آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ہیلی کاپٹر، طیارہ شکن توپیں اور دفاعی نظام: ایران تنازع کے سائے میں ہونے والا حج
دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان فریضہ حج ادا کرنے سعودی عرب پہنچے ہیں، لیکن امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ، اور خطے پر اس جنگ کے اثرات اس سال حج میں بھی دکھائی دے رہے ہیں۔
سعودی عرب کی وزارت دفاع نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں فضا سے ہونے والے حملے روکنے کا دفاعی نظام دکھایا گیا ہے۔ اس کے پس منظر میں مسجد الحرام کے مینار، مکہ کا کلاک ٹاور اور دیگر عمارتیں نظر آتی ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سعودی وزارت دفاع کے سرکاری اکاؤنٹ سے یہ ویڈیو حياكم_الله کے ہیش ٹیگ کے ساتھ جاری کی گئی ہے، جو خوش آمدید جیسا ہی ایک خیر مقدمی کلمہ ہے۔
ویڈیو کے ہیش ٹیگ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سال زائرین حج کا استقبال کرنے کے لیے سعودی وزارت دفاع نے جو ویڈیوز جاری کی ہیں، یہ بھی اسی کا تسلسل ہے۔
اس ویڈیو کے ساتھ منسلک پیغام میں درج ہے کہ وزارت دفاع نے جامع تیاری کر رکھی ہے، ’فضائی دفاعی افواج کو مقدس مقامات کی فضائی حدود کی حفاظت اور تمام فضائی خطرات سے نمٹنے کی ذمہ داری دے دی گئی ہے، تاکہ مہمانوں کی حفاظت اور اطمینان یقینی بنایا جا سکے۔‘
وزارت دفاع کی جاری کردہ ویڈیو میں طیارہ شکن توپیں، میزائل شکن نظام، راڈار اور دیگر دفاعی آلات دکھائے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ مکہ پر پرواز کرتے ایسے ہیلی کاپٹرز کی تصاویر بھی سعودی وزارت دفاع کے اکاؤنٹ سے شیئر کی گئی ہیں، جن کے پس منظر میں مکہ شہر اور اس میں موجود مسجد الحرام اور کعبۃ اللہ دکھائی دیتے ہیں۔
واضح رہے کہ سعودی وزارت دفاع کی جانب سے ایکس پر گذشتہ برس جو ویڈیوز اور پیغامات پوسٹ کیے گئے تھے وہ اس قدر حربی نوعیت کے نہیں تھے۔ بلکہ ان پیغامات میں وزارت کے تحت پیش کی گئی طبی خدمات کو نمایاں کیا گیا تھا اور حاجیوں کی حفاظت کے لیے تعینات وردی پوش اہلکاروں کی تصاویر پوسٹ کی گئی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم اس سال اہلکاروں کے ساتھ ساتھ ہتھیاروں کی تصاویر بھی نمایاں ہیں۔
سعودی عرب مشرق وسطیٰ میں ہے اور یہ خطہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ سے شدید متاثر ہوا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر وسیع پیمانے پر حملے کیے تھے جس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے تنازع نے پورے مشرق وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ ایران نے جواب میں اسرائیل اور سعودی عرب سمیت خلیجی خطے کے دیگر ممالک پر حملے کیے تھے، میزائلوں اور ڈرونز سے ان ممالک میں اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔
اس تنازع کی وجہ سے خطے کے ممالک میں پروازیں اور آمد و رفت بھی متاثر ہوئی تھی اور عالمی سطح پر تیل کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے سفری اخراجات بھی بہت زیادہ بڑھ گئے تھے۔
تاہم، سعودی حکام نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ تقریباً 15 لاکھ 10 ہزار غیر ملکی زائرین فریضہ حج ادا کرنے یہاں پہنچے ہیں۔ یہ تعداد گذشتہ سال کے مقابلے میں 11 ہزار زیادہ ہے، باوجود اس کے کہ خطے میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان تین ماہ پرانا تنازع دوبارہ شروع ہونے کے خدشات موجود ہیں۔
محمد شہادہ ایک مصری شہری ہیں جو اپنی عمر کی 50 کی دہائی میں ہیں اور حج کے لیے یہاں پہنچے ہیں۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ امریکہ اور ایران کسی امن معاہدے پر متفق ہو سکتے ہیں۔ مسجد الحرام سے نکلتے ہوئے انھوں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا: ’ایران کی جنگ نے پوری دنیا کو متاثر کیا ہے۔ کوئی بھی جنگ یا ممالک اور عوام کو نقصان نہیں چاہتا۔‘
دیگر زائرین نے کہا کہ وہ اس بات پر شکر گزار ہیں کہ مہینوں کی غیر یقینی صورتحال، فضائی آمد و رفت میں خلل اور سفری اخراجات میں اضافے کے باوجود وہ سعودی عرب پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔
68 سالہ مراکشی شہری جریش محمد نے کہا: ’پوری زندگی، گذشہ 40 یا 50 برس سے، میرے دل میں حج کی خواہش تھی۔ اور اس سال میرا خواب پورا ہو گیا۔‘
حج اسلام کے پانچ ستونوں میں سے ایک ہے اور یہ اسلامی کیلنڈر کے 12 ویں مہینے میں ادا کیا جاتا ہے۔ یہ وہ فریضہ ہے جسے ہر بالغ مسلمان کو اپنی زندگی میں کم از کم ایک بار ادا کرنا ہوتا ہے، بشرطیکہ وہ مالی اور جسمانی طور پر اس کے قابل ہو۔
اس سال حج کے پہلے دن مسجد الحرام میں مکہ کے گرد طواف کرتے ہوئے زائرین کو 45 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت کا بھی سامنا کرنا پڑا۔