پاکستان کی نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کے پہلے سربراہ جنرل عامر رضا کون ہیں؟

،تصویر کا ذریعہHIT
وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے پاکستانی فوج کے چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر انھیں کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔
وزیر اعظم آفس سے جاری ہونے والے ایک مختصر بیان کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے اس موقع پر جنرل عامر رضا کو ترقی اور نئی ذمہ داری سنبھالنے پر مبارکباد دی۔
اعلامیے کے مطابق وزیر اعظم نے اس اہم ذمہ داری کی انجام دہی میں جنرل عامر رضا کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ برس 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد آرمی ایکٹ کے تحت چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کر کے اس کی جگہ کمانڈر آف نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کا عہدہ متعارف کروایا گیا تھا۔
آرمی ایکٹ میں ہونے والی اس ترمیم کے مطابق اس عہدے پر چیف آف ڈیفینس فورسز کی سفارش پر وزیراعظم پاکستانی بری فوج کے ایک جنرل کو تین سال کے لیے تعینات کر سکتے ہیں۔
ترمیم کے تحت ’قومی مفاد میں‘ وزیر اعظم کمانڈر آف نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کی مدت ملازمت آرمی چیف کی سفارش پر مزید تین سال کے لیے بڑھا بھی سکتے ہیں اور اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔
اس کے علاوہ اس عہدے پر تعینات فوجی جنرل پر آرمی ایکٹ کے تحت ریٹائرمنٹ کی عمر اور دیگر ضوابط لاگو نہیں ہوں گے۔

،تصویر کا ذریعہPMO
جنرل عامر رضا کون ہیں؟
آرمرڈ کور سے تعلق رکھنے والے جنرل عامر رضا نے پاکستانی فوج میں کمانڈ، سٹاف اور ادارہ جاتی سطح کے متعدد اہم عہدوں پر خدمات انجام دی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جنرل عامر رضا کی فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی سے قبل جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں چیف آف جنرل سٹاف کے عہدے پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔
وہ ڈائریکٹر جنرل ویپنز اینڈ ایکوپمنٹ اور چیئرمین ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا (ایچ آئی ٹی) کے عہدوں پر بھی تعینات رہے ہیں اور جی او سی انفنٹری ڈویژن کھاریاں کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔
وہ کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کے گریجویٹ ہیں جبکہ برطانیہ سے ماسٹرز بھی کر چکے ہیں۔
جنرل عامر رضا نے اپریل 2020 میں ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کی کمان سنبھالی، جبکہ اکتوبر 2022 میں انھیں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی۔
جنرل رضا کو اُن کے ملٹری کریئر کے دوران ہلالِ امتیاز (ملٹری) اور ستارۂ بسالت سے بھی نوازا جا چکا ہے۔
تجزیہ کار اور صحافی ماجد نظامی کے مطابق عامر رضا اُن 12 میجر جنرلز میں شامل تھے جنھیں اکتوبر 2022 میں سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنی ریٹائرمنٹ سے قبل لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دی تھی۔
ماجد نظامی کے مطابق نو مئی کے بعد جب لاہور کے کور کمانڈر جنرل سلمان فیاض غنی کو جب اُن کے عہدے سے ہٹایا گیا تو اس کے بعد جنرل عامر رضا کی اس اہم عہدے پر تقرری کی گئی تھی۔
اُن کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کی طرح جنرل عامر رضا کا بھی تعلق آفیسر ٹریننگ سکول منگلا (او ٹی ایس) سے ہے۔
ماجد نظامی کا کہنا ہے کہ نئی قانون سازی میں فیلڈ مارشل اور چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) کے علاوہ بھی یہ گنجائش رکھی گئی ہے کہ کوئی جنرل فور سٹار تک ترقی کر سکتا ہے۔
کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کیا ہے؟
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
گذشتہ سال نومبر میں 27ویں آئینی ترمیم کے تحت چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے بجائے کمانڈر آف نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کا ایک نیا عہدہ متعارف کروایا گیا تھا۔
یاد رہے کہ 27ویں آئینی ترمیم ذریعے فوجی کمان کے نظام میں بڑی تبدیلیاں متعارف کرائی گئیں اور ملک کے جوہری و تزویراتی اثاثوں کی نگرانی کی ذمہ داری، جو پہلے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے پاس تھی، اس نئے عہدے کو منتقل کر دی گئی تھی۔
اسی قانون سازی کے تحت چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کر دیا گیا تھا۔
اس عہدے کا بنیادی تعلق پاکستان کے جوہری اور تزویراتی اثاثوں کی نگرانی اور کمان سے ہے۔
تجزیہ کار اور صحافی ماجد نظامی کے مطابق اس عہدے پر رہتے ہوئے جنرل عامر رضا ایک بااختیار سربراہ ہوں گے جو جوہری اثاثوں کی دیکھ بھال کر رہے ہوں گے اور فوج کو جدید جنگی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کریں گے۔
ان کے مطابق پہلے ان معاملات کی ذمہ داری جوائنٹ چیفس آف سٹاف پر ہوتی تھی۔
قانون کے مطابق کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کا عہدہ جنرل کے رینک کے مساوی ہے اور اس کی ابتدائی مدت ملازمت تین سال ہوگی۔
27ویں آئینی ترمیم کے مطابق اس عہدے پر تقرری وزیراعظم کرتے ہیں، تاہم اس کے لیے چیف آف آرمی سٹاف، جو بیک وقت چیف آف ڈیفنس فورسز بھی ہیں، کی سفارش لازمی ہو گی۔ اور قانون کے مطابق اس عہدے پر تقرری پاکستانی فوج کے حاضر سروس جنرلز میں سے کی جاتی ہے۔
قانون کے تحت کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کی ملازمت کی شرائط، مراعات اور اختیارات کا تعین بھی وزیراعظم کریں گے۔
نئی قانون سازی میں یہ گنجائش بھی رکھی گئی تھی کہ ’قومی سلامتی کے تقاضوں یا ہنگامی حالات کے پیش نظر‘ وزیراعظم، چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز کی سفارش پر عہدے دار کو مزید تین سال کے لیے دوبارہ تعینات کیا جا سکتا ہے یا اس کی مدت ملازمت میں تین سال تک توسیع دے سکتے ہیں۔
مزید یہ کہ کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کی تقرری، دوبارہ تقرری، مدت ملازمت میں توسیع یا تقرر کرنے والی اتھارٹی کے صوابدیدی اختیار کو کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا ہے۔



















