دو قومی نظریے کے مخالف اللہ بخش سومرو کا قتل اور سیاست کی خونی بساط

اللہ بخش سومرو

،تصویر کا ذریعہMehboob Soomro

    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو، کراچی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 24 منٹ

صبح کا وقت تھا اور ایک تانگے میں تین لوگ سوار تھے، جن میں سے ایک شخص اخبار پڑھنے میں مشغول تھا۔ چار افراد آئے اور پوچھا اللہ بخش کون ہے؟ اخبار پڑھنے والے نے جواب دیا ’میں ہوں۔‘ اس کے بعد فائر ہوئے اور اللہ بخش گر گئے، انھیں ہسپتال پہنچایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے۔

یہ واقعہ 14 مئی 1943 کو شمالی سندھ کے شہر شکارپور میں پیش آیا۔

ہلاک ہونے والے اللہ بخش سومرو کو چند ماہ قبل ہی گورنر نے سندھ کے وزیر اعلیٰ کے منصب سے سبکدوش کیا تھا۔ قوم پرست سوچ اور کانگریسی خیالات کے حامل اس سیاست دان کی کیا سیاسی رقابت رہی اور ان کے قتل کے کیا محرکات تھے، ہم اس تحریر میں اس کا جائزہ لیں گے۔

کرکٹ میں دلچسپی اور انگریزوں سے دوستی

اللہ بخش سومرو 31 اگست 1900ء کو پیدا ہوئے تھے اور ان کا نام ان کے پڑدادا کے نام پر اللہ بخش رکھا گیا تھا۔

انھوں نے ابتدائی تعلیم ضلع جیکب آباد کے قصبہ ٹھل میں حاصل کی اور بعد میں ثانوی تعلیم کے لیے انھیں شکارپور کے ہوپ فل اکیڈمی ہائی اسکول میں داخل کروایا گیا، جہاں سے انھوں نے 1919ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔

بچپن میں انھیں کھیلوں، خصوصاً کرکٹ سے خاص دلچسپی تھی، وہ جیکب آباد اور سکھر میں میچ کھیلا کرتے تھے۔

کتاب ’اللہ بخش محب‘ کے مصنف محبوب سومرو لکھتے ہیں کہ تعلیم کے دوران اللہ بخش سومرو اپنے والد کی معاشی سرگرمیوں میں بھی ہاتھ بٹاتے رہے۔ ان کی عمر ابھی 28 برس ہی ہوگی کہ ان کے والد وفات پا گئے۔

اس کے بعد انھوں نے تعلیم کو خیرباد کہا اور اپنے والد کا کاروبار سنبھال لیا۔

انہوں نے خاص طور پر ٹھیکیداری کے کاروبار میں دلچسپی لی۔

وہ روانی سے انگریزی بول سکتے تھے، جس کے باعث ان کے انگریز افسران اور انجینئرز کے ساتھ قریبی تعلقات قائم ہو گئے۔

GM Syed

،تصویر کا ذریعہMehboob Soomro

مصنف محبوب سومرو کے مطابق انگریز افسران سے قریبی روابط کی بدولت انہیں ٹھیکے آسانی سے مل جاتے تھے۔

سندھ کے قوم پرست رہنما جی ایم سید اپنی یادداشتوں پر مبنی کتاب ’جنم گزارا جن کے ساتھ‘ میں لکھتے ہیں: ’ذہانت اور وسائل کی وجہ سے انگریز انجینیئرز کے ساتھ اللہ بخش سومرو کے اچھے تعلقات پیدا ہوگئے، جن کی مدد سے اچھی آمدنی ہوگئی اور کشادہ دلی کی وجہ سے ان کا دائرہ بھی بڑھنے لگا۔‘

بلدیاتی اداروں سے بمبئی کونسل تک

جیکب آباد برطانوی دور سے ہی گریژن سٹی رہا تھا، جہاں اللہ بخش سومرو بطور ٹھیکیدار کام کرتے رہے۔

انھوں نے سنہ 1923 میں جیکب آباد میونسپلٹی کے رکن کا الیکشن لڑا اور ضلعی لوکل بورڈ کے رکن منتخب ہوگئے۔ تین سال بعد 1926 میں بمبئی کونسل کے انتخابات میں ان کا مقابلہ خان بہادر مخدم خان پٹھان سے تھا، جو کہ کونسل کے کم عمر ترین رکن تھے اور وہ اس وقت تک مسلسل کونسل کے رُکن منتخب ہوتے رہے جب تک سندھ کو بمبئی سے الگ نہیں کردیا گیا۔

اللہ بخش سومرو کے والد کے سر شاہنواز بھٹو سے دوستانہ تعلقات تھے اور سیاست میں وہ ان کے ہی قریب رہے شاھنواز بھٹو بھی بمبئی کونسل کے رکن منتخب ہوتے آئے تھے، سنہ 1934 میں جب پیپلز پارٹی کا قیام عمل میں آیا، جس کی قیادت شاھنواز بھٹو کو دی گئی، تو اللہ بخش پہلی بار سیاسی جماعت میں شامل ہوئے۔

سندھ اسمبلی کے پہلے اپوزیشن رہنما

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

بمبئی سے علیحدگی کے بعد سندھ میں علیحدہ اسمبلی کا قیام عمل میں آیا اور یہاں پارلیمانی پارٹیاں بننے لگیں۔ جب سنہ 1936 میں ’اتحاد پارٹی‘ قائم ہوئی اور اللہ بخش بھی اس میں شامل ہو گئے۔

فروری 1937 کے انتخابات میں اس جماعت نے 24 نشستیں حاصل کیں اور کامیاب امیدواروں میں اللہ بخش سومرو بھی شامل تھے۔

تاہم انتخابات میں پارٹی کے سربراہ شاھنواز بھٹو اور نائب رہنما سر حاجی عبداللہ ھارون انتخابات ہار گئے، لیکن اس کے باوجود اتحاد پارٹی سندھ اسمبلی کی سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی۔

اس کے باوجود بی گورنر لنسلیٹ گراہم نے سر غلام حسین ہدایت اللہ کو حکومت بنانے کی دعوت دی، جن کے صرف دو اراکین کامیاب ہوئے تھے۔

