’نایاب اور پُرخطر‘: چار ہم شکل جڑواں بچوں کی پیدائش جس نے طبی ماہرین کو حیران کر دیا

،تصویر کا ذریعہMetro North Health
- مصنف, ایمی واکر
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 4 منٹ
آسٹریلیا کی ایک خاتون نے بغیر کسی طبی تکنیک کے قدرتی طور پر ’آئیڈینٹیکل کوآڈروپلیٹس‘ (ایک جیسے نظر آنے والے چار بچوں) کو جنم دیا ہے۔
رائل برسبین اینڈ ویمنز ہسپتال کے مطابق یہ حمل انتہائی نایاب اور بہت زیادہ خطرے والا تھا۔
14 جولائی کو حمل کے 28 ہفتے اور چار دن مکمل ہونے کے بعد سیزیرین سیکشن (بڑے آپریشن) کے ذریعے ان چار بچیوں کی پیدائش ہوئی۔
یہ بچیاں ’مونوزائگوٹک کوآڈروپلیٹس‘ (ایک ہی بیضے سے بننے والی چار جڑواں بچیاں) تھیں، یعنی ایک ہی بار بار آور ہونے والا انڈا تقسیم ہو کر چار الگ الگ بچوں کی شکل اختیار کر گیا، جو ایک بہت ہی نایاب واقعہ ہے۔
ہاسپٹل کے مطابق 34 سالہ جینیٹر نا آموآنا اور ان کے شوہر جورتھم کے پہلے ہی چار بچے ہیں۔
جب ڈاکٹروں نے انھیں بتایا کہ وہ ایک ساتھ چار بچوں کو جنم دینے والی ہیں تو دونوں یہ سن کر وہ حیران رہ گئے۔
حمل کے آغاز سے ماں کی دیکھ بھال کرنے والی ڈاکٹر الیکسا بینڈال کے مطابق ایک جیسے چہرے والے چار بچوں کی پیدائش لاکھوں کیسز میں سے ایک میں ہوتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہJenitar Na’amoana/Gofundme
اُنھوں نے کہا کہ چاروں بچوں کا ’ایک ہی پلیسنٹا مشترکہ طور پر استعمال کرنا‘ انتہائی نایاب ہے اور ایسا کیس پہلے کبھی سننے میں نہیں آیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈاکٹر بینڈال کا مزید کہنا تھا کہ ایسے حمل میں بہت زیادہ خطرات ہوتے ہیں، اسی لیے ہسپتال نے نا آموآنا کو 25 ہفتے پر ہی داخل کر لیا تھا تاکہ ان کی نگرانی کی جا سکے۔
جینیٹر نا آموآنا نے کہا کہ بچوں کی پیدائش کے بعد وہ اور ان کے شوہر بہت خوش ہیں۔
ایک ساتھ ایک جیسے نظر آنے والے بچوں کی پیدائش انتہائی نایاب ہے۔
بینڈال نے کہا کہ ’ہم ہمیشہ یہی کہتے تھے کہ اگر ہم انھیں حمل کے 28 ہفتوں تک پہنچا سکیں تو یہ اچھی بات ہوگی۔‘
اُنھوں نے مزید کہا کہ ’ہمیں اس بات پر بے حد خوشی ہے کہ 28 ہفتے اور چار دن میں چاروں بچیوں کی محفوظ پیدائش ہوئی اور وہ سب صحت مند ہیں۔ یہ واقعی حیرت انگیز تھا اور اس کا حصہ بن کر ہم بہت خوش ہیں۔‘
بینڈال نے کہا کہ ’جینیٹر نے پہلے دن سے ہی ہر صورتحال کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے۔ اُنھوں نے کسی نہ کسی طرح اپنے اور اپنے بچوں کے لیے ہر مشکل اور خطرے کو ٹال دیا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہMetro North Health
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
نوزائیدہ بچیوں کے نام ایملی، ہیریئٹ، کیتھرین اور الیکسا رکھے گئے ہیں۔
بچیوں میں سے ایک کا نام ڈاکٹر الیکسا بینڈال کے نام پر رکھا گیا ہے جنھوں نے حمل کے آغاز ہی سے نا آموآنا کی دیکھ بھال کی تھی۔
بینڈال نے کہا کہ بچے ہسپتال کے نیونیٹل انٹینسیو کیئر یونٹ میں اس وقت تک رہیں گے جب تک وہ مکمل طور پر نشوونما حاصل نہیں کر لیتے اور اس وقت ان کی حالت بہت اچھی ہے۔
جینیٹر کے پہلے ہی چار بچے ہیں، جن کی عمریں ایک سے 10 سال کے درمیان ہیں۔
اب خاندان میں چار نئی بچیوں کی آمد کے بعد جینیٹر نے کم از کم 10 نشستوں والی وین خریدنے کے لیے لوگوں سے مدد مانگتے ہوئے ایک آن لائن فنڈ ریزنگ مہم شروع کی ہے۔
فنڈ ریزر کے ساتھ دیے گئے ایک پیغام میں جینیٹر نے لکھا کہ ’ہماری چار قیمتی بچیاں بحفاظت دنیا میں آ گئی ہیں۔ ہمارا دل خوشی سے بھر گیا ہے لیکن ایک ساتھ چار نوزائیدہ بچوں کی دیکھ بھال کی حقیقت نے ایسے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں جن کا ہم نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔‘
اس فنڈ ریزر کو 24 لاکھ انڈین روپے سے زیادہ کا عطیہ مل چکا ہے۔
بغیر کسی طبی مدد کے قدرتی طور پر ایک ساتھ ایک جیسے نظر آنے والے چار بچوں کی پیدائش ہونا انتہائی نایاب ہے۔
ڈاکٹروں کا اندازہ ہے کہ ایسا تقریباً ہر سات لاکھ پیدائشوں میں سے ایک بار ہوتا ہے۔



















