ان تصاویر میں ایک شخص کی جلی ہوئی پیٹھ، ایک تباہ حال عمارت اور بم پھٹنے کے بعد جنم لینے والا دھواں دکھائی دے رہا ہے

ہیروشیما اور ناگاساکی پر امریکی ایٹمی بم حملوں کے 80 سال: جوہری بمباری کی سائنس اور انسانی قیمت

انتباہ: اس تحریر میں ایٹم بم پھٹنے کے بعد کے اثرات کی تفصیلات اور تصاویر موجود ہیں۔

’80 سال گزر چکے ہیں لیکن کچھ نہیں بدلا۔‘

ناگاساکی میں ایٹمی بم کے حملے میں زندہ بچ جانے والے ایک شخص نے اگست 1945 میں دو جاپانی شہروں کی امریکی حملوں میں تباہی کے بارے میں ان الفاظ میں بات کی۔

ماساکو واڈا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہمارے تجربے سے کچھ نہیں سکھا گیا، اور آج ہم ماضی کے مقابلے میں زیادہ خطرے کا سامنا کر رہے ہیں۔‘ واڈا اب جاپان میں ایٹمی حملے کے متاثرین کی نیہون ہیڈانکیو نامی تنظیم کے سیکریٹری جنرل ہیں جسے سنہ 2024 میں نوبل امن انعام دیا گیا تھا۔ واڈا بطور سماجی کارکن جوہری ہتھیاروں کے مخالف ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ امریکی حملوں کے متاثرین کی کہانیاں وسیع پیمانے پر سنائی جائیں۔

توشیو تاناکا کی عمر صرف چھ سال تھی جب ہیروشیما پر ایٹم بم گرایا گیا تھا اور ان کے خدشات بھی واڈا سے ملتے جلتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ دنیا میں جاری تنازعات، جیسا کہ یوکرین اور مشرق وسطی، جوہری جنگ کے خطرے کو بڑھاتے ہیں جس کی وجہ سے انھیں ’بہت تشویش‘ ہوتی ہے۔

تاناکا نے بی بی سی کو دیے جانے والے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’اگر ہم اسی راستے پر چلتے رہے تو تیسری عالمی جنگ شروع ہو سکتی ہے اور کرہ ارض کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔‘

امریکہ کی جانب سے ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم استعمال کرنے کے فیصلے پر آج تک بحث ہوتی ہے۔

undefined
GETTYGETTY

چند تجزیہ کار کہتے ہیں کہ دوسری عالمی جنگ کو ختم کرنے اور انسانی زندگیوں کو بچانے کے لیے ایسا کرنا ضروری تھا۔

کچھ دیگر کا ماننا ہے کہ یہ ایک انتہائی غیر اخلاقی اور غیر ضروری عمل تھا جس کی وجہ سے لاکھوں معصوم لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

لیکن اس بات میں کوئی دو رائے موجود نہیں کہ ان حملوں کے اثرات آج تک باقی ہیں۔

یہ انسانی تاریخ کے واحد ایٹمی حملے کی کہانی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ان اثرات کی جو آج تک باقی ہیں۔

دھماکے سے قبل ہیروشیما شہر کی تصویر

ہیروشیما

ہیروشیما شہر کا نقشہ

1945 کے موسم گرما میں پرل ہاربر کے بحری اڈے پر سات دسمبر 1941 کو جاپانی حملے کے بعد شروع ہونے والی امریکہ اور جاپان کی جنگ کو ساڑھے تین سال ہو چکے تھے۔

پرل ہاربر پر جاپان کے حملے کے بعد امریکہ نے بھی اعلان جنگ کرتے ہوئے دوسری عالمی جنگ میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔

جب تنازع شدت اختیار کر گیا تو امریکہ نے جاپان کے خلاف ایٹمی بم استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔

26 جولائی کو امریکی صدر ہیری ٹرومین نے جاپان کو ایک الٹی میٹم دیا۔ امریکی صدر نے غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کرتے ہوئے دھمکی دی کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں ’مکمل تباہی‘ کا سامنا کرنا ہو گا۔

