ممتا بینرجی: انڈیا کی سخت گیر خاتون سیاستدان کو بقا کی جنگ کا سامنا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, سوتک بسواس
- عہدہ, نامہ نگار برائے انڈیا، بی بی سی
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
ممتا بینرجی اور ان کی علاقائی جماعت ترنمول کانگریس 15 برس تک ریاست مغربی بنگال کی سیاست کے اس اصول کی نشانی رہی، جو یہ ہے کہ ’بچ نکلنے کا کوئی نہ کوئی راستہ ہمیشہ نکل ہی آتا ہے۔‘
لیکن پیر کے روز یہ سلسلہ ختم ہو گیا۔
اس آتش مزاج عوامی رہنما کو بھارتیہ جنتا پارٹی کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس کے ساتھ ہی وزیر اعلیٰ کے طور پر ان کی لگاتار چوتھی مرتبہ اقتدار حاصل کرنے کی کوشش بھی ختم ہو گئی جو کہ ایسا کارنامہ ہوتا جو انھیں جیوتی باسو اور نوین پٹنائک جیسے طویل عرصے تک برسرِاقتدار رہنے والے علاقائی رہنماؤں کی صف میں لا کھڑا کرتا۔
بینرجی کی شکست نے آج کل کے انڈیا کے ایک نمایاں سیاسی کریئر کو شدید غیریقینی صورتحال کا شکار کر دیا اور ایک ایسا سفر جو سڑکوں پر احتجاج سے شروع ہوا، اس سیاسی قلعے کی کمزوری پر منتج ہوا، جسے انھوں نے خود تعمیر کیا تھا۔
پست قامت، سادہ سوتی ساڑی اور ربڑ کی چپلوں میں ملبوس بینرجی کسی ایسی سیاست دان کی طرح نہیں لگتی تھیں جو دنیا کی طویل ترین منتخب کمیونسٹ حکومتوں میں سے ایک کو گرا دے گی۔
تاہم 2011 میں انھوں نے 34 برس تک مسلسل اقتدار میں رہنے والی کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کو شکست دے کر ایک ایسے سیاسی نظام کو الٹ دیا جو خود مغربی بنگال کی شناخت بن چکا تھا۔ یہ ریاست، جو کبھی انڈیا کا فکری اور تجارتی مرکز تھی، دہائیوں تک صنعتی زوال اور سیاسی تھکن کا شکار رہی۔
اس وقت نیویارک ٹائمز نے انھیں یادگار انداز میں ’اپنی دیوارِ برلن گرانے والا کند آلہ‘ قرار دیا اور ٹائم میگزین نے انھیں دنیا کی 100 بااثر ترین شخصیات میں شامل کیا۔
ممتا بینرجی کا عروج بنگال کی ٹکراؤ والی سیاسی ثقافت میں ہوا، جہاں انتخابات اکثر سڑکوں پر طویل جنگ کا منظر پیش کرتے ہیں۔ ان کے حامی انھیں ’آگ کی دیوی‘ کہتے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کولکتہ میں ایک نیم متوسط طبقے کے خاندان میں پیدا ہونے والی ممتا بینرجی نے سیاست میں قدم کانگریس پارٹی کی طلبہ تنظیم کے ذریعے رکھا۔ سنہ 1980 کی دہائی تک وہ ریاست میں کمیونزم مخالف نمایاں چہروں میں شامل ہو چکی تھیں اور بالآخر انھوں نے کانگریس سے الگ ہو کر ترنمول کانگریس ( ٹی ایم سی) قائم کی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
بنگال کے سیاسی تشدد نے ان کی شخصیت کو بھی بدلا۔ 1990 میں ایک احتجاجی ریلی کے دوران مبینہ طور پر ان پر کمیونسٹ کارکنوں نے حملہ کیا اور کھوپڑی میں فریکچر کے باعث انھیں ہسپتال منتقل کرنا پڑا۔
یہ واقعہ ان کی شخصیت کے وہ پہلو سامنے لایا جنھیں انھوں نے دہائیوں تک برقرار رکھا۔ وہ سڑکوں پر لڑنے والی بھی رہیں اور جزوی طور پر مظلوم بھی۔ وہ اقتدار میں ہوتے ہوئے بھی ایک باغی بن کر سامنے آئیں۔
2007 میں سنگور میں ٹاٹا موٹرز کے کارخانے اور نندی گرام میں زمین کے حصول کے خلاف ان کی مخالفت کے بعد انھیں تیزی سے عروج حاصل ہوا۔
انھوں نے خود کو کسانوں کی محافظ کے طور پر پیش کیا اور دیہی و کم آمدنی والے ووٹرز کی بھرپور حمایت حاصل کی تاہم ان احتجاجی مظاہروں نے شہری متوسط طبقے اور کاروباری طبقے کے ایک بڑے حصے کو بدظن بھی کیا، جنھوں نے ان پر مغربی بنگال سے سرمایہ کاروں بھگانے کا الزام لگایا۔
