’ہیروشیما اور ناگاساکی کے بعد مزید بم گرانے کا بھی منصوبہ تھا‘: جوہری بم بنانے میں مدد کرنے والے سائنسدان جو اب اس کے مخالف ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
نو اگست 1945 کو امریکہ نے جاپان کے شہر ناگاساکی پر ایک پلوٹونیم بم گرایا جس کے بعد دوسری عالمی جنگ کا خاتمہ ہوا۔
اس واقعے کے 30 برس بعد ایک امریکی ماہرِ طبیعیات جنھوں نے یہ بم تیار کرنے میں مدد کی تھی نے بی بی سی کو ایک انٹرویو دیا جس میں انھوں نے نہ صرف یہ بتایا کہ یہ بمباری کیوں نہیں روکی جا سکی تھی۔ انھوں نے مزید انکشاف کیا کہ مزید بم گرانے کا بھی منصوبہ تھا۔
’یہ اس لیے نہیں کیا گیا کہ ہمیں انسانیت کی فکر نہیں تھی بلکہ اس ہی لیے کیا گیا کیوں کہ ہم فکر مند تھے۔ اور شاید یہی گناہ تھا۔‘
نو اگست 1945 کو ناگاساکی پر ہونے والی ایٹمی بمباری میں حصہ لینے کے تیس برس بعد امریکی ماہرِ طبیعیات فلپ موریسن نے بی بی سی سے کھل کر اس غیر معمولی جوہری دھماکے سے پہلے کیے گئے فیصلوں کے متعلق بات کی۔
لاس الاموس کی تجربہ گاہ میں کام کرنے والے موریسن نے مین ہیٹن پراجیکٹ میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ یہ اتحادی ممالک کا انتہائی خفیہ پروگرام تھا جس کا مقصد دنیا کا پہلا جوہری ہتھیار تیار کرنا تھا۔ اس تجربہ گاہ کے سربراہ اُن کے سابق استاد جے رابرٹ اوپن ہائیمر تھے۔
موریسن 16 جولائی 1945 کو پہلے ایٹمی بم کے ٹرینیٹی تجربے کے موقع پر موجود تھے۔ انھوں نے اس بم کے پلوٹونیم کور کو اپنی گود میں رکھ کر گاڑی کے ذریعے نیو میکسیکو پہنچایا تھا۔ اس کے بعد وہ سائپان کے جنوب میں واقع چھوٹے سے جزیرے ٹینین گئے جہاں انھوں نے ناگاساکی پر گرائے جانے والے پلوٹونیم بم ’فیٹ مین‘ کی تیاری میں مدد کی۔
ہیروشیما پر ایٹم بم گرائے جانے کے صرف تین دن بعد نو اگست کو انھوں نے ’فیٹ مین‘ کو بی-29 طیارے پر لادنے کے عمل کی نگرانی بھی کی۔
ٹینین ہی وہ مقام تھا جہاں امریکی افواج نے ’دنیا کا سب سے بڑا ہوائی اڈا‘ تعمیر کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دسمبر 1945 میں سینیٹ کی ایک کمیٹی کو دی گئی گواہی کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’مونگے کی ایک بڑی چٹانی پٹی کو جزوی طور پر ہموار کر کے ناہموار میدان کو بھرا گیا اور چھ رن ویز تعمیر کی گئیں۔۔۔ جن میں سے ہر ایک تقریباً دو میل طویل تھی۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’ہر 15 سیکنڈ میں ایک بی-29 پرواز کرتا تھا‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
موریسن نے اپنی گواہی میں جاپانی شہروں پر بڑے پیمانے پر کی جانے والی بمباری کی تیاریوں کا بھی ذکر کیا۔