ٹرومین کے پیغام میں جوہری ہتھیاروں یا ایٹم بم کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔

تاہم یہ ہتھیار امریکہ کی دسترس میں آ چکے تھے اور انھیں جنگ ختم کرنے کی حکمت عملی کا حصہ بنایا جا چکا تھا۔

لٹل بوائے نامی بم کے مختلف حصوں کے بارے میں انفوگرافکس

ہیروشیما کو پہلے ہدف کے طور پر چنا گیا۔ اس سے قبل اس شہر پر بمباری نہیں ہوئی تھی اور اسی لیے یہ سمجھا گیا کہ بم کے اثرات جانچنے کے لیے یہ بہتر ہدف ثابت ہو سکتا ہے۔ اس شہر میں ایک فوجی اڈہ بھی تھا۔

اینولا گرے نامی بی 29 بمبار طیارہ اڑانے والے پائلٹ کرنل پال ٹبٹس تھے جو ہیروشیما کی فضا میں تقریبا دس کلومیٹر کی بلندی پر پرواز کر رہے تھے جب انھوں نے لٹل بوائے نامی ایٹم بم گرایا۔ یہ بم زمین پر ٹکرانے سے قبل ہی تقریبا 600 میٹر کی بلندی پر فضا میں پھٹ گیا۔

توشیو تاناکا یاد کرتے ہیں کہ اس دن ’صبح سوا آٹھ بجے میں سکول جا رہا تھا جب کوئی چلایا ’دشمن بمبار!‘ میں نے اوپر دیکھا تو ایک بہت بڑا دھماکہ ہوا جیسے لاکھوں روشنیاں چمک اٹھی ہوں، سب کچھ سفید ہو گیا۔‘

لٹل بوائے نامی بم کا اندروزنی میکانزم کسی بندوق کی طرح کام کرتا تھا۔ یہ یورینیئم 235 کے ایک ٹکڑے کو اسی جیسے ایک اور مواد پر فائر کرتا تھا۔

ان دونوں کے ٹکرانے سے فژن نامی عمل ایٹم کے نیوکلیائی کو توڑ دیتا تھا

ایک ایسا چین ری ایکشن جنم لیتا تھا جو توانائی خارج کرتا اور آخرکار دھماکہ ہو جاتا۔

لٹل بوائے میں 64 کلو یورینیئم 235 موجود تھی

لیکن دھماکے کی طاقت ٹی این ٹی نامی بارودی مواد کے 15 ہزار ٹن جتنی تھی۔

یاد رہے کہ ایک کلو ٹی این ٹی کسی گاڑی کو مکمل طور پر تباہ کر سکتا ہے۔

ہیروشیما پر پھٹنے والا ایٹم بم

ہیروشیما میں ایٹم بم کے دھماکے کی وجہ سے ساڑھے چار کلومیٹر دائرے میں شدید گرم لہر پھیلی جس کی حدت چار ہزار ڈگری سینٹی گریڈ تھی

تاناکا کو یاد ہے کہ ’مرد، عورتیں، بچے سب ننگے جلے ہوئے جسموں کے ساتھ خاموشی سے چل رہے تھے، ان کے ہاتھ جلے ہوئے اور جلد انگلیوں سے لٹک رہی تھی۔‘

’وہ کسی بھوت جیسے لگ رہے تھے۔‘

خیال کیا جاتا ہے کہ دھماکے کے بعد اس دن 50 ہزار سے ایک لاکھ کے قریب لوگ ہلاک ہوئے۔

undefined

شہر کی دو تہائی عمارات، تقریبا 60 ہزار، کھنڈر بن چکی تھیں۔

تباہی کے بعد ہیروشیما کے مناظر
فوجی ہیروشیما کی تباہی دیکھتے ہوئے
ہیروشیما میں تباہ عمارت کے سامنے کھڑا ایک شخص

