علی خامنہ ای کی وفات کے 132 روز بعد تدفین: تاخیر پر اٹھتے سوالات اور شرعی احکامات

تصویر

،تصویر کا ذریعہEPA

    • مصنف, مسعود آذر
    • عہدہ, بی بی سی فارسی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

جمعرات کی شام ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں حرم امام رضا میں کر دی گئی اور یوں سات روز پر محیط اُن کی اور اُن کے اہلخانہ کی آخری رسومات کا اختتام ہو گیا جن کا آغاز تین جولائی کو تہران سے ہوا تھا۔

علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے فضائی حملوں کے ابتدائی گھنٹوں میں ہی اُس وقت مارے گئے تھے جب اُن کی رہائش گاہ اور دفتر پر مشتمل کمپاؤنڈ کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

علی خامنہ ای کی ہلاکت کے 125 روز بعد، یعنی تین جولائی کی صبح، پہلی مرتبہ اُن کا اور اُن کے ساتھ مارے جانے والے اُن کے اہلخانہ کے تابوت تہران میں ’امام خمینی مصلٰی‘ میں منظر عام پر آئے تھے۔ اِن 125 روز کے دوران سابق رہبر اعلیٰ کی میت کہاں اور کیسے محفوظ رکھی گئی، اِس کے بارے میں ایرانی حکام نے کوئی خاص وضاحت تاحال پیش نہیں کی۔

امام خمینی مصلٰی میں سامنے آنے والے پانچ تابوت، جو ایرانی پرچم میں لپٹے ہوئے تھے، یہ معمول کے تابوتوں سے بلند تھے اور انھیں شیشے کے مخصوص سانچوں میں رکھا گیا تھا۔ سکیورٹی خدشات کے علاوہ، شیشے کے اِن سانچوں سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ ممکنہ طور پر اُن میں درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے والا نظام موجود تھا۔

تاحال ایرانی حکام کی جانب سے علی خامنہ ای کی موت کا سبب بننے والی جسمانی چوٹوں کے بارے میں کوئی تفصیلی معلومات سامنے نہیں آئی ہیں اور حکام نے صرف اتنا بتایا ہے کہ کمپاؤنڈ پر دھماکوں کی شدت انتہائی زیادہ تھی۔

اس ضمن میں ایران کے سابق رہبر اعلیٰ کی وفات کے اعلان اور تدفین میں تاخیر کے بعد سوشل میڈیا پر متعدد سوالات اٹھائے گئے ہیں جن کا تعلق تدفین میں تاخیر اور اس معاملے سے متعلق اسلامی اور فقہی احکامات سے تھا۔ شاید یہی وہ سوالات تھے جن کی بنیاد پر علی خامنہ ای کی آخری رسومات سے چند روز قبل ایرانی حکام نے بھی اس موضوع پر وضاحت پیش کی۔

آخری رسومات سے متعلق انتظامی کمیٹی کے ترجمان ایمان عطارزادہ نے کہا کہ ’میتوں کو مذہبی اور قانونی ضوابط کے مطابق انتہائی احترام اور احتیاط کے ساتھ محفوظ رکھا گیا۔ انھیں نہ کہیں دفن کیا گیا اور نہ ہی کسی مقام پر امانت کے طور پر رکھا گیا۔‘

علی خامنه‌ ای

،تصویر کا ذریعہISNA

،تصویر کا کیپشنشیشے کے سانچوں میں موجود تابوت سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ ممکنہ طور پر اُن میں درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے والا نظام موجود تھا

عطار زادہ نے اِن ’شرعی ضوابط‘ کی تفصیل بیان نہیں کی تاہم انھوں نے مسلمانوں میں رائج عارضی تدفین کے ایک طریقے ’ودیعه‘ کا ذکر کیا۔ سادہ الفاظ میں ’ودیعه‘ وہ ہوتی ہے جب کوئی شخص اپنی کوئی چیز حفاظت کی نیت سے کسی دوسرے کے سپرد کرتا ہے۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

گذشتہ دنوں میں سوشل میڈیا پر یہ بحث بھی جاری رہی کہ ایک مسلمان میت کے حوالے سے شرعی تقاضے کیا ہیں اور ایسے حالات میں فقہی احکامات کیا ہیں؟

