پر ثالثی کی درخواست کی۔

    مولانا فضل الرحمن نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو نے حکومت کا حصہ ہونے کے باوجود پارلیمان میں ان کی ثالثی کی حمایت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ وزیر اعظم کو بھی مشترکہ پیغام دے رہے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ ’شہباز شریف آزاد کشمیر کی صورتحال کے حوالے سے مثبت اقدامات کریں گے۔‘

    بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیر کے مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوششوں کی حمایت کرے۔ ان کے بقول کشمیر میں انتخابات کا اعلان ہو چکا ہے اور وہ شفاف اور منصفانہ انتخابات چاہتے ہیں۔

    انھوں نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے اپیل کی کہ وہ قانون اور آئین کے دائرے میں رہ کر کام کرے۔

    کشمیر سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے مواد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بلاول نے کہا کہ اس نوعیت کا مواد قابلِ مذمت ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہر مسئلے کا حل بات چیت سے نکلتا ہے اور سیاسی تنازعات صرف سیاسی طریقوں سے ہی حل کیے جا سکتے ہیں، اسی لیے اس معاملے کو بھی سیاسی انداز میں نمٹانا ہوگا۔

    پاکستان کے زیرانتظام کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین کے لیے مخصوص نشستوں کے تنازعے کا ذکر کرتے ہوئے بلاول نے کہا کہ یہ معاملہ تعطل کا شکار ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق یہ نشستیں نہ احتجاج سے ختم ہوں گی اور نہ ہی دھرنوں سے، بلکہ اس کا واحد حل اسمبلی کے ذریعے آئینی ترمیم ہے۔

    بلاول بھٹو نے یہ بھی بتایا کہ انھوں نے حال ہی میں منعقد ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو شرکت کی دعوت دی تھی، تاہم اس گروپ نے شرکت نہیں کی۔

    آخر میں انھوں نے کہا کہ وہ اس مسئلے کے حل کے لیے تیار ہیں، چاہے اس کی قیمت انھیں ذاتی طور پر ادا ہی کیوں نہ کرنی پڑے، اور یہ کہ کشمیر کو پہلے ہی بہت نقصان پہنچ چکا ہے۔

  9. تکنیکی مذاکرات جاری، پیش رفت اطمینان بخش: امریکی حکومت کے ایک سینیئر اہلکار کا دعویٰ

    امریکی حکومت کے ایک سینیئر اہلکار نے امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر ادارے سی بی ایس کو غیر سرکاری طور پر فراہم کیے گئے بیان میں، دوحہ میں امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کی ملاقاتوں اور ایران کے ساتھ ممکنہ اعلیٰ سطح مذاکرات کے حوالے سے گفتگو کی ہے۔

    اہلکار کا کہنا تھا کہ سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی خطے کے رہنماؤں کے ساتھ بات چیت ’بہت مثبت‘ رہی ہے۔ ان کے مطابق تکنیکی سطح پر مذاکرات بدستور جاری ہیں اور ان میں ہونے والی پیش رفت اطمینان بخش ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے جہازوں کی آمد و رفت ایک بار پھر تیزی سے بحال ہو رہی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں بھی کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

    تاہم وائٹ ہاؤس کے اس اہلکار نے دوحہ میں ہونے والی ملاقاتوں میں شریک فریقین یا امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ براہِ راست، اعلیٰ سطح مذاکرات کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

    اس سے ایک روز قبل، منگل کو قطری وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندے سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر دوحہ پہنچ چکے ہیں، لیکن ان کی ایرانی حکام سے براہِ راست ملاقات طے نہیں ہے۔

    قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق، ٹرمپ کے نمائندے ثالثوں سے ملاقات کریں گے اور مذاکرات کی پیش رفت کا جائزہ لیں گے۔

    انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ایران کے منجمد کیے گئے چھ ارب ڈالر کے فنڈز تاحال تہران کو منتقل نہیں کیے گئے ہیں۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز کہا تھا کہ ایران کی درخواست پر آج دوحہ میں امریکی وفد کے ساتھ ایک ملاقات ہوگی۔

    اس اعلان کے بعد وائٹ ہاؤس نے بھی تصدیق کی تھی کہ سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اس ’اعلیٰ سطح‘ ملاقات میں شرکت کے لیے دوحہ جائیں گے۔