انھوں نے بتایا کہ بندرگاہ میں ہر روز ٹینکرز طیاروں کا ایندھن لے کے آتے۔ ان کے مطابق ٹینین ایئر فیلڈ کے رن ویز پر بڑے بڑے طیارے دوڑ رہے ہوتے تھے۔ ’ہر 15 سیکنڈ میں ایک بی-29 پرواز کرتا۔ یہ سلسلہ ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہتا۔۔۔ ایک ہزار بی-29 طیارے، بار بار پرواز کرتے، اور ایک ہی حملے میں کسی شہر کے کئی مربع میل علاقے کو جلا کر خاک کر دیتے۔‘
موریسن کے بقول اس کے مقابلے میں ایٹم بم گرائے جانے کی مہم بالکل مختلف تھی۔
’وہاں بموں سے لدے جہازوں کے بیڑے نہیں تھے۔ بموں کی تیاری اور ذخیرہ گاہوں سے وابستہ عملے کے بجائے صرف لاس الاموس سے آئے ہوئے تقریباً 25 افراد تھے، چند کوانسٹ کے ہٹ (پہلے سے تیار شدہ نالیدار فولادی ڈھانچے) تھ جنھیں تجربہ گاہوں میں تبدیل کر دیا گیا تھا، اور ایک محفوظ عمارت تھی جس کے گرد رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں۔‘
ان کے مطابق ’حملے کے لیے طیارہ آدھی رات کے بعد روانہ ہوا۔ ہوائی اڈا ویران تھا۔۔۔ پھر ایک طیارہ گرجتا ہوا رن وے پر دوڑا، فضا میں بلند ہوا اور دشمن کے شہروں کی جانب روانہ ہو گیا۔‘

،تصویر کا ذریعہCorbis via Getty Images
اگرچہ مختلف اندازوں میں فرق پایا جاتا ہے، تاہم خیال کیا جاتا ہے کہ ناگاساکی میں ایٹم بم گرائے جانے سے ابتدائی طور پر تقریباً 40 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ اس بمباری کے نتیجے میں اگلے پانچ برس کے دوران ایک لاکھ سے زیادہ اموات ہوئیں۔ ایٹم بم کے دھماکے سے ہیروشیما میں کم از کم 80 ہزار افراد فوری طور پر ہلاک ہو گئے تھے، جبکہ جھلسنے، زخمی ہونے اور تابکاری سے پیدا ہونے والی شدید بیماریوں کے باعث مجموعی ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر تقریباً ایک لاکھ 40 ہزار تک پہنچ گئی تھی۔
بعد ازاں موریسن سرکاری سائنسی ٹیم کے رکن کے طور پر ان دونوں جاپانی شہروں میں ہونے والی تباہی کا جائزہ لینے گئے۔ انھیں خاص طور پر ہیروشیما کا ایک منظر ہمیشہ یاد رہا۔
وہ بتاتے ہیں کہ ’ایک جاپانی اہلکار ملبے کے درمیان کھڑا تھا اور اس نے ہم سے کہا: صرف ایک بم سے یہ سب کچھ تباہ ہو گیا، یہ برداشت سے باہر ہے۔‘
’ایک طیارے نےمحض ایک بم گرا کر شہر کے کئی مربع میل علاقے کو تباہ کر دیا تھا۔ یہ تباہی ایک ہزار طیاروں کے حملے کے مقابلے میں کہیں زیادہ بھرپور تھی، اور اس میں بچنے یا مزاحمت کرنے کا موقع بھی کہیں کم تھا۔‘
تاہم موریسن کی خواہش تھی کہ ایٹم بم کو جنگ میں استعمال نہ کرنا پڑے۔ وہ لاس الاموس کے نوجوان ماہرینِ طبیعیات کے اس گروہ میں پیش پیش تھے جو چاہتے تھے کہ جاپان پر استعمال کیے جانے سے پہلے اس بم کا عوامی مظاہرہ کیا جائے۔
موریسن صرف 30 برس کے تھے جب انھوں نے ٹینین میں ’فیٹ مین‘ بم کی تیاری کی نگرانی کی تھی۔ انھوں نے 1975 میں بی بی سی کے میلوِن بریگ کو بتایا کہ ’ہم چاہتے تھے کہ ایک بین الاقوامی وفد کو صحرا میں مدعو کیا جائے‘ تاکہ بم کا مظاہرہ کیا جا سکے۔ لیکن جنگ کے حالات کے پیش نظر یہ محض ایک آرزو ہی تھی۔‘