لیکن جاپان نے ہار نہیں مانی۔ صرف تین دن بعد امریکہ نے دوسرا ایٹم بم حملہ کر دیا۔

ناگاساکی شہر کی فـضا سے لی جانے والی تصویر

ناگاساکی

ناگاساکی اور کوکورا شہر کا نقشہ

ناگاساکی پہلے ترجیحی اہداف میں شامل نہیں تھا

اس کی وجہ اس کا ناہموار علاقہ اور قریب واقع اتحادی فوجی قیدیوں کا ایک کیمپ تھا۔

ایک اور اہم ہدف کوکورا شہر تھا جو چٹیل علاقے میں موجود تھا اور ایک صنعتی مرکز بھی تھا۔

تاہم حملے کے دن پائلٹس نے بتایا کہ کوکورا شہر کی فضا میں دھواں اور غبار چھایا ہوا تھا۔

جہاز کے عملے کو حکم دیا گیا کہ وہ خود سے ایسا ہدف چنیں جو بم کے دھماکے کو وسیع پیمانے پر پھیلانے میں مدد دے۔

یوں ناگاساکی کا رخ کیا گیا۔

میجر چارلس سوینی نے فیٹ مین نامی بم فضا سے پھینکا جو زمین سے پانچ سو میٹر کی بلندی پر پھٹا۔

فیٹ مین بم کے مختلف حصے دکھانے والے انفو گرافکس

فیٹ مین پلوٹونیئم 239 سے بنا ہوا تھا۔

یہ مواد آسانی سے دستیاب تھا لیکن اسے استعمال کرنے کا میکانزم پیچیدہ تھا۔

پلوٹونیئم دو سو انتالیس خالص نہیں تھی۔ اسی وجہ سے اس میں قبل از وقت چین ری ایکشن ہونے کا خدشہ تھا جس کی وجہ سے بم سے ہونے والا نقصان کم ہو سکتا تھا۔

اس کے لیے امپلوژن میکانزم استعمال کیا گیا

بم میں 6 کلو پلوٹونیئم تھی لیکن صرف ایک کلو فژن ہوئی۔

دھماکے سے تقریباً 21 ہزار ٹن ٹی این ٹی جتنی توانائی خارج ہوئی۔

ناگاساکی دھماکے کی ویڈیو

ناگاساکی حملے میں زندہ بچ جانے والے سمیتریو تانیگوچی نے 2020 میں ایک تقریب میں کہا تھا کہ ’جسم سیاہ ہو گئے، تباہ عمارات سے مدد کے لیے آوازیں آ رہی تھیں، لوگوں کے جسم سے گوشت گر رہا تھا اور ان کی آنتیں لٹک رہی تھیں، یہ جگہ آگ کا سمندر بن گئی تھی۔‘

یہ دھماکہ ہیروشیما سے بھی زیادہ طاقتور تھا لیکن ناگاساکی کے پہاڑی علاقے کی وجہ سے، جو دو وادیوں کے بیچ موجود تھا، تباہی کم ہوئی۔

ناگاساکی میں تباہی کے دائرے کا نقشہ

تقریبا آٹھ کلومیٹر کا علاقہ مکمل تباہ ہو گیا۔ شہر کا 40 فیصد حصہ کھنڈر بن گیا۔

نیہون ہڈیانکو نے 2024 میں بتایا کہ ’سینکڑوں لوگ تکلیف سے بلبلا رہے تھے، جنھیں کوئی طبی مدد نہیں مل رہی تھی۔‘

’مجھے یہ احساس ہوا کہ جنگ میں بھی اس طرح کے قتل و غارت اور تباہی کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔‘

ناگاساکی میں بم گرنے کے بعد تباہی کا منظر
ناگاساکی میں بمباری کے بعد تباہ عمارات
ناگاساکی کے کھنڈرات میں مجسمے

دھماکے کی طاقت کی وجہ سے اس دن اور بعد کے دنوں اور مہینوں میں تابکاری کی وجہ سے کتنے لوگ مارے گئے، اس بارے میں اب تک کوئی حتمی اعداد و شمار موجود نہیں۔

محتاط اندازوں کے مطابق دسمبر 1945 تک دونوں شہروں میں مجموعی طور پر کم از کم ایک لاکھ دس ہزار ہلاکتوں کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

