آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستان کے فتح تھری کروز میزائل کا موازنہ انڈین براہموس سے کیوں کیا جا رہا ہے؟
- مصنف, عمیر سلیمی
- عہدہ, بی بی سی اردو
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
پاکستانی فوج کی طرف سے حال ہی میں فتح تھری کروز میزائل کی رونمائی کے بعد اس کا موازنہ انڈیا کے براہموس میزائل کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔
سات مئی کو پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے کسی تجزبے کے بعد جاری کردہ پیغام کے بجائے فوجی تیاریوں کے حوالے سے مرتب کردہ تشہیری ویڈیو میں فتح تھری کروز میزائل کی ایک تصویر ظاہر کی تھی۔
اگرچہ آئی ایس پی آر کی طرف سے فتح تھری کروز میزائل کی صلاحیتوں کے بارے میں نہیں بتایا گیا تاہم دفاعی امور کے ماہرین کی رائے میں یہ آواز کی رفتار سے تین سے چار گناہ تیز سپر سونک کروز میزائل ہے، جسے پاکستان نے مستقبل میں پریسیژن سٹرائیکس کے لیے تیار کیا ہے۔
اگر سوشل میڈیا پر نظر دوڑائی جائے تو کئی مبصرین نے اس کا موازنہ براہموس سے کیا ہے، جسے انڈین فوج نے ’آپریشن سندور‘ کے دوران پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ فتح تھری اور براہموس میں کیا چیز مشترک ہے اور اپنی صلاحیتوں کے اعتبار سے انھیں کیسے استعمال کیا جاتا ہے۔
فتح تھری ’سپر سونک‘ کروز میزائل میں خاص کیا ہے؟
ٹورنٹو میں قائم ڈیفنس نیوز اینڈ اینالسس گروپ قوة کے بانی اور دفاعی امور کے محقق بلال حسین خان کا کہنا ہے کہ فتح تھری کے بارے میں اب تک سامنے آنے والی معلومات سے یہ نتیجہ اخد کیا جا سکتا ہے کہ پاکستانی فوج اپنے سپر سونک کروز میزائل پر کام کر رہی ہے۔
فتح سیریز کے میزائل طویل رینج تک ’پریسیژن سٹرائیکس‘ کے لیے استعمال ہونے والے روایتی ہتھیار ہیں، جنھیں انٹرسیپٹ کرنا مشکل ہوتا ہے کیونکہ یہ کم اونچائی پر رہتے ہیں۔
ان میں سے فتح ون کی رینج 140 کلو میٹر جبکہ فتح 2 کی رینچ 400 کلو میٹر تک ہے۔ 28 اپریل 2026 کے ایک بیان میں پاکستانی فوج کا کہنا تھا کہ مقامی طور پر تیار کیے گئے فتح 2 میزائل کو کامیابی سے لانچ کیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بلال حسین بتاتے ہیں کہ اگرچہ 750 کلو میٹر کی رینج والے فتح 4 کو بھی زمین سے لانچ کیے جانے والے کروز میزائل کے طور پر ٹیسٹ لانچ کیا جا چکا ہے، تاہم اب فتح 3 کو بظاہر ایک سپر سونک کروز میزائل کے طور پر تیار کیا گیا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری کردہ ویڈیوز اور تصاویر سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ مخصوص ’ریم جیٹ انجن‘ کی بدولت فتح 3 میزائل آواز کی رفتار سے زیادہ تیز ہے۔ جبکہ تصویر سے یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ اس کا ڈیزائن ’چینی ساختہ ایچ ڈی ون میزائل سے ملتا جلتا ہے۔‘
ایچ ڈی ون ایک سپر سونک کروز میزائل ہے، جسے 2018 میں ایک چینی مائننگ کمپنی نے پہلی بار تیار کیا تھا۔ کمپنی کے مطابق یہ 2716 سے 4321 کلو میٹر فی گھنٹے کی رفتار سے سفر کرتا ہے، یعنی آواز کی رفتار سے کئی گنا تیز۔
چونکہ پاکستان اپنا اکثر دفاعی ساز و سامان چین سے درآمد کر رہا ہے تو بلال حسین خان کی رائے میں یہ ممکن ہے کہ پاکستان نے ایچ ڈی ون میزائل کو مقامی طور پر تیار کرنے کا لائسنس حاصل کیا ہو۔
کیا اس کا موازنہ براہموس سے کیا جا سکتا ہے؟
بلال حسین خان مزید کہتے ہیں کہ انڈین میزائل براہموس بھی آواز کی رفتار سے زیادہ تیزی سے سفر کرنے کے لیے ریم جیٹ انجن استعمال کرتا ہے اور ہدف کے تعاقب کے لیے اس میں نیویگیشن کے بعض نظام نصب ہوتے ہیں۔
’براہموس کی طرح ایچ ڈی ون بھی زمین سے اور فضا سے لانچ کیے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔‘
انڈین میڈیا کی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ براہموس میزائل پرواز کے دوران سپرسونک رفتار کے ساتھ 290 کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے پرواز کا وقت کم ہو جاتا ہے، ہدف کو خود کو بچانے کا وقت نہیں ملتا، اس کا حملہ تیز اور دنیا کے کسی بھی میزائل شکن دفاعی نظام سے روکنا مشکل ہو جاتا ہے۔