’روزویلٹ وہ اکلوتے شخص تھے جو اس بمباری کو روک سکتے تھے‘
فلپ موریسن کہتے ہیں کہ یہ تو واضح ہو چکا تھا کہ نازی جرمنی کو شکست ہونے والی ہے تاہم اس کے باوجود یہ سارا عمل اتنی تیزی سے ہو رہا تھا کہ اسے روکنا ممکن نہیں رہا تھا۔
’جنگ تب بھی جاری تھی۔ ہم بحرالکاہل میں ایک بہت بڑی جنگ کی جانب بڑھ رہے تھے۔۔۔ اس لیے اسے روکنا ناممکن تھا۔‘
موریسن کے خیال میں صرف ایک ہی شخص تھا جو پوری اس صورتحال کو بدل سکتا تھا، اور وہ تھے امریکی صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ۔ لیکن وہ جاپان پر ایٹم بم گرائے جانے سے محض چند ماہ قبل اپریل 1945 میں وفات پا گئے تھے۔
ان کے خیال میں اگر روزویلٹ ہوتے تو شاید امریکی پالیسی میں کوئی بڑی تبدیلی لائی جا سکتی تھی۔
موریسن کے مطابق روزویلٹ وہ اکلوتے شخص تھے جو اتنا اثر و رسوخ رکھتے تھے کہ اتنی تیزی سے جاری سارے عمل کو روک سکتے تھے۔
روزویلٹ کی وفات کے بعد جب ہنری ایس ٹرومین صدر بنے تو انھیں اس منصوبے کے متعلق خبر تک نہیں تھی۔ حلف اٹھانے کے بعد انھیں اس بارے میں آگاہ کیا گیا۔ اور اس کے صرف تین ماہ بعد انھوں نے بمباری کا حکم دے دیا۔
موریسن کہتے ہیں کہ سچ ہے کہ ایٹم بم گرانے کا فیصلہ ٹرومین نے کیا تھا لیکن دیکھا جائے تو ایک طرح سے وہ یہ فیصلہ کرنے پر مجبور تھے۔
’اتنے برسوں کی کوشش کے بعد اس منصوبے کو روکنا ان کی جانب سے غیر معمولی جرات کا مظاہرہ ہوتا۔۔۔ روزویلٹ کی موت کے ساتھ ہی عملاً وہ موقع ضائع ہو گیا۔‘
موریسن کے مطابق یہی دباؤ ایک کے بعد ایک دو ایٹمی بم گرانے کے فیصلے پر بھی اثرانداز ہوا۔
ان کا کہنا ہے کہ دونوں بم گرائے جانے کے فیصلے الگ الگ نہیں تھے۔
’کمانڈروں کو دیے گئے احکامات یہ تھے: پہلا بم گرائیں، پھر جیسے ہی ممکن ہو دوسرا بم بھی گرا دیا جائے۔‘
موریسن کے بقول واشنگٹن میں کسی ایسے طاقتور شخص کی ضرورت تھی جو پہلے بم کے خوفناک اثرات کا جائزہ لینے کے بعد یہ کہتا کہ دوسرا بم گرانے سے ہمیں ذرا انتظار کرنا چاہیے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس کے لیے غور و فکر، پیچیدہ رابطوں سے فائدہ اٹھانے اور درست احکامات صحیح جرنیلوں تک پہنچانے کی صلاحیت درکار تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
موریسن نے انکشاف کیا کہ ہیروشیما اور ناگاساکی کے بعد مزید بم گرانے کا بھی منصوبہ تھا۔
انھوں نے بی بی سی کے میلوِن بریگ کو بتایا کہ ’ابتدائی طور پر فیصلہ کیا گیا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو ہم ایک سال تک یہ بم گراتے رہیں گے۔۔۔ مجھے اس کام کے لیے منصوبہ تیار کرنے کو کہا گیا تھا۔‘
موریسن کہتے ہیں کہ انھوں نے اس متعلق پوری منصوبہ بندی بلکہ ہر چیز کا طریقۂ کار، شیڈول، ان کی جگہ کام سنبھالنے کے لیے ایک شخص سمیت تمام انتظامات کر رکھے تھے۔
