موہن جو دڑو کی پُراسرار ڈانسنگ گرل پاکستان سے انڈیا کیسے پہنچی؟

،تصویر کا ذریعہNCERT
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو
- مقام, دلی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
موہن جو دڑو کی ڈانسنگ گرل ان دنوں خبروں میں ہے۔
لڑکی کی کانسی سے بنی اس عُریاں مورتی کا شمار وادیٔ سندھ کی تہذیب کے نمایاں نوادرات میں ہوتا ہے۔
انڈیا کے سکول بورڈ نے نصاب کتاب میں ساڑھے چار ہزار سال پرانی اس مورتی کے عُریاں جسم پر سیاہی پھیر دی تھی، جس کے بعد ایک بحث چھڑ گئی۔ آرٹ اور تاریخ کے ماہرین کی تنقید کے بعد تصویر کو اس کی اصل شکل میں بحال کیا گیا۔
موہن جو دڑو کی ڈانسنگ گرل کی یہ چھوٹی سی مورتی تقریباً 10 سینٹی میٹر کی ہے۔ کانسی سے بنی یہ مورتی ایک ایسی نو عمر لڑکی کی ہے جس نے کوئی لباس نہیں پہن رکھا، اس کے بائیں ہاتھ میں بازوؤں تک کنگن ہیں اور دایاں ہاتھ کولہے پر رکھا ہے۔ اس کے دونوں پاؤں گھٹنوں سے کچھ جھکے ہوئے اور آگے کی طرف بڑھے ہوئے ہیں۔
غالباً مورتی کے اسی انداز کی وجہ سے ماہرِ آثارِ قدیمہ جان مارشل نے اسے ’ڈانسنگ گرل‘ کا نام دیا تھا۔ ساڑھے چار ہزار برس بعد بھی اس مورتی کی شناخت آج تک ایک راز ہے۔
لاہور میوزیم کے کیوریٹر احتشام عزیز کہتے ہیں: ’اس لڑکی کی مورتی کو دیکھا جائے تو لگتا ہے کہ وہ رقص کر رہی ہے۔ رقص مذہبی سرگرمیوں کا حصہ رہا ہے، خاص طور پر ہندو مت میں۔ آپ جتنے بھی دیوی دیوتا دیکھیں، انھیں اکثر رقص کرتے ہوئے یا اسی طرح کے انداز میں پائیں گے۔ رقص مذہبی عقائد کا حصہ رہا ہے۔‘
مورخ گریگوری ایل پاسیل نے اپنی کتاب ’دی انڈس سیویلائزیشن‘ میں لکھا ہے کہ یہ مورتی کسی رقاصہ کی نمائندگی نہیں کرتی۔ کئی دیگر مورخین نے بھی اسے رقاصہ ماننے سے انکار کیا ہے۔
’اے نیو ہسٹری آف انڈیا‘ کے مؤرخین آر مکھرجی، شوبھیتا پونجا اور ٹوبی سنکلیئر لکھتے ہیں: ’اس لڑکی کی مورتی کو ’ڈانسنگ گرل‘ شاید اس کے کھڑے ہونے کے انداز کی بنیاد پر کہا گیا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کی شناخت آج بھی مؤرخین کے لیے معمہ ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
معروف مورخ اے ایل باشم نے اپنی کتاب ’دی ونڈر دیٹ واز انڈیا‘ میں لکھا ہے: ’بعض مورخین نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ یہ ڈانسنگ گرل مندروں کی رقاصہ یا طوائف کے طبقے کی نمائندگی کرتی ہے، لیکن اس بات کو تاریخی طور پر ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ یہ واضح نہیں کہ یہ لڑکی واقعی رقاصہ ہے اور مندر کی رقاصہ ہونے کا دعویٰ تو مزید ناقابل یقین ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہANI
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ڈانسنگ گرل کی یہ مورتی اس وقت انڈیا کے نیشنل میوزیم میں رکھی ہوئی ہے۔ مارٹیمر وہیلر 1944 سے 1948 تک انڈین محکمہ آثارِ قدیمہ کے سربراہ رہے۔ وہ آزادی سے قبل موہن جو دڑو اور ہڑپہ سے تقریباً 12 ہزار نوادرات اور نمونے نمائش کے لیے لاہور میوزیم سے دہلی لے گئے تھے۔
تقسیمِ ہند کے بعد موہن جو دڑو اور ہڑپہ جیسے قدیم مقامات پاکستان میں آ گئے، جبکہ گجرات کی لوتھل، راجستھان کے کالی بنگن اور دھولاویرا جیسے چند مقامات انڈیا کا حصہ بنے جو ہڑپہ کی ثقافت کی نمائندگی کرتے تھے۔
پنجاب یونیورسٹی کے مؤرخ آشیش کمار نے اپنے ایک تحقیقی مقالے میں لکھا ہے: ’تقسیم کے وقت وادیٔ سندھ کے زیادہ تر نوادرات دہلی میں موجود تھے۔ چونکہ یہ پاکستان کے علاقے سے دریافت ہوئے تھے اس لیے پاکستان نے ان کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ 1950 کی دہائی میں مارٹیمر وہیلر کی مدد سے ان نوادرات کا نصف حصہ پاکستان کو دینے کا معاہدہ ہوا۔‘
انھوں نے مزید لکھا کہ پاکستان ’پریسٹ کنگ‘ اور ’ڈانسنگ گرل‘ کی مورتیاں واپس لینا چاہتا تھا، لیکن انڈیا نے ان میں سے صرف ایک دینے پر اتفاق کیا۔
بعض مورخین کے مطابق پاکستانی حکام نے یہ سوچتے ہوئے ’پریسٹ کنگ‘ لینے کا فیصلہ کیا کہ ڈانسنگ گرل کی عُریاں مورتی تنازع کا باعث بن سکتی ہے۔
مگر یہ معاملہ یہیں ختم نہیں ہوا۔
لاہور ہائیکورٹ میں 2016 میں ایک درخواست دائر کی گئی، جس میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ وہ حکومتِ پاکستان کو ڈانسنگ گرل کی مورتی انڈیا سے واپس لانے کی ہدایت جاری کرے۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ چونکہ یہ مورتی 1926 میں موہن جو دڑو سے دریافت ہوئی تھی، اس لیے اس قدیم نوادر کا اصل وارث پاکستان ہے۔
اُس وقت انڈیا کے بعض مورخین نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان تنہا ہڑپائی تہذیب کا وارث نہیں بلکہ یہ پورے جنوبی ایشیا کا مشترکہ ورثہ ہے۔
آڈری ٹرشکی اپنی کتاب ’انڈیا: فائیو تھاؤزنڈ ایئرز آف ہسٹری‘ میں لکھتی ہیں کہ وادیٔ سندھ کی تہذیب مصر، میسوپوٹیمیا اور چین کے ساتھ قدیم دنیا کی چار بڑی تہذیبوں میں سے ایک تھی۔ جغرافیائی لحاظ سے وادیٔ سندھ کا علاقہ مصر اور میسوپوٹیمیا کے مشترکہ خطے سے بڑا تھا اور غالباً اس کی آبادی بھی زیادہ تھی۔
وہ لکھتی ہیں کہ وادیٔ سندھ کی کھدائی میں ملنے والی ہزاروں اشیا پر نامعلوم رسم الخط میں لکھی تحاریر موجود ہیں۔ اس دور کی ملنے والی مہروں پر درج تحریر آج تک پڑھی نہیں جا سکی۔
ان تمام بحثوں کے ساتھ، وادیٔ سندھ کی تہذیب کی طرح ڈانسنگ گرل بھی ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔ یہ کون تھی، اسے کس نے بنایا تھا، یہ کس کی نمائندگی کرتی تھی اور کیا وہ واقعی ایک رقاصہ تھی؟
یہ سوال آج بھی اپنے جواب تلاش کر رہے ہیں۔
