انھوں نے میرگروپ اور ہندو آزاد اراکین کی حمایت حاصل کرلی اور کچھ اراکین اتحاد پارٹی سے بھی توڑ لیے، جس کے بعد اتحاد پارٹی کے صرف نو اراکین ہی بچے جو اللہ بخش یا جی ایم سید کے دوست تھے۔

ان اراکین کی حمایت سے اللہ بخش سومرو پہلی سندھ اسمبلی کے پہلے اپوزیشن لیڈر بنے اور یوں سندھ کی سیاست میں پہلی بار اکثریت کے بجائے اقلیت کو حکومت دی گئی۔

بعض مؤرخین لکھتے ہیں کہ سر غلام حسین نے گورنر سے تعلقات اچھے تھے۔

اتحاد پارٹی اور کانگریس نے سندھ بھر میں کسان کانفرنسیں اور جلسے منعقد کیے۔ بالاخر سنہ 1937 میں غلام حسین کی حکومت کو مشکلات پیش آئیں اور انھیں اللہ بخش سومرو، ایوب کھوڑو اور نیچلداس کو حکومت شامل کرنے کی تجویز دی گئی، لیکن اس پر عمل نہیں ہوسکا۔

تاہم مارچ 1938 میں حکومت کو بجٹ سیشن میں ناکامی کا منھ دیکھنا پڑا، جس کے بعد اللہ بخش کانگریس اور دیگر آزاد اراکین کی مدد سے سندھ کے وزیرِ اعلیٰ بننے میں کامیاب ہو گئے۔

اس دوران اللہ بخش کانگریس کے قریب ہو چکے تھے اور وزارتِ اعلیٰ کے حصول کے بعد انھوں نے کانگریس کے وزرا کی طرح کم تنخواہ لینے کا اعلان کیا، اعزازی مجسٹریٹ کے اختیارات ختم کر دیے اور اساتذہ کی تنخواہوں میں پانچ روپے کا اضافہ کر دیا۔

کے آر ملکانی ’سٹوری آف انڈس‘ میں لکھتے ہیں کہ ’انھوں نے وڈیروں سے مجسٹریٹ کے اختیارات واپس لے لیے، بلدیاتی اداروں میں نامزدگیاں ختم کروائیں، کانگریس کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے وزرا کی تنخواہ کم کر کے 500 روپے مقرر کی۔‘

’سادہ مزاج اللہ بخش ڈرائیور کے ساتھ والی نشست پر بیٹھتے تھے، گاڑی پر کبھی سرکاری جھنڈا استعمال نہیں کرتے تھے اور نہ ہی کسی استقبالیے یا دعوت کو قبول کرتے تھے۔ ٹرین میں وہ اوپری برتھ استعمال کرتے تاکہ دوسرے لوگ زیادہ آرام دہ نچلی برتھ استعمال کر سکیں۔‘

اللہ بخش سومرو

،تصویر کا ذریعہMehboob Soomro

مسلم لیگ میں شمولیت سے انکار

’انڈیا چھوڑ جاؤ تحریک‘ کی مقبولیت کے بعد انگریز حکومت نے سکھر بیراج پر آنے والے اخراجات کی جلد وصولی کے لیے سندھ میں لگان میں اضافے کا فیصلہ کیا، جس بعد اللہ بخش حکومت نے سندھ اسمبلی میں 1938 میں لگان بڑھانے کا بل پیش کیا۔

جی ایم سید اس بِل کے مخالف تھے اور اسی سبب ان کے اور اللہ بخش کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے۔

جی ایم سید لکھتے ہیں کہ اللہ بخش کی حکومت نے ان کی مدد کرنے والی تینوں جماعتوں سے مشورہ کیے بغیر لگان بڑھا دیا۔

اس دوران اللہ بخش کی اتحاد پارٹی کے رہنما عبداللہ ہارون مسلم لیگ میں شامل ہوگئے اور 8 اکتوبر کو 1938 میں کراچی میں ان کے گھر پر مسلم لیگ کانفرنس منعقد کی گئی، جس میں بنگال اور پنجاب کے ’پریمیئرز‘ نے بھی شرکت کی۔

اللہ بخش سومرو کو تجویز پیش کی گئی کہ وہ مسلم لیگ سے الحاق کرلیں۔

جی ایم سید اپنی یادداشتوں پر مبنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ’اللہ بخش کو بتایا گیا کہ لیڈر کا انتخاب کیا جائےگا جس پر اللہ بخش اور ان کے ساتھیوں نے اعتراض کیا کہ پنجاب اور بنگال میں جب ’پریمیئرز‘ کے منصب برقرار رکھے گئے ہیں تو سندھ میں جداگانہ رویہ کیوں اختیار کیاجارہا ہے۔‘

اللہ بخش سومرو کے بھتیجے اور قومی اسمبلی کے سابق سپیکر الہی بخش سومرو نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’جسٹس طیب کے ذریعے ان کے چچا اللہ بخش کی جناح سے دو ملاقاتیں ہوئیں مگر دونوں کے درمیان مسلم لیگ کے دو قومی نظریے پر اتفاق نہ ہوسکا۔ چچا کا مؤقف تھا کہ یہ نظریہ سندھ کے لیے خطرناک ہے، اس کے بعد مسلم لیگ کے رہنماؤں کو ان کے خلاف اسمبلی کے اندر اور باہر سرگرم کردیا گیا۔‘

دولت ہارون ہدایت اللہ اپنی کتاب ’حاجی سر عبداللہ ہارون‘ میں موجود عبداللہ ہارون کے جناح کو لکھے گئے ایک خط، جس میں عبد اللہ ہارون اور اللہ بخش سومرہ کی ملاقات کا ذکر تھا کا، حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’اللہ بخش سومرو نے بتایا کہ انھیں خود وزیرِاعظم بننا چاہیے کیونکہ خان بہادر کھوڑو، جی ایم سید اور میر بندہ علی نے مشترکہ اور انفرادی طور پر ان سے وعدہ کیا تھا کہ انہیں 15 فروری تک پریمیئر بنا دیا جائے گا۔‘