اسلامی تعلیمات کے مطابق جیسے ہی کسی انسان کی روح جسم سے پرواز کرتی ہے، تو اُس کی میت کو احترام کا درجہ حاصل ہو جاتا ہے اور تدفین تک اس سے متعلق مخصوص رسوم اور روایات پر عمل کیا جاتا ہے۔ یہ روایات کبھی احادیث اور دینی روایات سے ماخوذ ہوتی ہیں اور کبھی سماجی و ثقافتی روایات سے۔

مذہب اسلام میت کے احترام اور اُس کی حرمت کے تحفظ کے معاملے میں خاص حساسیت رکھتا ہے۔ اِسی تناظر میں جلد تدفین کو بھی میت کے احترام کا حصہ قرار دیا جاتا ہے۔

مذہبی محقق حسن فرشتیان نے بی بی سی فارسی سے گفتگو میں کہا کہ ’شیعہ فقہ میں انسانی میت کو اتنا ہی محترم سمجھا جاتا ہے جتنا ایک زندہ انسان کو۔‘

حسن فرشتیان کے مطابق میت کے احترام کی کم از کم تین بنیادی وجوہات ہیں۔

پہلی یہ کہ عموماً ہر مارے جانے والے شخص کے اہلِخانہ اور عزیز و اقارب ہوتے ہیں اور لاش کی بے حرمتی اُن کے جذبات کو مجروح کرتی ہے۔ دوسری یہ کہ میتوں کا احترام معاشرتی اخلاقیات کا بھی حصہ ہے اور کسی بھی انسانی جسم کی بے توقیری اس اجتماعی معاشرتی قدر کو نقصان پہنچاتی ہے۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ کسی بھی مارے جانے والے سے وابستہ یادگاریں اور علامات، بشمول اُن کی میت، اُن کے پیچھے رہ جانے والے زندہ افراد کے نزدیک اہمیت اور احترام رکھتی ہیں۔

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انھوں نے مزید کہا کہ اسلامی فقہ میں لاش کے اعضا کو نقصان پہنچانے سے متعلق مخصوص احکامات موجود ہیں۔ جس طرح زندہ انسان کو نقصان پہنچانے کے دینی اور قانونی نتائج ہوتے ہیں، ویسے ہی میت کے اعضا کاٹنے یا اسے نقصان پہنچانے کے حوالے سے بھی ضوابط مقرر کیے گئے ہیں، جو مذہب اسلام میں موت کے بعد بھی انسان کی حرمت کو ظاہر کرتے ہیں۔

علی خامنہ ای کی تدفین میں تاخیر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے حسن فرشتیان کہتے ہیں کہ ’تدفین میں جلدی کرنا شریعت کی مؤکد سفارشات میں شامل ہے لیکن شیعہ فقہ میں یہ شرعی فریضہ یا واجب حکم نہیں۔‘

وہ وضاحت کرتے ہیں کہ شیعہ فقہ میں اگرچہ فوری تدفین مستحب ہے تاہم یہ لازمی حکم نہیں۔ اس کا ایک سبب مرنے والے کے وقار اور احترام کا تحفظ بھی ہے۔

اِس کے برعکس بعض سنی فقہا تدفین میں جلدی کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں اور اُن کے نزدیک اگر ممکن ہو تو میت کو اُسی دن (یعنی موت کے دن) دفن کر دینا چاہیے۔

حسن فرشتیان کے مطابق دینی متن میں بیان کردہ کئی سفارشات رہنمائی کے لیے ہوتی ہیں اور اُن کا مقصد سماجی و صحت عامہ کے تقاضوں کو بھی مدنظر رکھنا ہوتا ہے۔ ماضی میں جب لاشوں کو محفوظ رکھنے کی جدید سہولتیں، جو آج کے دور میں موجود ہیں، موجود نہیں تھیں، تو تدفین میں تاخیر زندہ لوگوں کے صحت کے مسائل پیدا کر سکتی تھی، اور اسی لیے جلد تدفین پر زور دیا گیا۔

حسن فرشتیان کے بقول جدید دور میں فرانزک تحقیقات، انتظامی کارروائیوں اور سوگ کی تقریبات کی منصوبہ بندی کے باعث وفات اور تدفین کے درمیان وقفہ عموماً ایک دن سے زیادہ ہو جاتا ہے۔