تاہم یہ واضح نہیں کہ اگر جنگ جاری رہتی تو وہ یہ کام جاری رکھ پاتے یا نہیں خاص طور پر جب انھوں نے اور لاس الاموس کے دوسرے سائنس دانوں نے اس سے ہونے والی تباہی خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لی تھی۔
انھوں نے بتایا کہ انھیں ایٹم بم گرائے جانے کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کا اندازہ تو تھا لیکن تب تک یہ بس کتابی باتوں اور اعداد و شمار تک محدود تھا۔
تاہم ان کے مطابق اعداد و شمار جاننے اور تباہی کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے میں بہت بڑا فرق ہے۔ ’میرے خیال میں ہم جانتے تو تھے، لیکن ہم نے اسے محسوس نہیں کیا تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
موریسن کو بحرالکاہل میں واقع اڈے میں گزاری وہ رات اچھے سے یاد ہے جب ہیروشیما پر بم گرایا گیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ ’اس رات ایک بڑی تقریب رکھی گئی تھی، لیکن زیادہ تر سائنس دان اس میں شریک نہیں ہوئے۔ فضائیہ کے اہلکار اور فوجیوں نے شراب پی۔ انھیں معلوم تھا کہ جنگ اپنے اختتام کے قریب ہے۔ یہ ایک بہت بڑی فتح محسوس ہو رہی تھی۔‘
تاہم موریسن کے بقول سائنس دان اداس بیٹھے تھے اور دنیا کے خاتمے کے بارے میں سوچ رہے تھے۔ اس کے باوجود بمباری سے قبل انھیں کبھی یہ احساس نہیں ہوا کہ انھیں مین ہیٹن پراجیکٹ چھوڑ دینا چاہیے۔
وہ کہتے ہیں کہ اس پراجیکٹ کی سخت مخالفت کے باوجود انھیں نہیں لگتا کہ وہ کوئی مختلف راستہ چنتے۔ ’میں نے کسی بھی مرحلے پر رکنے کا نہیں سوچا۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر نازی جرمنی کی شکست سے پہلے ایٹم بم تیار ہو جاتا تو کیا اتحادی برلن پر بھی اسے استعمال کرتے، تو ان کا کہنا تھا: ’اوہ، یقیناً، فوراً۔ ہمیں اصل فکر جرمنوں کے بارے میں تھی اور وہی ہمارے دشمن تھے۔‘
جنگ کے بعد موریسن میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) میں پروفیسر بن گئے اور انھوں نے جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے خلاف مہم میں سرگرم کردار ادا کیا۔ وہ ’تیسرے بم کے خلاف (نو تھرڈ بمب)‘ تحریک کی نمایاں شخصیات میں شامل تھے۔
سنہ 1945 میں سینیٹ کی کمیٹی کے سامنے گواہی دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ اس منصوبے سے وابستہ زیادہ تر سائنس دانوں کی طرح مجھے بھی مکمل یقین ہے کہ ایک اور جنگ کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔‘
موریسن کے خیال میں اتحادی ممالک کو ایک اہم کام ضرور کرنا چاہیے تھا۔ ’میرا پختہ یقین ہے کہ مناسب پیشگی وارننگ دی جانی چاہیے تھی۔‘
’آج پیچھے مڑ کر دیکھیں تو مناسب اور واضح انتباہ نہ دینے کا کوئی جواز نظر نہیں آتا۔‘



