عبداللہ ہارون کے مطابق انھوں نے اللہ بخش سومرو سے کہا کہ مسلم لیگ کا مؤقف ہے کہ تمام مسلم وزرا کو مسلم لیگ کا وزیر ہونا چاہیے اور ’قائدِ اعظم حیران ہیں کہ خان بہادر اللہ بخش خود مسلم لیگ کے پریمیئر کیوں نہیں بن جاتے‘ کیونکہ اس صورت میں وہ اپنے تمام حامیوں کو بھی مسلم لیگ پارٹی میں شامل ہونے کی اجازت دے دیں گے۔

بقول جی ایم سید کے جناح سندھ کی وزارتِ اعلیٰ کو مسلم لیگ کے ماتحت لانے کے لیے لیڈر کا انتخاب ضروری سمجھ رہے تھے۔ اسے غلام حسین ہدایت اللہ نے اقتدار حاصل کرنے کا موقع سمجھا، تاہم اللہ بخش نے بات کو قبول کرنے سے انکار کیا۔

جی ایم سید کے مطابق جناح کی موجودگی میں مسلم لیگ پارٹی بنائی گئی اور انھیں (جی ایم سید ) کو حکم دیا گیا کہ وہ اللہ بخش کے خلاف عدم اعتماد کی قرار داد اسمبلی میں لائیں، لیکن اللہ بخش نے اس دوران مسلم لیگ میں شامل ہونے والے اراکین کواپنی طرف موڑ لیا اور یوں قرار داد ناکام ہوگئی۔

سکھر فسادات

سکھر میں دریائے سندھ کے کنارے ایک قدیم عمارت واقع تھی، جس کے بارے میں مسلمانوں کا دعویٰ تھا کہ یہ مسجد تھی، ہندو کہتے تھے کہ کیونکہ اس کے سامنے ساھو بیلا مندر واقع ہے۔اسی دوران سکھوں کا بھی دعویٰ سامنے آیا کہ یہ ان کی ملکیت ہے۔ فریقین میں اس عمارت کے حقِ ملکیت کو لے کر بڑے عرصے سے اختلافات پائے جاتے تھے اور پھر اچانک صورتحال کشیدہ ہو گئی۔

تاریخ نویس ڈاکٹر مبارک علی ’سندھ: خاموشی کی آواز‘ میں لکھتے ہیں کہ ’اس بات کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ سندھ میں مسلم لیگ اپنے ابتدائی دور میں مقبول نہیں تھی اور 1938 کے الیکشن میں اس نے صرف چار فیصد ووٹ کیے تھے اور اس کا اسمبلی میں صرف ایک ہی رُکن منتخب ہوا تھا، وہ بھی تھوڑے ہی دنوں میں مسلم لیگ کو چھوڑ گیا تھا۔‘

’جبکہ اس کے مقابلے میں کانگریس نے آٹھ نشستیں جیتی تھیں۔ سندھ اتحاد پارٹی 18 نشستیں جیت کر کامیاب جماعت کے طور پر ابھری تھی اور اس نے ہندو اراکین کے ساتھ مل کر حکومت بنائی تھی۔ بعد میں مسلم لیگ نے اپنا گروپ بنایا، جس میں ہدایت اللہ اور بندہ علی تالپر شامل تھے لیکن یہ سیاسی طور پر اس قدر کمزور تھے کہ یہ سندھ کی حکومت جو اللہ بخش سومرو کی سربراہی میں قائم ہوئی تھی اسے ختم نہیں کر سکے۔‘

ڈاکٹر مبارک علی مزید لکھتے ہیں کہ ’مسلم لیگ کے رہنماؤں نے یہ منصوبہ بنایا کہ سندھ میں ایسی صورت حال پیدا کی جائے جس کی وجہ سے مسلمان عوام سڑکوں پر آجائیں اور پھر ان کے دباؤ سے مسلمان رہنماؤں کو اپنے ساتھ ملایا جائے اور جو کچھ انھوں نے انتخابات میں ہارا ہے، اس طرح سے اس کا مداوا کیا جائے۔‘

’اس مرحلے پر اہم سوال یہ تھا کہ کون سے طریقے اختیار کیے جائیں، جن کے ذریعے مسلمان عوام کو باہر لایا جائے؟ ایسا تب ہی ممکن تھا کہ جب ان کے جذبات کو ابھارا جاتا، چنانچہ اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے مسلم لیگ کے رہنما، جن میں عبداللہ ہارون، جی ایم سید اور ایوب کھوڑو شامل تھے، نے یہ منصوبہ بنایا کہ سکھر کی مسجد منزل گاہ کے مسئلہ کو اٹھا کر فسادات کروائے جائیں۔‘

ان کے مطابق اس مسئلہ کو سنگین بنانے کی غرض سے مسلم لیگ کی کمیٹی نے 18 اگست 1938 کو یومِ منزل گاہ منانے کا اعلان کر دیا اور ساتھ ہی یہ مطالبہ بھی کیا کہ اللہ بخش اور ان کی کابینہ استعفیٰ دے۔

’سندھ کے علما نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پرزور تقریریں کیں، بیانات دیے اور عہد کیا کہ وہ ہندوؤں کے خلاف جہاد کریں گے۔ جی ایم سید نے بھی اس میں حصہ لیا اور تمام مسلمان وزیروں کے گھروں کے باہر بھوک ہڑتال کروانے کے انتظامات کروائے اور ان پر دباؤ ڈالا کہ وہ کابینہ سے استعفیٰ دے دیں۔‘

ڈاکٹر مبارک علی کے مؤقف کے برعکس ابتدائی دنوں میں جی ایم سید کا کردار محدود نظر آتا ہے۔

حمیدہ کھوڑو کی کتاب ’محمد ایوب کھوڑو کی جرتمندانہ سیاسی زندگی‘ میں موجود ایوب کھوڑو کے جی ایم سید کو لکھے گئے ایک خط کے مطابق کھوڑو ان سے شکوہ کرتے ہیں کہ یہ بات قابل حیرت ہے کہ آپ نے مسجد منزل گاہ کی مہم میں کوئی سرگرم کردار ادا نہیں کیا۔