جب ماضی قریب میں ایرانی حکام کی جانب سے قم میں علی خامنہ ای کی ’ودیعہ تدفین‘ یا امانتاً دفن کیے جانے کی خبروں کی تردید کی گئی تو اس طریقۂ تدفین پر بھی سوالات اٹھے۔

حسن فرشتیان کے مطابق شیعہ روایت میں یہ تدفین بھی رائج ہے کہ جس میں میت کو عارضی طور پر ایک جگہ دفن کیا جاتا ہے تاکہ بعد میں اور مناسب وقت پر اسے مطلوبہ مقام پر منتقل کیا جا سکے۔

اُن کے مطابق ایران میں خصوصاً دورِ قاجار اور ابتدائی پہلوی دور تک کئی مذہبی خاندان اپنے عزیزوں کی لاشیں یا باقیات بعد میں نجف یا کربلا منتقل کرنے کے لیے عارضی طور پر دفن کیا کرتے تھے۔ بعض اوقات برسوں بعد انسانی باقیات ایک جگہ سے نکال کر آخری آرام گاہ تک منتقل کی جاتی تھیں۔

وہ ایرانی دانشور علی شریعتی کی مثال بھی دیتے ہیں جنھیں ابتدا میں شام کے علاقے زینبیہ میں عارضی طور پر دفن کیا گیا تھا۔

اُن کے مطابق آج بھی ایسے واقعات پیش آتے ہیں جن میں میت کو وصیت یا خاندان کی خواہش کے مطابق بعد میں منتقل کرنے کی نیت سے امانتاً دفن کیا جاتا ہے۔

علی خامنہ ای کی ہلاکت اور تدفین کے درمیان وقفے پر مختلف ردِعمل سامنے آئے۔

علی خامنه‌ ای

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ایران کو درپیش جنگ اور اس کے بعد کی غیرمعمولی صورتِحال نے سابق رہبر اعلیٰ کی تدفین کے مسئلے کو محض مذہبی اور سماجی موضوع نہیں رہنے دیا بلکہ اسے سیاسی، سکیورٹی اور تشہیری عوامل سے بھی جوڑ دیا۔

اس کی نمایاں مثال حزب اللہ کے سابق سیکریٹری جنرل حسن نصراللہ کی تدفین ہے۔

حسن نصراللہ 27 ستمبر 2024 کو مارے گئے تھے جبکہ ان کا جنازہ تقریباً پانچ ماہ بعد 23 فروری 2025 کو ادا کیا گیا۔ اس وقت مختلف ذرائع نے رپورٹ کیا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ اور نئے حملوں کے خدشات کے باعث حزب اللہ حسن نصر اللہ کے جنازے کی عوامی تقریب منعقد کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھی، لہٰذا اُن کی میت کو عارضی طور پر خفیہ مقام پر رکھا گیا تھا۔

بعد ازاں بیروت میں اُن کی آخری رسومات ادا کی گئیں جن میں لاکھوں افراد نے شرکت کی اور یہ معاملہ ایک سیاسی مظاہرے اور حزب اللہ کی طاقت کی علامت بن گیا۔

حسن نصراللہ اور علی خامنہ ای جیسے معاملات پر حسن فرشتیان کا کہنا ہے کہ اسلامی فقہ میں میت کو کتنے عرصے تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے اس بارے میں کوئی الگ اور واضح مدت مقرر نہیں کی گئی۔

اُن کے مطابق وفات اور تدفین کے درمیان وقفہ چند گھنٹے، چند دن، چند ہفتے یا چند ماہ بھی ہو سکتا ہے۔ فقہی نقطۂ نظر سے اصل اہمیت میت کے احترام اور اس کی نگہداشت سے متعلق شرعی معیاروں کی پابندی کو حاصل ہے۔

وہ سمجھتے ہیں کہ اس نوعیت کے بہت سے معاملات ملکی قوانین اور سماجی حالات پر چھوڑ دیے گئے ہیں۔ آج دنیا کے مختلف ممالک میں خاص طور مشتبہ اموات کے مقدمات میں عدالتی اور طبی تحقیقات کئی دن یا اُس سے بھی زیادہ وقت لے سکتی ہیں، جس کی وجہ سے تدفین کئی روز تک مؤخر کر دی جاتی ہے۔

حسن فرشتیان کے مطابق میت کو محفوظ رکھنے کا طریقہ بھی ہر دور کے حساب سے اور دستیاب سہولتوں کے مطابق بدلتا رہا ہے۔