چند ماہرین کے مطابق یہ تعداد دو لاکھ سے زیادہ ہو سکتی ہے۔

جاپان کی جانب سے باضابطہ طور پر ہتھیار ڈالنے کی تقریب

ٹوکیو

ہیروشیما کے بعد ناگاساکی پر ہونے والے حملے نے جاپان کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیا۔

جاپانی شہنشاہ ہیرو ہیٹو نے عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’ناقابل برداشت کو سہیں‘ اور شکست تسلیم کر لیں۔

باضابطہ طور پر جاپان کی جانب سے ہتھیار پھینکنے کی رسم دو ستمبر کو امریکی بحری جہاز یو ایس ایس مسوری میں منعقد ہوئی جو ٹوکیو کی بندرگاہ پر موجود تھا۔

یوں دوسری عالمی جنگ اختتام کو پہنچی۔

بم کی بربریت

ایٹم بم پھٹنے کے ایک سیکنڈ کے چھوٹے سے حصے میں گاما شعائیں، نیوٹرون اور ایکس ریز خارج ہو کر تین کلومیٹر تک کے فاصلے تک جاتی ہیں۔یہ نظروں سے اوجھل ذرات اپنے راستے پر آنے والی ہر چیز تباہ کرتے چلے جاتے ہیں جن میں انسانی جسم کے اندر موجود خلیات تک شامل ہوتے ہیں۔

ہیروشیما بم جس مقام پر گرا اس کے گرد 600 میٹر کے دائرے میں موجود 92 فیصد افراد ہلاک ہوئے۔

دھماکے میں بچ جانے والے لوگ، جنھیں جاپان میں ’ہیباکوشا‘ کہا جاتا ہے، کو گرم لہر اور تابکاری کی وجہ سے نقصان ہوا۔

فوری طور پر ان افراد کی جلد جل گئی تھی۔

ایک خاتون کا جھلسا ہوا جسم
GETTYGETTY

تابکاری مواد کی وجہ سے قے، خون اور بالوں کا جھڑنا دیکھا گیا۔

کچھ عرصہ کے بعد کئی متاثرہ لوگوں کی آنکھوں میں موتیا اتر آیا جبکہ بہت سے لوگ سرطان سے متاثر ہوئے۔

حملے کے پانچ سال میں لیوکیمیا کا مرض بہت زیادہ سامنے آیا

ایک ڈاکٹر جوہری بم کی وجہ سے زخمی بچے کا علاج کرتے ہوئے
GETTYGETTY

دس سال بعد متاثرین میں سے بہت سوں کو چھاتی اور پھیپھڑوں کے علاوہ تھائیرائیڈ سرطان کا سامنا تھا اور یہ شرح عام مریضوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھی۔

متاثرہ افراد کی زندگی اتنے بہیمانہ عمل سے گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنے اہلخانہ کو کھو دینے اور تابکاری سے بیمار ہونے کے خوف سے بھی متاثر ہوئی۔

درمیانی مدت کے اور طویل مدتی اثرات پر مبنی انفوگرافکس: چھاتی کا سرطان، پھیپھڑوں کا سرطان، تھائیرائیڈ سرطان، بال جھڑنا اور موتیا

بہت سے لوگوں کو ان کی جسمانی ہیئت کی وجہ سے امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا اور انھیں لگا کہ وہ وبائی مرض کا شکار ہیں

بہت سے لوگ اس احساس کے ساتھ زندہ رہے کہ وہ اپنے پیاروں کی زندگی نہیں بچا پائے۔

بم کے بعد کی زندگی

 ہیروشیما میں زندہ بچ جانے والے سنتارو ہیدا کی تصویر

’میں نے تقریبا چھ سے دس ہزار لوگوں کا علاج کیا۔ اس کے بعد بطور ڈاکٹر میں کام ہی نہیں کرنا چاہتا تھا۔ ایک کے بعد ایک مریض مرتا رہا، میں کسی کو نہیں بچا پایا۔‘