خط میں درخواست کی گئی کہ ’بحالی کمیٹی کی سکھر یا کراچی میں میٹنگ طلب کر رہے ہیں، اس دن کوئی مصروفیت نہ رکھیے گا۔‘

اللہ بخش سومرو

،تصویر کا ذریعہMehboob Soomro

ڈاکٹر مبارک علی لکھتے ہیں کہ ۱۹ نومبر کو منزل گاہ مسجد کے پاس خونریز فسادات ہوئے۔ پولیس نے لوگوں کے مجمع کو ختم کر کے جی ایم سید کو گرفتار کر لیا۔ کیونکہ ان کی اطلاع کے مطابق مسجد کے قریب فسادات کو بھڑکانے اور ہندوؤں مسلمانوں کے مارے جانے میں اس کا ہاتھ تھا۔ ان فسادات کے نتیجہ میں سکھر میں ۱۲ مسلمان اور ۳۳ ہندو مارے گئے۔ جب کہ پوری ڈسٹرکٹ میں مرنے والوں کی تعداد ۱۴۷ تھی جن میں ۲ مسلمان تھے جب کہ ۱۴۵ ہندو تھے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جھگڑے کے بعد صوبہ میں مسلم لیگ ایک مقبول سیاسی جماعت کی حیثیت سے ابھری۔ اللہ بخش سومرو اور ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا اور ہندو، بحیثیت اقلیت کے جو تھوڑی بہت سیاسی طاقت رکھتے تھے وہ ختم ہو گئی۔ اس طرح یہ فساد جاگیردار طبقہ کے لئے ایک فتح تھا کہ جنہوں نے اپنے مقاصد کے لئے مذہب کو استعمال کیا اور اس کے ذریعہ اپنے منصوبے پورے کئے۔

ڈاکٹر مبارک علی لکھتے ہیں کہ منزل گاہ مسجد کے ان فسادات کا سندھ کی تاریخ پر اہم اثرات ہوئے کیونکہ اس کے بعد ہی سے سندھ میں مسلم لیگ طاقت ور سیاسی جماعت بن گئی اور اس نے ۱۹۴۰ء میں لاہور ریزولوشن کی حمایت کی۔ اور ۱۹۴۳ء میں سندھ کی قانون ساز اسمبلی نے قراردادِ پاکستان کی حمایت کر کے تحریکِ پاکستان کو تقویت دی۔

جی ایم سید اپنی یاداشتوں کی کتاب جنم گذارا جن کے ساتھ میں لکھتے ہیں کہ سندھ میں ہندو مسلم فسادات پیدا ہوگئے ہندو کو غیر سلامتی والی صورتحال کا سامنا ہوگیا لہذا کانگریس کے اراکین نے عارضی فائدے کے لیے مسلم لیگ سے مل کر اللہ بخش کی وزارت کو شکست دیکر مسلم لیگ کو حکومت میں لے آئی۔

حمیدہ کھوڑو اپنے والد پر لکھی گئی کتاب ایوب کھوڑو جرتمندانہ کردار میں لکھتی ہیں کہ منزل گاہ کی کامیابی کے بعد ہندو کمیونٹی سومرو سے مایوس اور انہیں اس کا ذمہ دار سمجھنے لگی کیونکہ اس وجہ سے انہیں کافی جانی اور مالی نقصان پہنچا تھا ہندو اب ایسی حکومت چاہتے تھے جو انہیں تحفظ دے سکے اس لیے ان کا ذہن مسلم لیگ کی طرف ہوگیا۔

ڈاکٹر مبارک علی لکھتے ہیں کہ 19 نومبر کو منزل گاہ مسجد کے پاس خونریز فسادات ہوئے۔ پولیس نے لوگوں کے مجمع کو ختم کر کے جی ایم سید کو گرفتار کر لیا، کیونکہ ان کی اطلاع کے مطابق مسجد کے قریب فسادات کو بھڑکانے اور ہندوؤں، مسلمانوں کے مارے جانے میں ان کا ہاتھ تھا۔

’ان فسادات کے نتیجے میں سکھر میں 12 مسلمان اور 33 ہندو مارے گئے، جبکہ پورے ضلع میں مرنے والوں کی تعداد 147 تھی جن میں دو مسلمان تھے اور 145 ہندو تھے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جھگڑے کے بعد صوبے میں مسلم لیگ ایک مقبول سیاسی جماعت کی حیثیت سے ابھری، اللہ بخش سومرو اور ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا اور ہندو جو بحیثیت اقلیت تھوڑی بہت سیاسی طاقت رکھتے تھے وہ بھی ختم ہوگئی۔‘

’اس طرح یہ فساد جاگیردار طبقہ کے لئے ایک فتح تھا، جنھوں نے اپنے مقاصد کے لئے مذہب کو استعمال کیا اور اس کے ذریعہ اپنے منصوبے پورے کیے۔‘

ڈاکٹر مبارک علی لکھتے ہیں کہ منزل گاہ مسجد کے ان فسادات کا سندھ کی تاریخ پر بڑا اثر پڑا کیونکہ اس کے بعد ہی سے سندھ میں مسلم لیگ طاقتور سیاسی جماعت بن گئی اور اس نے 1940 میں قراردادِ لاہور کی حمایت کی۔ پھر سنہ 1933 میں سندھ کی قانون ساز اسمبلی نے قراردادِ پاکستان کی حمایت کر کے تحریکِ پاکستان کو تقویت دی۔

جی ایم سید اپنی یاداشتوں کی کتاب ’جنم گزارا جن کے ساتھ‘ میں لکھتے ہیں کہ ’سندھ میں ہندو مسلم فسادات پیدا ہوگئے۔ ہندوؤں کو غیر یقینی کی صورتحال کا سامنا تھا، لہذا کانگریس کے اراکین نے عارضی فائدے کے لیے مسلم لیگ سے مل کر اللہ بخش کی حکومت کو شکست دی اور مسلم لیگ کو حکومت میں لے آئے۔‘