    تاہم کچھ ہی دیر بعد تہران نے ایک وفد کے قطر جانے کی تصدیق کی، لیکن یہ واضح کیا کہ اس کی امریکی حکام سے کوئی ملاقات طے نہیں ہے۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کے روز کہا تھا کہ امریکی نمائندوں کا قطر کا دورہ ایرانی وفد کے دورے سے کوئی تعلق نہیں رکھتا، اور ایرانی وفد کا سفر ’مفاہمتی یادداشت کی شقوں، بالخصوص شق 11، پر عملدرآمد کی پیروی‘ کے لیے کیا جا رہا ہے۔

    انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ آنے والے دنوں میں ’کسی بھی سطح پر امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکراتی اجلاس منعقد نہیں ہوگا۔‘

  10. پاسداران انقلاب سے حالیہ جھڑپوں میں ہمارے بھی چار اہلکار ہلاک ہوئے: کردستان فری لائف پارٹی

    ایران کی سکیورٹی فورسز اور کردستان فری لائف پارٹی (پی جے اے کے) کے جنگجوؤں کے درمیان حالیہ دنوں میں ہونے والی جھڑپوں اور فائرنگ کے تبادلے کے بعد، پی جے اے کے نے اپنے چار اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

    تنظیم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں ’دو مرد اور دو خواتین‘ شامل ہیں۔ بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ اس جھڑپ کے دوران پاسدارانِ انقلاب کے متعدد اہلکار بھی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

    اس سے قبل پاسدارانِ انقلاب سے قریبی سمجھے جانے والے ذرائع نے کچھ لاشوں اور اسلحے کی تصاویر جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ پی جے اے کے کے چھ ارکان مارے گئے ہیں۔

    کردستان فری لائف پارٹی کے عسکری ونگ کا کہنا ہے کہ وہ اس حملے کا جواب دیں گے۔

    ادھر ایرانی سرکاری میڈیا نے آج صبح رپورٹ کیا کہ پیر کی شام، 29 جولائی کو صوبہ کرمانشاہ کے شہر پاوہ میں ایک گھر کے سامنے فائرنگ کے واقعے میں پاسدارانِ انقلاب کے دو اہلکار ہلاک ہو گئے۔

    کرمانشاہ میں پاسدارانِ انقلاب کے شعبہ تعلقاتِ عامہ نے ایک مختصر بیان میں بتایا کہ اس واقعے میں تنظیم کے مزید دو اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    اپنے بیان میں پاسدارانِ انقلاب نے اس حملے کو ’دہشت گردی کی کارروائی‘ قرار دیا ہے۔

  11. آبنائے ہرمز کی اہمیت اسی وقت ہو گی جب یہاں روزانہ آمدورفت بڑھے گی نہ کہ کم ہو گی: ایرانی سپیکر

    ایرانی پارلیمان کے سپیکر اور امریکہ کے ساتھ مذاکراتی ٹیم کے سینیئر رکن محمد باقر قالیباف نے ایک تفصیلی ٹی وی انٹرویو میں حالیہ پیش رفت پر بات کی ہے، جس میں اندرونِ ملک ہونے والی حالیہ تنقید بھی شامل ہے جو گذشتہ چند دنوں میں ایک نئی شکل اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔

    اپنی گفتگو کے دوران قالیباف نے کہا کہ ’جہاں لڑنے کی ضرورت ہوگی، ہم لڑیں گے اور جہاں ہم اس مفاہمتی یادداشت کو بات چیت کے ذریعے آگے بڑھا سکتے ہیں، وہاں ہم بات چیت کا راستہ اختیار کریں گے۔ یہ جان لیں کہ جس طرح لبنان ہمارے لیے ایک سرخ لکیر ہے، اسی طرح آبنائے ہرمز پر ہمارا انتظام اور خودمختاری بھی یقینی اور طے شدہ ہے، اور ہم وہاں بہترین انداز میں سکیورٹی قائم کریں گے۔‘

    ایرانی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ نے مزید کہا کہ ’ہماری قوم کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ لوگ جو بد نیت ٹرمپ کی باتوں کو مان لیتے ہیں مگر ہماری بات قبول نہیں کرتے، کم از کم ایک بار اپنے دینی بھائی پر بھی اعتماد کریں۔ اگر آپ کو مجھ سے، یعنی قالیباف سے، کوئی سیاسی اختلاف ہے تو پھر آپ قوم کو کیوں پریشان کر رہے ہیں؟ یہ واقعی انصاف نہیں ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’کیا ہم میدان میں موجود نہیں؟ کیا ہم قوم کے حقوق حاصل کرنا نہیں چاہتے؟ آپ نے اپنے ذاتی اور سیاسی اختلافات کو اس معاملے میں کیوں گھسیٹ لیا ہے اور قوم کے حقوق کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں؟ یہ انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔‘

    انھوں نے امریکہ کے ساتھ ہونے والی مفاہمتی یادداشت میں آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کی شق اور ایران و اومان کے درمیان اس آبی گزرگاہ کے نظم و نسق سے متعلق بات چیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں اس آبنائے کو اس کے برعکس نہیں بنانا چاہیے۔ اس کی اہمیت اسی وقت ہے جب اس میں آمدورفت روز بروز بڑھتی جائے، نہ کہ کم ہو۔‘

  12. ٹرمپ نے کرپٹو سے ایک ارب ڈالر سے زیادہ کمائے، امریکی صدر کے اثاثوں کی تفصیلات جاری

    ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ذاتی مالیاتی اثاثوں کی تفصیلات جاری کر دی ہیں، جن کے مطابق گذشتہ برس امریکی صدر نے کرپٹو کرنسی کاروبار سے ایک ارب ڈالر سے زیادہ کمائے۔

    927 صفحات پر مشتمل گوشوارے میں امریکی صدر نے بتایا کہ انھوں نے 635 ملین ڈالر ٹرمپ میم کوائن سے حاصل کیے۔

    امریکی صدر نے ’ورلڈ لبرٹی فنانشل‘ نامی ایک کرپٹوکرنسی فرم سے 500 ملین ڈالر سے زائد آمدن بھی ظاہر کی، جس کی بنیاد ان کے اپنے بیٹوں اور ان کے خصوصی ایلچی سٹیو وِٹکوف کے بچوں نے رکھی تھی۔

    امریکی صدر نے رئیل اسٹیٹ سے بھی لاکھوں ڈالر کمائے تاہم وائٹ ہاؤس نے اس بات کی تردید کی کہ ٹرمپ صدارت سے مالی فائدہ اٹھا رہے تھے۔

    ٹرمپ کے مالیاتی اثاثوں کی تازہ تفصیلات سنہ 2024 کے مقابلے میں ان کی آمدنی میں نمایاں اضافے کی نشاندہی کرتی ہیں، جس میں ٹرمپ نے 600 ملین ڈالر سے زائد آمدن ظاہر کی تھی۔

    لیکن وائٹ ہاؤس بارہا اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ ٹرمپ نے اپنا کاروبار اپنے بیٹوں کے زیر انتظام ایک ٹرسٹ میں رکھا ہوا ہے۔

    وائٹ ہاؤس کی نائب پریس سیکرٹری اینا کیلی نے کہا ہے کہ صدر نے امریکہ کو ’دنیا کا کرپٹو دارالحکومت‘ بنایا۔

    انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ ’صدر اور نہ ہی ان کے خاندان نے کبھی مفادات کے ٹکراؤ میں حصہ لیا اور نہ ہی کبھی لیں گے۔‘

  13. ایرانی نشریاتی ادارے پر قالیباف کے انٹرویو کی اچانک بندش پر پارلیمان کا احتجاج

    ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف کا وہ ٹی وی انٹرویو، جس میں وہ جنگ، آبنائے ہرمز اور امریکہ کے ساتھ مذاکرات پر گفتگو کر رہے تھے، اچانک درمیان ہی میں روک دیا گیا۔ اس پر ایران کی مجلس کے میڈیا سینٹر نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس اقدام کے خلاف باقاعدہ احتجاج کیا ہے۔

    پارلیمان کے میڈیا سینٹر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ رہبرِ اعلیٰ کی ہدایت کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں درج شرائط پر عملدرآمد کے سلسلے میں ڈاکٹر محمد باقر قالیباف، جو نہ صرف مقننہ کے سربراہ ہیں بلکہ ملک کے مذاکراتی وفد کی قیادت بھی کر رہے ہیں، نے ایرانی نشریاتی ادارے کے تعاون سے عوام کو ایک رپورٹ پیش کرنے کے لیے ٹیلی کانفرنس کی۔ یہ پروگرام مقررہ وقت سے دو گھنٹے پہلے نشریاتی ادارے کو فراہم کر دیا گیا تھا، تاہم اسے دورانِ نشریات ہی روک دیا گیا۔