لندن سکول آف اکنامکس کی ماہر بشریات مکولیکا بنرجی کہتی ہیں کہ ’ممتا، نریندر مودی کی طرح، پوری زندگی سیاست دان رہی ہیں۔‘
’ان کے مخالفین اشرافیہ کے بھدرلوک کمیونسٹ مرد تھے، بنگال کے تعلیم یافتہ، اونچی ذات کے، متوسط طبقے کے لوگ جو ان کے سانولے رنگ اور آداب کی کمی پر انھیں کمتر سمجھتے تھے۔‘
مکولیکا بنرجی کہتی ہیں کہ ’ابتدائی کامیابی نے ان کے عام آدمی کے ساتھ کھڑے رہنے کے عزم کو مزید مضبوط کیا۔ وہ دکانداروں کے ساتھ بیٹھی دکھائی دیں، جہاں بھی مسئلہ ہو وہاں پہنچیں، سادہ لباس پہنتی رہیں اور اسے اپنی پہچان بنا لیا۔‘
’اس ابتدائی جدوجہد نے انھیں بے خوف بنا دیا اور انھیں احساس ہوا کہ اگر وہ لوگوں کے ساتھ کھڑی رہیں تو وہ دوسروں کو بھی یہی احساس دلوا سکتی ہیں۔‘
مکولیکا کے مطابق ’ہر کوئی انھیں ’دیدی‘ یعنی بڑی بہن کہتا تھا کیونکہ وہ اسی رشتے کی علامت بن گئی تھیں۔ ایک انتہائی محافظ شخصیت جو آپ کے لیے اپنی جان تک دے سکتی ہے۔‘
انڈیا کی زیادہ تر خواتین سیاسی رہنماؤں کے برعکس ممتا بغیر خاندانی پشت پناہی یا کسی طاقتور سرپرست کے ابھریں۔
مکولیکا بنرجی کہتی ہیں ’کسی نے اپنی پارٹی بنا کر، کمیونسٹوں جیسی ناقابلِ تسخیر قوت کا مقابلہ کر کے اور 34 سال بعد انھیں اقتدار سے ہٹا کر تین بار حکومت نہیں کی اور دیگر خواتین سیاست دانوں کے برعکس وہ دانستہ طور پر دوسری خواتین کو بھی آگے لاتی رہیں۔‘
حالیہ انتخاب میں بھی ان کی جماعت نے 52 خواتین امیدوار میدان میں اتاری تھیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
برسوں تک ممتا بینرجی کی شخصیت، خواتین اورغریب دیہاتیوں کے لیے فلاحی منصوبوں اور بنگال کی مضبوط علاقائی شناخت نے عوامی ناراضی، کرپشن کے الزامات اور بی جے پی کے عروج کو محدود رکھا۔
کریا یونیورسٹی کی پروما رائے چودھری کہتی ہیں ’ان کی کامیابی ایک احتیاط سے قائم توازن پر مبنی تھی: خود کو ایک سمجھوتہ نہ کرنے والی جنگجو کے علاوہ ایک سادہ، ماں جیسی شخصیت کے طور پر پیش کرنا جو معاشی مشکلات کا شکار لوگوں کو سہولت فراہم کرتی ہے۔‘
ناقدین بھی مانتے ہیں کہ ممتا بینرجی اپنے ووٹروں کے جذبات کی گہری سمجھ بوجھ رکھتی تھیں لیکن کرشمہ ہمیشہ کے لیے سیاسی نظام کو قائم نہیں رکھتا۔
سیاسی ماہر دواپیان بھٹاچاریہ نے ایک بار کمیونسٹ دور کے بنگال کو ’پارٹی سوسائٹی‘ قرار دیا تھا، جہاں سیاسی جماعتیں روزمرہ زندگی اور معاش کا حصہ بن گئی تھیں۔
ممتا کی جماعت کو یہ ڈھانچہ ورثے میں ملا مگر انھوں نے اسے بدل دیا۔ کمیونسٹوں کی منظم تنظیم کے برعکس، بنرجی کی جماعت ان کی ذاتی شخصیت اور اختیار کے گرد گھومتی تھی۔
بھٹاچاریہ نے ٹی ایم سی کو ایک سیاسی ’فرنچائز ماڈل‘ قرار دیا جس میں مقامی بااثر افراد اور نچلی سطح کے رہنماؤں کو اپنا اثر اور اکثر کاروباری مفادات بڑھانے کی اجازت تھی، بشرطیکہ وہ ممتا کے وفادار رہیں۔
انھوں نے 2023 میں لکھا کہ ’فرنچائز ماڈل نے ٹی ایم سی کو کمزور کر دیا۔ اس کے رہنماؤں کی مادی مفادات میں شدید دلچسپی نے لین دین پر مبنی سوچ کو اخلاقی سیاست کے تاثر پر غالب کر دیا، جس سے عوام سے ان کا تعلق کمزور ہوا۔‘
بینرجی کے دور میں بنگال کو بڑھتے ہوئے مالی بحران کا بھی سامنا رہا۔ ریاست کا قرض بڑھتا گیا جبکہ مرکزی بینک کے مطابق خواتین کے لیے ان کے صرف چار فلاحی منصوبوں پر ریاست کی اپنی آمدنی کا تقریباً ایک چوتھائی کے برابر خرچ ہو رہا تھا۔