حمیدہ کھوڑو اپنے والد پر لکھی گئی کتاب میں لکھتی ہیں کہ ’منزل گاہ فسادات کے بعد ہندو کمیونٹی سومرو سے مایوس اور انھیں اس کا ذمہ دار سمجھنے لگی تھی کیونکہ اس وجہ سے انھیں کافی جانی اور مالی نقصان پہنچا تھا۔ ہندو اب ایسی حکومت چاہتے تھے جو انھیں تحفظ دے سکے، اس لیے ان کا ذہن مسلم لیگ کی طرف ہوگیا۔‘

اللہ بخش سومرو

،تصویر کا ذریعہMehboob Soomro

دو قومی نظریے کی مخالفت

اپنی کتاب ’مسلم قوم پرست یا قوم پرست مسلمان‘ میں اللہ بخش سومرو پر لکھے گئے ایک باب میں سارہ انصاری لکھتی ہیں کہ ’اپنے بہت سے ہم عصر سندھی مسلم سیاست دانوں کے برعکس، جو آل انڈیا مسلم لیگ کی طرف مائل ہو گئے تھے، سومرو اس جماعت کے اثر کے خلاف مزاحمت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ ایک عملی قوم پرستی کی جانب جھکاؤ رکھتے تھے، جس کے باعث انھوں نے آل انڈیا سطح پر ’قوم پرست‘ مسلم اقدامات کے ساتھ خود کو وابستہ کیا۔‘

وہ لکھتی ہیں کہ سندھ اسمبلی میں حکومت کی شکست کے فوراً بعد وہ رام گڑھ میں ہونے والے کانگریس اجلاس میں شرکت کے لیے گئے، جہاں راستے میں لاہور اسٹیشن پر انھیں سیاہ جھنڈوں کا سامنا کرنا پڑا اور پھر سندھ واپسی کے دوران ان پر مبینہ قاتلانہ حملے کی کوشش بھی ہوئی۔

بعد ازاں اپریل کے آخر میں انہوں نے دہلی کا ایک اور دورہ کیا، جہاں انھوں نے آل انڈیا آزاد (یا آزاد خیال) مسلم کانفرنس سے صدارتی خطاب کیا، ایک ایسا اجتماع جس کے انعقاد میں انھوں نے خود بھی مدد کی تھی۔

یہ سب اُس وقت ہوا جب مسلم لیگ کی جانب سے لاہور میں پیش کی گئی قراردادِ پاکستان کو منظور ہوئے صرف ایک ماہ ہی گزرا تھا۔

اقتدار میں واپسی اور انگریز سرکار سے ٹکراؤ

نومبر 1940 میں آل انڈیا کانگریس کے صدر مولانا آزاد کے کراچی کے دورے کے موقع پر سومرو نے ایک بیان جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ صوبے کے مسائل کا واحد حل ’سندھ اسمبلی میں کانگریس اور قوم پرست مسلمانوں کا اتحاد‘ ہے۔

سنہ 1940 کے آخری مہینوں میں سندھ اسمبلی کے ارکان میں مسلم لیگ کے حق اور مخالفت میں کافی سیاسی جوڑ توڑ جاری رہی، جبکہ ہندو آزاد اراکین بھی اس بارے میں غیر یقینی کا شکار دکھائی دیتے تھے کہ آیا وہ سومرو کی دوبارہ اقتدار میں واپسی کا خیر مقدم کریں گے یا نہیں۔

کے آر ملکانی اپنی کتاب ’سٹوری آف سندھ‘ میں لکھتے ہیں کہ ’اللہ بخش سومرو کی حکومت کی برطرفی میں کانگریس کا شامل ہونا دراصل سندھ کے کانگریسی رہنماؤں کی طرف سے مسلم لیگ کو ایک بڑا تحفہ تھا۔ یہ ایک افسوسناک صورتحال تھی، جس میں کانگریس کو اللہ بخش کی مشکل کو سمجھنا چاہیے تھا، یہاں ایک ایسا شخص تھا جس نے 1940 میں دہلی میں آل انڈیا آزاد کانفرنس کی صدارت کی تھی اور کہا تھاکہ ’ہندوستان میں مسلمانوں کو مذہب کی بنیاد پر ایک الگ قوم قرار دینا غیر اسلامی ہے‘ اور کانگریس کو یہ بھی سمجھنا چاہیے تھا کہ وہ منزل گاہ کے معاملے پر کیوں تذبذب کا شکار ہوئے۔‘

کانگریس کے اراکین تنقید کے بعد دوبارہ اللہ بخش سومرو کی حمایت پر راضی ہوگئے۔

جی ایم سید، جو اللہ بخش کی پہلی حکومت کی معطلی کے بعد وزیر بنے تھے، لکھتے ہیں کہ ’وہ جانتے تھے کہ کانگریس اور ہندو اراکین کے درمیان یہ عارضی سمجھوتا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ہی غلام حسین کی حکومت کو گراکر دوبارہ اللہ بخش کو لایا جائے گا۔‘

ایک طرف کانگریس تھی جو ہندوستان خالی کرو تحریک شروع کرچکی تھی، تو دوسری جانب مسلم لیگ پاکستان کے قیام کی کوشش کر رہی تھی۔ انگریزوں نے کانگریس پر سختی کی، ہزاروں لوگ جیلوں میں گئے اور کانگریس کے اراکین وزارتوں سے مستعفی ہوگئے۔

جی ایم سید لکھتے ہیں کہ ’اللہ بخش کی حکومت کانگریس کی حمایت یافتہ ہونے کے باوجود اقتدار میں رہی تھی۔ اب انھیں فیصلہ کرنا تھا کہ مسلم لیگ میں شامل ہوکر حکومت بچائیں اور انگریز سرکار کی پالیسی کے مطابق قومی آزادی کی جنگ لڑنے والوں پرسختیاں کریں یا وزارت چھوڑ کر باہر نکل آئیں۔‘

کانگریسی اراکین اور رہنماؤں کی گرفتاری کے بعد اللہ بخش سومرو نے ’خان بہادر، آرڈر آف دے برٹش ایمپائر‘ سمیت اپنے دیگر لقبات واپس کردیے اور نیشنل ڈیفنس کونسل سے مستعفی ہوگئے۔