سنتارو ہیدا، ہیروشیما

یاسواکا یاماسیتا کی تصویر جو ناگاساکی میں زندہ بچ گئے تھے

’میرا خیال ہے کہ ہم میں سے بہت سے لوگ اب تک جسمانی اور نفسیاتی طور پر متاثر ہیں‘

یاسواکا یاماسیتا، ناگاساکی

کیگو اوگیرا، ہیروشیما میں زندہ بچ جانے والے

’تقریبا سب ہی لوگ پانی مانگ رہے تھے اور چلا رہے تھے کہ مدد کرو۔ میں نے گھر کے کنویں سے پانی لا کر انھیں دیا تو انھوں نے میرا شکریہ ادا کیا لیکن کچھ پانی پی کر خون سے قے کرنے لگے اور میرے سامنے مر گئے۔ میں خوفزدہ ہو گیا اور میں نے سوچا شاید میں نے انھیں مار دیا؟ کیا میں نے انھیں مار دیا؟‘

کیگو اوگیرا، ہیروشیما

 ہیروشیما میں زندہ بچ جانے والے توشیو تاناکا کی تصویر

’میں اس ہولناک تجربے کے بارے میں صرف 70 سال کا ہونے کے بعد بات کرنے کے قابل ہوا۔ اس سے پہلے مجھے لگتا تھا کہ میری بات کوئی سمجھے گا ہی نہیں، مجھے اتنا جھٹکا لگا تھا۔‘

توشیو تاناکا، ہیروشیما

ہیروشیما اور ناگاساکی آج اہم صنعتی اور تجارتی شہر ہیں۔

دونوں میں ایسے میوزیم اور چوک ہیں جہاں ایٹم بم کے متاثرین کو خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔

وہ متاثرین جو اب تک زندہ ہیں ان میں سے کچھ جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے خلاف کام کرنے والے سماجی کارکن بنے جنھوں نے جنگ کی بربریت کے بارے میں اپنی کہانیاں سنائیں۔

ان کا مرکزی پیغام ہے ’جوہری ہتھیاروں کا فوری خاتمہ‘ جیسا کہ تیرومی تاناکا نے اپنی نوبل تقریر میں کہا تھا۔

تاناکا نے ایٹم بم کو ’وسیع پیمانے پر قتل کرنے والے غیر انسانی ہتھیار‘ قرار دیا تھا جنھیں ’انسانیت کے ساتھ رہنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔‘

واضح رہے کہ جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے بین الاقوامی مہم (آئی سی اے این) کے مطابق دنیا میں آج 12300 جوہری وار ہیڈ موجود ہیں۔

ناگاساکی اور ہیروشیما کے زندہ متاثرین جوہری ڈیٹرنس کے نظریے کو مسترد کرتے ہیں جس کے تحت مانا جاتا ہے کہ جوہری وار کرنے کا خطرہ حملوں کو روکتا ہے اور امن قائم رکھنے میں مددگار ہے۔

ماساکو واڈا بھی ان میں سے ایک ہیں جو ایسے خطرے کی تباہی کے شدید مخالف ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میں کبھی جوہری ہتھیاروں کے استعمال سے انسانوں کو نقصان پہنچانے یا انھیں کنٹرول کرنے کے تصور کو قبول نہیں کر سکتی۔‘

’اس کا مطلب یہ ہے کہ ہیروشیما اور ناگاساکی دوبارہ ہو سکتے ہیں۔‘

واڈا کے مطابق نوے سال کی عمر کے صرف ایک لاکھ سے بھی کم لوگ، جنھیں ہیباکوشا کہتے ہیں، زندہ ہیں۔

’ہر سال ان میں سے دس ہزار مر جاتے ہیں تو دس سال میں ان میں سے کوئی بھی زندہ نہیں ہو گا۔‘

لیکن ان کا خدشہ ان لوگوں کے بارے میں ہی نہیں۔

’مجھے یہ خوف ہے کہ اس سے پہلے ہی اور ہیباکوشا بن جائیں گے۔‘

یہ مضمون پہلی مرتبہ 6 اگست 2020 کو شائع ہوا تھا اور اسے ایٹمی بمباری کے 80 برس کی تکمیل پر نئے انٹرویوز کی مدد سے اپ ڈیٹ کیا گیا ہے