    بیان میں اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا گیا کہ یہ گفتگو پہلے سے ریکارڈ شدہ تھی اور اگر نشریاتی ادارہ اس کے کسی حصے کو نشر نہیں کرنا چاہتا تھا تو طریقہ کار کے مطابق مجلس کے میڈیا سینٹر سے مشاورت کی جا سکتی تھی، مگر ایسا نہیں کیا گیا۔

    مجلس کے میڈیا سینٹر کے مطابق انٹرویو کے وہ حصے نشر نہیں کیے گئے جن میں ایران کے جوہری مراکز کے معائنے سے متعلق بین الاقوامی ایجنسی کے دعوے کا جواب، منجمد اثاثوں کی رہائی سے متعلق پیش رفت، مفاہمتی متن میں 300 ارب ڈالر کے تعمیرِ نو کریڈٹ کی تفصیلات، ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات پر وضاحت اور 18 جون کو رہبرِ اعلیٰ کے سٹریٹیجک پیغام کی تشریح شامل تھی۔

    دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب کے قریب سمجھی جانے والی فارس نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے کہ ایرانی نشریاتی ادارے کے مطابق اس انٹرویو کا دوسرا حصہ اگلے روز بدھ کی شب نشر کیا جائے گا، اور اس بارے میں پروگرام کے اختتام پر سب ٹائٹلز کے ذریعے ناظرین کو آگاہ بھی کیا گیا تھا۔

    اسی دوران ایرانی نشریاتی ادارے کے ٹیلیگرام چینل نے انٹرویو کے مختلف حصے شائع کیے ہیں جن میں وہ مواد بھی شامل ہے جو براہِ راست نشریات کے دوران کاٹ دیا گیا تھا۔ ان میں ایک حصے میں محمد باقر قالیباف ایران کے تقریباً 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کے جاری ہونے کی وضاحت کرتے ہیں اور ساتھ ہی 2023 میں ایران اور جو بائیڈن انتظامیہ کے درمیان طے پانے والے چھ ارب ڈالر کے معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے ملک کے اندر ہونے والی تنقید کا جواب بھی دیتے ہیں۔

  14. لاہور میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کا واقعہ: ہلاک ہونے والے بچوں کی عمریں پانچ سے 16 سال کے درمیان ہیں

    لاہور کے علاقے کاہنہ میں ایک گھر میں قائم ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کے حادثے میں 14 بچے ہلاک ہوئے ہیں۔

    لاہور کی کمشنر مریم خان کے مطابق ایک ٹیچر بھی زخمی ہیں جبکہ حادثے کے وقت عمارت میں قریب 35 بچے موجود تھے۔

    صوبہ پنجاب کے ایمرجنسی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے مطابق ہلاک ہونے والے 12 بچوں کی عمریں پانچ سے نو سال کے درمیان ہیں جبکہ دو بچیوں کی عمریں بالترتیب 11 اور 16 سال ہیں۔

    خیال رہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اس واقعے پر پولیس سے تحقیقاتی رپورٹ طلب کی ہے اور پولیس نے اب تک مالک مکان سمیت دو افراد کو حراست میں لیا ہے۔

    ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے مطابق واقعے کی وجوہات اور ذمہ داران کے تعین کے لیے ’تمام شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔‘

  15. گذشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    • قطر کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلیٰ سطحی نمائندے دوحہ میں موجود ہیں لیکن ایران اور امریکہ کے درمیان کسی اعلیٰ سطح کی ملاقات کی منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔
    • تہران نے قطر کے لیے ایک وفد کے سفر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان کی امریکی حکام سے ملاقات کا کوئی ارادہ نہیں۔
    • ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکی نمائندوں کے دورۂ قطر کا ایرانی وفد کے دورے سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ ایرانی تکنیکی وفد صرف مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کے لیے دوحہ جا رہا ہے۔
    • ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے اتنظامات کے ذمہ دار شعبے نے کہا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی اپنے والد کے جنازے میں شرکت کا فیصلہ رہبرِ اعلیٰ کے دفتر کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے اور اگر اس حوالے سے کوئی منصوبہ بنایا گیا تو اس کا اعلان ان کے دفتر کی جانب سے ہی کیا جائے گا۔
    • امریکہ کی سپریم کورٹ نے پیدائشی شہریت محدود کرنے سے متعلق ٹرمپ کا حکم نامہ مسترد کر دیا ہے۔