انھوں نے وائسرائے کو خط لکھ کر کہا کہ انڈین آزادی کے لیے کافی وقت سے جدوجہد کر رہے ہیں۔ دوسری عالمی جنگ شروع ہونے کے بعد امید تھی کہ آزادی ملے گی، یہ ان کا ایمان ہے کہ انڈین آزادی حاصل کرنے کا حق رکھتے ہیں اور برطانوی سرکار کے بیانات وعمل سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ وہ انڈیا کی جماعتوں کی راہ میں رکاوٹیں ڈال رہی ہے۔

انھوں نے مزید لکھا کہ برطانوی وزیر اعظم چرچل کے ہاؤس آف کامنز سے خطاب سے ایسا ہی لگتا ہے کہ انگریز آزادی دینے کا ارادہ نہیں رکھتے۔

اس خط کے بعد گورنر نے ناراض ہوکر اللہ بخش سومرو کی حکومت کو ختم کردیا اور ان کی جگہ سر غلام حسین کو دوبارہ حکومت بنانے کو کہا گیا۔

اللہ بخش سومرو کی بیٹی قدسیہ سومرو کہتی ہیں کہ ان کے والد بٹوارے کے مخالف تھے۔ وہ کہتے تھے کہ بٹوارے سے خواتین کی عزتیں جائیں گی، دنگے ہوں گے اور بعد میں ان کا یہ خدشہ درست ثابت ہوا۔

اللہ بخش سومرو

،تصویر کا ذریعہMehboob Soomro

خان بہادر کو گولی لگ گئی

حکومت کی برطرفی کے بعد اللہ بخش سومرو شکارپور چلے گئے، جہاں وہ سماجی کاموں میں مصروف ہوگئے۔ جی ایم سید لکھتے ہیں کہ ان دنوں سیلاب آیا تو انھوں نے آبادی بچانے کے لیے پانی کا رخ اپنی زمینوں کی طرف کردیا تھا۔

14 مئی 1943 کی صبح انھیں شکارپور میں قتل کیا گیا۔

ان کی بیٹی قدسیہ، جو اس وقت 92 برس کی ہیں، کہتی ہیں کہ والد کے بارے میں ان کی یادداشت آج بھی کمپیوٹر میموری کی طرح ہے۔

وہ بتاتی ہیں کہ ’انھوں (اللہ بخش سومرو) نے فجر کی اذان دی، انھیں (بیٹی) اٹھایا کہ نماز پڑھو۔ گرمی کے دن تھے، ان دنوں وہ چھت پر سویا کرتے تھے۔ والد صبح کو جؤ کا پانی پیتے تھے۔‘

قدسیہ کے مطابق اللہ بخش سومرو نے اپنی اہلیہ کو جؤ کا پانی بنانے کے لیے کہا اور بولا کہ وہ پندرہ منٹ میں آجائیں گے۔ وہ بتاتی ہیں کہ اسی دوران ایک ہاکر آیا، انگریزی اخبار چھوڑ گیا، جو انھوں نے اٹھایا اور باہر چلے گئے۔

’شہر سے باہر کوئی جادوگر یا جعلی پیر تھا، اس کی شکایت ملی تھی کہ وہ لوگوں کے گھر خراب کر رہا ہے۔ والد اس سے ملنے تانگے میں دو دوستوں کے ہمراہ روانہ ہوگئے۔‘

اپنی کتاب ’اللہ بخش محب وطن زندگی‘ میں محبوب علی سومرو لکھتے ہیں کہ ’جعلی پیر تو پہلے ہی نکل گیا تھا لیکن اس دوران قاتل شکارپور میں موجود تھے اور اللہ بخش کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ انھیں معلوم ہوگیا تھا کہ اللہ بخش صبح کے وقت محلے کی مسجد میں نماز ادا کرتے ہیں، چناچہ وہ مسجد میں آکر ٹھہرگئے اور جب اللہ بخش نماز ادا کرکے چلے گئے تو وہ سو رہے تھے۔ جاگنے کے بعد قاتل ان کے گھر پہنچے جہاں انھیں معلوم ہوا کہ وہ ایک جعلی پیر کے پاس تانگے میں گئے ہیں اور اسی راستے پر روانہ ہوئے۔‘

مصنف کے مطابق ’ملزمان نے راستے میں تانگہ دیکھا، جس میں ایک شخص اخبار پڑھ رہا تھا۔ انھوں نے تانگہ روک کر پوچھا کہ اللہ بخش موجود ہیں؟ اس پر اللہ بخش نے چہرہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہاں میں ہوں، یہ سنتے ہی حملہ آوروں نے اسلحہ نکالا اور کئی گولیاں چلا دیں۔‘

ان پر حملے کی خبر میں روزنامہ قربانی اپنے خبر میں لکھا تھا کہ ’صبح ساڑھے آٹھ بجے فخر سندھ مسٹر اللہ بخش تانگے میں سوار ہوکر بیگاری نہر کی طرف وڈیرے نبی بخش اور غلام رسول جھلن کے ہمراہ جارہے تھے، جیسے ہی تانگہ نیو فوجداری سے آگے بڑھا سائیڈ میں چھپے ہوئے پانچ بد معاشوں نے ریوالوروں سے ان پر خونی حملہ کیا، اللہ بخش سومرو کو تین گولیاں لگیں، ان میں سے ایک ان کی ایک چھاتی پر بھی لگی۔ اس کے بعد ملزمان فرار ہوگئے۔‘

اللہ بخش کی بیٹی قدسیہ بتاتی ہیں کہ ان کا ایک رشتہ دار چیختا چلاتا ہوا آیا کہ ’خان بہادر صاحب کو گولی لگی ہے۔‘

قدسیہ بتاتی ہیں کہ ان کی والدہ پریشان ہوگئیں، بچے چھوٹے تھے اور دونوں بھائی گھر پر موجود نہیں تھے۔

’والد کو ہسپتال لے گئے، ڈاکٹروں نے کہا کہ ان کا پوسٹ مارٹم کریں گے۔ وہاں لوگوں کی بڑی تعداد پہنچ گئی اور مطالبہ کیا کہ لاش ان کے حوالے کریں۔ لوگ شیشے، کھڑکیاں توڑ کے اندر داخل ہوگئے۔‘