براہموس ایروسپیس کے مطابق اس میں دشمن کے ’ریڈار‘ (جہازوں اور اڑتی اشیا کا سراغ لگانے کا نظام) سے بچنے کی صلاحیت موجود ہے۔
اسے ’فائر اینڈ فارگیٹ‘ یعنی ’چلاﺅ اور بھول جاﺅ‘ کے اصول پر استعمال کیا جاتا ہے اور اس کے ہدف تک پہنچنے کے راستے کی مستقل نگرانی نہیں کی جاتی۔
دوسری طرف اگرچہ فتح 3 میزائل کی رینج نہیں بتائی گئی تاہم بلال حسین خان کا اندازہ ہے کہ اگر اسے چینی ایچ ڈی ون میزائل کا ’ایکسپورٹ گریڈ‘ مان لیا جائے تو اس کی رینج 280 کلو میٹر ہو گی۔ مگر چونکہ پاکستان اس سے کہیں زیادہ رینج کے میزائل بھی تیار کر چکا ہے تو ان کے مطابق اسے اپ گریڈ کر کے شاید 400 سے 500 کلو میٹر کی رینج تک بھی لے جایا جا سکے۔
وہ مزید کہتے ہیں کہ جہاں تک بات گائیڈینس اور سیکر ٹیکنالوجی کی ہے تو ان میزائلوں کی صلاحیت بھی براہموس جیسی ہو سکتی ہے کیونکہ جدید چینی ہتھیار باصلاحیت ہیں۔
ان کی رائے میں چونکہ پاکستان کے پاس میزائلوں کے ریم جیٹ اور سکریم جیٹ انجنوں کو ڈیزائن اور ٹیسٹ کرنے کی اتنی جدید سہولیات نہیں تو یہ قوی امکان ہے کہ اس کے لیے چین کی مدد حاصل کی گئی ہو گی۔
ان کا کہنا ہے کہ اس سے متعلق 2018 میں خاصی قیاس آرائیاں ہوئی تھیں جب چین کی ایک مائننگ کمپنی نے پاکستان کو ایچ ڈی ون کی پیشکش کی تھی اور یہ کہا جا رہا تھا کہ ٹیکنالوجی کی منتقلی ہو سکتی ہے۔
ایک اور اشارہ ان کے مطابق یہ ہے کہ فتح 3 کے لانچ سے متعلق حالیہ مناظر میں کسی ایسی لانچ وہیکل کو نہیں دیکھا جا سکتا ہے جس کا ہمیں علم ہو۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ انڈیا اگرچہ براہموس کو مقامی طور پر تیار کر رہا ہے لیکن ممکن ہے کہ ’ریم جیٹ انجن اب بھی روس سے درآمد کیے جاتے ہوں گے۔ جبکہ فتح تھری کے کیس میں ان کے بقول امکان ہے کہ پاکستان انھیں چین سے درآمد کر رہا ہو گا اور گائیڈینس کا نظام اس نے چین کے ساتھ مل کر بنایا ہو گا۔‘
آئندہ فوجی لڑائیوں میں کروز میزائلوں کا کیا کردار ہو گا؟
مئی 2025 کی چار روزہ فوجی لڑائی میں جہاں انڈین افواج نے براہموس کے ذریعے پاکستان میں فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تو اس کے جواب میں پاکستان کی طرف آپریشن بنیان المرصوص کا آغاز آئی ایس پی آر کے بقول فتح ون میزائل چلا کر کیا گیا تھا۔
دفاعی امور کے ماہرین اس جانب بھی اشارہ کرتے ہیں کہ انڈیا اور پاکستان دونوں کے پاس ایسے سپر سونک کروز میزائل ہیں جو آئندہ کی فوجی لڑائیوں کو ماضی کی لڑائیوں سے بہت مختلف بنا سکتے ہیں۔
پاکستانی فوج کے سابق بریگیڈیئر ڈاکٹر طغرل یمین نے بی بی سی کو بتایا کہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں کے برعکس کروز میزائل ریڈار کی نظروں سے اوجھل رہ سکتے ہیں اور ان کی رفتار سپر سونک ہوتی ہے مگر ان کی رینج قدرے کم ہوتی ہے۔
وہ یوکرین جنگ اور مشرق وسطی میں جاری لڑائیوں کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اب جنگوں میں میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال بہت بڑھ گیا ہے۔
گذشتہ سال اگست میں راکٹ فورس کے قیام کے بعد سے پاکستان کی مسلح افواج نے کئی میزائلوں کی آزمائش کی ہے۔ پاکستانی فوج کے سابق بریگیڈیئر اور دفاعی امور کے ماہر ڈاکٹر طغرل یمین بتاتے ہیں کہ راکٹ فورس کے قیام کا مقصد یہی تھا کہ پاکستان اپنے سٹریٹیجک جوہری میزائلوں کو روایتی میزائلوں سے الگ کرنا چاہتا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’جنگ میں استعمال ہونے والے روایتی میزائلوں کو الگ اسی لیے کیا گیا تاکہ فیصلہ سازی آسان اور تیز ہو سکے۔‘
فتح تھری میزائلوں کے استعمال سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ فتح تھری جیسے پریسیژن سٹرائیکس کی صلاحیت رکھنے والے میزائلوں سے دشمن کے دفاعی انفراسٹرکچر کے اہداف کو نشانہ بنایا جا سکے گا اور یہ جنگ کو مزید مختصر کر سکتے ہیں، اگر آپ کی پہلی سٹرائیک یا پری ایمٹیو سٹرائیک کامیاب رہے۔
وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کی فوجی ڈاکٹرائن توسیع پسند نہیں بلکہ اپنی سالمیت کے دفاع پر مبنی ہے تو اس لیے ڈرونز، میزائلوں اور سائبر حملوں کی صلاحیت کے لیے ذریعے ڈیٹرنس قائم کیا جا رہا ہے۔