سرکاری آسامیوں کی کمی، بھتہ خوری کے نیٹ ورکس کے ذریعے بڑھتی بدعنوانی، اساتذہ کی بھرتی کا بڑا سکینڈل اور خواتین کے تحفظ پر بڑھتے خدشات نے بھی حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اب شکست کے بعد بینرجی کو ایک بالکل مختلف اور ممکنہ طور پر زیادہ وجودی چیلنج کا سامنا ہے جو ان کی سیاسی بقا ہے۔
بنگال کی سیاست روایتی طور پر شکست خوردہ حکمران جماعتوں کے لیے سخت رہی ہے اور یہاں رہنما اور مقامی بااثر افراد فوراً طاقت کے نئے مرکز کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کار سایانتن گھوش کہتے ہیں کہ ترنمول کے کئی رہنما بی جے پی کی طرف جا سکتے ہیں، کچھ اپنی مرضی سے اور کچھ دباؤ میں، جس سے ’جماعت کے اندر تقسیم‘ کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔
پروما رائے چودھری کے مطابق ٹی ایم سی میں ’نظریاتی ہم آہنگی کی کمی‘ اسے اور اس کی سربراہ کو شکست کے بعد مزید کمزور بنا سکتی ہے۔
ذاتی طور پر بینرجی کے لیے یہ تبدیلی مشکل ہو سکتی ہے کیونکہ وہ دہائیوں تک اقتدار کے مرکز میں رہیں۔
گھوش کہتے ہیں ’یہ ان کے لیے مشکل مرحلہ ہو گا۔ 1980 کی دہائی کے آخر میں پہلی کامیابی کے بعد ممتا کو عہدے یا اختیار کے بغیر تصور کرنا بنگال کی سیاست میں کم ہی دیکھا گیا ہے۔‘
71 سالہ رہنما کے سیاسی مستقبل پر ابھی حتمی رائے دینا قبل از وقت ہو سکتا ہے تاہم یہ شکست ان بحرانوں کے مقابلے میں زیادہ بنیادی موڑ ثابت ہو سکتی ہے جن سے وہ پہلے گزر چکی ہیں۔
مکولیکا بنرجی کے مطابق، ممتا جیسے سیاست دان ایک ایسے دور میں کامیاب ہوئے جب مقابلے کا میدان نسبتاً برابر تھا۔
وہ کہتی ہیں کہ اب ایسا نہیں رہا۔ ان کا اشارہ بی جے پی کی واحد جماعتی برتری کی جانب ہے۔ ان کے مطابق پیر کا فیصلہ نہ صرف عوامی ناراضی بلکہ اس عدم توازن کی عکاسی بھی کرتا ہے۔
اب چند اہم سوال باقی ہیں۔
کیا ممتا بینرجی ایک بار پھر خود کو نئے سرے سے ڈھال سکتی ہیں اور سڑکوں پر ایک غصیلی رہنما کے طور پر واپس آ سکتی ہیں یا وہ آہستہ آہستہ اسی نظام کا حصہ بن جائیں گی جس کے خلاف انھوں نے پوری زندگی جدوجہد کی؟
مکولیکا بنرجی کہتی ہیں ’وہ اب کہاں جائیں گی؟ انھوں نے سیاست کے سوا کوئی اور زندگی نہیں جی۔‘
پروما رائے چودھری کے مطابق ایک امکان یہ ہے کہ وہ اپنی ابتدائی سیاست کی طرف لوٹ جائیں اور ’کمیونسٹ دور کی سڑکوں کی سیاست کا ان کا تجربہ شاید ان کی واپسی کا ذریعہ بنے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
منگل کی شام خود بینرجی نے اسی کردار کو دوبارہ اپنانے کے آثار دکھائے جب انھوں نے صحافیوں سے کہا ’میں ایک آزاد پرندہ ہوں، اب ایک عام انسان ہوں۔ اب میرے پاس کوئی عہدہ نہیں۔‘
انھوں نے قومی سطح پر اپوزیشن کے اتحاد کو مضبوط کرنے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔ الیکشن کمیشن پر بی جے پی کی حمایت کا الزام لگاتے ہوئے اور ’یک جماعتی نظام‘ سے خبردار کرتے ہوئے ممتا بینرجی نے کہا کہ ان کی جماعت سے مینڈیٹ چھین لیا گیا ’ہم الیکشن ہارے نہیں، وہ ہم سے زبردستی چھینا گیا۔‘
ریاست کے چیف الیکٹورل افسر نے کہا کہ وہ اس الزام کا ’سیاق و سباق دیکھیں گے‘۔
آخر میں انھوں نے وہ جملہ کہا جو ماضی کی بینرجی کی یاد دلاتا ہے، ’میں کہیں بھی ہو سکتی ہوں، کہیں بھی لڑ سکتی ہوں اس لیے میں سڑکوں پر رہوں گی۔‘

