لاش جب گھر آئی تو اس پر کُرتا نہیں تھا، صرف پاجامہ تھا۔ انھیں غسل یا کفن نہیں دیا گیا، کہا گیا کہ یہ شہید ہے اس کو اسی حالت میں دفنایا جائے گا، صرف اوپر سفید کپڑے لپیٹ کر تدفین کی گئی۔‘

دیگر اراکینِ سندھ اسمبلی پر حملے

اللہ بخش سومرو سندھ کے تیسرے رکن اسمبلی تھے، جنھیں گولی مار کر قتل کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے ایچ ایس پامنانی اور سیٹھ سیتل داس قتل کیے جا چکے تھے۔

اللہ بخش سومرو کی بیٹی قدسیہ بتاتی ہیں کہ ’ایک بار وہ انڈیا سے شکارپور آرہے تھے اور ٹرین کے ڈبے میں ان کے والد اور والدہ نچلی نشستوں پر بیٹھے تھے جبکہ اوپر والی نشستوں پر انگریز مسافر موجود تھے۔ جب ٹرین لکھنؤ اسٹیشن پر پہنچی تو دو گولیاں چلیں، خوش قسمتی سے گولیاں ایک کھڑکی سے داخل ہوکر دوسری سے باہر نکل گئیں۔‘

دوسری بار وہ کراچی سے بذریعہ ٹرین جارہے تھے کہ انہیں دوست نے زبردستی حیدرآباد میں اتار لیا۔ ٹنڈو آدم میں اس ٹرین پر پیر پگارہ کے حروں نے حملہ کیا، جس میں سابق وزیر اعلیٰ غلام حسین ہدایت اللہ کے بیٹے سمیت 35 افراد ہلاک ہوئے۔

حمیدہ کھوڑو لکھتی ہیں کہ ’رکن اسمبلی نیچلداس نے واش روم میں چھپ کر اپنی جان بچائی تھی۔‘

اللہ بخش سومرو

،تصویر کا ذریعہMehboob Soomro

حروں کی گرفتاریاں

سندھ حکومت نے اللہ بخش سومرو کے قتل کے ملزمان کی گرفتاری کے لیے معلومات فراہم کرنے پر دس ہزار روپے انعام رکھا، محقق قاضی آصف کی انگریز حکمرانوں کی خفیہ خط و کتابت پر مشتمل کتاب ’سندھ کے پاکستان کے قیام سے پہلے کے دس سال‘ میں موجود گورنر ایچ ڈاؤ کے لیٹر میں وہ لکھتے ہیں کہ انھوں نے اللہ بخش کے بیٹے رحیم بخش سے ملاقات کی تاکہ وہ اس بارے میں معلومات لیں لیکن انہوں نے صرف یہ کہا کہ یہ یا تو سیاسی دشمنی کا نتیجہ تھا یا حروں کا کام، کیونکہ ان کے والد کی کوئی ذاتی دشمنی نہیں تھی۔

مسلم لیگ کی سرگرم رہنما پیر علی محمد شاہ راشدی اپنی یادداشتوں کی کتاب ’وہ دن وہ شیر‘ میں لکھتے ہیں کہ شکارپور کی شمع نے بجھنے سے قبل بھڑکا کھایا جس کا نام اللہ بخش تھا، ان کو حروں کے ٹولے نے شہید کیا کیونکہ حروں کو شکایت تھی کہ ان کے زمانے میں مارشل لا کا نفاذ ہوا، مارچ 1943 میں خود پیر پگارا (پیر صبغت اللہ) کو پھانسی دی گئی۔

پولیس نے اس مقدمے میں آٹھ ملزمان کو گرفتار کیا جن میں قاسم محمد بخش، کمال، ولی محمد، اللہ بخش نوناری، عبدالحق بھیو، قدیر بھادر قصائی اور ابراہیم موٹیو قصائی شامل تھے، ان کے خلاف حر ٹربیونل میں مقدمہ چلایا گیا جہاں تین کو سزائے موت سنائی گئی، چار کو عمر قید اور ایک سرکاری گواہ بن گیا۔

’اللہ بخش کے خون کا بندوبست کرنا ہے‘

اللہ بخش سومرو کے قتل کیس کا دوسرا رخ سیاسی تھا۔

پولیس نے تقریباً دو سال کے بعد ایوب کھوڑو کے منشی دریش کو گرفتار کیا۔ گورنر ایس ڈی ایچ ڈاؤ نے وائسرائے لارڈ ویول کو نومبر 1943 میں لکھے گئے لیٹر میں کہا کہ ایک ملزم نے سنسنی خیز انکشاف کیا ہے جس میں ایوب کھوڑو کو منصوبہ بندی میں شریک قرار دیا ہے، بعد میں لارڈ لنگٹن کو لکھے گئے ایک دوسرے خط میں ڈاؤ لکھتا ہے کہ گرفتار شخص کو کراچی میں مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں اس نے اپنا بیان دہرایا کہ خان بہادر کھوڑو اس میں شامل ہیں۔

محبوب سومرو کی مرتب کردہ کتاب ’شہید اللہ بخش سومرو، جدید سندھ کے رہنما‘ میں موجود دریش کے بیان میں وہ کہتا ہے کہ وہ ایوب کھوڑو کی کٹی میں رہتا ہے، تقریباً ڈھائی سال قبل وہاں موجود تھا تو ایوب کھوڑو اور ان کے بھائی محمد نواز کھوڑو نے وہاں موجود دیگر لوگوں کو نکال دیا اور اسے کہا کہ ایک بڑا کام کرنا ہے۔ ’اللہ بخش جو پہلے وزیر اعلیٰ تھا، اس کے خون کا بندوبست کرنا ہے۔‘

ایوب کھوڑو نے کہا کہ ’میں نے اپنے بھائی کو بات سمجھا دی ہے، وہ تمہیں سمجھا دیں گے۔‘

دریش کے مطابق نواز کھوڑو نے 12 ہزار روپے دینے کا دعویٰ کیا، انہوں نے ولو سے ملنے کے لیے کہا۔ ولو سے ملا، اسے بتایا کہ وڈیرے نے یہ کام کہا ہے۔ اس کے بعد ولی محمد جس کے پاس حر فقیر آتے جاتے تھے، انہیں لینے گیا، دس روز کے بعد وہ اسے اپنے گھر لے گیا جہاں وہ موجود تھے۔ ان کے پاس بندوقیں اور پستول موجود تھے۔ ایک سفید داڑھی والے نے کہا کہ ڈرو نہیں میں محبت ہوں، دوسرے نے کہا کہ خان بہادر کا دوست ہوں۔ اس نے پوچھا کہ انعام کتنا ملے گا تو میں نے کہا کہ 12 ہزار، وہ بھی دو تین ماہ کے بعد۔ اس کے بعد ان سب نے اللہ بخش کا خون کیا اور انعام کے لیے نواز کھوڑو کے پاس گئے، اس نے کہا کہ خان بہادر ایوب کا کام ہے وہ آ کر دے گا۔ وہ جب آیا تو اس نے کہا کہ بات کھل گئی، خاموش رہو اور روپوش ہو جاؤ۔

پولیس نے اس بیان کے بعد صوبائی وزیر ایوب کھوڑو اور ان کے بھائی محمد نواز کو بھی گرفتار کر لیا جس کے بعد اس نے سیاسی شکل اختیار کر لی۔ حمیدہ کھوڑو نے اپنی کتاب ’ایوب کھوڑو، جرأت مندانہ سیاسی زندگی‘ میں والد کا بھرپور دفاع کیا ہے اور اس کو سازش قرار دیا ہے جس میں جی ایم سید، ہاشم گذدر اور سر غلام حسین ہدایت کو شریک قرار دیا ہے۔

اللہ بخش

،تصویر کا ذریعہMehboob Soomro

قتل اور سازش

ان کے والد کی گرفتاری کے بعد جی ایم سید گواہی دینے پہنچے۔

وہ لکھتی ہیں کہ سید صاحب اپنی غلطی کا اعتراف کرنے اور معافی مانگنے آئے۔ انھوں نے اعتراف کیا کہ اس نے کابینہ سے ہٹانے کے لیے گذدر کے ساتھ مل کر سازش کی تھی، گذدر کو وزیر اعلیٰ بنانے کا وعدہ کیا تھا۔ ان کا ارادہ ’صرف کھوڑو کو حکومت سے نکالنا تھا، ان کی زندگی خطرے میں ڈالنا نہیں تھا۔‘

جی ایم سید نے عدالت میں بیان دیا کہ ’کھوڑو اور سومرو میں کوئی بھی سیاسی رقابت نہیں تھی۔ دونوں کے ہمیشہ خوشگوار ذاتی تعلقات تھے۔ سومرو کی برطرفی کے بعد ان کے وزیر اعلیٰ بننے کے امکانات نہایت ہی کم تھے اس لیے ان سے ذاتی دشمنی کا سوال ہی نہیں بنتا۔ دوسرا کھوڑو کو مسلم لیگ اور سومرو کو کانگریس کی حمایت حاصل تھی۔‘

اس مقدمے میں سر شاہنواز بھٹو اور اللہ بخش کے بھائی نے بھی بیانات دیے جن میں شاہنواز بھٹو کا کہنا تھا کہ لوکل بورڈ انتخابات سے لے کر اللہ بخش سومرو اور ایوب کھوڑو میں سیاسی رقابت تھی لیکن بعد میں انہوں نے دونوں کے سماجی تعلقات میں بہتری بھی دیکھی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں ایوب کھوڑو اور ان کے بھائی کو رہا کرنے کا حکم جاری کیا۔ جو بعد میں قیام پاکستان کے بعد تین بار سندھ کے وزیر اعلیٰ اور ایک بار وزیر دفاع بنے اور انھوں نے ون یونٹ کے قیام میں بھی ساتھ دیا۔

گورنر ڈاؤ عدالتی فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے لارڈ ویول کو بھیجے گئے مراسلے میں لکھتے ہیں کہ اس مہینے مقامی دلچسپی کا سب سے اہم واقعہ سکھر کے سیشن جج کی جانب سے سابق وزیر مال خان بہادر کھوڑو کی بریت ہے، جو مرحوم وزیر اعظم اللہ بخش کے قتل کے مقدمے میں زیر سماعت تھے۔ فیصلے میں واضح کیا گیا کہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کھوڑو بے گناہ تھے، لیکن انھیں شک کا فائدہ دینا ضروری تھا۔

فیصلے میں یہ ریمارکس بھی دیے گئے کہ ایک ایسے بااثر مجرم کے خلاف عوامی مقدمے میں سزا حاصل کرنا ناممکن کے قریب ہے، جو گواہوں کو دہشت زدہ کرنے پر آمادہ ہو۔

وہ تبصرہ کرتے ہیں کہ ’اس مشکوک بریت کے باوجود کھوڑو کا استقبال ایک مقبول اور جنگ سے فاتح واپس آنے والے جرنیل کی طرح کیا گیا۔ یوسف ہارون نے انھیں سونے کی اشرفیوں کا ہار پہنایا (اگرچہ بعد میں، میں نے سنا کہ وہ نقلی تھیں) اور کراچی میں میرے وزیر اعظم سمیت تمام مسلم وزرا نے ان کا استقبال کیا اور جلوس کی صورت میں انھیں شہر کی سڑکوں پر لے جایا گیا۔‘

اللہ بخش سومرو کی صاحبزادی کہتی ہیں کہ ان کے والد کے قتل میں ’حر شامل تھے۔ ایوب کھوڑو کی سازش تھی اور اس کے علاوہ کچھ تھا وہ لاعلم ہیں۔‘ تاہم ان کے خاندان نے ’کھوڑو خاندان سے سماجی روابط منقطع کر دیے تھے۔‘

اللہ بخش سومرو برصغیر کے ان چند مسلم رہنماؤں میں شامل تھے جنھوں نے مذہبی تقسیم کے بجائے متحدہ ہندوستان کی حمایت کی۔

وہ جاگیردار بھی تھے اور قوم پرست بھی۔ اقتدار میں بھی رہے اور اسٹیبلشمنٹ سے ٹکرائے بھی۔ ان پر تنقید بھی ہوئی اور آج بھی انھیں سندھ کا ’فخر‘ قرار دیا جاتا ہے۔